بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
3 hadith
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ لِمِثْلِ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا كُنَّا نَقُولُ يَمُوتُ عَظِيمٌ أَوْ يُولَدُ عَظِيمٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِنَّهُ لاَ يُرْمَى بِهِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ لَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ ثُمَّ سَأَلَ أَهْلُ السَّمَاءِ السَّادِسَةِ أَهْلَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالَ فَيُخْبِرُونَهُمْ ثُمَّ يَسْتَخْبِرُ أَهْلُ كُلِّ سَمَاءٍ حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ أَهْلَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَتَخْتَطِفُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ فَيُرْمَوْنَ فَيَقْذِفُونَهَا إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يُحَرِّفُونَ وَيَزِيدُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رِجَالٍ، مِنَ الأَنْصَارِ رضى الله عنهم قَالُوا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرَوَى الأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رِجَالٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ), while he was sitting with a group of his Companions, when they saw a glowing shooting star. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When you saw the likes of this during Jahiliyyah, what would you say about it?' They said: 'We would say that a great man died, or that a great man has been born.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is not shot due to the death of anyone, nor his coming into life. Rather when our Lord [Blessed is His Name and Most High] decrees a matter, He is glorified by the bearers of the Throne. Then He is glorified by the inhabitants who are below them, then those below them, until such glorification reaches this Heaven. Then the inhabitants of the sixth Heaven ask the inhabitants of the seventh Heaven: "What did your Lord say?" He said: 'So they inform them; then the inhabitants of each Heaven seek the information, until the news is conveyed to the inhabitants of the Heavens of the earth. The Shayatin try to overhear so they are shot at, so they cast it down to their friends. Whatever they came with is true, as it is, but they distort it and add to it
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ یکایک ایک تارہ ٹوٹا جس سے روشنی پھیل گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: ”زمانہ جاہلیت میں جب تم لوگ ایسی کوئی چیز دیکھتے تو کیا کہتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ہم کہتے تھے کوئی بڑا آدمی مرے گا یا کوئی بڑی شخصیت جنم لے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ اللہ بزرگ و برتر جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح و تہلیل کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی آسمان کے فرشتے تسبیح کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی، اس طرح تسبیح کا یہ غلغلہ ہمارے اس آسمان تک آ پہنچتا ہے، چھٹے آسمان والے فرشتے ساتویں آسمان والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ ( کیا حکم صادر فرمایا ہے؟ ) تو وہ انہیں بتاتے ہیں، پھر اسی طرح ہر نیچے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے ہیں، اس طرح بات دنیا سے قریبی آسمان والوں تک آ پہنچتی ہے۔ اور کی جانے والی بات چیت کو شیاطین اچک لیتے ہیں۔ ( جب وہ اچکنے کی کوشش کرتے ہیں تو سننے سے باز رکھنے کے لیے تارہ پھینک کر ) انہیں مارا جاتا ہے اور وہ اسے ( اچکی ہوئی بات کو ) اپنے یاروں ( کاہنوں ) کی طرف پھینک دیتے ہیں تو وہ جیسی ہے اگر ویسی ہی اسے پہنچاتے ہیں تو وہ حق ہوتی ہے، مگر لوگ اسے بدل دیتے اور گھٹا بڑھا دیتے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا حَسَدْتُ أَحَدًا مَا حَسَدْتُ خَدِيجَةَ وَمَا تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ بَعْدَ مَا مَاتَتْ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ مِنْ قَصَبٍ قَالَ إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ قَصَبَ اللُّؤْلُؤِ ‏.‏
Narrated 'Aishah:"I did not envy any woman as I envied Khadijah - and the Messenger of Allah (ﷺ) did not marry me except after she had died - that was because the Messenger of Allah (ﷺ) gave her glad tidings of a house in Paradise made of Qasab, without clamoring nor discomforts in it
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا پر کیا، حالانکہ مجھ سے تو آپ نے نکاح اس وقت کیا تھا جب وہ انتقال کر چکی تھیں، اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت میں موتی کے ایک ایسے گھر کی بشارت دی تھی جس میں نہ شور و شغف ہو اور نہ تکلیف و ایذا کی کوئی بات۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- «من قصبٍ» سے مراد موتی کے بانس ہیں۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ لَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ فَلْيُصَلِّهِمَا بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ فَعَلَهُ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ قَالَ وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هَمَّامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ هَذَا إِلاَّ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ الْكِلاَبِيَّ ‏.‏ وَالْمَعْرُوفُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that:Allah's Messenger (S) said: "Whoever did not pray the two Rak'ah (before) Fajr then let him pray them after the sun has risen
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فجر کی دونوں سنتیں نہ پڑھ سکے تو انہیں سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ابن عمر سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۴- ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے ھمام سے یہ حدیث اس سند سے اس طرح روایت کی ہو سوائے عمرو بن عاصم کلابی کے۔ اور بطریق: «قتادة عن النضر بن أنس عن بشير بن نهيك عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مشہور یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے فجر کی ایک رکعت بھی سورج طلوع ہونے سے پہلے پالی تو اس نے فجر پالی۔“