بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
3 hadith
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما نُهِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا كَانَ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ الْمُهَاجِرَاتِ قَالَ ‏:‏ ‏(‏ لا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلاَ أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ‏)‏ فَأَحَلَّ اللَّهُ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ وَحَرَّمَ كُلَّ ذَاتِ دِينٍ غَيْرَ الإِسْلاَمِ ثُمَّ قَالَ ‏:‏ ‏(‏ومَنْ يَكْفُرْ بِالإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ‏)‏ وَقَالَ ‏:‏ ‏(‏ يا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللاَّتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏ خالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ‏)‏ وَحَرَّمَ مَا سِوَى ذَلِكَ مِنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلِ لاَ بَأْسَ بِحَدِيثِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:"All types of women were prohibited for the Messenger of ALlah (ﷺ) except for the believing women among those who emigrated. (Allah) said: 'It is not lawful for you (to marry other) women after this, nor to change them for other wives even though their beauty attracts you, except those whom your right hand possesses (33:52). - And Allah made your believing girls lawful 'And a believing woman if she offers herself to the Prophet (33:50)' and He made every woman of a religion other than Islam unlawful." Then He said: "And whoever disbelieves in faith then fruitless is his work; and in the Hereafter he will be among the losers (5:5)." And he said: "Verily We have made lawful to you your wives, to whom you have paid their due, and those whom your right hands possess - whom Allah has given you" up to His saying: "A privilege to only you, not for the (rest of) the believers (33:50)." He made the other types of women unlawful
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مومن اور مہاجر عورتوں کے سوا دوسری عورتوں سے شادی کرنے سے روک دیا گیا، ( جیسا کہ ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” «لا يحل لك النساء من بعد ولا أن تبدل بهن من أزواج ولو أعجبك حسنهن إلا ما ملكت يمينك» ”آپ کے لیے آج کے بعد کوئی عورت حلال نہیں، اور آپ کے لیے یہ بھی حلال نہیں کہ موجودہ بیویوں میں سے کسی بیوی کو ہٹا کر من بھائی عورت سے شادی کر لیں، سوائے ان لونڈیوں کے جن کے آپ مالک بن جائیں“ ( الاحزاب: ۵۲ ) ، اللہ نے ( نبی کے لیے ) تمہاری جوان مومن مسلمان عورتیں حلال کر دی ہیں۔ «وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اور وہ ایمان والی عورت بھی اللہ نے حلال کر دی ہیں جو اپنے آپ کو نبی کو پیش کر دے“، اور اسلام کے سوا ہر دین والی عورت کو حرام کر دیا ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا: ” «ومن يكفر بالإيمان فقد حبط عمله وهو في الآخرة من الخاسرين» ”جو ایمان کا منکر ہوا اس کا عمل ضائع گیا، اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو گا“ ( المائدہ: ۵ ) ، اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها النبي إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورهن وما ملكت يمينك مما أفاء الله عليك» سے لے کر «خالصة لك من دون المؤمن» ”اے نبی! ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں اور وہ باندیاں تمہارے لیے حلال کر دی ہیں جو اللہ نے تمہیں بطور مال فیٔ ( غنیمت ) میں عطا فرمائی ہیں“ ( الاحزاب: ۵۰ ) ، تک، یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے ۱؎ اور دوسرے مومنین کے لیے نہیں ( ان کا نکاح بغیر مہر کے نہیں ہو سکتا ) ان کے علاوہ عورتوں کی اور قسمیں حرام کر دی گئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے عبدالحمید بن بہرام کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: عبدالحمید بن بہرام کی شہر بن حوشب سے روایات کے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Narrated by Al-Miswar bin Makhramah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏ "‏ إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلاَ آذَنُ ثُمَّ لاَ آذَنُ ثُمَّ لاَ آذَنُ إِلاَّ أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ فَإِنَّهَا بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ نَحْوَ حَدِيث اللَّيْث ‏.‏
Narrated Al-Miswar bin Makhramah:"While he was on the Minbar, I heard the Prophet (ﷺ) saying: 'Indeed Banu Hisham bin Al-Mughirah asked me if they could marry their daughter to 'Ali bin Abi Talib. But I do not allow it, I do not allow it, I do not allow it - unless 'Ali bin Abi Talib wishes to divorce my daughter and marry their daughter, because she is a part of me. I am displeased by what displeases her, and I am harmed by what harms her
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ منبر پر تھے: ”ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی سے کر دیں، تو میں اس کی اجازت نہیں دیتا، نہیں دیتا، نہیں دیتا، مگر ابن ابی طالب چاہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں، اور ان کی بیٹی سے شادی کر لیں، اس لیے کہ میری بیٹی میرے جسم کا ٹکڑا ہے، مجھے وہ چیز بری لگتی ہے جو اسے بری لگے اور مجھے ایذا دیتی ہے وہ چیز جو اسے ایذا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے عمرو بن دینار نے اسی طرح ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے مسور بن مخرمہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ ثَابَرَ عَلَى ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ السُّنَّةِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي مُوسَى وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏
Aishah narrated that Allah's Messenger (S) said:"Whoever is regular with twelve Rak'ah of Sunnah (prayer), Allah will build a house for him in Paradise: Four Rak'ah before Zuhr, two Rak'ah after it, two Rak'ah after Maghrib, two Rak'ah after Isha, and two Rak'ah before Fajr
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بارہ رکعت سنت ۱؎ پر مداومت کرے گا اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے ۲؎، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- سند میں مغیرہ بن زیاد پر بعض اہل علم نے ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے، ۳- اس باب میں ام حبیبہ، ابوہریرہ، ابوموسیٰ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔