Narrated by Umm 'Umarah Al-Ansariyyah
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا أَرَى كُلَّ شَيْءٍ إِلاَّ لِلرِّجَالِ وَمَا أَرَى النِّسَاءَ يُذْكَرْنَ بِشَيْءٍ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : (إن الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ) الآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Narrated Umm 'Umarah Al-Ansariyyah:that she came to the Prophet (ﷺ) and said: "I do not see but that everything is for the men, and I do not see anything being mentioned for the women." So this Ayah was revealed: 'Indeed the Muslim men and the Muslim women, the believing men and the believing women... (33:)
ام عمارہ انصاریہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: کیا بات ہے میں ہر چیز مردوں ہی کے لیے دیکھتی ہوں اور عورتوں کا ( قرآن میں ) کہیں ذکر نہیں ملتا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن المسلمين والمسلمات والمؤمنين والمؤمنات» آخر آیت تک۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے۔
Narrated by Abu Az-Zubair
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ إِلاَّ صَاحِبَ الْجَمَلِ الأَحْمَرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Narrated Abu Az-Zubair:from Jabir, that the Prophet (ﷺ) said: "Those who gave the pledge under the tree shall enter Paradise, except for the owner of the red camel
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے ) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے، سوائے سرخ اونٹ والے کے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ الْبَصْرِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الأَغْنِيَاءَ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يُعْتِقُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ قَالَ " فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَقُولُوا سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ مَرَّةً وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ مَرَّةً وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ مَرَّةً وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَشْرَ مَرَّاتٍ فَإِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلاَ يَسْبِقُكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي ذَرٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَفِي الْبَابِ أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالْمُغِيرَةِ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " خَصْلَتَانِ لاَ يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا وَيُسَبِّحُ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِهِ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَيَحْمَدُهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ " .
Ibn Abbas narrated:"Some of the poor people came to Allah's Messenger (S) and said: 'O Messenger of Allah (S)! The rich pray as we pray, they fast as we fast, but they have wealth with which they free slaves and which they give in charity.' He said: 'When you perform Salat, then say: 'Subhan Allah' thirty-three times, and: 'Al-Hamdulillah' thirty-three times, and: 'Allahu Akbar' thirty-four times, and 'La ilaha illallah' ten times. With that you will have surprassed them, and none would surpass you afterwards
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس کچھ فقیر و محتاج لوگ آئے اور کہا: اللہ کے رسول! مالدار نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے، اس سے وہ غلام آزاد کرتے اور صدقہ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ ”سبحان اللہ“، تینتیس مرتبہ ”الحمد لله“ اور تینتیس مرتبہ ”الله أكبر“ اور دس مرتبہ ”لا إله إلا الله“ کہہ لیا کرو، تو تم ان لوگوں کو پا لو گے جو تم پر سبقت لے گئے ہیں، اور جو تم سے پیچھے ہیں وہ تم پر سبقت نہ لے جا سکیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں کعب بن عجرہ، انس، عبداللہ بن عمرو، زید بن ثابت، ابو الدرداء، ابن عمر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، نیز اس باب میں ابوہریرہ اور مغیرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”دو عادتیں ہیں جنہیں جو بھی مسلمان آدمی بجا لائے گا جنت میں داخل ہو گا۔ ایک یہ کہ وہ ہر نماز کے بعد دس بار ”سبحان الله“، دس بار ”الحمد لله“، دس بار ”الله أكبر“ کہے، دوسرے یہ کہ وہ اپنے سوتے وقت تینتیس مرتبہ ”سبحان الله“، تینتیس مرتبہ ”الحمد لله“ اور چونتیس مرتبہ ”الله أكبر“ کہے۔