حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاَةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ قَالَ " التَّشَهُّدُ فِي الصَّلاَةِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا فَمَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . وَيَقْرَأُ ثَلاَثَ آيَاتٍ . قَالَ عَبْثَرٌ فَفَسَّرَهُ لَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ : (اتَّقوا الله حقَّ تقاتهِ ولا تموتنَّ إلاَّ وأنتمْ مسلمونَ). (اتّقوا الله الَّذي تساءلونَ بهِ والأرحامَ إنَّ اللهَ كانَ عليكُم رقيباً). (اتَّقوا الله وقولوا قولاً سديداً). قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ الأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ لأَنَّ إِسْرَائِيلَ جَمَعَهُمَا فَقَالَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ وَأَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنَّ النِّكَاحَ جَائِزٌ بِغَيْرِ خُطْبَةٍ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ .
Abdullah bin Mas'ud narrated:"The Messenger of Allah taught us the Tashah-hud for Salat and the Tashah-hud for Al-Hajjah." He said: "The Tashah-hud for Salat is: (At-Tahiyyatulilah, was-walawtu wat-tayyibatu. As-Salamu alaika ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatullilahi wa barakatuhu, As-Salamu alina wa ala ibadillahis-salihin. Ashahadu an la ilaha illallah, wa ashhadu anna Muhammadan abduha wa Raduluh.) 'All greetings, prayers, and pure words are for Allah. Peace be upon you O Prophet, and Allah's mercy and His blessings. Peace be upon us and all of the righteous worshippers of Allah. I testify that none has the right to be worshiped but Allah. and I testify that Muhammad is His slave and His Messenger."And the Tashah-hud for Al-Hajjah is: 'Indeed all praise is due to Allah, we seek His aid, and we seek His forgiveness, and we seek refuge with Allah from the evils of our souls and the mischief of our deeds. (Innal-Hamdlillahi nasta'inuhu, wa nastaghfirhu, wa na'udhu billahi min sharuri anfusina, wa sayy'ita a'malina, man yahdihi, sala mudilla lahu, wa manyudlil, fala Hadiya lahu, wa ashadu an la ilaha illallah wa ashadu anna Muhammadan abduhu wa Rasuluh) 'Whoever He guides - meaning Allah - then here is none to lead him astray, and whomever He misleads, then there is no guide for him. I testify that none has the right to be worshipped but Allah, and I testify that Muhammad is His worshipper and Messenger.'" He said: "And he recited three Ayat
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کے تشہد اور حاجت کے تشہد کو ( الگ الگ ) سکھایا، وہ کہتے ہیں صلاۃ کا تشہد یہ ہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی: سلامتی ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، اور حاجت کا تشہد یہ ہے: «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا فمن يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے دلوں کی شرارتوں اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“۔ اور پھر آپ تین آیتیں پڑھتے۔ عبثر ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: تو ہمیں سفیان ثوری نے بتایا کہ وہ تینوں آیتیں یہ تھی: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے اور حالت اسلام ہی میں مرو“ ( آل عمران: ۱۰۲ ) ، «واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» ”اللہ سے ڈرو، جس کے نام سے تم سوال کرتے ہو اور جس کے واسطے سے ناطے جوڑتے ہو، بلاشبہ اللہ تمہارا نگہبان ہے“ ( النساء: ۱ ) ، «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور راست اور پکی بات کہو“ ( الأحزاب: ۷۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اسے اعمش نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي الأحوص عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے۔ نیز اسے شعبہ نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي عبيدة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور یہ دونوں طریق صحیح ہیں، اس لیے کہ اسرائیل نے دونوں کو جمع کر دیا ہے، یعنی «عن أبي إسحق عن أبي الأحوص وأبي عبيدة عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم»، ۳- اس باب میں عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۴- اہل علم نے کہا ہے کہ نکاح بغیر خطبے کے بھی جائز ہے۔ اہل علم میں سے سفیان ثوری وغیرہ کا یہی قول ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ " الْحَمْوُ الْمَوْتُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَجَابِرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَإِنَّمَا مَعْنَى كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ عَلَى نَحْوِ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلاَّ كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ " . وَمَعْنَى قَوْلِهِ " الْحَمْوُ " . يُقَالُ هُوَ أَخُو الزَّوْجِ كَأَنَّهُ كَرِهَ لَهُ أَنْ يَخْلُوَ بِهَا .
Uqbah bin Amir narrated that The Messenger of Allah said:“Beware of entering upon women.” So a man from the Ansar said: ‘”O Messenger of Allah! What do you think about Hamu? So he said: “The Hamu is death.”
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کے پاس خلوت ( تنہائی ) میں آنے سے بچو“، اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! دیور ( شوہر کے بھائی ) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: ”دیور موت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، جابر اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- عورتوں کے پاس خلوت ( تنہائی ) میں آنے کی حرمت کا مطلب وہی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت ( تنہائی ) میں ہوتا ہے تو اس کا تیسرا شیطان ہوتا ہے“، ۴- «حمو» شوہر کے بھائی یعنی دیور کو کہتے ہیں، گویا آپ نے دیور کے بھاوج کے ساتھ تنہائی میں ہونے کو حرام قرار دیا ہے۔
أَنْبَأَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ ظَاهَرْتُ مِنْ زَوْجَتِي فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ . فَقَالَ " وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ " . قَالَ رَأَيْتُ خُلْخَالَهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ . قَالَ " فَلاَ تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللَّهُ بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
Ibn Abbas narrated that:A man came to the Prophet, and he had uttered Zihar upon his wife then he had intercourse with her. So he said: 'O Messenger of Allah! I uttered Zihar against my wife, then I had intercourse with her before atoning.' He (pbuh) said: "What caused you to do that, may Allah have mercy upon you?' He said: 'I saw her anklets in the moonlight.' He said: 'Then do not go near her until you have done what Allah ordered (for it)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے اپنی بیوی سے ظہار کر رکھا تھا اور پھر اس کے ساتھ جماع کر لیا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر رکھا ہے اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں نے اس سے جماع کر لیا تو کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تم پر رحم کرے کس چیز نے تجھ کو اس پر آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: میں نے چاند کی روشنی میں اس کی پازیب دیکھی ( تو مجھ سے صبر نہ ہو سکا ) آپ نے فرمایا: ”اس کے قریب نہ جانا جب تک کہ اسے کر نہ لینا جس کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ .
Narrated Ibn 'Umar:"The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited selling date-palms until they have blossomed
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے کھجور کے درخت کی بیع سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہو جائے ( پختگی کو پہنچ جائے ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا - أَوْ قَالَ شِقْصًا أَوْ قَالَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ بِقِيمَةِ الْعَدْلِ فَهُوَ عَتِيقٌ وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " . قَالَ أَيُّوبُ وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
Ibn 'Umar narrated that the Prophet (ﷺ) said:"Whoever frees a portion" or, he said: "a part" or he said: "a share he owns of a slave, then he can afford the remainder of the price according to the reasonable price, then he will be free. Otherwise he has freed as much as he has freed (only)." Ayyub (one of the narrators) said: "Perhaps Nafi said in this Hadith: 'Meaning he has freed as much of him as he has freed
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا“، اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی واجبی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو وہ اس مال سے باقی شریکوں کا حصہ ادا کرے گا اور غلام ( پورا ) آزاد ہو جائے گا ورنہ جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی آزاد ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے سالم بن عبداللہ نے بھی بطریق: «عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ . فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ أَنُعْطِي مَنْ لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلَ وَلاَ صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ بَلْ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ حَمَلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَقَالَ بَعْضُهُمُ الْغُرَّةُ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ أَوْ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَوْ فَرَسٌ أَوْ بَغْلٌ .
Narrated Abu Hurairah:"The Messenger of Allah (ﷺ) judged that a Ghurrah male slave or female slave be given in the case of a fetus. The one of the judgement was made against said: 'Should we give something for one who did not drink, not eat, nor cry out to shed a tear, the likes of which is useless?' So the Prophet (ﷺ) said: 'This is the speech of a poet. Rather it requires a Ghurrah: a male slave or a female slave
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جنين» ( حمل ) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی ( دینے ) کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا تھا وہ کہنے لگا: کیا ایسے کی دیت دی جائے گی، جس نے نہ کچھ کھایا نہ پیا، نہ چیخا، نہ آواز نکالی، اس طرح کا خون تو ضائع اور باطل ہو جاتا ہے، ( یہ سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شاعروں والی بات کر رہا ہے ۱؎، «جنين» ( حمل گرا دینے ) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینا ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حمل بن مالک بن نابغہ اور مغیرہ بن شعبہ سے احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- غرہ کی تفسیر بعض اہل علم نے، غلام، لونڈی یا پانچ سو درہم سے کی ہے، ۵- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: «غرة» سے مراد گھوڑا یا خچر ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَضَرَبَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الأَرْبَعِينَ وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ كَأَخَفِّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ . فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ حَدَّ السَّكْرَانِ ثَمَانُونَ .
Narrated Anas:That a man who had drunk wine was brought to the Prophet (ﷺ), so he beat him about forty times with two stalks of a palm tree. So Abu Bakr did similarly, and by the time 'Umar became Khalifah he sought council from the people. And 'Abdur-Rahman bin 'Awf said: 'I see that the lightest penalty is eighty lashes,' so 'Umar ordered that
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی، آپ نے اسے کھجور کی دو چھڑیوں سے چالیس کے قریب مارا، ابوبکر رضی الله عنہ نے بھی ( اپنے دور خلافت میں ) ایسا ہی کیا، پھر جب عمر رضی الله عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس سلسلے میں لوگوں سے مشورہ کیا، چنانچہ عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: حدوں میں سب سے ہلکی حد اسی کوڑے ہیں، چنانچہ عمر نے اسی کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ میں سے اہل علم اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ شرابی کی حد اسی کوڑے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ هُوَ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَغَيْرِهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا كَانَ فَكَاكَهُ مِنْ النَّارِ يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ وَأَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ كَانَتَا فَكَاكَهُ مِنْ النَّارِ يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُمَا عُضْوًا مِنْهُ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتْ امْرَأَةً مُسْلِمَةً كَانَتْ فَكَاكَهَا مِنْ النَّارِ يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْحَدِيثِ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ عِتْقَ الذُّكُورِ لِلرِّجَالِ أَفْضَلُ مِنْ عِتْقِ الْإِنَاثِ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا كَانَ فَكَاكَهُ مِنْ النَّارِ يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ
Abu Umamah, and other than him from the Companions of the Prophet (ﷺ), narrated that the Prophet (ﷺ) said:"Any Muslim man who frees a Muslim man, then it is his salvation from the Fire - each of his limbs suffices for a limb of himself. And any Muslim man that frees two Muslim women, then are his salvation from the Fire - each of their limbs suffices for a limb of himself. And any Muslim woman that frees a Muslim woman, then she is her salvation from the Fire - each of her limb suffices for a limb of herself
ابوامامہ رضی الله عنہ اور دوسرے صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جو مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرے گا، تو یہ آزاد کرنا اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہو گا، اس آزاد کیے گئے مرد کا ہر عضو اس آزاد کرنے والے کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا، جو مسلمان دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرے گا، تو یہ دونوں اس کے لیے جہنم سے خلاصی کا باعث ہوں گی، ان دونوں آزاد عورتوں کا ہر عضو اس کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا، جو مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے گی، تو یہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہو گی، اس آزاد کی گئی عورت کا ہر عضو اس آزاد کرنے والے کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث دلیل ہے کہ مردوں کے لیے مرد آزاد کرنا عورت کے آزاد کرنے سے افضل ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا وہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہو گا، اس آزاد کئے گئے مرد کا ہر عضو اس کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا“۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی جو اپنی سندوں کے اعتبار سے صحیح ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَأَنَّ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلاَّ الشَّهِيدُ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ كَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَسَنَّ مِنَ الزُّهْرِيِّ .
Narrated Anas: That the Prophet (ﷺ), "There is no person who dies having good (prepared for him) with Allah, who wishes to return to the world, and to have the world and all it contains, except for the martyr because of what he knows about the virtue of martyrdom. For, indeed he loves to return to the world so that he may be killed another time." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Ibn 'Umar said: "Sufyan bin 'Uyainah said: "Amr bin Dinar was older than Az-Zuhri
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرنے والا کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جس کے لیے اللہ کے پاس ثواب ہو اور وہ دنیا کی طرف دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس کی خاطر لوٹنا چاہتا ہو۔ سوائے شہید کے، اس لیے کہ وہ شہادت کا مقام و مرتبہ دیکھ چکا ہے، چنانچہ وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور دوبارہ شہید ہو ( کر آئے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُمْنُ الْخَيْلِ فِي الشُّقْرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ شَيْبَانَ .
Narrated Ibn 'Abbas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The blessing of the horse is in its redness." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib, we do not know of it except from this route, from the narration of Shaiban
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرخ رنگ کے گھوڑوں میں برکت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف شیبان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةً لِوَقْتِهَا الآخِرِ مَرَّتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ . قَالَ الشَّافِعِيُّ وَالْوَقْتُ الأَوَّلُ مِنَ الصَّلاَةِ أَفْضَلُ . وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى فَضْلِ أَوَّلِ الْوَقْتِ عَلَى آخِرِهِ اخْتِيَارُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ يَكُونُوا يَخْتَارُونَ إِلاَّ مَا هُوَ أَفْضَلُ وَلَمْ يَكُونُوا يَدَعُونَ الْفَضْلَ وَكَانُوا يُصَلُّونَ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ . قَالَ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ عَنِ الشَّافِعِيِّ .
Aishah narrated:"Allah's Messenger did not pray any Salat at the end of its time two times, until Allah took him
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے کوئی نماز اس کے آخری وقت میں دو بار نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲- شافعی کہتے ہیں: نماز کا اول وقت افضل ہے اور جو چیزیں اول وقت کی افضیلت پر دلالت کرتی ہیں من جملہ انہیں میں سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، ابوبکر، اور عمر رضی الله عنہما کا اسے پسند فرمانا ہے۔ یہ لوگ اسی چیز کو معمول بناتے تھے جو افضل ہو اور افضل چیز کو نہیں چھوڑتے تھے۔ اور یہ لوگ نماز کو اول وقت میں پڑھتے تھے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ " لاَ تَنْقُشُوا عَلَيْهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ . وَمَعْنَى قَوْلِهِ " لاَ تَنْقُشُوا عَلَيْهِ " . نَهَى أَنْ يَنْقُشَ أَحَدٌ عَلَى خَاتَمِهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ .
Narrated Anas bin Malik: "The Messenger of Allah (ﷺ) had a ring made from silver, so he had 'Muhammad, the Messenger of Allah' engraved on it. Then he said: 'Do not engrave with it.' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Sahih Hasan. As for the meaning of his saying: "Do not engrave with it" - he was prohibiting that anyone have "Muhammad, Messenger of Allah" engraved on his ring
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا، پھر فرمایا: ”تم لوگ اپنی انگوٹھی پر یہ نقش مت کرانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ «لا تنقشوا عليه» کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے منع فرمایا کوئی دوسرا اپنی انگوٹھی پر «محمد رسول الله» نقش کرائے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ وَأَكْفِئُوا الإِنَاءَ أَوْ خَمِّرُوا الإِنَاءَ وَأَطْفِئُوا الْمِصْبَاحَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَفْتَحُ غُلُقًا وَلاَ يَحِلُّ وِكَاءً وَلاَ يَكْشِفُ آنِيَةً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ .
Narrated Jabir: That the Prophet (ﷺ) said: "Close the door, tie the water-skin, turn over the vessel, or cover the vessel, and extinguish the torch. Indeed Ash-Shaitan does not open what is closed, nor undo what is fastened, nor uncover a vessel, but the small vermin may cause a fire in people's houses." He said: There are narrations on this topic from Ibn 'Umar, Abu Hurairah, and Ibn 'Abbas. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih, and it has been reported through other routes from Jabir
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( سوتے وقت ) دروازہ بند کر لو، مشکیزہ کا منہ باندھ دو، برتنوں کو اوندھا کر دو یا انہیں ڈھانپ دو اور چراغ بجھا دو، اس لیے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا ہے اور نہ کسی بندھن اور برتن کو کھولتا ہے، ( اور چراغ اس لیے بجھا دو کہ ) چوہا لوگوں کا گھر جلا دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- جابر سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الْجَزَرِيِّ، عَنِ ابْنٍ لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَشْرَبُوا وَاحِدًا كَشُرْبِ الْبَعِيرِ وَلَكِنِ اشْرَبُوا مَثْنَى وَثُلاَثَ وَسَمُّوا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ وَاحْمَدُوا إِذَا أَنْتُمْ رَفَعْتُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَيَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الْجَزَرِيُّ هُوَ أَبُو فَرْوَةَ الرُّهَاوِيُّ .
Narrated Ibn 'Abbas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Let none of you drink all at once like the camel. But drink two or three times, mentioning Allah's Name when you drink, and praising Him when you (finish)." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib. Yazid bin Sinan Al-Jazari is Abu Farwah Ar-Ruhawi
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ کی طرح ایک سانس میں نہ پیو، بلکہ دو یا تین سانس میں پیو، جب پیو تو «بسم اللہ» کہو اور جب منہ سے برتن ہٹاؤ تو «الحمدللہ» کہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيرِنَا " . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا " .
Amr bin Shu'aib narrated that his father, from his grandfather, who said that the Messenger of Allah said:'He is not one of us who does not have mercy upon our young, nor knows the honor of our elders
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا مقام نہ پہچانے“۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ, قال حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، قال حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حَيَّةُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ شَىْءَ فِي الْهَامِ وَالْعَيْنُ حَقٌّ " .
Hayyah bin Habis At-Tamimi narrated:My father narrated that he heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: "There is nothing to Al-Ham, and the eye is real
حابس تمیمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: الو ( کے سلسلے میں لوگوں کے اعتقاد ) کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نظر بد کا اثر حقیقی چیز ہے ( یعنی سچ ہے ) ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ أَبُو مُوسَى الْمُسْتَمْلِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبِي بُسْرٍ النَّصْرِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلاَثَةَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لاَعَنَتْ عَلَيْهِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ يُعْرَفُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ .
Wathilah bin Al-Asqa' narrated that the Messenger of Allah(S.A.W) said:"The woman collects three inheritance: Whomever she freed, whomever she found, and the child for which she made Li'an
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت تین قسم کی میراث اکٹھا کرتی ہے: اپنے آزاد کیے ہوئے غلام کی میراث، اس لڑکے کی میراث جسے راستے سے اٹھا کر اس کی پرورش کی ہو، اور اس لڑکے کی میراث جس کو لعان کر کے اپنے ساتھ لے گئی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند سے صرف محمد بن حرب کی روایت سے معروف ہے۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ غُرْفَةٍ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَالدَّابَّةُ وَثَلاَثَةُ خُسُوفٍ خَسْفٍ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٍ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٍ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ فَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا " . حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فُرَاتٍ، نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ " الدُّخَانَ " . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ عَنْ سُفْيَانَ، . حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، وَالْمَسْعُودِيِّ، سَمِعَا مِنْ، فُرَاتٍ الْقَزَّازِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ فُرَاتٍ وَزَادَ فِيهِ " الدَّجَّالَ أَوِ الدُّخَانَ " . حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ فُرَاتٍ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ، وَزَادَ، فِيهِ قَالَ " وَالْعَاشِرَةُ إِمَّا رِيحٌ تَطْرَحُهُمْ فِي الْبَحْرِ وَإِمَّا نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Hudhaifah bin Asid said:"The Messenger of Allah (s.a.w) stood over us on a balcony, and we were discussing the Hour. So the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'The Hour shall not be established until you see ten signs. The sun rising from its setting place, Ya'juj and Ma'juj, the beast of the earth, and three collapses of the earth: A collapse in the east, a collapse in the west and a collapse in the 'Arabian peninsula. And a fire that comes out of a place within 'Adan, driving the people, or gathering the people, camping where they camp, and resting where they rest
حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو! مغرب ( پچھم ) سے سورج کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دابہ ( جانور ) کا نکلنا، تین بار زمین کا دھنسنا: ایک پورب میں، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ خَيْرُ النَّاسِ قَالَ " مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Abdullah bin Busr narrated that a Bedouin said:"O Messenger of Allah! Who is the best of the people?" He said: "He whose life is long and his deeds are good."There are narrations on this topic from Abu Hurairah and Jabir
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَشْفَعُ لِلْفِئَامِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْعُصْبَةِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلرَّجُلِ حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Abu Sa'eed narrated the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Indeed in my Ummah are those who intercede for large groups of people, and among them (there are) who intercede for a tribe, and among them (there are) who intercede for a group, and among them (there are) who intercede for a man, until they are admitted to Paradise
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا کوئی شخص کئی جماعت کے لیے شفاعت کرے گا، کوئی ایک قبیلہ کے لیے شفاعت کرے گا، کوئی ایک گروہ کے لیے شفاعت کرے گا، اور کوئی ایک آدمی کے لیے شفاعت کرے گا، یہاں تک کہ سب جنت میں داخل ہوں جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَابُ أُمَّتِي الَّذِي يَدْخُلُونَ مِنْهُ الْجَنَّةَ عَرْضُهُ مَسِيرَةُ الرَّاكِبِ الْجَوَادَ ثَلاَثًا ثُمَّ إِنَّهُمْ لَيُضْغَطُونَ عَلَيْهِ حَتَّى تَكَادُ مَنَاكِبُهُمْ تَزُولُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَقَالَ لِخَالِدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مَنَاكِيرُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ .
Salim bin 'Abdullah narrated from his father that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The breadth of the gate through which my Ummah shall enter Paradise is the distance that a good rider covers in three. (meaning three nights or three years and, and that [the latter] is more obvious) Despite that, they shall be constrained by it until their shoulders are almost crushed completely
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دروازہ جس سے میری امت جنت میں داخل ہو گی اس کی چوڑائی تیز رفتار گھوڑ سوار کے تین دن کی مسافت کے برابر ہو گی، پھر بھی دروازے پر ایسی بھیڑ بھاڑ ہو گی کہ ان کے کندھے اترنے کے قریب ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے نہیں جان سکے اور کہا: سالم بن عبداللہ کے واسطہ سے خالد بن ابی بکر کی کئی منکر احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ الإِيمَانِ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَمَنْ شَكَّ فَلْيَقْرَأْ: (إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ) . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Whoever had the weight of a speck of faith in his heart will depart from the Fire." Abu Sa'eed said: "Whoever has doubt then let him recite: Indeed Allah does not deal unjustly with even the weight of a speck
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے وہ آدمی نکلے گا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو گا، ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے کہا: جس کو شک ہو وہ یہ آیت پڑھے «إن الله لا يظلم مثقال ذرة» ”اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ہے“ ( النساء: ۴۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ، عَنْ جَدَّتِهِ بِنْتِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهَا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
Rabah Bin Abdur-Rahman bin Abu Sufyan bin Huwaitib narrated :the same from his grandmother the daughter of Sa'eed bin Zaid, from her father, from the Prophet
اس سند سے بھی سعید بن زید رضی الله عنہ سے اوپر والی حدیث کے مثل مروی ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْعَلاَءِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسٍ وَجَابِرٍ . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَأَبُو سُهَيْلٍ هُوَ عَمُّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَاسْمُهُ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الأَصْبَحِيُّ الْخَوْلاَنِيُّ .
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The sign of a hypocrite is that whenever he speaks he lies, and whenever he makes a promise he does not fulfill it, and if he is entrusted he betrays
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ يَسْتَحْمِلُهُ فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُ مَا يَتَحَمَّلُهُ فَدَلَّهُ عَلَى آخَرَ فَحَمَلَهُ . فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ " إِنَّ الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ وَبُرَيْدَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Anas bin Malik:"A man came to the Prophet (ﷺ) to get a mount, but he (ﷺ) did not have anything to mount him on with him. So he was lead to another person to give him a mount. He came to the Prophet (ﷺ) to inform him about that and he said: 'Whoever leads to good, he is like the one who does it
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے آیا، تو آپ کے پاس اسے کوئی سواری نہ ملی جو اسے منزل مقصود تک پہنچا دیتی۔ آپ نے اسے ایک دوسرے شخص کے پاس بھیج دیا، اس نے اسے سواری فراہم کر دی۔ پھر اس نے آ کر آپ کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا: ”بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا ( ثواب میں ) بھلائی کرنے والے ہی کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی انس رضی الله عنہ کی روایت سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں غریب ہے، ۲- اس باب میں ابومسعود بدری اور بریدہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كَتَبَ أَحَدُكُمْ كِتَابًا فَلْيُتَرِّبْهُ فَإِنَّهُ أَنْجَحُ لِلْحَاجَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لاَ نَعْرِفُهُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . قَالَ وَحَمْزَةُ هُوَ عِنْدِي ابْنُ عَمْرٍو النَّصِيبِيُّ هُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ .
Narrated Jabir:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When one of you writes something, then let him Yutarrib (smeared with dust to dry the ink) it, for that is more conducive to the need
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈالنا چاہیئے، کیونکہ اس سے حاجت برآری کی زیادہ توقع ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے ابوزبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- حمزہ ہمارے نزدیک عمرو نصیبی کے بیٹے ہیں، اور وہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ الْخَلاَّلُ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ الاِسْتِحْدَادُ وَالْخِتَانُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Five are from the Fitrah: Cutting the pubic hair, circumcision, paring the mustache, plucking the under arm hair and trimming the fingernails
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرت سے ہیں ۱؎، ( ۱ ) شرمگاہ کے بال مونڈنا، ( ۲ ) ختنہ کرنا، ( ۳ ) مونچھیں کترنا، ( ۴ ) بغل کے بال اکھیڑنا، ( ۵ ) ناخن تراشنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " احْشِدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " . قَالَ فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَْ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " . إِنِّي لأُرَى هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنِّي قُلْتُ سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ أَلاَ وَإِنَّهَا تَعْدِلُ بثُلُثَ الْقُرْآنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَأَبُو حَازِمٍ الأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ سَلْمَانُ .
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Gather and I shall recite to you one third of the Qur'an." He said: "So whoever was to gather did so, then the Messenger of Allah (ﷺ) came out and recited Qul Huwa Allahu Ahad. Then he went back in. Some of them said to each other: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I shall recite to you one third of the Qur'an' I thought that this was news from the Heavens." Allah's Prophet (ﷺ) came out and said: "Indeed I said that I would recite to you one third of the Qur'an, and it is indeed equal to one third of the Qur'an
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب اکٹھے ہو جاؤ کیونکہ میں تم سب کو تہائی قرآن پڑھ کر سنانے والا ہوں“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پکار پر جو بھی پہنچ سکا جمع ہو گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، سورۃ «قل هو الله أحد» پڑھی اور ( حجرہ شریفہ میں ) واپس چلے گئے۔ تو بعض صحابہ نے چہ میگوئیاں کرتے ہوئے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: میں عنقریب تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا، میرا خیال یہ ہے کہ ایسا اس وجہ سے ہوا ہے کہ آسمان سے کوئی خبر ( کوئی اطلاع ) آ گئی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کمرے سے باہر نکلے اور فرمایا: ”میں نے کہا تھا میں تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا تو سن لو یہ سورۃ «قل هو الله أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated by Abdur-Rahman bin Abi Laila
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ أَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ تَتَنَاثَرُ عَلَى جَبْهَتِي أَوْ قَالَ حَاجِبِي فَقَالَ " أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ " . قَالَ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَانْسُكْ نَسِيكَةً أَوْ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطَعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ " . قَالَ أَيُّوبُ لاَ أَدْرِي بِأَيَّتِهِنَّ بَدَأَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Laila:from Ka'b bin 'Ujrah who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) came to me while I was lighting a fire under a pot, and lice were falling on my face, or on my eye-brows. He said: 'Are your lice bothering you?'" [He said:] "I said: 'Yes.' He said: 'Then shave your head and offer a sacrifice, or fast three days, or feed six needy people.'" Ayyub said: "I do not know which of them he started with
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ اس وقت میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میری پیشانی یا بھوؤں پر بکھر رہی تھیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”اپنا سر مونڈ ڈالو اور بدلہ میں قربانی کر دو، یا تین دن روزہ رکھ لو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو“۔ ایوب ( راوی ) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں رہا کہ ( میرے استاذ نے ) کون سی چیز پہلے بتائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ ابْنِ أَخِي، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اضْطَجَعَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَنْبِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ أُومِنُ بِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ . فَإِنْ مَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رضى الله عنه .
Rafi` bin Khadij narrated that:The Prophet said: “When one of you lies down on his right side, then says: ‘O Allah, I have submitted myself to You, and I have turned my face to You, and I lay myself down relying upon You, and I have entrusted my affair to You, there is no refuge [nor escape] from You except to You. I believe in Your Book and Your Messengers (Allāhumma innī aslamtu nafsī ilaika wa wajjahtu wajhī ilaika, wa alja’tu ẓahrī ilaika, wa fawwaḍtu amrī ilaika, lā malja'a [wa lā manjā] minka illā ilaik, ūminu bikitābika wa birusulika)’ – then if he dies that night, he shall enter Paradise.”
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی داہنی کروٹ لیٹے پھر پڑھے: «اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك أومن بكتابك وبرسولك» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی، میں نے اپنا منہ ( اوروں کی طرف سے پھیر کر ) تیری طرف کر دیا، میں نے اپنی پیٹھ تیری طرف ٹیک دی، میں نے اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا، تجھ سے بچ کر تیرے سوا اور کوئی جائے پناہ و جائے نجات نہیں ہے، میں تیری کتاب اور تیرے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں“، پھر اسی رات میں مر جائے، تو وہ جنت میں جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث رافع بن خدیج رضی الله عنہ کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ عَرَضْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي ضَعِيفًا - أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ . فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ فِي يَدِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ قَالَ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ " . فَقُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " بِطَعَامٍ " . فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ مَعَهُ " قُومُوا " . قَالَ فَانْطَلَقُوا فَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ . قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ " . فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَآدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلاً . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Anas bin Malik:"Abu Talhah said to Umm Sulaim: 'I heard the voice of the Messenger of Allah (ﷺ) sounding weak and I sensed some hunger in it. Do you have anything? She said: 'Yes.' So she got some loaves of wheat bread, then she took out a Khimar of hers, and put the bread in it. Then she put it under my arm, and wrapped my upper body with part of it, and she sent me to the Messenger of Allah (ﷺ)." He said: "So I brought it to him, and I found the Messenger of Allah (ﷺ) sitting in the Masjid, and there were people with him. So I stood among them, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Has Abu Talhah sent you?' I said: 'Yes.' He said: 'With food?' I said: 'Yes.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said to those with him: 'Stand up.'" So they left, and I left in front of them, until I came to Abu Talhah, and I told him (that they were coming). Abu Talhah said: 'O Umm Sulaim! The Messenger of Allah (ﷺ) is coming with people, and we don't have anything to feed them.' Umm Sulaim said: 'Allah and His Messenger know best.'" He said: "So Abu Talhah departed until he met up with the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah came, while Abu Talhah was with him, until they entered, when the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Come O Umm Sulaim! What do you have?' So she brought him that bread, and he (ﷺ) ordered that it be broken into pieces. Umm Sulaim poured some butter from an oil-skin upon them, then the Messenger of Allah (ﷺ) recited whatever Allah willed for him to say over it. Then he said: 'Let ten come.' So ten were admitted, and they ate until they were full, and then they left. Then he said: 'Let ten come.' So ten were admitted, and they ate until they were full, and they left. Then he said: 'Let ten come.' So ten were admitted, and they ate until they were full, and there were seventy or eighty men
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ام سلیم رضی الله عنہما سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی، وہ کمزور تھی، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ یعنی بغل کے نیچے چھپا دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ مجھے اڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ملے اور آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، تو میں جا کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”کھانا لے کر؟“ میں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام لوگوں سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا: ”اٹھو چلو“، چنانچہ وہ سب چل پڑے اور میں ان کے آگے آگے چلا، یہاں تک کہ میں ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے کہا: ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں جو ہم انہیں کھلائیں، ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، تو ابوطلحہ رضی الله عنہ چلے اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ابوطلحہ رضی الله عنہ آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ دونوں اندر آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلیم! جو تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ“، چنانچہ وہ وہی روٹیاں لے کر آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توڑنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ توڑی گئیں اور ام سلیم نے اپنے گھی کی کُپّی کو اس پر اوندھا کر دیا اور اسے اس میں چیپڑ دیا، پھر اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا جو اللہ نے پڑھوانا چاہا، پھر آپ نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا اور وہ کھا کر آسودہ ہو گئے، پھر وہ نکل گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”دس کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا وہ بھی کھا کر خوب آسودہ ہو گئے اور نکل گئے، اس طرح سارے لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور وہ سب کے سب ستر یا اسی آدمی تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ، هُوَ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا بَعْدَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ وَقَالَ " إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي أَيُّوبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الزَّوَالِ لاَ يُسَلِّمُ إِلاَّ فِي آخِرِهِنَّ .
Abdullah bin As-Sa'ib narrated:"Allah's Messenger would pray four (Rak'ah) after the Zawal of the sun before Az-Zuhr. He said: 'It is an hour in which the gates of the heavens are opened, and I love that a righteous deed should be raised up for me in it
عبداللہ بن سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے، اور فرماتے: ”یہ ایسا وقت ہے جس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرا نیک عمل اس میں اوپر چڑھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن سائب رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابوایوب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ زوال کے بعد چار رکعتیں پڑھتے اور ان کے آخر میں ہی سلام پھیرتے ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اتَّخَذَ جِسْرًا إِلَى جَهَنَّمَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ . وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يَتَخَطَّى الرَّجُلُ رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَشَدَّدُوا فِي ذَلِكَ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
Sahl bin Ma'adh bin Anas al Jahni narrated from his father that :Allah's Messenger said: "Whoever steps over the necks of the people on Friday, he has taken a bridge to Hell
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن جس نے لوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم کی طرف لے جانے والا پل بنا لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔ سہل بن معاذ بن انس جہنی کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف رشد بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- البتہ اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ انہوں نے اس بات کو مکروہ سمجھا ہے، کہ آدمی جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے اور انہوں نے اس میں سختی سے کام لیا ہے۔ اور ان کے حفظ کے تعلق سے انہیں ضعیف گردانا ہے۔ بعض اہل علم نے رشدین بن سعد پر کلام کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عُمَرَ، وَهُوَ ابْنُ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ سَمِعْتُ مُخْبِرًا، يُخْبِرُ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِلَفْظِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ .
(Another chain in which) Abu Ad-Darda narrated:"I performed eleven prostrations with the Messenger of Allah, among them was that which is in Surat An-Najm
اس سند سے بھی ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح انہیں الفاظ کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ سفیان بن وکیع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے انہوں نے عبداللہ بن وہب سے روایت کی ہے ۱؎، ۲- اس باب میں علی، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، زید بن ثابت اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابو الدرداء کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف سعید بن ابی ہلال کی روایت سے جانتے ہیں، اور سعید نے عمر دمشقی سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: "The injuries caused by the animal are without liability, and mines are without liability, and wells are without liability, and the Khumus is due on Rikaz
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخم رائیگاں ہے ۱؎ یعنی معاف ہے، کان رائیگاں ہے اور کنواں رائیگاں ہے ۲؎ اور رکاز ( دفینے ) میں سے پانچواں حصہ دیا جائے گا“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس بن مالک، عبداللہ بن عمرو، عبادہ بن صامت، عمرو بن عوف مزنی اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ بِأَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Whoever does not leave false speech, and acting according to it, then Allah is not in any need of him leaving his food and his drink
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ( «صائم» ) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْحَرَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ وَلاَ الْبَرَانِسَ وَلاَ الْعَمَائِمَ وَلاَ الْخِفَافَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلاَنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلاَ تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلاَ الْوَرْسُ وَلاَ تَنْتَقِبِ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ وَلاَ تَلْبَسِ الْقُفَّازَيْنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
Ibn Umar narrated:"A man stood and said 'O Messenger of Allah! What clothing do you command us to wear in Al-Haram?' The Messenger of Allah said: 'Do not wear shirts, nor pants, nor burnooses, nor turbans, nor Khuff - unless one does not have any sandals, then let him wear Khuff, but let him cut them below the ankles. And do not wear any cloth that has been touched by saffron or Wars. And the woman in Ihram is not to cover her face, nor wear gloves
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھڑ ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام میں کون کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنو، نہ پاجامے، نہ عمامے اور نہ موزے، الا یہ کہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ خف ( چمڑے کے موزے ) پہنے اور اسے کاٹ کر ٹخنے سے نیچے کر لے ۱؎ اور نہ ایسا کوئی کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہو ۲؎، اور محرم عورت نقاب نہ لگائے اور نہ دستانے پہنے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم اسی پر عمل ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، وَمَنْصُورٌ، وَهِشَامٌ، فَأَمَّا خَالِدٌ وَهِشَامٌ فَقَالاَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَحَفْصَةَ وَقَالَ مَنْصُورٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ وَاغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " . فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا بِهِ " . قَالَ هُشَيْمٌ وَفِي حَدِيثِ غَيْرِ هَؤُلاَءِ وَلاَ أَدْرِي وَلَعَلَّ هِشَامًا مِنْهُمْ قَالَتْ وَضَفَّرْنَا شَعْرَهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ . قَالَ هُشَيْمٌ أَظُنُّهُ قَالَ فَأَلْقَيْنَاهُ خَلْفَهَا . قَالَ هُشَيْمٌ فَحَدَّثَنَا خَالِدٌ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ عَنْ حَفْصَةَ وَمُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ وَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ غُسْلُ الْمَيِّتِ كَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ . وَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ لَيْسَ لِغُسْلِ الْمَيِّتِ عِنْدَنَا حَدٌّ مُؤَقَّتٌ وَلَيْسَ لِذَلِكَ صِفَةٌ مَعْلُومَةٌ وَلَكِنْ يُطَهَّرُ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ إِنَّمَا قَالَ مَالِكٌ قَوْلاً مُجْمَلاً يُغَسَّلُ وَيُنْقَى وَإِذَا أُنْقِيَ الْمَيِّتُ بِمَاءٍ قَرَاحٍ أَوْ مَاءٍ غَيْرِهِ أَجْزَأَ ذَلِكَ مِنْ غُسْلِهِ وَلَكِنْ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يُغْسَلَ ثَلاَثًا فَصَاعِدًا لاَ يُنْقَصُ عَنْ ثَلاَثٍ لِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا " . وَإِنْ أَنْقَوْا فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثِ مَرَّاتٍ أَجْزَأَ وَلاَ يَرَى أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّمَا هُوَ عَلَى مَعْنَى الإِنْقَاءِ ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا وَلَمْ يُؤَقِّتْ . وَكَذَلِكَ قَالَ الْفُقَهَاءُ وَهُمْ أَعْلَمُ بِمَعَانِي الْحَدِيثِ . وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ وَتَكُونُ الْغَسَلاَتُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَيَكُونُ فِي الآخِرَةِ شَيْءٌ مِنْ كَافُورٍ .
Umm Atiyyah narrated:"One of the daughters of the Prophet died, so he said: 'Wash her an odd number of times, three, or five, or more than that as you see fit. Wash her with water and Sidr, and in the last (washing) add camphor, or something from camphor. When you are finished then inform me.' When we finished we informed him so he gave us his waist-sheet and said 'Wrap her in it
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی ۱؎ کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے طاق بار غسل دو، تین بار یا پانچ بار یا اس سے زیادہ بار، اگر ضروری سمجھو اور پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، آخر میں کافور ملا لینا“، یا فرمایا: ”تھوڑا سا کافور ملا لینا اور جب تم غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا“، چنانچہ جب ہم ( نہلا کر ) فارغ ہو گئے، تو ہم نے آپ کو اطلاع دی، آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف ڈال دیا اور فرمایا: ”اسے اس کے بدن سے لپیٹ دو“۔ ہشیم کہتے ہیں کہ اور دوسرے لوگوں ۲؎ کی روایتوں میں، مجھے نہیں معلوم شاید ہشام بھی انہیں میں سے ہوں، یہ ہے کہ انہوں نے کہا: اور ہم نے ان کے بالوں کو تین چوٹیوں میں گوندھ دیا۔ ہشیم کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ ان کی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ پھر ہم نے ان چوٹیوں کو ان کے پیچھے ڈال دیا ۳؎ ہشیم کہتے ہیں: پھر خالد نے ہم سے لوگوں کے سامنے بیان کیا وہ حفصہ اور محمد سے روایت کر رہے تھے اور یہ دونوں ام عطیہ رضی الله عنہا سے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے ان کے داہنے سے اور وضو کے اعضاء سے شروع کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام عطیہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلیم رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ میت کا غسل غسل جنابت کی طرح ہے، ۵- مالک بن انس کہتے ہیں: ہمارے نزدیک میت کے غسل کی کوئی متعین حد نہیں اور نہ ہی کوئی متعین کیفیت ہے، بس اسے پاک کر دیا جائے گا، ۶- شافعی کہتے ہیں کہ مالک کا قول کہ اسے غسل دیا جائے اور پاک کیا جائے مجمل ہے، جب میت بیری یا کسی اور چیز کے پانی سے پاک کر دیا جائے تو بس اتنا کافی ہے، البتہ میرے نزدیک مستحب یہ ہے کہ اسے تین یا اس سے زیادہ بار غسل دیا جائے۔ تین بار سے کم غسل نہ دیا جائے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اسے تین بار یا پانچ بار غسل دو“، اور اگر لوگ اسے تین سے کم مرتبہ میں ہی پاک صاف کر دیں تو یہ بھی کافی ہے، ہم یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تین یا پانچ بار کا حکم دینا محض پاک کرنے کے لیے ہے، آپ نے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، ایسے ہی دوسرے فقہاء نے بھی کہا ہے۔ وہ حدیث کے مفہوم کو خوب جاننے والے ہیں، ۷- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: ہر مرتبہ غسل پانی اور بیری کی پتی سے ہو گا، البتہ آخری بار اس میں کافور ملا لیں گے۔