Narrated by Umar bin Abi Salamah - the step-son of the Prophet (ﷺ)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَبِيبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلمَّ : ( إنمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَدَعَا فَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ هَؤُلاَءِ أَهْلُ بَيْتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا " . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ " أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ عَلَى خَيْرٍ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ .
Narrated 'Umar bin Abi Salamah - the step-son of the Prophet (ﷺ):"When these Ayat were revealed to the Prophet (ﷺ): 'Allah only wishes to remove the Rijs from you, O members of the family, and to purify you with a thorough purification (33:33)' in the home of Umm Salamah, he called for Fatimah, Hasan, Husain, and wrapped him in the cloak, and 'Ali was behind him, so he wrapped him in the cloak, then he said: 'O Allah! These are the people of my house, so remove the Rijs from them, and purify them with a thorough purification.' So Umm Salamah said: 'And I, Prophet of Allah?' He said: 'You are in your place (meaning you are already a member of my household), and you are goodness
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر پرورش عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وہ ( ہر قسم کی ) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ ( الاحزاب: ۳۳ ) ، ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ نے فاطمہ و حسن حسین ( رضی الله عنہم ) کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ دیا، علی رضی الله عنہ آپ کی پیٹھ کے پیچھے تھے آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت، میرے گھر والے، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پوری طرح پاک و صاف کر دے“، ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اور میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی جگہ ہی ٹھیک ہو، تمہیں خیر ہی کا مقام و درجہ حاصل ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے عطاء عمر بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں غریب ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ فَأَكْرِمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ رضى الله عنه .
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) would say: "O Allah! There is no life but the life of the Hereafter! So honor the Ansar and the Emigrants
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره» ”بار الٰہا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی تکریم فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- انس رضی الله عنہ سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ عَمِّ، أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى . فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ فَقَالَ " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ " . فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ " . فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ " . فَقَالَ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعِ ابْنِ عَفْرَاءَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " كَيْفَ قُلْتَ " . قَالَ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلاَثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ رِفَاعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ فِي التَّطَوُّعِ لأَنَّ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ قَالُوا إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ إِنَّمَا يَحْمَدُ اللَّهَ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُوَسِّعُوا فِي أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ .
Muadh bin Rifa'ah narrated that his father said:"I prayed behind Allah's Messenger (S). I sneezed and said: Al-Hamdulillah, hamdan kathiran tayyiban mubarakan fih, mubarakan alaihi kama yuhibbu Rabbana Wa Yarda (All praise is due to Alah, many good blessed praises, blessings for Him as our Lord loves and is pleased with.) When Allah's Messenger (S) prayed and turned (after finishing) he said: 'Who was the speaker during the Salat?' No one spoke. Then he said it a second time: 'Who was the speaker during the Salat?' But no one spoke. Then he said it a third time: 'Who was the speaker during the Salat?'" So Rifa'ah bin Rafi bin Afra said: "It was I, O Messenger of Allah (S)." He said: "What did you say?" He said: "I said: 'Al-Hamdulillah, hamdan kathiran tayyiban mubarakan fih, mubarakan alaihi kama yuhibbu Rabbana Wa Yarda. The Prophet (S) said: "By the One in Whose Hand is my soul! I saw thirty-some angels competing over which of then would ascend with it
رفاعہ بن رافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، مجھے چھینک آئی تو میں نے «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» کہا جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نماز پڑھ کر پلٹے تو آپ نے پوچھا: ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات دوبارہ پوچھی کہ ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ اس بار بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات تیسری بار پوچھی کہ ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ رفاعہ بن رافع رضی الله عنہ نے عرض کیا: میں تھا اللہ کے رسول! آپ نے پوچھا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ انہوں نے کہا: یوں کہا تھا «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے کون لے کر آسمان پر چڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رفاعہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں انس، وائل بن حجر اور عامر بن ربیعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کے نزدیک یہ واقعہ نفل کا ہے ۱؎ اس لیے کہ تابعین میں سے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب آدمی فرض نماز میں چھینکے تو الحمدللہ اپنے جی میں کہے اس سے زیادہ کی ان لوگوں نے اجازت نہیں دی۔