حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ : ( تتَجَافَى، جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ، ) نَزَلَتْ فِي انْتِظَارِ هَذِهِ الصَّلاَةِ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Anas bin Malik said about this Ayah:Their sides forsake their beds (32:16) - "It was revealed about waiting for [this] Salat which you call Al-'Atamah
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت «تتجافى جنوبهم عن المضاجع» ”ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں“ ( السجدۃ: ۱۶ ) ، اس نماز کا انتظار کرنے والوں کے حق میں اتری ہے جسے رات کی پہلی تہائی کی نماز کہتے ہیں، یعنی نماز عشاء ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ " اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَرُمَيْثَةَ .هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Jabir bin 'Abdullah:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ), saying while the funeral of Sa'd bin Mu'adh was in front of them: 'The Throne of Ar-Rahman shook due to it
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”اور سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا جنازہ ( اس وقت لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا ) : ”ان کے لیے رحمن کا عرش ( بھی خوشی سے ) جھوم اٹھا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسید بن حضیر، ابو سعید خدری اور رمیثہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ وَهُوَ عَمُّ أَبِي قِلاَبَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ . وَرَوَى مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ . وَأَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ أَيْضًا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو . وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ بِطُولِهِ وَهُوَ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَلَّمَ فِي ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ . وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّشَهُّدِ فِي سَجْدَتَىِ السَّهْوِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ يَتَشَهَّدُ فِيهِمَا وَيُسَلِّمُ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ فِيهِمَا تَشَهُّدٌ وَتَسْلِيمٌ وَإِذَا سَجَدَهُمَا قَبْلَ السَّلاَمِ لَمْ يَتَشَهَّدْ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالاَ إِذَا سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلاَمِ لَمْ يَتَشَهَّدْ .
Abu Al-Muhallab narrated from Imran bin Husain that :the Prophet (S) led them in Salat he forgot (something) so he performed two prostrations, then the Tashah-hud, then the Salam
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبد الوھاب ثقفی، ھشیم اور ان کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بطریق: «خالد الحذاء عن أبي قلابة» یہ حدیث ذرا لمبے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے، اور وہ یہی عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر میں صرف تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی اٹھا جسے «خرباق» کہا جاتا تھا ( اور اس نے پوچھا: کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں ) ۳- سجدہ سہو کے تشہد کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے گا اور سلام پھیرے گا۔ اور بعض کہتے کہ سجدہ سہو میں تشہد اور سلام نہیں ہے اور جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے ( اختلاف تو سلام کے بعد میں ہے ) ۔