Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَبِي بَكْرٍ فِي مُنَاحَبَةٍ : ( الم* غُلِبَتِ الرُّومُ ) " أَلاَّ احْتَطْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّ الْبِضْعَ مَا بَيْنَ الثَّلاَثِ إِلَى التِّسْعِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
Narrated Ibn 'Abbas:that regarding "Alif Lam Mim. The Romans have been defeated" (In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious. Within Bid' years...) (30 1 & 2)" The Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr about the wager: "Why were you not more cautious Abu Bakr? For indeed Al-Bid' refers to what is from three to nine
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے ان کے ( قریش سے ) شرط لگانے پر کہا: ”اے ابوبکر تم نے شرط لگانے میں «الم غلبت الروم» کی احتیاط کیوں نہ برتی، کیونکہ لفظ ( «بضع» ) تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے زہری عبیداللہ کے واسطہ سے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Narrated by Abu Idris Al-Khawlani
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، قَالَ لَمَّا عَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عُمَيْرَ بْنَ سَعِيدٍ عَنْ حِمْصَ، وَلَّى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ النَّاسُ عَزَلَ عُمَيْرًا وَوَلَّى مُعَاوِيَةَ . فَقَالَ عُمَيْرٌ لاَ تَذْكُرُوا مُعَاوِيَةَ إِلاَّ بِخَيْرٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ اهْدِ بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ يُضَعَّفُ .
Narrated Abu Idris Al-Khawlani:"When 'Umar bin Al-Khattab removed 'Umair bin Sa'd as governor of Hims, he appointed Mu'awiyah. The people said: 'He has removed 'Umair and appointed Mu'awiyah.' So 'Umair said: 'Do not mention Mu'awiyah except with good, for indeed, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "O Allah guide (others) by him
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ معاویہ رضی الله عنہ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا: انہوں نے عمیر کو معزول کر دیا اور معاویہ کو والی بنایا، تو عمیر نے کہا: تم لوگ معاویہ رضی الله عنہ کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اهد به» ”اے اللہ! ان کے ذریعہ ہدایت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عمرو بن واقد حدیث میں ضعیف ہیں۔