Narrated by Umm Hani
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : (أتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ ) قَالَ " كَانُوا يَخْذِفُونَ أَهْلَ الأَرْضِ وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكٍ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
Narrated Umm Hani:that regarding Allah's saying: '...And you practice evil in your meetings... (29:29) that the Prophet (ﷺ) said: "They would throw pebbles at people of the land and make a mockery of them
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اور ہم اسے صرف حاتم بن ابی صغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سماک سے روایت کرتے ہیں۔ اس سند سے سلیم بن اخضر نے حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abu 'Umairah - and he was one of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ):from the Prophet (ﷺ), that he said to Mu'awiyah: "O Allah, make him a guiding one, and guide (others) by him
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِ الأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلاَةِ الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي رَافِعٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ قَتْلَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلاَةِ . وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ إِنَّ فِي الصَّلاَةِ لَشُغْلاً . وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ .
Abu Hurairah narrated:"Allah's Messenger (S) ordered killing the two black things in Salat; the snake and the scorpion
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کالوں کو یعنی سانپ اور بچھو کو نماز میں مارنے کا حکم دیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابورافع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- اور بعض اہل علم نے نماز میں سانپ اور بچھو کے مارنے کو مکروہ کہا ہے، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ نماز خود ایک شغل ہے ( اور یہ چیز اس میں مخل ہو گی ) پہلا قول ( ہی ) راجح ہے۔