Narrated by Qasamah bin Zuhair
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَشْعَرِيُّ، قَالَ لَمَّا نَزَلََ : (وأنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ ) وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ فَرَفَعَ مِنْ صَوْتِهِ فَقَالَ " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ يَا صَبَاحَاهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى . وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَوْفٍ عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَى وَهُوَ أَصَحُّ ذَاكَرْتُ بِهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ فَلَمْ يَعْرِفْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى .
Narrated Qasamah bin Zuhair:"Al-Ash'ari said: 'When (the following) was revealed: 'And warn your tribe of near kindred (26:214)' the Messenger of Allah (ﷺ) placed his fingers in his ears, raised his voice and said: 'O Banu 'Abd Manaf! Hearken
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «وأنذر عشيرتك الأقربين» نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں کانوں میں ( اذان کی طرح ) ڈال کر بلند آواز سے پکار کہا: یا بنی عبد مناف! یا صباحاہ! اے عبد مناف کے لوگو! جمع ہو جاؤ ( اور سنو اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو عوف سے، اور عوف نے قسامہ بن زہیر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں ابوموسیٰ ( اشعری ) سے روایت کا ذکر نہیں کیا اور یہی زیادہ صحیح ہے، ۳- میں نے اس کے بارے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے مذاکرہ کیا تو انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کے واسطہ سے اس حدیث کی معرفت سے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مِمَّنْ أَنْتَ " . قَالَ قُلْتُ مِنْ دَوْسٍ . قَالَ " مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ فِي دَوْسٍ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ .
Narrated Abu Hurairah:"The Prophet (ﷺ) said to me: 'Who are you from?' I said: 'From Daws.' He said: 'I did not used think there was anyone from Daws in whom there was good
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کس قبیلہ سے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں قبیلہ دوس کا ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسا آدمی بھی ہو گا جس میں خیر ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَلاَ يُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَإِنَّهُ فِي صَلاَةٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ . وَرَوَى شَرِيكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ شَرِيكٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ .
Ka'b bun Ujrah narrated that:Allah's Messenger (S) said: "When one of you performs Wudu and does so well, then he leaves intending to go to the Masjid, then let him not intertwine his fingers, for indeed he is in Salat
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور پھر مسجد کے ارادے سے نکلے تو وہ «تشبیک» نہ کرے ( یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست نہ کرے ) کیونکہ وہ نماز میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- کعب بن عجرہ کی حدیث کو ابن عجلان سے کئی لوگوں نے لیث والی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۲- اور شریک نے بطریق: «محمد بن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے اور شریک کی روایت غیر محفوظ ہے ۱؎۔