بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
4 hadith
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ وَتَلاَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ‏.‏
Narrated 'Aishah:"When my innocence was revealed, the Messenger of Allah (ﷺ) stood on the Minbar and mentioned that. He recited the Qur'an, and when he descended, he ordered that two men, and the woman, be beaten as their Hadd
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میری صفائی و پاکدامنی کی آیت نازل ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا ذکر کیا، قرآن کی تلاوت کی، اور منبر سے اترنے کے بعد دو مردوں اور ایک عورت پر حد ( قذف ) جاری کرنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ ان سب پر حد جاری کر دی گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے محمد بن اسحاق کی روایت کے سوا اور کسی طریقے سے نہیں جانتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي وَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Every Prophet has a (special) supplication which is answered. Verily, I have reserved mine as intercession for my nation, and it shall reach, if Allah wills, those of them who die, not associating anything with Allah.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ کر رکھی ہے، اس دعا کا فائدہ ان شاءاللہ امت کے ہر اس شخص کو حاصل ہو گا جس نے مرنے سے پہلے اللہ کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کیا ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، مَوْلَى طَلْحَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غُلاَمًا لَنَا يُقَالُ لَهُ أَفْلَحُ إِذَا سَجَدَ نَفَخَ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَفْلَحُ تَرِّبْ وَجْهَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَكَرِهَ عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ النَّفْخَ فِي الصَّلاَةِ وَقَالَ إِنْ نَفَخَ لَمْ يَقْطَعْ صَلاَتَهُ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَبِهِ نَأْخُذُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ مَوْلًى لَنَا يُقَالُ لَهُ رَبَاحٌ ‏.‏
Umm Salamah narrated:"The Prophet (S) saw a boy of ours - called Aflah - blowing when he prostrated. So he said: 'O Aflah! Put your face in the dirt
ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ( گھر کے ) ایک لڑکے کو دیکھا جسے افلح کہا جاتا تھا کہ جب وہ سجدہ کرتا تو پھونک مارتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”افلح! اپنے چہرے کو گرد آلودہ کر“ ۱؎۔ احمد بن منیع کہتے ہیں کہ عباد بن العوام نے نماز میں پھونک مارنے کو مکروہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی نے پھونک مار ہی دی تو اس کی نماز باطل نہ ہو گی۔ احمد بن منیع کہتے ہیں کہ اسی کو ہم بھی اختیار کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو بعض دیگر لوگوں نے ابوحمزہ کے واسطہ سے روایت کی ہے۔ اور «غلاما لنا يقال له أفلح» کے بجائے «مولى لنا يقال له رباح» ( ہمارے مولیٰ کو جسے رباح کہا جاتا تھا ) کہا ہے۔
Narrated by Abu Khaldah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي الْعَالِيَةِ سَمِعَ أَنَسٌ، مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ خَدَمَهُ عَشْرَ سِنِينَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ لَهُ بُسْتَانٌ يَحْمِلُ فِي السَّنَةِ الْفَاكِهَةَ مَرَّتَيْنِ وَكَانَ فِيهَا رَيْحَانٌ يَجِدُ مِنْهُ رِيحَ الْمِسْكِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَوَى عَنْهُ ‏.‏
Narrated Abu Khaldah:"I said to Abu Al-'Aliyah: '(Did) Anas heard from the Prophet (ﷺ)?' He said: 'He served him for ten years, and the Prophet (ﷺ) supplicated for him, and he used to have a garden that would bear fruit twice in the year, and there used to be sweet basil in it, from which could be found the smell of musk
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا: کیا انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے اور آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے، اور انس رضی الله عنہ کا ایک باغ تھا جو سال میں دو بار پھلتا تھا، اور اس میں ایک خوشبودار پودا تھا جس سے مشک کی بو آتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ابوخلدہ نے انس بن مالک رضی الله عنہ کا زمانہ پایا ہے، اور انہوں نے ان سے روایت کی ہے۔