Narrated by Umar bin Al-Khattab [may Allah be pleased with him]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ سُمِعَ عِنْدَ وَجْهِهِ كَدَوِيِّ النَّحْلِ فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَمَكَثْنَا سَاعَةً فَسُرِّيَ عَنْهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ " اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلاَ تَنْقُصْنَا وَأَكْرِمْنَا وَلاَ تُهِنَّا وَأَعْطِنَا وَلاَ تَحْرِمْنَا وَآثِرْنَا وَلاَ تُؤْثِرْ عَلَيْنَا وَأَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا " . ثُمَّ قَالَ صلى الله عليه وسلم " أُنْزِلَ عَلَىَّ عَشْرُ آيَاتٍ مَنْ أَقَامَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ثُمَّ قَرَأَ : ( قدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ) حَتَّى خَتَمَ عَشْرَ آيَاتٍ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الأَوَّلِ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ مَنْصُورٍ، يَقُولُ رَوَى أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، هَذَا الْحَدِيثَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَمَنْ سَمِعَ مِنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَدِيمًا فَإِنَّهُمْ إِنَّمَا يَذْكُرُونَ فِيهِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَبَعْضُهُمْ لاَ يَذْكُرُ فِيهِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَمَنْ ذَكَرَ فِيهِ يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ فَهُوَ أَصَحُّ وَكَانَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ رُبَّمَا ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْهُ وَإِذَا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ يُونُسَ فَهُوَ مُرْسَلٌ .
Narrated 'Umar bin Al-Khattab [may Allah be pleased with him]:"When revelation came to the Messenger of Allah (ﷺ), one could hear what sounded like the drone of bees before his face. One day revelation was coming to him, he faced the Qiblah, raised his hands and said: 'O Allah! Increase us, do not diminish us. Favor us, do not withhold from us, make us pleased and be pleased with us.' He (ﷺ) said: 'Ten Ayah were revealed to me, whoever abides by them shall enter Paradise (and they are): 'Successful indeed are the believers...' until the completion of ten Ayat (23:1-10)." (Another route) from AzZuhri with this chain. [Abu 'Eisa said:] This is more correct than the first narration. I heard Ishaq bin Mansur saying: "Ahmad bin Hanbal, 'Ali bin AlMadini, and Ishaq bin Ibrãhim reported this Hadith from 'AbdurRazzaq, from Yunus bin Sulaim, from Yunus bin Yazid from AzZuhri." [Abu 'Eisa said:] Only those who heard from 'Abdur-Razzaq early mentioned in it: "From Yunus bin Yazid", while some of them did not mention in it: "From Yunus bin Yazid." And whoever mentioned "From Yunus bin Yazid" then he was more correct. Sometimes 'Abdur-Razzaq would mention Yunus bin Yazid in this Hadith and sometimes he would not mention him. [When he did not mention Yunus, then it is Mursal]
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کے منہ کے قریب شہد کی مکھی کے اڑنے کی طرح آواز ( بھنبھناہٹ ) سنائی پڑتی تھی۔ ( ایک دن کا واقعہ ہے ) آپ پر وحی نازل ہوئی ہم کچھ دیر ( خاموش ) ٹھہرے رہے، جب آپ سے نزول وحی کے وقت کی کیفیت ( تکلیف ) دور ہوئی تو آپ قبلہ رخ ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا فرمائی: «اللهم زدنا ولا تنقصنا وأكرمنا ولا تهنا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علينا وارضنا وارض عنا» ”اے اللہ! ہم کو زیادہ دے، ہمیں دینے میں کمی نہ کر، ہم کو عزت دے، ہمیں ذلیل و رسوا نہ کر، ہمیں اپنی نعمتوں سے نواز، اپنی نوازشات سے ہمیں محروم نہ رکھ، ہمیں ( اوروں ) پر فضیلت دے، اور دوسروں کو ہم پر فضیلت و تفوّق نہ دے، اور ہمیں راضی کر دے ( اپنی عبادت و بندگی کرنے کے لیے ) اور ہم سے راضی و خوش ہو جا“ پھر آپ نے فرمایا: مجھ پر دس آیتیں نازل ہوئی ہیں جو ان پر عمل کرتا رہے گا، وہ جنت میں جائے گا، پھر آپ نے «قد أفلح المؤمنون» ( سورۃ المومنون: ۱- ۱۰ ) سے شروع کر کے دس آیتیں مکمل تلاوت فرمائیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الدُّعَاءُ لاَ يُرَدُّ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ " . قَالُوا فَمَاذَا نَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ زَادَ يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ هَذَا الْحَرْفَ قَالُوا فَمَاذَا نَقُولُ قَالَ " سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ " .
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The supplication is not rejected between the Adhan and the Iqamah.” They said: “So what should we say, O Messenger of Allah (ﷺ)?” He said: “Ask Allah for Al-`Afiyah in the world and in the Hereafter.”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا لوٹائی نہیں جاتی“، ( یعنی قبول ہو جاتی ہے ) لوگوں نے پوچھا: اس دوران ہم کون سی دعا مانگیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”دنیا اور آخرت ( دونوں ) میں عافیت مانگو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، یحییٰ بن ابان نے اس حدیث میں اس عبارت کا اضافہ کیا ہے کہ ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا: ”دنیا و آخرت میں عافیت ( یعنی امن و سکون ) مانگو“۔
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ صلى الله عليه وسلم بِعَامٍ فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا وَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ وَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ حَفْصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ جَالِسًا فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ ثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ . وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ . قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ وَالْعَمَلُ عَلَى كِلاَ الْحَدِيثَيْنِ . كَأَنَّهُمَا رَأَيَا كِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحًا مَعْمُولاً بِهِمَا .
Hafsah, the wife of the Prophet (S), narrated:"I did not see Allah's Messenger (S) praying voluntary prayers sitting until the year before he died. Then he would perform Salat for the voluntary prayers sitting, and he would recite a Surah and prolong it such that it would be longer than the longest of them
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ جب وفات میں ایک سال رہ گیا تو آپ بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے لگے۔ اور سورت پڑھتے تو اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ لمبی سے لمبی ہو جاتی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہے، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ رات کو بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہو جاتے اور قرأت کرتے پھر رکوع میں جاتے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے۔ اور جب کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ ہی کر کرتے۔ ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دونوں حدیثیں صحیح اور معمول بہ ہیں ۱؎۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّمَا بِيَدِي قِطْعَةُ إِسْتَبْرَقٍ وَلاَ أُشِيرُ بِهَا إِلَى مَوْضِعٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلاَّ طَارَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ " . أَوْ " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Ibn 'Umar:"I had a dream in which I saw as if there was a piece of silk in my hand, and I would not gesture to any place in Paradise except that it would fly with me, (taking me) to it. So I told the dream to Hafsah, so she told it to the Prophet (ﷺ), so he said: 'Indeed, your brother is a righteous man,' or 'Indeed, 'Abdullah is a righteous man
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں موٹے ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور اس سے میں جنت کی جس جگہ کی جانب اشارہ کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے، تو میں نے یہ خواب ( ام المؤمنین ) حفصہ رضی الله عنہا سے بیان کیا پھر حفصہ رضی الله عنہا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”تیرا بھائی ایک مرد صالح ہے“ یا فرمایا: ”عبداللہ مرد صالح ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔