Narrated by Imran bin Husain
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا نَزَلَتْ : ( يا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ ) إِلَى قَوْلِهِ : (ولَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ) قَالَ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَقَالَ " أَتَدْرُونَ أَىُّ يَوْمٍ ذَلِكَ " . فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " ذَلِكَ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ لآدَمَ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ فَقَالَ يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ " . قَالَ فَأَنْشَأَ الْمُسْلِمُونَ يَبْكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلاَّ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهَا جَاهِلِيَّةٌ قَالَ فَيُؤْخَذُ الْعَدَدُ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنْ تَمَّتْ وَإِلاَّ كَمُلَتْ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَمَا مَثَلُكُمْ وَالأُمَمِ إِلاَّ كَمَثَلِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ أَوْ كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَكَبَّرُوا ثُمَّ قَالَ " إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَكَبَّرُوا ثُمَّ قَالَ " إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَكَبَّرُوا قَالَ وَلاَ أَدْرِي قَالَ الثُّلُثَيْنِ أَمْ لاَ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated 'Imran bin Husain:when (the following) was revealed: "O mankind! Have Taqwa of your Lord! Verily the earthquake of the hour is a terrible thing..." up to His saying: "But Allah's torment is severe...(22:1 & 2)" - he said: "These Ayat were revealed while he (ﷺ) was on a journey and he said: 'Do you know what Day this is?' So they said: 'Allah and His Messenger know better.' He said: 'That is the day when Allah says to Adam: Send forth those who are to be sent to the Fire. So he says: O Lord! How many are to be sent? He says: Nine-hundred and ninety-nine in the Fire, and one to Paradise. He said: "So the Muslims started crying. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Close your ranks and be straight forward, for there was never any Prophethood but there was a time of ignorance just before his advent, so the number will be taken from that time of ignorance, and if that is not enough, it will be made up of the hypocrites. The parable of you and the other nations is that you are like a mark on the foreleg of an animal, or a mole on the flank of a camel.' Then he said: 'I hope that you will be a quarter of the people of Paradise.' They said: Allahu Akbar. Then he said: 'I hope that you will be a third of the people of Paradise.' They said: Allahu Akbar. Then he said: 'I hope that you will be half of the people of Paradise.' They said: Allahu Akbar." He said: "I do not know if he said two thirds or not
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے قول «ولكن عذاب الله شديد» ۱؎ تک نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفر میں تھے، آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ آدم ( علیہ السلام ) سے کہے گا «ابعث بعث النار» ”جہنم میں جانے والی جماعت کو چھانٹ کر بھیجو“ آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب «بعث النار» ”کیا ہے ( یعنی کتنے ) ؟“ اللہ فرمائے گا: نو سو ننانوے ( ۹۹۹ ) افراد جہنم میں اور ( ان کے مقابل میں ) ایک شخص جنت میں جائے گا، یہ سن کر مسلمان ( صحابہ ) رونے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نزدیکی حاصل کرو اور ہر کام صحیح اور درست ڈھنگ سے کرتے رہو، ( اہل جنت میں سے ہو جاؤ گے ) ، کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبوت کا سلسلہ چلا ہو اور اس سے پہلے جاہلیت ( کی تاریکی پھیلی ہوئی ) نہ ہو“، آپ نے فرمایا: ”یہ ( ۹۹۹ کی تعداد ) عدد انہیں ( ادوار ) جاہلیت کے افراد سے پوری کی جائے گی۔ یہ تعداد اگر جاہلیت سے پوری نہ ہوئی تو ان کے ساتھ منافقین کو ملا کر پوری کی جائے گی، اور تمہاری اور ( پچھلی ) امتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ داغ، نشان، تل جانور کے اگلے پیر میں، یا سیاہ نشان اونٹ کے پہلو ( پسلی ) میں ہو“ ۲؎ پھر آپ نے فرمایا: ”مگر مجھے امید ہے کہ جنت میں جانے والوں میں ایک چوتھائی تعداد تم لوگوں کی ہو گی“، یہ سن کر ( لوگوں نے خوش ہو کر ) نعرہ تکبیر بلند کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے توقع ہے جنتیوں کی ایک تہائی تعداد تم ہو گے“، لوگوں نے پھر تکبیر بلند کی، آپ نے پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھا آدھا تم لوگ ہو گے“، لوگوں نے پھر صدائے تکبیر بلند کی ( اس سے آگے ) مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ نے دو تہائی بھی فرمایا یا نہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی راویوں سے عمران بن حصین کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَسْوَدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهَا أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قُولِي اللَّهُمَّ هَذَا اسْتِقْبَالُ لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ وَحُضُورُ صَلَوَاتِكَ أَسْأَلُكَ أَنْ تَغْفِرَ لِي " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَحَفْصَةُ بِنْتُ أَبِي كَثِيرٍ لاَ نَعْرِفُهَا وَلاَ أَبَاهَا .
Umm Salamah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) taught me, saying: ‘Say: “O Allah, this is the coming of Your night, and the departing of Your day, the voices of those calling to You, and the time of prayers to You, I ask You to forgive me (Allāhumma hādhastiqbālu lailika, wastidbāru nahārika, wa aṣwātu du`ātika wa ḥuḍūru ṣalawātika, as’aluka an taghfira lī).”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھائی: «اللهم هذا استقبال ليلك واستدبار نهارك وأصوات دعاتك وحضور صلواتك أسألك أن تغفر لي» ”اے اللہ! یہ تیری رات کے آنے اور تیرے دن کے جانے کا وقت ہے اور تجھے یاد کرنے کی آوازوں اور تیری نماز کے لیے پہنچنے کا وقت ہے میں ( ایسے وقت میں ) اپنی مغفرت کے لیے تجھ سے درخواست کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حفصہ بنت ابی کثیر کو ہم نہیں جانتے اور نہ ہی ہم ان کے باپ کو جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قُلْتُ لِبِلاَلٍ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَحَدِيثُ صُهَيْبٍ حَسَنٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ بُكَيْرٍ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ لِبِلاَلٍ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ حَيْثُ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ كَانَ يَرُدُّ إِشَارَةً . وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ عِنْدِي صَحِيحٌ لأَنَّ قِصَّةَ حَدِيثِ صُهَيْبٍ غَيْرُ قِصَّةِ حَدِيثِ بِلاَلٍ . وَإِنْ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَوَى عَنْهُمَا فَاحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْهُمَا جَمِيعًا .
Ibn Umar narrated:"I said to Bilal: 'How did the Prophet (S) reply to them when they gave him Salams and he was performing Salat?' He said: 'He would motion with his hand
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی الله عنہ سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو جب وہ سلام کرتے اور آپ نماز میں ہوتے تو کیسے جواب دیتے تھے؟ تو بلال نے کہا: آپ اپنے ہاتھ کے اشارہ سے جواب دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور صہیب کی حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف لیث ہی کی روایت سے جانتے ہیں انہوں نے بکیر سے روایت کی ہے اور یہ زید ابن اسلم سے بھی مروی ہے وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے بلال سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح جواب دیتے تھے جب لوگ مسجد بنی عمرو بن عوف میں آپ کو سلام کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ اشارے سے جواب دیتے تھے۔ میرے نزدیک دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اس لیے کہ صہیب رضی الله عنہ کا قصہ بلال رضی الله عنہ کے قصے کے علاوہ ہے، اگرچہ ابن عمر رضی الله عنہما نے ان دونوں سے روایت کی ہے، تو اس بات کا احتمال ہے کہ انہوں نے دونوں سے سنا ہو۔
Narrated by Jarir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو الأَزْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلاَ رَآنِي إِلاَّ ضَحِكَ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Jarir bin 'Abdullah:"The Messenger of Allah (ﷺ) never screened me since I accepted Islam, nor did he look at me except that he laughed
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے ) منع نہیں فرمایا ۱؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔