Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَوْعِظَةِ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ عُرَاةً غُرْلاً " . ثُمَّ قَرَأََ : ( كما بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ قَالَ " أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ وَإِنَّهُ سَيُؤْتَى بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ رَبِّ أَصْحَابِي . فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ . فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ( وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ * إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) فَيُقَالُ هَؤُلاَءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، نَحْوَهُ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى كَأَنَّهُ تَأَوَّلَهُ عَلَى أَهْلِ الرِّدَّةِ .
Narrated Ibn 'Abbas:"The Messenger of Allah (ﷺ) stood to deliver a Khutbah, he said: 'O you people! You will be gathered before Allah naked and uncircumcised.' Then he recited: 'As We began the first creation, We shall repeat it...' until the end of the Ayah (21:104). He said: 'The first to be clothed on the Day of Resurrection is Ibrahim. Indeed some men from my Ummah will be brought and taken from the left side, so I will say: "My Lord! My followers!" It will be said: "Indeed you do not know what they innovated after you.' So I shall say as the righteous slave said: 'And I was a witness over them while I dwelt among them, but when You took me up, You were the Watcher over them. If You punish them, they are your slaves, and if You forgive them...' [until the end of] the Ayah (5:117 & 118) I shall be told: 'These people have not ceased turning on their heels as apostates ever since you parted from them
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”تم لوگ قیامت کے دن اللہ کے پاس ننگے اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، پھر آپ نے آیت پڑھی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا» ”ہم نے جیسے پہلے آدمی کو پیدا کیا ہے ویسا ہی دوبارہ لوٹا دیں گے ( پیدا فرما دیں گے ) “ ( الانبیاء: ۱۰۴ ) ، آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن جنہیں سب سے پہلے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، ( قیامت کے دن ) میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے جنہیں چھانٹ کر بائیں جانب ( جہنم کی رخ ) کر دیا جائے گا، میں کہوں گا پروردگار! یہ تو میرے اصحاب ( امتی ) ہیں، کہا جائے گا: آپ کو نہیں معلوم ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی باتیں ( خرافات ) دین میں پیدا ( داخل ) کر دیں۔ ( یہ سن کر ) میں بھی وہی بات کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہی ہے «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم وأنت على كل شيء شهيد إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم» ”میں جب تک ان کے درمیان تھا ان کی دیکھ بھال کرتا رہا تھا، پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا آپ ان کے محافظ و نگہبان بن گئے، آپ ہر چیز سے واقف ہیں۔ اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے و غلام ہیں۔ ( آپ انہیں سزا دے سکتے ہیں ) اور اگر آپ انہیں معاف کر دیں تو آپ زبردست حکمت والے ہیں“ ( المائدہ: ۱۱۸ ) ، کہا جائے گا: یہ وہ لوگ ہیں کہ آپ نے جب سے ان کا ساتھ چھوڑا ہے یہ اپنی پہلی حالت سے پھر گئے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، قَالَ قَالَ لِي يَا مُحَمَّدُ إِذَا اشْتَكَيْتَ فَضَعْ يَدَكَ حَيْثُ تَشْتَكِي وَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ مِنْ وَجَعِي هَذَا ثُمَّ ارْفَعْ يَدَكَ ثُمَّ أَعِدْ ذَلِكَ وِتْرًا فَإِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُ بِذَلِكَ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ هَذَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ .
Muhammad bin Sulaim narrated:“Thabit Al-Bunani narrated to me, he said to me: ‘O Muhammad, when you suffer from some ailment, then place your hand at the place of the ailment, then say: “In the Name of Allah, I seek refuge in Allah’s might and power from the evil of this pain I feel (Bismillāh, a`ūdhu bi-`izzatillāhi wa qudratihī min sharri mā ajidu min waja`ī hādhā).” Then lift your hand and repeat that an odd number of times. For indeed, Anas bin Malik narrated to me, that the Messenger of Allah (ﷺ) narrated that to him.’”
ثابت بنانی اپنے شاگرد محمد بن سالم سے کہتے ہیں کہ جب تمہیں درد ہو تو جہاں درد اور تکلیف ہو وہاں ہاتھ رکھو پھر پڑھو: «بسم الله أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد من وجعي هذا» ”اللہ کے نام سے اللہ کی عزت و قدرت کے سہارے میں اپنی اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کر رہا ہوں پناہ چاہتا ہوں“۔، پھر ( درد کی جگہ سے ) ہاتھ ہٹا لو پھر ایسے ہی طاق ( تین یا پانچ یا سات ) بار کرو، کیونکہ انس بن مالک نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایسا ہی بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور محمد بن سالم یہ بصریٰ شیخ ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ نَابِلٍ، صَاحِبِ الْعَبَاءِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ إِلَىَّ إِشَارَةً . وَقَالَ لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ إِشَارَةً بِإِصْبَعِهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ بِلاَلٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَعَائِشَةَ .
Suhaib narrated:"I passed by Allah's Messenger (S) while he was performing Salat, so I said greeted him with Salam, and he returned it by making signals." He said: "I do not know except that he said: 'He indicated with his finger
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، راوی ( ابن عمر ) کہتے ہیں کہ میرا یہی خیال ہے کہ صہیب نے کہا: آپ نے اپنی انگلی کے اشارے سے جواب دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صہیب کی حدیث حسن ہے ۲؎، ۲- اس باب میں بلال، ابوہریرہ، انس، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Usamah bin Zaid
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ فَقَالاَ يَا أُسَامَةُ اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ . فَقَالَ " أَتَدْرِي مَا جَاءَ بِهِمَا " . قُلْتُ لاَ أَدْرِيَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَكِنِّي أَدْرِي " . فَأَذِنَ لَهُمَا فَدَخَلاَ فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ أَىُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ " فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ " . فَقَالاَ مَا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَهْلِكَ . قَالَ " أَحَبُّ أَهْلِي إِلَىَّ مَنْ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ " . قَالاَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ " . قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ الله جَعَلْتَ عَمَّكَ آخِرَهُمْ قَالَ " لأَنَّ عَلِيًّا قَدْ سَبَقَكَ بِالْهِجْرَةِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَكَانَ شُعْبَةُ يُضَعِّفُ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ .
Narrated Usamah bin Zaid:"I was sitting [with the Prophet (ﷺ)] when 'Ali and Al-'Abbas came seeking permission to enter. They said: 'O Usamah, seek permission for us from the Messenger of Allah (ﷺ).' So I said: 'O Messenger of Allah, 'Ali and Al-'Abbas seek permission to enter.' He said: 'Do you know what has brought them?' I said: 'No [I do not know].' So the Prophet (ﷺ) said: 'But I know, grant them permission.' So they entered and said: 'O Messenger of Allah, we have come to you, to ask you which of your family is most beloved to you.' He said: 'Fatimah bint Muhammad.' So they said: 'We did not come to ask you about (immediate) family.' He said: 'The most beloved of my family to me is the one whom Allah favored and I favored, Usamah bin Zaid.' They said: 'Then who?' He said: 'Then 'Ali bin Abi Talib.' Al-'Abbas said: 'O Messenger of Allah, you have made your uncle the last of them.' He said: 'Indeed, 'Ali has preceded you in emigration
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں علی اور عباس رضی الله عنہما دونوں اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، انہوں نے کہا: اسامہ! ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگو، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! علی اور عباس دونوں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیوں آئے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: میں نہیں جانتا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو معلوم ہے“، پھر آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ اندر آئے اور عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے پوچھیں کہ آپ کے اہل میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”فاطمہ بنت محمد“، تو وہ دونوں بولے: ہم آپ کی اولاد کے متعلق نہیں پوچھتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے انعام کیا ہے، اور وہ اسامہ بن زید ہیں“، وہ دونوں بولے: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”پھر علی بن ابی طالب ہیں“، عباس بولے: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے چچا کو پیچھے کر دیا، آپ نے فرمایا: ”علی نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ: عمر بن ابی سلمہ کو ضعیف قرار دیتے تھے۔