بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
4 hadith
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَيْبَرَ أَسْرَى لَيْلَةً حَتَّى أَدْرَكَهُ الْكَرَى أَنَاخَ فَعَرَّسَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا بِلاَلُ اكْلأْ لَنَا اللَّيْلَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَصَلَّى بِلاَلٌ ثُمَّ تَسَانَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُسْتَقْبَلَ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَنَامَ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ أَحَدٌ مِنْهُمْ وَكَانَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَىْ بِلاَلُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بِلاَلٌ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْتَادُوا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَنَاخَ فَتَوَضَّأَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ ثُمَّ صَلَّى مِثْلَ صَلاَتِهِ لِلْوَقْتِ فِي تَمَكُّثٍ ث��مَّ قَالَ ‏:‏ ‏(‏وأقِمِ الصَّلاَةَ لِذِكْرِي ‏)‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:"While the Messenger of Allah (ﷺ) was returning from Khaibar he traveled during the night until he became sleepy and he sat down to rest. Then he said: 'O Bilal! Stand guard for us for the night.'" He said: 'So Bilal performed Salat, then he leaned against his mount facing the direction of (dawn awaiting) Fajr. His eyes overcame him until he slept, and not one of them awoke. The first of them to awaken was the Prophet (ﷺ) who said: 'O Bilal!' Bilal said: 'May my father be ransomed for you O Messenger of Allah! I was overtaken just as you were overtaken.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Move out!' Then he kneeled to perform Wudu and to announce the standing for the Salat, then he performed Salat the same as he would when not traveling. Then he said: 'And establish the Salat for My rememberance (20:)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹے، رات کا سفر اختیار کیا، چلتے چلتے آپ کو نیند آنے لگی ( مجبور ہو کر ) اونٹ بٹھایا اور قیام کیا، بلال رضی الله عنہ سے فرمایا: ”بلال! آج رات تم ہماری حفاظت و پہرہ داری کرو“، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: بلال نے ( جاگنے کی صورت یہ کی کہ ) نماز پڑھی، صبح ہونے کو تھی، طلوع فجر ہونے کا انتظار کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کجاوے کی ( ذرا سی ) ٹیک لے لی، تو ان کی آنکھ لگ گئی، اور وہ سو گئے، پھر تو کوئی اٹھ نہ سکا، ان سب میں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، آپ نے فرمایا: ”بلال! ( یہ کیا ہوا؟ ) “ بلال نے عرض کیا: میرے باپ آپ پر قربان، مجھے بھی اسی چیز نے اپنی گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، آپ نے فرمایا: ”یہاں سے اونٹوں کو آگے کھینچ کر لے چلو، پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اونٹ بٹھائے، وضو کیا، نماز کھڑی کی اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی آپ اطمینان سے اپنے وقت پر پڑھی جانے والی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ پھر آپ نے آیت «أقم الصلاة لذكري» ”مجھے یاد کرنے کے لیے نماز پڑھو“ ( طہٰ: ۱۴ ) ، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، اسے کئی حافظان حدیث نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے اور سعید بن مسیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۲- صالح بن ابی الاخضر حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں۔ انہیں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے حفظ کے تعلق سے ضعیف کہا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا غَزَا قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَأَنْتَ نَصِيرِي وَبِكَ أُقَاتِلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَمَعْنَى قَوْلِهِ عَضُدِي ‏.‏ يَعْنِي عَوْنِي ‏.‏
Anas narrated that when the Prophet (ﷺ) would go out for an expedition, he would say:“O Allah, You are my `Aḍud and You are my Helper, and by You do I fight (Allāhumma anta `aḍudī, wa anta naṣīrī, wa bika uqātil).”
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کرتے ( لڑتے ) تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت عضدي وأنت نصيري وبك أقاتل» ”اے اللہ! تو میرا بازو ہے، تو ہی میرا مددگار ہے اور تیرے ہی سہارے میں لڑتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲- اور «عضدی» کے معنی ہیں تو میرا مددگار ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ وَهَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ ثَابِتٍ ‏.‏ وَمَنْ ذَكَرَ فِيهِ عَنْ ثَابِتٍ فَهُوَ أَصَحُّ ‏.‏
Anas narrated:"Allah's Messenger performed Salat during his illness behind Abu Bakr while seated, wrapped in a garment
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی اور آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب نے بھی حمید سے، اور حمید نے ثابت سے اور ثابت نے انس رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے، ۳- نیز اسے اور بھی کئی لوگوں نے حمید سے اور حمید نے انس رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے، اور ان لوگوں نے اس میں ثابت کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، لیکن جس نے ثابت کے واسطے کا ذکر کیا ہے، وہ زیادہ صحیح ہے۔
Narrated by Jabalah bin Harithah, the brother of Zaid
حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَصْرِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَبَلَةُ بْنُ حَارِثَةَ، أَخُو زَيْدٍ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعِي أَخِي زَيْدًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هُوَ ذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِ انْطَلَقَ مَعَكَ لَمْ أَمْنَعْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زَيْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لاَ أَخْتَارُ عَلَيْكَ أَحَدًا ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ رَأْىَ أَخِي أَفْضَلَ مِنْ رَأْيِي ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الرُّومِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ‏.‏
Narrated Jabalah bin Harithah, the brother of Zaid:"I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, send my brother Zaid with me.' He said: 'Here he is.' He said: "'If he goes with you, I will not prevent him.' Zaid said: 'O Messenger of Allah, by Allah, I will not choose anyone over you.'" He said: "So I considered the view of my brother to be better than my own view
زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے بھائی جبلہ بن حارثہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ موجود ہیں اگر تمہارے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو میں انہیں نہیں روکوں گا“، یہ سن کر زید نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں آپ کے مقابلہ میں کسی اور کو اختیار نہیں کر سکتا، جبلہ کہتے ہیں: تو میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے افضل تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابن رومی کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ علی بن مسہر سے روایت کرتے ہیں۔