بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
11
41 hadith
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لاَ بَلْ ثَيِّبًا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَاتَ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعًا فَجِئْتُ بِمَنْ يَقُومُ عَلَيْهِنَّ ‏.‏ قَالَ فَدَعَا لِي ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Jabir bin Abdullah narrated:"I married a woman and went to the Prophet, he said: 'O Jabir! Have you married?' I said: 'Yes.' He said: 'A virgin or a matron?' I said: 'A matron.' He said: 'Why didn't you marry a young girl, so that you may play with her and she with you?' I said: 'O Messenger of Allah! Abdullah (his father) died and left behind seven - or nine - daughter, so I have brought someone who can look after them.'" (He said:) "So he supplicated for me
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے پوچھا: ”جابر! کیا تم نے شادی کی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں کی ہے، آپ نے فرمایا: ”کسی کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: نہیں، غیر کنواری سے۔ آپ نے فرمایا: ”کسی ( کنواری ) لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی، تو اس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ( میرے والد ) عبداللہ کا انتقال ہو گیا ہے، اور انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں، میں ایسی عورت کو بیاہ کر لایا ہوں جو ان کی دیکھ بھال کر سکے۔ چنانچہ آپ نے میرے لیے دعا فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب اور کعب بن عجرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَهُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلاَ تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَعَلِيٌّ هَذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ طَلْقٍ ‏.‏
Ali narrated that The Messenger of Allah said:“When one of you breaks wind then let him perform Wudu, and do not go into your women through their behinds.”
علی بن طلق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ہوا خارج کرے تو چاہیئے کہ وضو کرے اور تم عورتوں کی دبر میں صحبت نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: علی سے مراد علی بن طلق ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَابْنَ، عَبَّاسٍ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تَذَاكَرُوا الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا الْحَامِلَ تَضَعُ عِنْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَعْتَدُّ آخِرَ الأَجَلَيْنِ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ بَلْ تَحِلُّ حِينَ تَضَعُ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ قَدْ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِيَسِيرٍ فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.‏
Sulaiman bin Yasir narrated that :Abu Hurairah, Ibn Abbas and Abu Salamah bin Abdur-Rahman mentioned the pregnant women whose husband died and she gave birth after the death of her husband. So Ibn Abbas said: "She observes Iddah until the end of the two terms." Abu Salamah said: "Rather, she is allowed when she gives birth." Abu Hurairah said: "I am with my nephew," meaning Abu Salamah.So he sent a message to Umm Salamah the wife of the Prophet. She said: "Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth a short time after her husband died, so she sought the judgment of the Messenger of Allah and he ordered her to get married
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی الله عنہم نے آپس میں اس حاملہ عورت کا ذکر کیا جس کا شوہر فوت ہو چکا ہو اور اس نے شوہر کی وفات کے بعد بچہ جنا ہو، ابن عباس رضی الله عنہما کا کہنا تھا کہ وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو مدت بعد میں پوری ہو گی اس کے مطابق وہ عدت گزارے گی، اور ابوسلمہ کا کہنا تھا کہ جب اس نے بچہ جن دیا تو اس کی عدت پوری ہو گئی، اس پر ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر ان لوگوں نے ( ایک شخص کو ) ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس ( مسئلہ معلوم کرنے کے لیے ) بھیجا، تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ نے اپنے شوہر کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد بچہ جنا۔ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( شادی کے سلسلے میں ) مسئلہ پوچھا تو آپ نے اسے ( دم نفاس ختم ہوتے ہی ) شادی کرنے کی اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ قُتَيْبَةُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ طَلْحَةَ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَحَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ جَدِّ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The dweller of the town is not to sell for the Bedouin." [He said:] There are narrations on this topic from Talhah, Jabir, Anas, Ibn 'Abbas, Hakim bin Abi Yazid from his father, 'Amr bin 'Awf Al-Muzani the grandfather of Kathir bin 'Abdullah, and a man from the Companions of the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے ۱؎ ( بلکہ دیہاتی کو خود بیچنے دے“ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں طلحہ، جابر، انس، ابن عباس، ابویزید کثیر بن عبداللہ کے دادا عمرو بن عوف مزنی اور ایک اور صحابی رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي خُطْبَتِهِ ‏ "‏ الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ ‏.‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُ ‏.‏
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather, that during a Khutbah, the Prophet (ﷺ) said:"The proof is due from the claimant, and the oath is due from the one the claim is made against
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ”گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی سند میں کلام ہے۔ محمد بن عبیداللہ عرزمی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔ ابن مبارک وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يَعْفُوَ وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي شُرَيْحٍ خُوَيْلِدِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:"When Allah granted His Messenger (ﷺ) victory over Makkah, he stood (to deliver an address) among the people. He thanked and praised Allah, then he said: 'And from whomever (one of his relatives) was killed, then he has two options to choose from: Either to pardon or that he be killed
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ نے اپنے رسول کے لیے مکہ کو فتح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”جس کا کوئی شخص مارا گیا ہو اسے دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے: یا تو معاف کر دے یا ( قصاص میں ) اسے قتل کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ( کماسیأتی ) ، ۲- اس باب میں وائل بن حجر، انس، ابوشریح اور خویلد بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Sulaiman bin Buraidah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي فَوْقَ ثَلاَثٍ لِيَتَّسِعَ ذُو الطَّوْلِ عَلَى مَنْ لاَ طَوْلَ لَهُ فَكُلُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةَ وَنُبَيْشَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَقَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ وَأَنَسٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ ‏.‏
Narrated Sulaiman bin Buraidah:From his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I used to prohibit you from (eating) the meat of Sacrifice beyond three days so that those who have the ability would give to those who do not have it. So (now) eat as you like, feed others, and save from it
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم لوگوں کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا تاکہ مالدار لوگ ان لوگوں کے لیے کشادگی کر دیں جنہیں قربانی کی طاقت نہیں ہے، سو اب جتنا چاہو خود کھاؤ دوسروں کو کھلاؤ اور ( گوشت ) جمع کر کے رکھو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، ۳- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، نبیشہ، ابوسعید، قتادہ بن نعمان، انس اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Suwaid bin Muqarrin Al-Muzani
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا سَبْعَةَ إِخْوَةٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلاَّ وَاحِدَةٌ فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُعْتِقَهَا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ قَالَ لَطَمَهَا عَلَى وَجْهِهَا ‏.‏
Narrated Suwaid bin Muqarrin Al-Muzani:"We were seven brothers without a servant except one, and one of us slapped her, so the Prophet (ﷺ) ordered us to free her
سوید بن مقرن مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صورت حال یہ تھی کہ ہم سات بھائی تھے، ہمارے پاس ایک ہی خادمہ تھی، ہم میں سے کسی نے اس کو طمانچہ مار دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اس کو آزاد کر دیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے حصین بن عبدالرحمٰن سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، بعض لوگوں نے اپنی روایت میں یہ ذکر کیا ہے کہ سوید بن مقرن مزنی نے «لطمها على وجهها» کہا یعنی ”اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا“۔ ۳- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Abu Najih As-Sulami
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ، رضى الله عنه قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ لَهُ عَدْلُ مُحَرَّرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو نَجِيحٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَزْرَقِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ‏.‏
Narrated Abu Najih As-Sulami: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Whoever shoots an arrow in the cause of Allah, then he has the reward of freeing a slave." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Abu Najih is 'Amr bin 'Abasah As-Sulami, and 'Abdullah bin Al-Azraq is 'Abdullah bin Zaid
ابونجیح عمرو بن عبسہ سلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیر مارا، وہ ( ثواب میں ) ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- ابونجیح کا نام عمرو بن عبسہ سلمی ہے، ۳- عبداللہ بن ازرق سے مراد عبداللہ بن زید ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْمُرُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فِي الأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا مَعَهُمَا ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُعْفِيٍّ يُقَالُ لَهُ قَيْسٌ أَوِ ابْنُ قَيْسٍ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثَ فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ ‏.‏ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي السَّمَرِ بَعْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ فَكَرِهَ قَوْمٌ مِنْهُمُ السَّمَرَ بَعْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ إِذَا كَانَ فِي مَعْنَى الْعِلْمِ وَمَا لاَ بُدَّ مِنْهُ مِنَ الْحَوَائِجِ وَأَكْثَرُ الْحَدِيثِ عَلَى الرُّخْصَةِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ سَمَرَ إِلاَّ لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ ‏"‏ ‏.‏
Umar bin Al-Khattab narrated:"Allah's Messenger would talk during the night with Abu Bakr about matters concerning the Muslims while I was with them
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مسلمانوں کے بعض معاملات میں سے ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ رات میں گفتگو کرتے اور میں ان دونوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، اوس بن حذیفہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم نے عشاء کے بعد بات کرنے کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے عشاء کے بعد بات کرنے کو مکروہ جانا ہے اور کچھ لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، بشرطیکہ یہ کوئی علمی گفتگو ہو یا کوئی ایسی ضرورت ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو ۱؎ اور اکثر احادیث رخصت کے بیان میں ہیں، نیز نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”بات صرف وہ کر سکتا ہے جو نماز عشاء کا منتظر ہو یا مسافر ہو“۔
Narrated by Talib bin Hujair
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ حُجَيْرٍ، عَنْ هُودِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَدِّهِ، مَزِيدَةَ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى سَيْفِهِ ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ ‏.‏ قَالَ طَالِبٌ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْفِضَّةِ فَقَالَ كَانَتْ قَبِيعَةُ السَّيْفِ فِضَّةً ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَجَدُّ هُودٍ اسْمُهُ مَزِيدَةُ الْعَصَرِيُّ ‏.‏
Narrated Talib bin Hujair: From Hud bin 'Abdullah bin Sa'd, from his grandfather Mazidah, who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of the Conquest and there was gold and silver on his sword." Talib said: "So I asked him about the silver and he said: 'The hand-guard of his sword was of silver.'" [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic form Anas. This Hadith is Hasan Gharib. Hud's (great) grandfather's name is Mazidah Al-'Asari
مزیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ داخل ہوئے اور آپ کی تلوار سونا اور چاندی سے مزین تھی، راوی طالب کہتے ہیں: میں نے ہود بن عبداللہ سے چاندی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہود کے دادا کا نام مزیدہ عصری ہے، ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ فِضَّةٍ فَصُّهُ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Narrated Anas: "The ring of the Messenger of Allah (ﷺ) was made of silver, its Fass was from it." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib from this route
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated by Jabir bin Samurah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَبِي أَيُّوبَ وَكَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بَعَثَ إِلَيْهِ بِفَضْلِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ يَوْمًا بِطَعَامٍ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَى أَبُو أَيُّوبَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ فِيهِ ثُومٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ ‏"‏ لاَ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Jabir bin Samurah: "The Messenger of Allah (ﷺ) was staying with Abu Ayyub. When he ate some food, he would send what was left to him. So one day he sent him some food but the Prophet (ﷺ) did not eat from it. So Abu Ayyub went to the Prophet (ﷺ) and mentioned that to him. The Prophet (ﷺ) said: 'It contained garlic.' So he said: 'O Messenger of Allah! Is it unlawful?' He said: 'No, I dislike it because of its odor.'" He said: This Hadith is Hasan Sahih
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ہجرت کے بعد ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کے گھر ٹھہرے، آپ جب بھی کھانا کھاتے تو اس کا کچھ حصہ ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کے پاس بھیجتے، آپ نے ایک دن ( پورا ) کھانا ( واپس ) بھیجا، اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کھایا، جب ابوایوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس میں لہسن ہے؟“، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اس کی بو کی وجہ سے میں اسے ناپسند کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Al-Jarud bin Al-'Ala
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ، عَنِ الْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ عَنِ الْجَارُودِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ عَنِ الْجَارُودِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ وَالْجَارُودُ هُوَ ابْنُ الْمُعَلَّى الْعَبْدِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَيُقَالُ الْجَارُودُ بْنُ الْعَلاَءِ أَيْضًا وَالصَّحِيحُ ابْنُ الْمُعَلَّى ‏.‏
Narrated Al-Jarud bin Al-'Ala': "The Prophet (ﷺ) prohibited drinking while standing." And there are narrations on this topic from Abu Sa'eed, Abu Hurairah, and Anas. And this Hadith is Hasan Gharib. This Hadith was reported from other narrators, from Sa'eed, from Qatadah, from Abu Muslim, from Al-Jarud, that the Prophet (ﷺ) said: "The Muslim's wandering (animal) stirs the Fire." Al-Jarud bin Al-Mu'alla is called Ibn Al-'Al' but what is correct is Al-Mu'alla
جارود بن معلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب حسن ہے، ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے اس حدیث کو «عن سعيد عن قتادة عن أبي مسلم عن الجارود عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے، اور یہ حدیث بطریق: «عن قتادة عن يزيد بن عبد الله ابن الشخير عن أبي مسلم عن الجارود أن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”مسلمان کی گری ہوئی چیز ( یعنی اس پر قبضہ کرنے کی نیت سے ) اٹھانا آگ میں جلنے کا سبب ہے“، ۳- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَسَأَلَتْ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Aishah said:"A woman came to me with two daughters. She was asking (for food) but I did not have anything with me except a date. So I gave it to her and she divided it between her two daughters without eating any of it herself. Then she got up to leave, and the Prophet entered, and I informed him about her. So the Prophet said: " Whoever is tested something from these daughters (and he/she passes the test), they will be a screen for them from the Fire
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں تھیں، اس نے ( کھانے کے لیے ) کوئی چیز مانگی مگر میرے پاس سے ایک کھجور کے سوا اسے کچھ نہیں ملا، چنانچہ اسے میں نے وہی دے دیا، اس عورت نے کھجور کو خود نہ کھا کر اسے اپنی دونوں لڑکیوں کے درمیان بانٹ دیا اور اٹھ کر چلی گئی، پھر میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے آپ سے یہ ( واقعہ ) بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”جو ان لڑکیوں کی پرورش سے دو چار ہو اس کے لیے یہ سب جہنم سے پردہ ہوں گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، قال حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ وَالْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ ‏.‏ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قال حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجَابِرٍ وَعَائِشَةَ وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَأَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
Anas narrated that :the Messenger of Allah (s.a.w) permitted Ruqyah for the scorpion sting, the(evil) eye, and An-Namlah. Another chain reports a similar narration
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچھو کے ڈنک، نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کے سلسلے میں، جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، مَرْدَوَيْهِ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ فِي مُسْتَحَمِّهِ ‏.‏ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَيُقَالُ لَهُ أَشْعَثُ الأَعْمَى ‏.‏ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْبَوْلَ فِي الْمُغْتَسَلِ وَقَالُوا عَامَّةُ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ ‏.‏ وَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمُ ابْنُ سِيرِينَ وَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ يُقَالُ إِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ فَقَالَ رَبُّنَا اللَّهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ قَدْ وُسِّعَ فِي الْبَوْلِ فِي الْمُغْتَسَلِ إِذَا جَرَى فِيهِ الْمَاءُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الآمُلِيُّ عَنْ حِبَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ‏.‏
Abdullah bin Mughaffal narrated that :the Prophet prohibited that a man should urinate in his bathing area. And he said: "It will only cause misgivings." [He said:] There are narrations on This topic from "a man from among the Companions of the Prophet
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے اور فرمایا : ” زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ایک اور صحابی سے بھی روایت ہے ، ۲- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اشعث بن عبداللہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں ، انہیں اشعث اعمی بھی کہا جاتا ہے ، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے غسل خانے میں پیشاب کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے ، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر وسوسے اسی سے جنم لیتے ہیں ، ۴- بعض اہل علم نے اس کی رخصت دی ہے جن میں سے ابن سیرین بھی ہیں ، ابن سیرین سے کہا گیا : کہا جاتا ہے کہ اکثر وسوسے اسی سے جنم لیتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ غسل خانے میں پیشاب کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے ، بشرطیکہ اس میں سے پانی بہ جاتا ہو
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَالَ عُمَرُ الدِّيَةُ عَلَى الْعَاقِلَةِ وَلاَ تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا ‏.‏ فَأَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلاَبِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ وَرِّثِ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Sa'eed bin Al-Musayyab said:"'Umar said: 'The blood-money is upon the 'Aqilah, and the wife does not inherit anything from the blood-money of her husband.' So Ad-Dahhak bin Sufyan Al-Kilabi informed him that the Messenger of Allah(S.A.W) wrote to him, (saying) to give the wife of Ashyam Ad-Dababi the inheritance from her husband's blood-money
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دیت عاقلہ ۱؎ پر واجب ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہو گی، ( یہ سن کر ) ضحاک بن سفیان کلابی رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھا: ”اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ، حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَكُونُ فِي أُمَّتِي خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَذَلِكَ فِي الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar narrated from the Prophet (s.a.w):"There will be a collapse of the earth and transformation in my Ummah, and that is for those who deny Al-Qadar
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں «خسف» اور «مسخ» کا عذاب ہو گا اور یہ عذاب تقدیر کے جھٹلانے والوں پر آئے گا“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سِيمِينْ، كُوشْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلاَهَا فِي النَّارِ اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنَ السَّيْفِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ لاَ يُعْرَفُ لِزِيَادِ بْنِ سِيمِينَ كُوشْ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ لَيْثٍ فَرَفَعَهُ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ لَيْثٍ فَوَقَفَهُ ‏.‏
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"There shall be a Fitnah of extermination of the 'Arabs. Its fighters are in the Fire. During it, the tongue is stronger then the sword
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فتنہ ایسا ہو گا جو تمام عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس کے مقتول جہنمی ہوں گے، اس وقت زبان کھولنا تلوار مارنے سے زیادہ سخت ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: زیاد بن سیمین کوش کی اس کے علاوہ دوسری کوئی حدیث نہیں معلوم ہے، ۳- حماد بن سلمہ نے اسے لیث سے روایت کرتے ہوئے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور حماد بن زید نے اسے لیث سے روایت کرتے ہوئے موقوفاً بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رُؤْيَا النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ وَأَوَّلْتُهَا وَبَاءَ الْمَدِينَةِ يُنْقَلُ إِلَى الْجُحْفَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Salim bin 'Abdullah narrated from his father about the dream of the Prophet (s.a.w) who said:"I saw a black woman with unkempt hair going out of Al-Madinah, until she stood in Mabaya'ah, and it is Al-Juhfah. So I interpreted that to be an epidemic in Al-Madinah that would spread to Al-Juhfah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے بارے میں روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے پراگندہ بالوں والی ایک کالی عورت کو دیکھا جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں ٹھہر گئی ( مهيعه، جحفه کا دوسرا نام ہے ) ، میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ وہ مدینہ کی ( بخار والی ) وبا ہے جو جحفہ چلی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The world is a prison for the believer and Paradise for the disbeliever
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ ( جیل ) ہے اور کافر کے لیے جنت ( باغ و بہار ) ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ شَفَاعَتِي لأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏
Anas narrated that the Messenger of allah (s.a.w)said:"My intercession is for the people who committed the major sins in my Ummah." Another chain reports a similar narration
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ فِي الْجَنَّةِ مِنْ خَيْلٍ قَالَ ‏"‏ إِنِ اللَّهُ أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ فَلاَ تَشَاءُ أَنْ تُحْمَلَ فِيهَا عَلَى فَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ يَطِيرُ بِكَ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْتَ إِلاَّ فَعَلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ فِي الْجَنَّةِ مِنْ إِبِلٍ قَالَ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِصَاحِبِهِ قَالَ ‏"‏ إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ يَكُنْ لَكَ فِيهَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْمَسْعُودِيِّ ‏.‏
Sulaiman bin Buraidah narrated from his father that a man asked the Prophet (ﷺ):"O Messenger of Allah, are there horses in Paradise?" He said, "If Allah admits you into Paradise, you will not wish to be carried, on a horse of rubies that will fly with you wherever you want in Paradise except that you will do so." He said: "And a man asked him: 'O Messenger of Allah, are there camels in Paradise?'" He said: "So he (ﷺ) did not say what he said to his companion, rather, he (ﷺ) said: 'If Allah admits you into Paradise, you will have in it whatever is desired by your soul and pleasing to your eye.'" Another chain reports a similar narration
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا جنت میں گھوڑے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تم کو جنت میں داخل کیا تو تمہاری خواہش کے مطابق تمہیں سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار کیا جائے گا، تم جہاں چاہو گے وہ تمہیں جنت میں لے کر اڑے گا“، آپ سے ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جنت میں اونٹ ہیں؟ بریدہ کہتے ہیں: آپ نے اس کو پہلے آدمی کی طرح جواب نہیں دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہیں جنت میں داخل کیا تو اس میں تمہارے لیے ہر وہ چیز موجود ہو گی جس کی تم چاہت کرو گے اور جس سے تمہاری آنکھیں لطف اٹھائیں گی“۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ - قَالَ هِشَامٌ ‏"‏ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ شُعْبَةُ ‏"‏ أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ شُعْبَةُ ‏"‏ مَا يَزِنُ ذُرَةً ‏"‏ ‏.‏ مُخَفَّفَةً ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
From Anas, that the Messenger of Allah (s.a.w) said – Hisham (one of the narrators) narrated it:“Some will exit the Fire,” Shu`bah (another narrator) narrated it: 'Remove from the Fire whoever said La ilaha illallah and had good in his heart equal to the weight of a grain of barley. Remove from the Fire anyone who said La Ilaha illallah and had good in his heart equal to the weight of a grain of wheat. Remove from the Fire anyone who said La ilaha illallah and had good in his heart equal to the weight of a speck.” And Shubah said: “What is equal to the weight of a light piece of corn.” (Sahih) Other chains report similar narrations
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے نکلے گا ( شعبہ نے اپنی روایت میں کہا ہے: ( اللہ تعالیٰ کہے گا، اسے جہنم سے نکال لو ) جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا اور اس کے دل میں ایک جو کے دانہ کے برابر بھلائی تھی، اسے جہنم سے نکالو جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا، اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ کے برابر بھلائی تھی، اسے جہنم سے نکالو جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھلائی تھی۔ ( شعبہ نے کہا ہے: جوار کے برابر بھلائی تھی ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابو سعید خدری اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Ali bin Abu Talib
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، - وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعُجِّلَ عُقُوبَتُهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَى عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الآخِرَةِ وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا كَفَّرَ أَحَدًا بِالزِّنَا أَوِ السَّرِقَةِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ ‏.‏
Narrated Ali bin Abu Talib:that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever is penalized (for a crime) then his punishment has been hastened for him in the world, for Allah is more just than to double the punishment upon His slave in the Hereafter. And whoever does a punishable act and then Allah covers it for him and forgives him, then Allah is more kind than to recount something which He has already forgiven
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی جرم کیا اور اسے اس کے جرم کی سزا دنیا میں مل گئی تو اللہ اس سے کہیں زیادہ انصاف پسند ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی کر دی اور اس سے درگزر کر دیا تو اللہ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کر چکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہی اہل علم کا قول ہے۔ ہم کسی شخص کو نہیں جانتے جس نے زنا کر بیٹھنے، چوری کر ڈالنے اور شراب پی لینے والے کو کافر گردانا ہو۔
Narrated by Abu Sa'eed Al-Khudri
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ اسْتَأْذَنَّا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي الْكِتَابَةِ فَلَمْ يَأْذَنْ لَنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رَوَاهُ هَمَّامٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ‏.‏
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:"We sought permission from the Messenger of Allah (ﷺ) for writing but he did not permit us
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ( ابتداء اسلام میں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم ( حدیث ) لکھ لینے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ہمیں لکھنے کی اجازت نہ دی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی زید بن اسلم کے واسطہ سے آئی ہے، اور اسے ہمام نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي بَيْتِهِ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Anas:that the Prophet (ﷺ) was in his house when a man looked in at him, so he lunged towards him with an arrow head, so the man backed up
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تھے ( اسی دوران ) ایک شخص نے آپ کے گھر میں جھانکا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر لپکے ( کہ اس کی آنکھیں پھوڑ دیں ) لیکن وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Wahb bin Hudaifah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الرَّجُلُ أَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ وَإِنْ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ عَادَ فَهُوَ أَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
Narrated Wahb bin Hudaifah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A man has more right to his seat. If he leaves for some need of his, then he returns, then he has more right to his seat
وہب بن حذیفہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے بیٹھنے کی جگہ کا زیادہ مستحق ہے، اگر وہ کسی ضرورت سے اٹھ کر جائے اور پھر واپس آئے تو وہی اپنی جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ حق رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوبکرہ، ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ‏"‏ هَلْ تَزَوَّجْتَ يَا فُلاَنُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ مَعَكَ ‏(‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ثُلُثُ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ مَعَكَ ‏(‏ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ رُبُعُ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى قَالَ ‏"‏ رُبُعُ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ مَعَكَ ‏(‏إِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ رُبُعُ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said to a man among his Companions: "Have you married O so-and-so?" He said: "No by Allah O Messenger of Allah! And I do not have anything to marry with." He said: "Do you not know: Qul Huwa Allahu Ahad?" He said: "Of course." He said: "It is a third of the Qur'an." He said: "Do you not know Idha Ja Nasrullahi Wal-Fath?" He said: "Of course." He said: "It is a fourth of the Qur'an." He said: "Do you not know Qul Ya Ayyuhal-Kafirun?" He said: "Of course." He said: "It is a fourth of the Qur'an." He said: "Do you not know Idha Zulzilat Al-Ard?" He said: "Of course." He said: "It is a fourth of the Qur'an." He said: "Marry, marry
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے شادی کر لی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! اللہ کے رسول! نہیں کی ہے، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کر سکوں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «قل هو الله أحد» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا: ”سورۃ «قل هو الله أحد» ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا جاء نصر الله والفتح» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ( ہے ) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک چوتھائی قرآن ہے“، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «قل يا أيها الكافرون» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ ( ہے ) آپ نے فرمایا: ” ( یہ ) چوتھائی قرآن ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا زلزلت الأرض» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ( ہے ) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک چوتھائی قرآن ہے“، آپ نے فرمایا: ”تم شادی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated by Abdullah bin 'Amr
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، هُوَ ابْنُ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏ "‏ اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي أَرْبَعِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَ قَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَرْبَعِينَ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:that the Prophet (ﷺ) said: "Recite the Qur'an in forty (days)
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”چالیس دن میں قرآن پورا پڑھ لیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعضوں نے معمر سے، اور معمر نے سماک بن فضل کے واسطہ سے وہب بن منہہ سے روایت کی ہے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کو حکم دیا کہ وہ قرآن چالیس دن میں پڑھا کریں۔
Narrated by An-Nu'man bin Bashir
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيْعٍ الْكِنْدِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ‏)‏ قَالَ ‏"‏ الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَرَأَ ‏:‏‏(‏ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏(‏ دَاخِرِينَ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated An-Nu'man bin Bashir:from the Prophet (ﷺ) regarding Allah's saying: Your Lord said: Invoke Me, I shall respond to you (40:60, it appears that the author intended to apply it to Al-Baqarah 2:186). - he said: "The supplication is the worship." And he recited: 'Your Lord said: Invoke Me, I shall respond to you.' up to His saying: 'in humiliation
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» ”اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے“ ( المؤمن: ۶۰ ) ، کی تفسیر میں فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے۔ پھر آپ نے سورۃ مومن کی آیت «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» سے «داخرين» ۱؎ تک پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسے منصور نے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمْسَى قَالَ ‏"‏ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ أُرَاهُ قَالَ فِيهَا لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏ وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا ‏"‏ أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ لَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏
Abdullah said:“When he reached the evening, the Prophet (ﷺ) used to say, ‘We have reached the evening, and the Dominion has reached the evening, while belonging to Allah. And all praise belongs to Allah. None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner. (Amsaina wa amsal-mulku lillāh, wal-ḥamdullilāh, wa lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu)’ – I think he said [in it]: - ‘To Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He is capable of all things. I ask You for the good that is in this night, and the good of what is after it, and I seek refuge in You from the evil of this night, and the evil of what is after it, and I seek refuge in You from laziness and helpless old age. And I seek refuge in You from the punishment of the Fire and the punishment of the grave (Lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Asa'luka khaira mā fī hādhihil-lailah, wa khaira mā ba`dahā, wa a`ūdhu bika min sharri hādhihil-lailati wa sharri mā ba`dahā, wa a`ūdhu bika minal-kasali wa sū'il-kibar, wa a`ūdhu bika min `adhābin-nāri wa `adhābil-qabr).’ And when he reached the morning, he (ﷺ) used to say, ‘We have reached the morning, and the Dominion has reached the morning, while belonging to Allah. And all praise belongs to Allah (Aṣbaḥnā wa aṣbaḥal-mulku lillāh, wal-ḥamdulillāh).’”
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له أراه قال فيها له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها وأعوذ بك من الكسل وسوء الكبر وأعوذ بك من عذاب النار وعذاب القبر» ”ہم نے شام کی اور ساری بادشاہی نے شام کی اللہ کے حکم سے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس رات میں جو خیر ہے، اس کا میں طالب ہوں، اور رات کے بعد کی بھی جو بھلائی ہے اس کا بھی میں خواہاں ہوں، اور اس رات کی برائی اور رات کے بعد کی بھی برائی سے میں پناہ مانگتا ہوں، اور پناہ مانگتا ہوں میں سستی اور کاہلی سے، اور پناہ مانگتا ہوں بوڑھا پے کی تکلیف سے، اور پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے“، اور جب صبح ہوتی تو اس وقت بھی یہی دعا پڑھتے، تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ «أمسينا» کی جگہ «أصبحنا» اور «أمسى» کی جگہ «أصبح» کہتے «وأصبح الملك لله والحمد لله» ”صبح کی ہم نے، اور صبح کی ساری بادشاہی نے، اور ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، شعبہ نے یہ حدیث اسی سند سے ابن مسعود سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
Narrated by Abu Al-'Ala
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَتَدَاوَلُ مِنْ قَصْعَةٍ مِنْ غُدْوَةٍ حَتَّى اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةٌ وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ ‏.‏ قُلْنَا فَمَا كَانَتْ تُمَدُّ قَالَ مِنْ أَىِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلاَّ مِنْ هَا هُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الْعَلاَءِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ‏.‏
Narrated Abu Al-'Ala:from Samurah bin Jundab that he said: "We were with the Prophet (ﷺ) and we would take turns (eating) from a bowl from the morning till the evening. Ten would stand and ten would sit." We said: "So what was filling it up?' He said: "What are you amazed at? It wasn't filled up from anywhere but here, and he pointed with his hand towards the sky
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بڑے برتن میں صبح سے شام تک کھاتے رہے، دس آدمی اٹھتے تھے اور دس بیٹھتے تھے، ہم نے ( سمرہ سے ) کہا: تو اس پیالہ نما بڑے برتن میں کچھ بڑھایا نہیں جاتا تھا؟ انہوں نے کہا: تمہیں تعجب کس بات پر ہے؟ اس میں بڑھایا نہیں جاتا تھا مگر وہاں سے، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی جانب اشارہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ فُلاَنِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَمِّهِ، ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَلَّى الضُّحَى ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَنُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ وَأَبِي ذَرٍّ وَعَائِشَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَعُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ وَابْنِ أَبِي أَوْفَى وَأَبِي سَعِيدٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Anas bin Malik narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever prays twelve Rak'ah of Ad-Duha, Allah will build a castle made of gold for him in Paradise
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تعمیر فرمائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ام ہانی، ابوہریرہ، نعیم بن ہمار، ابوذر، عائشہ، ابوامامہ، عتبہ بن عبد سلمی، ابن ابی اوفی، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏(‏ونَادَوُا يَا مَالِكُ‏)‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏ وَقَدِ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَقْرَأَ الإِمَامُ فِي الْخُطْبَةِ آيًا مِنَ الْقُرْآنِ ‏.‏ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَإِذَا خَطَبَ الإِمَامُ فَلَمْ يَقْرَأْ فِي خُطْبَتِهِ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ أَعَادَ الْخُطْبَةَ ‏.‏
Safwan bin Ya'la bin Umayyah narrated from his father who said:"I heard the Prophet reciting, when on the Minbar: And they will cry: "O Malik (keeper of Hell)!"." [He said:] There are narrations on this topic from Abu Hurairah and Jabir bin Samurah
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر پڑھتے سنا: «ونادوا يا مالك» ۱؎ ”اور وہ پکار کر کہیں گے اے مالک!“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، اور یہی ابن عیینہ کی حدیث ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے امام کے خطبہ میں قرآن کی کچھ آیتیں پڑھنے کو پسند کیا ہے ۲؎، شافعی کہتے ہیں: امام جب خطبہ دے اور اس میں قرآن کچھ نہ پڑھے تو خطبہ دہرائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلاَةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَقَامُوا فِي مَقَامِ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَامَ هَؤُلاَءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ وَقَامَ هَؤُلاَءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ هَذَا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَحُذَيْفَةَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَأَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ وَاسْمُهُ زَيْدُ بْنُ صَامِتٍ وَأَبِي بَكْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ ذَهَبَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ إِلَى حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَلاَةُ الْخَوْفِ عَلَى أَوْجُهٍ وَمَا أَعْلَمُ فِي هَذَا الْبَابِ إِلاَّ حَدِيثًا صَحِيحًا وَأَخْتَارُ حَدِيثَ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ‏.‏ وَهَكَذَا قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ ثَبَتَتِ الرِّوَايَاتُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ ‏.‏ وَرَأَى أَنَّ كُلَّ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ فَهُوَ جَائِزٌ وَهَذَا عَلَى قَدْرِ الْخَوْفِ ‏.‏ قَالَ إِسْحَاقُ وَلَسْنَا نَخْتَارُ حَدِيثَ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَلَى غَيْرِهِ مِنَ الرِّوَايَاتِ ‏.‏
Salim narrated from his father:"The Prophet prayed Salat Al-Khawf, praying one Rak'ah with one of the two groups, while the other group was facing the enemy. (When the first group finished they first Rak'ah with him), they went and took position (of the second group, facing the enemy). Then the second group came and he led them in another Rak'ah, then he said the Taslim to them, while the group proceeded to complete their (second) Rak'ah. Thereafter, the first group stood up to finish their (second) Rak'ah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کو صلاۃ خوف ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا، پھر یہ لوگ پلٹے، اور ان لوگوں کی جگہ پر جو دشمن کے مقابل میں تھے جا کر کھڑے ہو گئے اور جو لوگ دشمن کے مقابل میں تھے وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی ایک رکعت پوری کی۔ اور ( جو ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلے گئے تھے ) وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی اپنی ایک رکعت پوری کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اور موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اس باب میں جابر، حذیفہ، زید بن ثابت، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، سہل بن ابی حثمہ، ابوعیاش زرقی ( ان کا نام زید بن صامت ہے ) اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- مالک بن انس صلاۃ خوف کے بارے میں سہل بن ابی حثمہ کی حدیث کی طرف گئے ہیں ۱؎ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے، ۵- احمد کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صلاۃ خوف کئی طریقوں سے مروی ہے، اور میں اس باب میں صرف ایک ہی صحیح حدیث جانتا ہوں، مجھے سہل بن ابی حثمہ کی حدیث پسند ہے، ۶- اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صلاۃ خوف کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات ثابت ہیں، ان کا خیال ہے کہ صلاۃ خوف کے بارے میں جو کچھ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، وہ سب جائز ہے، اور یہ ساری صورتیں خوف کی مقدار پر مبنی ہیں۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ ہم سہل بن ابی حثمہ کی حدیث کو دوسری حدیثوں پر فوقیت نہیں دیتے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، أَتَتَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي أَيْدِيهِمَا سُوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُمَا ‏"‏ أَتُؤَدِّيَانِ زَكَاتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتَا لاَ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِسُوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتَا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَدِّيَا زَكَاتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَ هَذَا ‏.‏ وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ وَلاَ يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَيْءٌ ‏.‏
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather, :that two women came to the Messenger of Allah, and they each had a bracelet of gold on their forearms. So he said to them: "Have you paid their Zakat?" They said, "No." The Messenger of Allah said to them: "Would you like for Allah to fashion then into two bracelets of Fire?" They said, "No." He said: "Then pay its Zakat
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ دو عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم دونوں اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم پسند کرو گی کہ اللہ تم دونوں کو آگ کے دو کنگن پہنائے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم دونوں ان کی زکاۃ ادا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو مثنیٰ بن صباح نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیا ہے اور مثنیٰ بن صباح اور ابن لہیعہ دونوں حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی چیز صحیح نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلاَةَ وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلاَةَ ‏.‏ قَالَتْ أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلاَةَ قُلْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَتْ هَكَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَالآخَرُ أَبُو مُوسَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو عَطِيَّةَ اسْمُهُ مَالِكُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ الْهَمْدَانِيُّ وَيُقَالُ مَالِكُ بْنُ عَامِرٍ الْهَمْدَانِيُّ وَابْنُ عَامِرٍ أَصَحُّ ‏.‏
Abu Atiyyah said:"Masruq and I entered upon Aishah and we said: 'O Mother of the Believers! There are two men from the Companions of Muhammad, one of them hastens to break the fasts and he hastens to perform Salat. The other delays breaking the fast and he delays the Salat.' She said: 'Which of them hastens to break the fast and hastens to perform the Salat?' We said that it was Abdullah bin Mas'ud. She said: 'This is how the Messenger of Allah did it.' And the other was Abu Musa
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس گئے، ہم نے عرض کیا: ام المؤمنین! صحابہ میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطار جلدی کرتا ہے اور نماز ۱؎ بھی جلدی پڑھتا ہے اور دوسرا افطار میں تاخیر کرتا ہے اور نماز بھی دیر سے پڑھتا ہے ۲؎ انہوں نے کہا: وہ کون ہے جو افطار جلدی کرتا ہے اور نماز بھی جلدی پڑھتا ہے، ہم نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود ہیں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے اور دوسرے ابوموسیٰ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعطیہ کا نام مالک بن ابی عامر ہمدانی ہے اور انہیں ابن عامر ہمدانی بھی کہا جاتا ہے۔ اور ابن عامر ہی زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُلَبِّي إِلاَّ لَبَّى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ حَتَّى تَنْقَطِعَ الأَرْضُ مِنْ هَا هُنَا وَهَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ‏.‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ عَنْ أَبِيهِ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَرَوَى أَبُو نُعَيْمٍ الطَّحَّانُ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَأَخْطَأَ فِيهِ ضِرَارٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ مَنْ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ عَنْ أَبِيهِ فَقَدْ أَخْطَأَ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ وَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ ضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ فَقَالَ هُوَ خَطَأٌ ‏.‏ فَقُلْتُ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ أَيْضًا مِثْلَ رِوَايَتِهِ ‏.‏ فَقَالَ لاَ شَىْءَ إِنَّمَا رَوَوْهُ عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏.‏ وَرَأَيْتُهُ يُضَعِّفُ ضِرَارَ بْنَ صُرَدٍ ‏.‏ وَالْعَجُّ هُوَ رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ ‏.‏ وَالثَّجُّ هُوَ نَحْرُ الْبُدْنِ ‏.‏
Sahl bin Sa'd narrated that :the Messenger of Allah said: "There is no Muslim who says the Talbiyah except that - on his right and left, until the end f the land, from here to there - the rocks, or trees, or mud say the Talbiyah
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان بھی تلبیہ پکارتا ہے اس کے دائیں یا بائیں پائے جانے والے پتھر، درخت اور ڈھیلے سبھی تلبیہ پکارتے ہیں، یہاں تک کہ دونوں طرف کی زمین کے آخری سرے تک کی چیزیں سبھی تلبیہ پکارتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوبکر رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے ابن ابی فدیک ہی کے طریق سے جانتے ہیں، انہوں نے ضحاک بن عثمان سے روایت کی ہے، ۲- محمد بن منکدر نے عبدالرحمٰن بن یربوع سے اسے نہیں سنا ہے، البتہ محمد بن منکدر نے بسند «سعید بن عبدالرحمٰن بن یربوع عن أبیہ عبدالرحمٰن بن یربوع» اس حدیث کے علاوہ دوسری چیزیں روایت کی ہیں، ۳- ابونعیم طحان ضرار بن صرد نے یہ حدیث بطریق: «ابن أبي فديك عن الضحاك بن عثمان عن محمد بن المنكدر عن سعيد بن عبدالرحمٰن بن يربوع عن أبيه عن أبي بكر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے اور اس میں ضرار سے غلطی ہوئی ہے، ۴- احمد بن حنبل کہتے ہیں: جس نے اس حدیث میں یوں کہا: «عن محمد بن المنكدر عن ابن عبدالرحمٰن بن يربوع عن أبيه» اس نے غلطی کی ہے، ۵- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ضرار بن صرد کی حدیث ذکر کی جسے انہوں نے ابن ابی فدیک سے روایت کی ہے تو انہوں نے کہا: یہ غلط ہے، میں نے کہا: اسے دوسرے لوگوں نے بھی انہیں کی طرح ابن ابی فدیک سے روایت کی ہے تو انہوں نے کہا: یہ کچھ نہیں ہے لوگوں نے اسے ابن ابی فدیک سے روایت کیا ہے اور اس میں سعید بن عبدالرحمٰن کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، میں نے بخاری کو دیکھا کہ وہ ضرار بن صرد کی تضعیف کر رہے تھے، ۶- اس باب میں ابن عمر اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۷- «عج» : تلبیہ میں آواز بلند کرنے کو اور «ثج» : اونٹنیاں نحر ( ذبح ) کرنے کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَالنَّعْىُ أَذَانٌ بِالْمَيِّتِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَنْبَسَةَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ‏.‏ وَأَبُو حَمْزَةَ هُوَ مَيْمُونٌ الأَعْوَرُ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ النَّعْىَ وَالنَّعْىُ عِنْدَهُمْ أَنْ يُنَادَى فِي النَّاسِ أَنَّ فُلاَنًا مَاتَ لِيَشْهَدُوا جَنَازَتَهُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ بَأْسَ أَنْ يُعْلِمَ أَهْلَ قَرَابَتِهِ وَإِخْوَانَهُ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ لاَ بَأْسَ بِأَنْ يُعْلِمَ الرَّجُلُ قَرَابَتَهُ ‏.‏
(Another chain) from Abdullah :(from the Prophet) similar (to no. 984), but he did not narrate it in Marfu form, and he did not mention in it: "An-Na'i is announcing of one's death
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح مروی ہے، اور راوی نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ اور اس نے اس میں اس کا بھی ذکر نہیں کیا ہے کہ ” «نعی» موت کے اعلان کا نام ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ عنبسہ کی حدیث سے جسے انہوں نے ابوحمزہ سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- ابوحمزہ ہی میمون اعور ہیں، یہ اہل حدیث کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ۴- بعض اہل علم نے «نعی» کو مکروہ قرار دیا ہے، ان کے نزدیک «نعی» یہ ہے کہ لوگوں میں اعلان کیا جائے کہ فلاں مر گیا ہے تاکہ اس کے جنازے میں شرکت کریں، ۵- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس کے رشتے داروں اور اس کے بھائیوں کو اس کے مرنے کی خبر دی جائے، ۶- ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کو اس کے اپنے کسی قرابت دار کے مرنے کی خبر دی جائے۔