Narrated by Abu Rafi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ وَاللَّفْظُ لاِبْنِ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي السَّدِّ قَالَ " يَحْفِرُونَهُ كُلَّ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا كَادُوا يَخْرِقُونَهُ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمُ ارْجِعُوا فَسَتَخْرِقُونَهُ غَدًا فَيُعِيدُهُ اللَّهُ كَأَمْثَلِ مَا كَانَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ مُدَّتَهُمْ وَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمُ ارْجِعُوا فَسَتَخْرِقُونَهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَاسْتَثْنَى . قَالَ فَيَرْجِعُونَ فَيَجِدُونَهُ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ فَيَخْرِقُونَهُ فَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ فَيَسْتَقُونَ الْمِيَاهَ وَيَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُمْ فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ فِي السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ مُخَضَّبَةً بِالدِّمَاءِ فَيَقُولُونَ قَهَرْنَا مَنْ فِي الأَرْضِ وَعَلَوْنَا مَنْ فِي السَّمَاءِ قَسْوَةً وَعُلُوًّا . فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي أَقْفَائِهِمْ فَيَهْلِكُونَ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ دَوَابَّ الأَرْضِ تَسْمَنُ وَتَبْطَرُ وَتَشْكَرُ شَكْرًا مِنْ لُحُومِهِمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِثْلَ هَذَا .
Narrated Abu Rafi':a Hadith of Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ), regarding the 'barrier (18:93).' "They excavated each day, until when they are just about to penetrate it, their leader says: 'Go back so that you can penetrate it tomorrow!'" He said: "But Allah makes it return just as it was, until their appointed time, when Allah ordains to send them upon the people, and their leader says: 'Go back so you can penetrate it tomorrow, if Allah wills.' So he makes this exception." He said: "So they return, and find it just as it was when they left it. Then they penetrate it, and [they (Ya'juj & Ma'juj)] are released upon the people drinking up the water, and the people flee from them. They shoot their arrows into the heavens so they returned dyed with blood, and they say - crudely and arrogantly - 'We vanquished those in the earth, let us dominate the inhabitants of the heavens.' Then Allah sends Naghaf upon them, attaching to the nape of their necks, destroying them." He said: "By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad! The beasts of the earth will become very fat and bloated with milk from their flesh
ابورافع، ابوہریرہ رضی الله عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث میں سے «سد» (سکندری) سے متعلق حصہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ” ( یاجوج و ماجوج اور ان کی ذریت ) اسے ہر دن کھودتے ہیں، جب وہ اس میں شگاف ڈال دینے کے قریب پہنچ جاتے ہیں تو ان کا نگراں ( جو ان سے کام کرا رہا ہوتا ہے ) ان سے کہتا ہے: واپس چلو کل ہم اس میں سوراخ کر دیں گے، ادھر اللہ اسے پہلے زیادہ مضبوط و ٹھوس بنا دیتا ہے، پھر جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللہ ان کو لوگوں تک لے جانے کا ارادہ کرے گا، اس وقت دیوار کھودنے والوں کا نگراں کہے گا: لوٹ جاؤ کل ہم اسے ان شاءاللہ توڑ دیں گے“، آپ نے فرمایا: ”پھر جب وہ ( اگلے روز ) لوٹ کر آئیں گے تو وہ اسے اسی حالت میں پائیں گے جس حالت میں وہ اسے چھوڑ کر گئے تھے ۱؎، پھر وہ اسے توڑ دیں گے، اور لوگوں پر نکل پڑیں گے ( ٹوٹ پڑیں گے ) سارا پانی پی جائیں گے، لوگ ان سے بچنے کے لیے بھاگیں گے، وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھیکیں گے، تیر خون میں ڈوبے ہوئے واپس آئیں گے، وہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر غالب آ گئے اور آسمان والے سے بھی ہم قوت و بلندی میں بڑھ گئے ( یعنی اللہ تعالیٰ سے ) پھر اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا جس سے وہ مر جائیں گے“، آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، زمین کے جانور ان کا گوشت کھا کھا کر موٹے ہو جائیں گے اور اینٹھتے پھریں گے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے ایسے ہی جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ وَأُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَابْنُ عُمَرَ . وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ يَقُولاَنِ يَبْدَأُ بِالْعَشَاءِ وَإِنْ فَاتَتْهُ الصَّلاَةُ فِي الْجَمَاعَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى سَمِعْتُ الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَبْدَأُ بِالْعَشَاءِ إِذَا كَانَ طَعَامًا يُخَافُ فَسَادُهُ . وَالَّذِي ذَهَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَشْبَهُ بِالاِتِّبَاعِ وَإِنَّمَا أَرَادُوا أَنْ لاَ يَقُومَ الرَّجُلُ إِلَى الصَّلاَةِ وَقَلْبُهُ مَشْغُولٌ بِسَبَبِ شَيْءٍ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لاَ نَقُومُ إِلَى الصَّلاَةِ وَفِي أَنْفُسِنَا شَيْءٌ .
Anas conveyed that :the Prophet said: "When supper is present and the Iqamah for Salat has been called, then begin with supper
انس رضی الله عنہ سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شام کا کھانا حاضر ہو، اور نماز کھڑی کر دی جائے ۱؎ تو پہلے کھا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابن عمر، سلمہ بن اکوع، اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ انہیں میں سے ابوبکر، عمر اور ابن عمر رضی الله عنہم بھی ہیں، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے کھانا کھائے اگرچہ جماعت چھوٹ جائے۔ ۴- اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ پہلے کھانا کھائے گا جب اسے کھانا خراب ہونے کا اندیشہ ہو، لیکن جس کی طرف صحابہ کرام وغیرہ میں سے بعض اہل علم گئے ہیں، وہ اتباع کے زیادہ لائق ہے، ان لوگوں کا مقصود یہ ہے کہ آدمی ایسی حالت میں نماز میں نہ کھڑا ہو کہ اس کا دل کسی چیز کے سبب مشغول ہو، اور ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ ہم نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوتے جب تک ہمارا دل کسی اور چیز میں لگا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ ثُمَّ قُلِ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ . فَإِنْ مُتَّ فِي لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ " . قَالَ فَرَدَّدْتُهُنَّ لأَسْتَذْكِرَهُ فَقُلْتُ آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَقَالَ " قُلْ آمَنْتُ بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ " . قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْبَرَاءِ وَلاَ نَعْلَمُ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ ذُكِرَ الْوُضُوءُ إِلاَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ .
Al-Bara’ bin `Azib narrated that the Prophet (ﷺ) said:“When you go to your bed, perform the Wudu’ as you would perform for Salat. Then lie on your right side, then say: ‘O Allah, I submit my face to You, and I entrust my affair to You, and I lay myself down relying upon You, hoping in You and fearing You. There is no refuge nor escape from You except to You. I believe in Your Book which You have revealed, and in Your Prophet whom You have sent (Allāhumma aslamtu wajhī ilaika wa fawwaḍtu amrī ilaika, wa alja’tu ẓahrī ilaika, raghbatan wa rahbatan ilaika, lā malja’a wa lā manjā minka illā ilaika, āmantu bikitābikalladhī anzalta wa bi-nabiyykalladhī arsalt).’ And if you die that night, you shall die upon the Fitrah” - Al-Bara’ said: I repeated it to retain it in memory, “So I said: ‘I believe in Your Messenger whom You have sent.’” He said: “So he (ﷺ) struck with his hand upon my chest, then said: ‘And in Your Prophet whom You have sent.’”
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ تو جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہو ویسا ہی وضو کر کے جاؤ، پھر داہنے کروٹ لیٹو، پھر ( یہ ) دعا پڑھو: «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں تیرا تابع فرمان بندہ بن کر تیری طرف متوجہ ہوا، اپنا سب کچھ تجھے سونپ دیا، تجھ سے ڈرتے ہوئے اور رغبت کرتے ہوئے میں نے تیرا سہارا لیا، نہ تو میری کوئی امید گاہ ہے اور نہ ہی کوئی جائے نجات، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے“، پس اگر تو اپنی اس رات میں مر گیا تو فطرت ( اسلام ) پر مرے گا، براء رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے دعا کے ان الفاظ کو دہرایا تاکہ یاد ہو جائیں تو دہراتے وقت میں نے کہا: «آمنت برسولك الذي أرسلت» کہہ لیا تو آپ نے فرمایا: ” ( رسول نہ کہو بلکہ ) «آمنت بنبيك الذي أرسلت» کہو، میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث براء بن عازب سے کئی سندوں سے آئی ہے مگر اس رات کے سوا کسی بھی روایت میں ہم یہ نہیں پاتے کہ وضو کا ذکر کیا گیا ہو۔
Narrated by Ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَصْحَابِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَاهْتَدُوا بِهَدْىِ عَمَّارٍ وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ مَسْعُودٍ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ . وَيَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَأَبُو الزَّعْرَاءِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ وَأَبُو الزَّعْرَاءِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَخِي أَبِي الأَحْوَصِ صَاحِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ .
Narrated Ibn Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Take as examples the two after me from my Companions, Abu Bakr and 'Umar. And act upon the guidance of 'Ammar, and hold fast to the advice of Ibn Mas'ud
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی، اور عمار کی روش پر چلو، اور ابن مسعود کے عہد ( وصیت ) کو مضبوطی سے تھامے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سلمہ حدیث میں ضعیف ہیں، ۳- ابوالزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ٔ ہے، اور وہ ابوالزعراء جن سے شعبہ، ثوری اور ابن عیینہ نے روایت کی ہے ان کا نام عمرو بن عمرو ہے، اور وہ عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص کے بھتیجے ہیں۔