بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
4 hadith
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا سُمِّيَ الْخَضِرَ لأَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَاهْتَزَّتْ تَحْتَهُ خَضْرَاءَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "He was called Al-Khadir because he sat on a barren Farwah and it turned green beneath him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خضر نام اس لیے پڑا کہ وہ سوکھی ہوئی گھاس پر بیٹھے، تو وہ ہری گھاس میں تبدیل ہو گئی“ ( یہ اللہ کی طرف سے معجزہ تھا ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلاَفًا ‏.‏ لاَ يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُمَا كَانَ وَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرِهَا ‏.‏
Jabir narrated:"The Prophet dispatched me for something he needed. I came to him while he was performing Salat on his mount, heading east, he made the prostrations lower than the bowing
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت سے بھیجا تو میں ضرورت پوری کر کے آیا تو ( دیکھا کہ ) آپ اپنی سواری پر مشرق ( پورب ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی جابر سے مروی ہے، ۲- اس باب میں انس، ابن عمر، ابوسعید، عامر بن ربیعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی پر بیشتر اہل علم کے نزدیک عمل ہے، ہم ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے، یہ لوگ آدمی کے اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، خواہ اس کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اور طرف ہو۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، رضى الله عنه قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْعَجْزِ وَالْبُخْلِ ‏"‏ ‏.‏ وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Zaid bin Arqam [may Allah be pleased with him] said that the Prophet (ﷺ) used to say:“O Allah, indeed I seek refuge in You from laziness, helpless old age, and stinginess (Allāhumma innī a`ūdhu bika minal-kasali wal-`ajzi wal-bukhl).” And with this chain, from the Prophet (ﷺ), that he used to seek refuge from senility and the punishment of the grave
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والعجز والبخل» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سستی و کاہلی سے، عاجزی و درماندگی سے اور کنجوسی و بخیلی سے“، اور اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی آئی ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے بڑھاپے اور عذاب قبر سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Abdul-Malik bin 'Umair
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَيَّاةَ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، قَالَ لَمَّا أُرِيدَ قَتْلُ عُثْمَانَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ مَا جَاءَ بِكَ قَالَ جِئْتُ فِي نَصْرِكَ ‏.‏ قَالَ اخْرُجْ إِلَى النَّاسِ فَاطْرُدْهُمْ عَنِّي فَإِنَّكَ خَارِجًا خَيْرٌ لِي مِنْكَ دَاخِلاً ‏.‏ فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فُلاَنٌ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ اللَّهِ وَنَزَلَتْ فِيَّ آيَاتٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَنَزَلَتْ فِيَّ ‏:‏ ‏(‏ وشهد شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ‏)‏ وَنَزَلَتْ فِيَّ ‏:‏ ‏(‏ قلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ ‏)‏ إِنَّ لِلَّهِ سَيْفًا مَغْمُودًا عَنْكُمْ وَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ قَدْ جَاوَرَتْكُمْ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا الَّذِي نَزَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاللَّهَ اللَّهَ فِي هَذَا الرَّجُلِ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَتَطْرُدُنَّ جِيرَانَكُمُ الْمَلاَئِكَةَ وَلَتَسُلُّنَّ سَيْفَ اللَّهِ الْمَغْمُودَ عَنْكُمْ فَلاَ يُغْمَدُ عَنْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏.‏ قَالُوا اقْتُلُوا الْيَهُودِيَّ وَاقْتُلُوا عُثْمَانَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ فَقَالَ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ ‏.‏
Narrated 'Abdul-Malik bin 'Umair:from the nephew of 'Abdullah bin Salam who said: "When they were about to kill 'Uthman, 'Abdullah bin Salam came and 'Uthman said to him: 'What did you come for?' He said: 'I came to assist you.' He said: 'Go to the people to repel their advances against me. For verily your going is better to me than your entering here.' So 'Abdullah went to the people and said: 'O you people! During Jahiliyyah I was named so-and-so, then the Messenger of Allah (ﷺ) named me 'Abdullah, and some Ayat from the Book of Allah were revealed about me. (The following) was revealed about me: "A witness from among the Children of Isra'il has testified to something similar and believed while you rejected. Verily, Allah does not guide the wrongdoing people. (46:10)" [And (the following) was revealed about me:] "Sufficient as a witness between me and you is Allah, and those too who have knowledge of the Scripture. (13:43)" Allah has sheathed the sword from you and the angels are your neighbors in this city of yours, the one in which the Revelation came to the Messenger of Allah (ﷺ). But by Allah! (Fear) Allah regarding this man; if you kill him, then by Allah! If you kill him, then you will cause the angels to remove your goodness from you, and to raise Allah's sheathed sword against you, such that it will never be sheathed again until the Day of Resurrection.'" He said: "They said: 'Kill the Jew and kill 'Uthman
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے عثمان رضی الله عنہ کے قتل کا ارادہ کیا تو عبداللہ بن سلام عثمان رضی الله عنہ کے پاس آئے، عثمان رضی الله عنہ نے ان سے کہا: تم کیوں آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: میں آپ کی مدد کے لیے آیا ہوں تو آپ نے کہا: تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس آنے سے بھگاؤ کیونکہ تمہارا باہر رہنا میرے حق میں تمہارے اندر رہنے سے زیادہ بہتر ہے، چنانچہ عبداللہ بن سلام نکل کر لوگوں کے پاس آئے اور ان سے کہا: لوگو! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبداللہ رکھا، اور میری شان میں اللہ کی کتاب کی کئی آیتیں نازل ہوئیں، چنانچہ «وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله فآمن واستكبرتم إن الله لا يهدي القوم الظالمين» ۱؎ «قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب» ۲؎ میرے ہی سلسلہ میں اتری، اللہ کی تلوار میان میں ہے اور فرشتے تمہارے اس شہر مدینہ میں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے تمہارے ہمسایہ ہیں، لہٰذا تم اس شخص کے قتل میں اللہ سے ڈرو، قسم اللہ کی! اگر تم نے اسے قتل کر دیا، تم اپنے ہمسایہ فرشتوں کو اپنے پاس سے بھگا دو گے، اور اللہ کی تلوار کو جو میان میں ہے باہر کھینچ لو گے، پھر وہ قیامت تک میان میں نہیں آ سکے گی تو لوگ ان کی یہ نصیحت سن کر بولے: اس یہودی کو قتل کرو اور عثمان کو بھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالملک بن عمیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- شعیب بن صفوان نے بھی حدیث عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے، انہوں نے سند میں «عن ابن محمد بن عبد الله بن سلام عن جده عبد الله بن سلام» کہا ہے۔