حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ شَبَابٌ لاَ نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ عَلَيْكُمْ بِالْبَاءَةِ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ، نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى غَيْرُ، وَاحِدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ هَذَا . وَرَوَى أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَالْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى كِلاَهُمَا صَحِيحٌ .
Abdullah bin Mas'ud narrated:"We went with Allah's Messenger, while we were young men who had nothing. He said: 'O young men! You should marry, for indeed it helps in lowering the gaze and protecting the private parts. Whoever among you is not able to marry, then let him fast, for indeed fasting will diminish his sexual desire
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم نوجوان تھے، ہمارے پاس ( شادی وغیرہ امور میں سے ) کسی چیز کی مقدرت نہ تھی۔ تو آپ نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تمہارے اوپر ۱؎ نکاح لازم ہے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی کرنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اور جو تم میں سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس پر صوم کا اہتمام ضروری ہے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس سند سے کئی لوگوں نے اسی کے مثل اعمش سے روایت کی ہے، ۳- اور ابومعاویہ اور محاربی نے یہ حدیث بطریق: «الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ۴- دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ الْوِلاَدَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ لاَ نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلاَفًا .
Aishah narrated that the Messenger of Allah said:“Indeed Allah has made unlawful through suckling whatever He made unlawful through birth.”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام قرار دے دیئے ہیں جو ولادت ( نسب ) سے حرام ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي الْحَيْضِ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلاً " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَكَذَلِكَ حَدِيثُ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ طَلاَقَ السُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنْ طَلَّقَهَا ثَلاَثًا وَهِيَ طَاهِرٌ فَإِنَّهُ يَكُونُ لِلسُّنَّةِ أَيْضًا . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَكُونُ ثَلاَثًا لِلسُّنَّةِ إِلاَّ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَاحِدَةً وَاحِدَةً . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَإِسْحَاقَ . وَقَالُوا فِي طَلاَقِ الْحَامِلِ يُطَلِّقُهَا مَتَى شَاءَ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ يُطَلِّقُهَا عِنْدَ كُلِّ شَهْرٍ تَطْلِيقَةً .
Salim narrated that:His father divorced his wife during her menses, so Umar asked the Prophet about that and he said: "Tell him to take her back, then let him divorce her while she is pure or pregnant
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، ان کے والد عمر رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کر لے، پھر طہر یا حمل کی حالت میں طلاق دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یونس بن جبیر کی حدیث جسے وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں، حسن صحیح ہے۔ اور اسی طرح سالم بن عبداللہ کی بھی جسے وہ ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں، ۲- یہ حدیث کئی اور طرق سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ طلاق سنّی یہ ہے کہ آدمی طہر کی حالت میں جماع کیے بغیر طلاق دے، ۴- بعض کہتے ہیں کہ اگر اس نے طہر کی حالت میں تین طلاقیں دیں، تو یہ بھی طلاق سنّی ہو گی۔ یہ شافعی اور احمد بن حنبل کا قول ہے، ۵- اور بعض کہتے ہیں کہ تین طلاق طلاق سنی نہیں ہو گی، سوائے اس کے کہ وہ ایک ایک طلاق الگ الگ کر کے دے۔ یہ سفیان ثوری اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۶- اور یہ لوگ حاملہ کے طلاق کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اسے جب چاہے طلاق دے سکتا ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۷- اور بعض کہتے ہیں: اسے بھی وہ ہر ماہ ایک طلاق دے گا۔
Narrated by Amr bin Shu'aib
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، وَهُوَ ابْنُ هِلاَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ وَهِيَ ثَلاَثُونَ حِقَّةً وَثَلاَثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ " . وَذَلِكَ لِتَشْدِيدِ الْعَقْلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Narrated Amr bin Shu'aib:from his father, from his grandfather that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever kills [a believer] deliberately, he is handed over to the guardians of the one killed. If they wish to, they have him killed, and if they wish to, they take the blood-money. That is thirty Hiqqah, thirty Jadha'ahs and forty pregnant camels. Whatever (amount more) they require from him, than that is for them (if they choose)." THat is because of the severity of blood-money
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں اور چاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدار تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ۱؎ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کر لیں وہ ان کے لیے ہے اور یہ دیت کے سلسلہ میں سختی کی وجہ سے ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ادْرَءُوا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنْ كَانَ لَهُ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِيلَهُ فَإِنَّ الإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ "
Narrated 'Aishah: that the Messenger of Allah (ﷺ): "Avert the legal penalties from the Muslims as much as possible, if he has a way out then leave him to his way, for if the Imam makes a mistake in forgiving it would be better than making mistake in punishment
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک تم سے ہو سکے مسلمانوں سے حدود کو دفع کرو، اگر مجرم کے بچ نکلنے کی کوئی صورت ہو تو اسے چھوڑ دو، کیونکہ مجرم کو معاف کر دینے میں امام کا غلطی کرنا اسے سزا دینے میں غلطی کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ اس سند سے وکیع نے یزید بن زیاد سے محمد بن ربیعہ کی حدیث کی طرح بیان کیا، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم مرفوع صرف بطریق: «محمد بن ربيعة عن يزيد بن زياد الدمشقي عن الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» ہی جانتے ہیں، ۲- اسے وکیع نے بھی یزید بن زیاد سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن یہ مرفوع نہیں ہے، اور وکیع کی روایت زیادہ صحیح ہے، ۳- یزید بن زیاد دمشقی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، اور یزید بن ابوزیاد کوفی ان سے زیادہ اثبت اور اقدم ہیں، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے اسی طرح مروی ہے، ان تمام لوگوں نے ایسا ہی کہا ہے، ۵- اس باب میں ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَجَابِرٍ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي رَافِعٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي بَكْرَةَ أَيْضًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Anas bin Malik:"The Messenger of Allah (ﷺ) slaughtered two horned male sheep which were mostly white. He slaughtered them with his hand and mentioned Allah's Name, and he said 'Allahu Akbar', and put his foot on their side
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ پڑھی اور اللہ اکبر کہا اور ( ذبح کرتے وقت ) اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عائشہ، ابوہریرہ، ابوایوب، جابر، ابو الدرداء، ابورافع، ابن عمر اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَمَّنِي جِبْرِيلُ " . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ " لِوَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَالَ مُحَمَّدٌ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي الْمَوَاقِيتِ حَدِيثُ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ وَحَدِيثُ جَابِرٍ فِي الْمَوَاقِيتِ قَدْ رَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَأَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Jabir bin Abdullah narrated that :Allah's Messenger said: "Jibril led me (in Salat)". He mentioned something similar to the Hadith of Ibn Abbas (no. 149) in meaning, but he did not mention: "At the time of Asr the day before
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل نے میری امامت کی“، پھر انہوں نے ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ البتہ انہوں نے اس میں «لوقت العصر بالأمس» کا ٹکڑا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۱؎، اور ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اوقات نماز کے سلسلے میں سب سے صحیح جابر رضی الله عنہ والی حدیث ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، - وَاسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَفْوَانَ عَنْ يُونُسَ . وَأَبُو صَفْوَانَ هُوَ مَكِّيٌّ وَاسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ الْحُمَيْدِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ جِلَّةِ أَهْلِ الْحَدِيثِ . وَقَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلاَ كَفَّارَةَ فِي ذَلِكَ . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ .
Narrated 'Aishah:That the Prophet (ﷺ) said: "There is no vowing in disobedience to Allah, and its atonement is the atonement of an oath
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی معصیت پر مبنی کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ابوصفوان کی اس حدیث سے جسے وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، زیادہ صحیح ہے، ۳- ابوصفوان مکی ہیں، ان کا نام عبداللہ بن سعید بن عبدالملک بن مروان ہے، ان سے حمیدی اور کئی بڑے بڑے محدثین نے روایت کی ہے، ۴- اہل علم صحابہ کی ایک جماعت اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: اللہ کی معصیت کے سلسلے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، ان دونوں نے زہری کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے وہ ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ عائشہ سے روایت کرتے ہیں، ۵- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: معصیت میں کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس میں کوئی کفارہ بھی نہیں، مالک اور شافعی کا یہی قول ہے۔
Narrated by Ibn 'Asim Al-Muzani
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَدَنِيُّ الْمَكِّيُّ، - وَيُكْنَى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الرَّجُلُ الصَّالِحُ هُوَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ عَنِ ابْنِ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ " إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلاَ تَقْتُلُوا أَحَدًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
Narrated Ibn 'Asim Al-Muzani:From his father and he was a Companion who said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) dispatched any army or battalion, he would say to them: 'If you see a Masjid, or hear someone calling the Adhan, then do not kill anyone
عصام مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر یا سریہ بھیجتے تو ان سے فرماتے: ”جب تم کوئی مسجد دیکھو یا مؤذن کی آواز سنو تو کسی کو نہ مارو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ ابن عیینہ سے آئی ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مَرْزُوقٌ أَبُو بَكْرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْنِي " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ هُوَ عَلَىَّ ضَامِنٌ إِنْ قَبَضْتُهُ أَوْرَثْتُهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ رَجَعْتُهُ رَجَعْتُهُ بِأَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " . قَالَ هُوَ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
Narrated Anas bin Malik: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: meaning: Allah Mighty and Sublime is He says: 'The Mujahid in My cause, he has guarantee fro Me. If I I seize him, I cause him to inherit Paradise, and if I return him, I return him with a reward or spoils of war.'" [He said:] This Hadith is Gharib Sahih from this route
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کا ضامن میں ہوں، اگر میں اس کی روح قبض کروں تو اس کو جنت کا وارث بناؤں گا، اور اگر میں اسے ( اس کے گھر ) واپس بھیجوں تو اجر یا غنیمت کے ساتھ واپس بھیجوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔
Narrated by Abdullah bin 'Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ " أَلَكَ وَالِدَانِ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الشَّاعِرُ الأَعْمَى الْمَكِّيُّ وَاسْمُهُ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ .
Narrated 'Abdullah bin 'Umar: A man came to Prophet (ﷺ) seeking permission to go for Jihad. So he said: 'Do you have parents (living)? ' He said: 'Yes.' He said: 'Then it is for them that you should perform Jihad.'" [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from Ibn 'Abbas. This Hadith is Hasan Sahih. (One of the narrators) Abul-Abbas is the blind (Al-A'ma) poet (Ash-Sha'ir), from Makkah, and his name is As-Sa'ab bin Farrukh
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے ماں باپ ( زندہ ) ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”ان کی خدمت کی کوشش میں لگے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Suwaid bin Ghafalah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحَرِيرِ إِلاَّ مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ أَوْ ثَلاَثٍ أَوْ أَرْبَعٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Suwaid bin Ghafalah: That 'Umar gave a Khutbah at Al-Jabiyah and he said: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited silk except for two finger's worth of space, or three, or four." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
سوید بن غفلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع فرمایا سوائے دو، یا تین، یا چار انگشت کے برابر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Hisham b. Zaid
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهَا فَأَدْرَكْتُهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا بِمَرْوَةٍ فَبَعَثَ مَعِي بِفَخِذِهَا أَوْ بِوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلَهُ . قَالَ قُلْتُ أَكَلَهُ قَالَ قَبِلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَعَمَّارٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ وَيُقَالُ مُحَمَّدُ بْنُ صَيْفِيٍّ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يَرَوْنَ بِأَكْلِ الأَرْنَبِ بَأْسًا . وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الأَرْنَبِ وَقَالُوا إِنَّهَا تَدْمِي .
Narrated Hisham b. Zaid: "I heard Anas saying: 'Once we provoked a rabbit at Marr Az-Zahran. So the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) rushed after it, and I caught up to it and captured it. I brought it to Abu Talhah who slaughtered it with Marwah. He sent me with its legs - or its thighs - to the Prophet (ﷺ) so he could eat it.'" He (Hisham) said: "I said: 'He ate it?' He said:'He accepted it.'" [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Jubair, 'Ammar, Muhammad bin Safwan, and they say: Muhammad bin Saifi. This Hadith is Hasan Sahih. This is acted upon according to the people of knowledge. They saw no harm in eating rabbit. Some of the people of knowledge disliked eating rabbit, they said that it menstruates
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے مقام مرالظہران میں ایک خرگوش کا پیچھا کیا، صحابہ کرام اس کے پیچھے دوڑے، میں نے اسے پا لیا اور پکڑ لیا، پھر اسے ابوطلحہ کے پاس لایا، انہوں نے اس کو پتھر سے ذبح کیا اور مجھے اس کی ران دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، چنانچہ آپ نے اسے کھایا۔ راوی ہشام بن زید کہتے ہیں: میں نے ( راوی حدیث اپنے دادا انس بن مالک رضی الله عنہ سے ) پوچھا: کیا آپ نے اسے کھایا؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، عمار، محمد بن صفوان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ خرگوش کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ہیں، ۴- جب کہ بعض اہل علم خرگوش کھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: اسے ( یعنی مادہ خرگوش کو ) حیض کا خون آتا ہے۔
Narrated by Abdullah bin 'Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلاَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلاَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلاَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلاَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ لَمْ يَتُبِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَقَاهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ " . قِيلَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَا نَهْرُ الْخَبَالِ قَالَ نَهْرٌ مِنْ صَدِيدِ أَهْلِ النَّارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated 'Abdullah bin 'Umar: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever drinks Khamr, Salat is not accepted from him for forty days. If he repents, then Allah will accept his repentance. It he returns to it, then Allah will not accept his Salat for forty days. If he repents, then Allah will accept his repentance. If he returns to it, then Allah will not accepts his Salat for forty days. If he repents, then Allah will accept his repentance. If he returns to it a fourth time, Allah will not accept his Salat for forty days, and if he were to repent, Allah would not accept his repentance, and he will be given to drink from the river of Al-Khabal." They said: "O Aby 'Abdur-Rahman! What is the river of Al-Khabal?" He said: "A river of the pus from the inhabitants of the Fire." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan. Similar to this has been reported from 'Abdullah bin 'Amr and Ibn 'Abbas from the Prophet (ﷺ)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شراب پی اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے دوبارہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے پھر شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے چوتھی بار بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں کرے گا، اور اس کو نہر خبال سے پلائے گا، پوچھا گیا، ابوعبدالرحمٰن! نہر خبال کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جہنمیوں کے پیپ کی ایک نہر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبداللہ بن عمرو بن العاص اور ابن عباس کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ " الصَّلاَةُ لِمِيقَاتِهَا " . قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " . قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ثُمَّ سَكَتَ عَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . رَوَاهُ الشَّيْبَانِيُّ وَشُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . وَأَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ إِيَاسٍ .
Ibn Mas'ud said:"I asked the Messenger of Allah: 'O Messenger of Allah! Which is the most virtuous of deeds?' He said: 'Salat during its appropriate time.' I said: 'Then what, O Messenger of Allah?' He said: 'Being dutiful to one's parents.' I said: 'Then what, O Messenger of Allah?' He said: 'Jihad in the cause of Allah.' Then the messenger of Allah was silent, and if I had asked him more, he would have told me more
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وقت پر نماز ادا کرنا“، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کون سا عمل زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا“، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، حالانکہ اگر میں زیادہ پوچھتا تو آپ زیادہ بتاتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ابوعمرو شیبانی، شعبہ اور کئی لوگوں نے ولید بن عیزار سے روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث ابوعمرو شیبانی کے واسطہ سے ابن مسعود سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوِ هَذَا وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ مَالِكٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَأَبُو صَالِحٍ وَالِدُ سُهَيْلٍ هُوَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ وَاسْمُهُ ذَكْوَانُ . وَأَبُو هُرَيْرَةَ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ فَقَالُوا عَبْدُ شَمْسٍ وَقَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَهَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ الأَصَحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَثَوْبَانَ وَالصُّنَابِحِيِّ وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ وَسَلْمَانَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . وَالصُّنَابِحِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ لَيْسَ لَهُ سَمَاعٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ رَحَلَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُبِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الطَّرِيقِ وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَادِيثَ . وَالصُّنَابِحُ بْنُ الأَعْسَرِ الأَحْمَسِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لَهُ الصُّنَابِحِيُّ أَيْضًا وَإِنَّمَا حَدِيثُهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ فَلاَ تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي " .
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "When a Muslim, or believer, performs Wudu', washing his face, every evil that he looked at with his eyes leaves with the water - or with the last drop of water, or an expression similar to that - and when he washes his hands, every evil he did with his hands leaves with the water - or with the last drop of water - until he becomes free of sin
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں ۱؎، جو اس کی آنکھوں نے کیے تھے یا اسی طرح کی کوئی اور بات فرمائی، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎، ۲- اس باب میں عثمان بن عفان، ثوبان، صنابحی، عمرو بن عبسہ، سلمان اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صنابحی جنہوں نے ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ان کا سماع رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے نہیں ہے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلہ، اور کنیت ابوعبداللہ ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس سفر کیا، راستے ہی میں تھے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔ اور صنابح بن اعسرا حمسی صحابی رسول ہیں، ان کو صنابحی بھی کہا جاتا ہے، انہی کی حدیث ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں میں اپنی اکثریت پر فخر کروں گا تو میرے بعد تم ہرگز ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا“۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قال حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ عَلِيٌّ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ قَالَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ وَعَلِيٌّ مَعَهُ يَأْكُلُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَلِيٍّ " مَهْ مَهْ يَا عَلِيُّ فَإِنَّكَ نَاقِهٌ " . قَالَ فَجَلَسَ عَلِيٌّ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ . قَالَتْ فَجَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا عَلِيُّ مِنْ هَذَا فَأَصِبْ فَإِنَّهُ أَوْفَقُ لَكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ فُلَيْحٍ . وَيُرْوَى عَنْ فُلَيْحٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ الأَنْصَارِيَّةِ، فِي حَدِيثِهِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " أَنْفَعُ لَكَ " . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَحَدَّثَنِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . هَذَا حَدِيثٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ .
Umm Al-Mundhir said:"The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me, while `Ali was with him, and we had a cluster of unripe dates hanging." She said: "The Messenger of Allah (ﷺ) began eating, and `Ali ate with him. The Messenger of Allah (ﷺ) said to `Ali: 'Stop, stop, for you are still recovering.' So `Ali sat and the Prophet (ﷺ) ate." She said: "I made some chard and barley for them, so the Prophet (ﷺ) said: 'O `Ali eat from this, for indeed it will be more suitable for you." Another chain reports a similar narration
ام منذر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی رضی الله عنہ کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے، ہمارے گھر کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھانے لگے اور آپ کے ساتھ علی رضی الله عنہ بھی کھانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: علی! ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ ابھی ابھی بیماری سے اٹھے ہو، ابھی کمزوری باقی ہے، ام منذر کہتی ہیں: علی رضی الله عنہ بیٹھ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے رہے، پھر میں نے ان کے لیے چقندر اور جو تیار کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: علی! اس میں سے لو ( کھاؤ ) ، یہ تمہارے مزاج کے موافق ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف فلیح کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث فلیح سے بھی مروی ہے جسے وہ ایوب بن عبدالرحمٰن سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ، قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِيُّ، قال حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ، قال حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَالْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوا النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَوْفٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، بِهَذَا بِمَعْنَاهُ . وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِيُّ قَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(S.A.W) said:"Learn the laws of inheritance and the Quran, and teach the people, for I am a mortal
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن اور علم فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ اس لیے کہ میں وفات پانے والا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں اضطراب ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهُوَ جَدُّ هَذَا النَّصْرِ حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةُ بِطَاعَةِ اللَّهِ سِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ " . ثُمَّ قَرَأَ عَلَىَّ أَبُو هُرَيْرَةَْ : (مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ) قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الَّذِي رَوَى عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ جَابِرٍ هُوَ جَدُّ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (S.A.W) said:"Indeed a man, and a woman, perform deeds in obedience to Allah for sixty years, then death presents itself to them, and they cause such harm in the will that the Fire becomes warranted for them."Then he recited: After payment of legacies he (or she) may have bequeathed or debts, without causing harm. This is a Commandment from Allah. up to His saying: That is the magnificent success
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد اور عورت ساٹھ سال تک اللہ کی اطاعت کرتے ہیں پھر ان کی موت کا وقت آتا ہے اور وہ وصیت کرنے میں ( ورثاء کو ) نقصان پہنچاتے ہیں ۱؎، جس کی وجہ سے ان دونوں کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے“، پھر ابوہریرہ نے «من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار وصية من الله» سے «ذلك الفوز العظيم» ۲؎ تک آیت پڑھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- نصر بن علی جنہوں نے اشعث بن جابر سے روایت کی ہے وہ نصر بن علی جہضمی کے دادا ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلاَءِ وَعَنْ هِبَتِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلاَءِ وَعَنْ هِبَتِهِ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ . وَيُرْوَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ لَوَدِدْتُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَذِنَ لِي حَتَّى كُنْتُ أَقُومُ إِلَيْهِ فَأُقَبِّلُ رَأْسَهُ . وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ وَهَمٌ وَهِمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ وَالصَّحِيحُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَتَفَرَّدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
Abdullah bin 'Umar narrated that : the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited selling the Wala' and [from] conferring it. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. We do not know of it except as a narration of 'Abdullah bin Dinar from Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ). Shu'bah, Sufyan Ath-Thawri, and Malik bin Anas (also) reported it from 'Abdullah bin Dinar. It has been related that Shu'bah said: "I so wished that 'Abdullah bin Dinar would permit me when he narrated this Hadith that I stand-up, so that I kiss his head." And Yahya bin Sulaim reported this Hadith from 'Ubaidullah bin 'Umar from Nafi', from Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ). But this is mistaken, Yahya bin Sulaim erred in it, what is correct is: "From 'Ubaidullah bin 'Umar, from 'Abdullah bin Dinar, from Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ). This is how it is reported by more than one narrator from 'Ubaidullah bin 'Umar. [Abu 'Eisa said:] And 'Abdullah bin Dinar is alone with this Hadith
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے ابن عمر کی روایت سے جانتے ہیں، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے ولاء بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ شعبہ، سفیان ثوری اور مالک بن انس نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن دینار سے روایت ہے۔ شعبہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میری خواہش تھی کہ عبداللہ بن دینار اس حدیث کو بیان کرتے وقت مجھے اجازت دے دیتے اور میں کھڑا ہو کر ان کا سر چوم لیتا، ۳- یحییٰ بن سلیم نے اس حدیث کی روایت کرتے وقت سند یوں بیان کی ہے «عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» لیکن اس سند میں وہم ہے اور یہ وہم یحییٰ بن سلیم کی جانب سے ہوا ہے، صحیح سند یوں ہے «عن عبيد الله بن عمر عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» ۱؎ عبیداللہ بن عمر سے اسی طرح کئی لوگوں نے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبیداللہ بن دینار اس حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ مُوسَى يَا آدَمُ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ . قَالَ فَقَالَ آدَمُ وَأَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلاَمِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى عَمَلٍ عَمِلْتُهُ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ قَالَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَجُنْدَبٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنِ الأَعْمَشِ . وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الأَعْمَشِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Abu Hurairah narrated that the Prophet(S.A.W) said:"Adam and Musa argued, Musa said: "O Adam! You are the one that Allah created with His Hand, and blew into you of His Spirit, and you misled the people and caused them to be expelled from Paradise.' So Adam said: 'You are Musa, the one Allah selected with His Speech! Are you blaming me for something I did which Allah had decreed for me, before creating the heavens and the earth?'" He said: " So Adam confuted Musa
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم اور موسیٰ نے باہم مناظرہ کیا، موسیٰ نے کہا: آدم! آپ وہی تو ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی ۱؎ پھر آپ نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے نکالا؟ آدم نے اس کے جواب میں کہا: آپ وہی موسیٰ ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے گفتگو کرنے کے لیے منتخب کیا، کیا آپ میرے ایسے کام پر مجھے ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پہلے میرے اوپر لازم کر دیا تھا؟، آدم موسیٰ سے دلیل میں جیت گئے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند سے یعنی سلیمان تیمی کی روایت سے جسے وہ اعمش سے روایت کرتے ہیں، ۳- اعمش کے بعض شاگردوں نے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ اور بعض نے اس کی سند یوں بیان کی ہے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم»، ۴- کئی اور سندوں سے یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، ۵- اس باب میں عمر اور جندب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ لِلنَّاسِ " أَىُّ يَوْمٍ هَذَا " . قَالُوا يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ . قَالَ " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلاَ لاَ يَجْنِي جَانٍ إِلاَّ عَلَى نَفْسِهِ أَلاَ لاَ يَجْنِي جَانٍ عَلَى وَلَدِهِ وَلاَ مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ أَلاَ وَإِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ مِنْ أَنْ يُعْبَدَ فِي بِلاَدِكُمْ هَذِهِ أَبَدًا وَلَكِنْ سَتَكُونُ لَهُ طَاعَةٌ فِيمَا تَحْتَقِرُونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَسَيَرْضَى بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرٍ وَحُذَيْمِ بْنِ عَمْرٍو السَّعْدِيِّ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى زَائِدَةُ عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ نَحْوَهُ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ .
Sulaiman bin 'Amr bin Al-Ahwas narrated from his father who said:"During the Farewell Pilgrimage, I heard the Messenger of Allah(s.a.w) saying: 'Which day is this?' They said:'The day of Al-Hajj Al-Akbar.'He said:'Indeed your blood, your wealth, your honour is sacred to each other, just as this day of yours is sacred in this city of yours. Indeed, no one commits a crime except against himself. Indeed none commits a crime for which his son is accountable, nor does a child commit a crime for which his father is held accountable. Indeed Ash-Shaitan has lost hope of ever being worshipped in this city of yours, but he will have compliance in what deeds of yours you consider insignificant, which he will be content with
عمرو بن احوص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے خطاب کرتے سنا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: حج اکبر کا دن ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو تمہارے درمیان اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں تمہارے اس دن کی حرمت و تقدس ہے، خبردار! جرم کرنے والے کا وبال خود اسی پر ہے، خبردار! باپ کے قصور کا مواخذہ بیٹے سے اور بیٹے کے قصور کا مواخذہ باپ سے نہ ہو گا، سن لو! شیطان ہمیشہ کے لیے اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہارے اس شہر میں اس کی پوجا ہو گی، البتہ ان چیزوں میں اس کی کچھ اطاعت ہو گی جن کو تم حقیر عمل سمجھتے ہو، وہ اسی سے خوش رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- زائدہ نے بھی شبیب بن غرقدہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ہم اس حدیث کو صرف شبیب بن غرقدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابوبکرہ، ابن عباس، جابر، حذیم بن عمرو السعدی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ . قَالَ وَحَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
Ubadah bin As-Samit narrated that the Prophet (s.a.w) said:"The dreams of the believer are a portion of the forty-six portions of Prophet-hood
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابورزین عقیلی، ابو سعید خدری، عبداللہ بن عمرو، عوف بن مالک، ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، نَحْوَهُ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَأَكْثَرُ النَّاسِ يَقُولُونَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ وَاخْتَلَفُوا عَلَى مَالِكٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ فَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي عَمْرَةَ وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيُّ وَهَذَا أَصَحُّ لأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَيْضًا وَأَبُو عَمْرَةَ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَلَهُ حَدِيثُ الْغُلُولِ وَأَكْثَرُ النَّاسِ يَقُولُونَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ .
(Another chain) from Malik in which he said:Ibn Abi 'Amrah
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اکثر لوگوں نے اپنی روایت میں عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کہا ہے۔ ۳- اس حدیث کی روایت کرنے میں مالک کے شاگردوں کا اختلاف ہے، بعض راویوں نے اسے ابی عمرہ سے روایت کیا ہے، اور بعض نے ابن ابی عمرہ سے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری ہے، ابن ابی عمرہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مالک کے سوا دوسرے راویوں نے «عن عبدالرحمٰن بن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کہا ہے «عن ابن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کی سند سے اس کے علاوہ دوسری حدیث بھی مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے، ابو عمرہ زید بن خالد جہنی کے آزاد کردہ غلام تھے، اور ابو عمرہ کے واسطہ سے خالد سے حدیث غلول مروی ہے، اکثر لوگ عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ ہی کہتے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي طَارِقٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَأْخُذُ عَنِّي هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ " . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّ خَمْسًا وَقَالَ " اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا وَلاَ تُكْثِرِ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ . وَالْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَيْئًا هَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَيُّوبَ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالُوا لَمْ يَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَرَوَى أَبُو عُبَيْدَةَ النَّاجِيُّ عَنِ الْحَسَنِ هَذَا الْحَدِيثَ قَوْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Al-Hasan narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Who will take these statements from me, so that he may act upon them, or teach one who will act upon them?" So Abu Hurairah said: "I said: 'I shall O Messenger of Allah!' So he (s.a.w) took my hand and enumerated five (things), he said: "Be on guard against the unlawful and you shall be the most worshiping among the people, be satisfied with what Allah has alloted for you and you shall be the richest of the people, be kind to your neighbor and you shall be a believer, love for the people what you love for yourself and you shall be a Muslim. And do not laugh too much, for indeed increased laughter kills the heart
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے ان کلمات کو سن کر ان پر عمل کرے یا ایسے شخص کو سکھلائے جو ان پر عمل کرے“، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسا کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ باتوں کو گن کر بتلایا: ”تم حرام چیزوں سے بچو، سب لوگوں سے زیادہ عابد ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم شدہ رزق پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ بے نیاز رہو گے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرو پکے سچے مومن رہو گے۔ اور دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو سچے مسلمان ہو جاؤ گے اور زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- حسن بصری کا سماع ابوہریرہ سے ثابت نہیں، ۳- اسی طرح ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے ان سب کا کہنا ہے کہ حسن بصری نے ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے، ۴- ابوعبیدہ ناجی نے اسے حسن بصری سے روایت کرتے ہوئے اس کو حسن بصری کا قول کہا ہے اور یہ نہیں ذکر کیا کہ یہ حدیث حسن بصری ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ أَبُو مِحْصَنٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الرَّحَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلاَهُ وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ . وَحُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ .
Ibn Mas'ud narrated that the Messenger of Allah SAW said:"The feet of the son of Adam shall not move from before his Lord on the Day of Judgement, until he is asked about five things: About his life and what he did with it, about his youth and what he wore it out in, about his wealth and how he earned it, and spent it upon, and what he did with what he knew." (Da'if) [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib, we do not know of it as a narration of Ibn Mas'üd from the Prophet except through the narration of Husain bin Qais. Husain [bin Qais] was graded weak in Hadith [due to his memory]. There are narrations on this topic from Abu Barzah and Abu Sa'eed
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے سلسلے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسے ہم «عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے صرف حسین بن قیس ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور حسین بن قیس اپنے حفظ کے قبیل سے ضعیف ہیں، ۳- اس باب میں ابوبرزہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا وَقَالَ ذَلِكَ الظِّلُّ الْمَمْدُودُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ .
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Prophet (s.a.w) said:"In Paradise there is a tree, a rider will travel in its shade for a hundred years without reaching an end." He said: "And that is the extended shade
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے درخت ہیں کہ سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے پھر بھی ان کا سایہ ختم نہ ہو گا“، نیز آپ نے فرمایا: ”یہی «ظل الممدود» ہے ( یعنی جس کا ذکر قرآن میں ہے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ وَلِسَانٌ يَنْطِقُ يَقُولُ إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلاَثَةٍ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَبِكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَبِالْمُصَوِّرِينَ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا وَرَوَى أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Some of the Fire (in the shape of a long neck) will come out of the Fire on the Day of judgment. It will have two eyes which can see, two ears which can hear, and a tongue which can speak. It will say: 'I have been left in charge of three: Every obstinate oppressor, everyone who called upon a deity besides Allah, and the image makers." Other chains report similar narrations
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی اس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھیں گی، دو کان ہوں گے جو سنیں گے اور ایک زبان ہو گی جو بولے گی، وہ کہے گی: مجھے تین لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے: ہر سرکش ظالم پر، ہر اس آدمی پر جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارتا ہو، اور مجسمہ بنانے والوں پر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- بعض لوگوں نے یہ حدیث «عن الأعمش عن عطية عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح روایت کی ہے، ۴- اشعث بن سوار نے بھی «عن عطية عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ كَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الزَّكَاةِ وَالصَّلاَةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالاً كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَرَوَى عِمْرَانُ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ حَدِيثٌ خَطَأٌ وَقَدْ خُولِفَ عِمْرَانُ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ مَعْمَرٍ .
Narrated Abu Hurairah:said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) died and Abu Bakr became the Khalifah after him, whoever disbelieved from the Arabs disbelieved, so Umar bin Al-Khattab said to Abu Bakr: 'How will you fight the people while the Messenger of Allah has said: 'I have been ordered to fight the people until they say La Ilaha Illallah, and if they say that, then their blood and wealth will be protected from me, except what it makes obligatory upon them, and their reckoning is with Allah?' So Abu Bakr said: 'By Allah I will fight whoever differentiates between Salat and Zakat. For indeed, Zakat is the right due upon wealth. And by Allah! If they withhold even (camel) tethers which they used to give to the Messenger of Allah (ﷺ) I will fight them for withholding it.' So Umar bin Al-Khattab said: 'By Allah! I saw that Allah had opened Abu Bakr's chest to fighting, so I knew that it was correct
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی الله عنہ خلیفہ بنا دئیے گئے اور عربوں میں جنہیں کفر کرنا تھا کفر کا اظہار کیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے جنگ ( جہاد ) کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ کہیں: «لا إلہ الا اللہ»، تو جس نے «لا إلہ الا اللہ» کہا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی ۱؎، اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے“، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو ہر اس شخص کے خلاف جہاد کروں گا جو صلاۃ و زکاۃ میں فرق کرے گا، کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی! اگر انہوں نے ایک رسی بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( زکاۃ میں ) دیا کرتے تھے تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ ( جہاد ) کروں گا۔ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے دیکھا: اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی الله عنہ کے سینے کو جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور میں نے جان لیا کہ یہی حق اور درست ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور عبداللہ نے ابوہریرہ رضی الله عنہم سے روایت کی ہے، ۳- عمران بن قطان نے یہ حدیث معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے انس بن مالک سے، اور انس بن مالک نے ابوبکر سے روایت کی ہے، لیکن اس حدیث ( کی سند ) میں غلطی ہے۔ ( اور وہ یہ ہے کہ ) معمر کے واسطہ سے عمران کی روایت کی مخالفت کی گئی ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever takes a path upon which to obtain knowledge, Allah makes the path to Paradise easy for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو علم حاصل کرنے کے ارادہ سے کہیں جائے، تو اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان ( و ہموار ) کر دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated by Imran bin Husain
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَرِيرِيُّ، بَلْخِيٌّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيِّ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ . قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَشْرٌ " . ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عِشْرُونَ " . ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ثَلاَثُونَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ .
Narrated 'Imran bin Husain:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'As-Salamu 'Alaykum (Peace be upon you).'" [He said:] "So the Prophet (ﷺ) said: 'Ten.' Then another came and he said: 'As-Salamu 'Alaykum Wa Rahmatullah (Peace be upon you, and the mercy of Allah).' So the Prophet (ﷺ) said: 'Twenty.' Then another came and said: 'As-Salamu 'Alaykum Wa Rahmatullahi Wa Barakatuh (Peace be upon you, and the mercy of Allah, and His Blessings).' So the Prophet (ﷺ) said: 'Thirty
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السلام عليكم»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس کے لیے ) دس نیکیاں ہیں“، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس کے لیے ) بیس نیکیاں ہیں“، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس کے لیے ) تیس نیکیاں ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوسعید اور سہل بن حنیف سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ ثِقَةٌ رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ .
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are six things due from the believer to another believer: Visiting him when he is ill, attending (his funeral) to him when he dies, accepting his invitation when he invites, giving him Salam when he meets him, replying to him when he sneezes, and wishing him well when he is absent and when he is present
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں، ( ۱ ) جب بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کرے، ( ۲ ) جب مرے تو اس کے جنازے میں شریک ہو، ( ۳ ) جب دعوت کرے تو قبول کرے، ( ۴ ) جب ملے تو اس سے سلام کرے، ( ۵ ) جب اسے چھینک آئے تو اس کی چھینک کا جواب دے، ( ۶ ) اس کے سامنے موجود رہے یا نہ رہے اس کا خیرخواہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن موسیٰ مخزومی مدنی ثقہ ہیں ان سے عبدالعزیز ابن محمد اور ابن ابی فدیک نے روایت کی ہے۔
Narrated by Sa'eed bin Hilal
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ " إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ جِبْرِيلَ عِنْدَ رَأْسِي وَمِيكَائِيلَ عِنْدَ رِجْلَىَّ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ اضْرِبْ لَهُ مَثَلاً . فَقَالَ اسْمَعْ سَمِعَتْ أُذُنُكَ وَاعْقِلْ عَقَلَ قَلْبُكَ إِنَّمَا مَثَلُكَ وَمَثَلُ أُمَّتِكَ كَمَثَلِ مَلِكٍ اتَّخَذَ دَارًا ثُمَّ بَنَى فِيهَا بَيْتًا ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا مَائِدَةً ثُمَّ بَعَثَ رَسُولاً يَدْعُو النَّاسَ إِلَى طَعَامِهِ فَمِنْهُمْ مَنْ أَجَابَ الرَّسُولَ وَمِنْهُمْ مَنْ تَرَكَهُ فَاللَّهُ هُوَ الْمَلِكُ وَالدَّارُ الإِسْلاَمُ وَالْبَيْتُ الْجَنَّةُ وَأَنْتَ يَا مُحَمَّدُ رَسُولٌ فَمَنْ أَجَابَكَ دَخَلَ الإِسْلاَمَ وَمَنْ دَخَلَ الإِسْلاَمَ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَكَلَ مَا فِيهَا " . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِإِسْنَادٍ أَصَحَّ مِنْ هَذَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ . سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلاَلٍ لَمْ يُدْرِكْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ .
Narrated Sa'eed bin Hilal:that Jabir bin 'Abdullah Al-Ansari said: "One day the Messenger of Allah (ﷺ) came out to us and said: "While I was sleeping I had a vision as if Jibra'il was at my feet. One of them said to his companion: 'Make a parable for him' so he said: 'Listen so that your ears may hear. Hearken so that your heart may understand! The parable of you and your Ummah is but the parable of a king who conquers a land, then he constructs a house in it. Then he places a table-spread in it, then he sends a messenger to call the people to eat from it. Among them are those who answer the call of the messenger, and among them are those who forsake it. So Allah is the king and the land is Islam, and the house is Paradise, and you O Muhammad! You are the Messenger, so whoever responds to you he enters Islam, and whoever enters Islam he enters Paradise, and whoever enters Paradise, he shall eat of what is in it
جابر بن عبداللہ انصاری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے پاس آئے اور فرمایا: ”میں نے خواب دیکھا ہے کہ جبرائیل میرے سر کے پاس ہیں اور میکائیل میرے پیروں کے پاس، ان دونوں میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی سے کہہ رہا تھا: ان کی کوئی مثال پیش کرو، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ سنیں، آپ کے کان ہمیشہ سنتے رہیں، آپ سمجھیں، آپ کا دل عقل ( سمجھ، علم و حکمت ) سے بھرا رہے۔ آپ کی مثال اور آپ کی امت کی مثال ایک ایسے بادشاہ کی ہے جس نے ایک شہر آباد کیا، اس شہر میں ایک گھر بنایا پھر ایک دستر خوان بچھایا، پھر قاصد کو بھیج کر لوگوں کو کھانے پر بلایا، تو کچھ لوگوں نے اس کی دعوت قبول کر لی اور کچھ لوگوں نے بلانے والے کی دعوت ٹھکرا دی ( کچھ پرواہ ہی نہ کی ) اس مثال میں یہ سمجھو کہ اللہ بادشاہ ہے، اور ”دار“ سے مراد اسلام ہے اور ”بیت“ سے مراد جنت ہے اور آپ اے محمد! رسول و قاصد ہیں۔ جس نے آپ کی دعوت قبول کر لی وہ اسلام میں داخل ہو گیا اور جو اسلام میں داخل ہو گیا وہ جنت میں داخل ہو گیا تو اس نے وہ سب کچھ کھایا جو جنت میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اور وہ سندیں اس حدیث کی سند سے زیادہ صحیح ہیں، ۲- یہ مرسل حدیث ہے ( یعنی منقطع ہے ) ۳- سعید بن ابی ہلال نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم کو نہیں پایا ہے، ۴- اس باب میں ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا وَهُمْ ذُو عَدَدٍ فَاسْتَقْرَأَهُمْ فَاسْتَقْرَأَ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَا مَعَهُ مِنَ الْقُرْآنِ فَأَتَى عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا فَقَالَ " مَا مَعَكَ يَا فُلاَنُ " . قَالَ مَعِي كَذَا وَكَذَا وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ . قَالَ " أَمَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " . فَقَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَاذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ إِلاَّ خَشْيَةَ أَلاَّ أَقُومَ بِهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَاقْرَءُوهُ وَأَقْرِئُوهُ فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ بِرِيحِهِ كُلُّ مَكَانٍ وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَيَرْقُدُ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنِ اللَّيْثِ فَذَكَرَهُ .
Narrated Abu Hurairah:"The Messenger of Allah (ﷺ) sent an expedition force [comprised] of many, and he asked each what he could recite, so each one of them mentioned what he could recite - meaning what he had memorized of the Qur'an. He came to one of the youngest men among them and said: 'What have you memorized O so-and-so?' He said: 'I memorized this and that and Surat Al-Baqarah.' He said: 'You memorized Surat Al-Baqarah?' He said: "Yes.' He said: "Then go, for you are their commander.' A man among their chief said: 'By Allah [O Messenger of Allah]! Nothing prevented me from learning Surat Al-Baqarah except fearing that I would not be able to stand with (in voluntary night prayer).' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Learn the Qur'an to recite it, for indeed the parable of the Qur'an for the one who recites it and stands with it (in prayer) is that of a bag full of musk whose scent fills the air all around. And the parable of the one who learns it then sleeps while it is in his memory is that of a bag containing musk that is tied shut
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گنتی کے کچھ لشکری بھیجے ( بھیجتے وقت ) ان سے ( قرآن ) پڑھوایا، تو ان میں سے ہر ایک نے جسے جتنا قرآن یاد تھا پڑھ کر سنایا۔ جب ایک نوعمر نوجوان کا نمبر آیا تو آپ نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں اور سورۃ البقرہ یاد ہے۔ آپ نے کہا: کیا تمہیں سورۃ البقرہ یاد ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ تم ان سب کے امیر ہو“۔ ان کے شرفاء میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے سورۃ البقرہ صرف اسی ڈر سے یاد نہ کی کہ میں اسے ( نماز تہجد میں ) برابر پڑھ نہ سکوں گا۔ آپ نے فرمایا: ”قرآن سیکھو، اسے پڑھو اور پڑھاؤ۔ کیونکہ قرآن کی مثال اس شخص کے لیے جس نے اسے سیکھا اور پڑھا، اور اس پر عمل کیا اس تھیلی کی ہے جس میں مشک بھری ہوئی ہو اور چاروں طرف اس کی خوشبو پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے اسے سیکھا اور سو گیا اس کا علم اس کے سینے میں بند رہا۔ اس تھیلی کی سی ہے جو مشک بھر کر سیل بند کر دی گئی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو لیث بن سعد نے سعید مقبری سے، اور سعید نے ابواحمد کے آزاد کردہ غلام عطا سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - وَأُرَاهُ قَالَ - وَعُثْمَانَ كَانُوا يَقْرَءُونَ (مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيِّ . وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَقْرَءُونَ (مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ) . وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَقْرَءُونَ (مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ).
Narrated Anas:that the Prophet (ﷺ), Abu Bakr, and 'Umar - and I think he said - and 'Uthman would recite: "Maaliki Yawmid-Din (1:)
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر و عمر رضی الله عنہما ( راوی زہری کہتے ہیں کہ ) اور میرا خیال ہے کہ انس رضی الله عنہ نے عثمان رضی الله عنہ کا بھی نام لیا کہ یہ سب لوگ «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جسے وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں صرف اس شیخ یعنی ایوب بن سوید رملی کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۳- زہری کے بعض اصحاب ( تلامذہ ) نے یہ حدیث زہری سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے۔ اور عبدالرزاق نے معمر سے، معمر نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے، ( یعنی: اس کو مرفوعاً صرف ایوب بن سوید ہی نے روایت کیا ہے، اور وہ ضعیف ہیں ) ۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلاَّ مَا عَلِمْتُمْ فَمَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَمَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Narrated Ibn 'Abbas:that the Prophet (ﷺ) said: "Beware of narrating from me except what I taught you, for whoever lies about me on purpose, then let him take his seat in the Fire. And whoever says (something) about the Qur'an according to his (own) opinion, then let him take his seat in the Fire
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری طرف سے کوئی بات اس وقت تک نہ بیان کرو جب تک کہ تم ( اچھی طرح ) جان نہ لو کیونکہ جس نے جان بوجھ کر جھوٹی بات میری طرف منسوب کی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے اور جس نے قرآن میں اپنی عقل و رائے سے کچھ کہا وہ بھی اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ .
Anas bin Malik narrated that :the Prophet said: “The supplication is the essence of worship.”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا عبادت کا مغز ( حاصل و نچوڑ ) ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated by Wathilah bin Al-Asqa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الأَسْقَعِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ وَاصْطَفَى هَاشِمًا مِنْ قُرَيْشٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
Narrated Wathilah bin Al-Asqa':that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, Allah chose Kinanah from the children of Isma'il, and He chose Quraish from Kinanah, and He chose Hashim from Quraish, and He chose me from Banu Hashim
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کا انتخاب فرمایا اور کنانہ سے قریش کا اور قریش میں سے ہاشم کا اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَصَلاَتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ وَلَكِنْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Ali said:"Al-Witr is not incumbent like your obligatory prayers, but it is a Sunnah of Allah's Messenger who said: "Indeed Allah is Witr (One), and He loves Al-Witr, so perform Al-Witr O people of the Qur'an
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں وتر تمہاری فرض نماز کی طرح لازمی نہیں ہے ۱؎، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنت قرار دیا اور فرمایا: اللہ وتر ( طاق ) ۲؎ ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے، اے اہل قرآن! ۳؎ تم وتر پڑھا کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابن مسعود اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ الْبَصْرِيُّ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " الْتَمِسُوا السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَى فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ . وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ يُضَعَّفُ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَيُقَالُ لَهُ حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَيُقَالُ هُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الأَنْصَارِيُّ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَى فِيهَا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ . وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَقَالَ أَحْمَدُ أَكْثَرُ الأَحَادِيثِ فِي السَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى فِيهَا إِجَابَةُ الدَّعْوَةِ أَنَّهَا بَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ وَتُرْجَى بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ .
Anas bin Malik narrated that :the Prophet said: "Seek out the hour that is hoped for on Friday after Asr until the sun has set
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے روز اس گھڑی کو جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے عصر سے لے کر سورج ڈوبنے تک کے درمیان تلاش کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس رضی الله عنہ سے بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۳- محمد بن ابی حمید ضعیف گردانے جاتے ہیں، بعض اہل علم نے ان کے حفظ کے تعلق سے ان کی تضعیف کی ہے، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے، نیز کہا جاتا ہے کہ یہی ابوابراہیم انصاری ہیں اور یہ منکرالحدیث ہیں، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ گھڑی جس میں قبولیت دعا کی امید کی جاتی ہے عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ احمد کہتے ہیں: اس گھڑی کے سلسلے میں جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے زیادہ تر حدیثیں یہی آئی ہیں کہ یہ عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، نیز سورج ڈھلنے کے بعد بھی اس کے ہونے کی امید کی جاتی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، هُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يُصَلُّونَ فِي الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُونَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ صَلاَةَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ . وَيُقَالُ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ خَطَبَ قَبْلَ الصَّلاَةِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ .
Ibn Umar narrated:"Allah's Messenger, Abu Bakr, and Umar would pray during the two Eid before the Khutbah, then they would give the Khutbah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے اور اس کے بعد خطبہ دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہو گی، ۴- اور کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے جس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا وہ مروان بن حکم تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ سُئِلَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ عَنْ صَلاَةِ الْمُسَافِرِ، فَقَالَ حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُثْمَانَ سِتَّ سِنِينَ مِنْ خِلاَفَتِهِ أَوْ ثَمَانِيَ سِنِينَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu An-Nadrah said:"Imran bin Husain was asked about the traveler's prayer. He said: 'I performed Hajj with the Messenger of Allah, and he prayed two Rak'ah. I performed Hajj with Abu Bakr, and he prayed two Rak'ah and with Umar, and he prayed two Rak;ah; and with Uthman for six years of his Khilafah, or eight years, and he prayed two Rak'ah
ابونضرہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی الله عنہ سے مسافر کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھیں، اور میں نے ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی دو ہی رکعتیں پڑھیں، اور عمر رضی الله عنہ کے ساتھ کیا تو انہوں نے بھی دو ہی رکعتیں پڑھیں، اور عثمان رضی الله عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے ابتدائی چھ یا آٹھ سالوں میں کیا تو انہوں نے بھی دو ہی رکعتیں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ، هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُجَيْرَةَ الْمِصْرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ أَنَّهُ ذَكَرَ الزَّكَاةَ . فَقَالَ رَجَلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهَا فَقَالَ " لاَ إِلاَّ أَنْ تَتَطَوَّعَ " .
Abu Hurairah narrated :that the Prophet said: "When you pay the Zakat you have fulfilled what is required of you
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی تو جو تمہارے ذمہ فریضہ تھا اسے تم نے ادا کر دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری اور سندوں سے بھی مروی ہے کہ آپ نے زکاۃ کا ذکر کیا، تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل کچھ دو“ ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَالْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ الَّذِي رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ . قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَوْلَهُ " إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدِي مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ .
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: "Whoever fasts Ramadan and stands (in the night prayer) for it out of faith and seeking a reward (from Allah), he will be forgiven what preceded of his sins. Whoever stands (in the night prayer) on the Night of Al-Qadr out of faith and seeking a reward (from Allah), he will be forgiven what preceded of his sins
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں قیام کیا تو اس کے سابقہ گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے۔ اور جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے بھی سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی ( پچھلی ) حدیث، جسے ابوبکر بن عیاش نے روایت کی ہے غریب ہے، اسے ہم ابوبکر بن عیاش کی روایت کی طرح جسے انہوں نے بطریق: «الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة» روایت کی ہے۔ ابوبکر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بسند «حسن بن ربیع عن أبی الأحوص عن الأعمش» مجاہد کا قول نقل کیا کہ جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے … پھر آگے انہوں نے پوری حدیث بیان کی، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث میرے نزدیک ابوبکر بن عیاش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلاَّ الْجَنَّةُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ .
Abdullah (bin Mas'ud) narrated that:The Messenger of Allah said: "Alternate between Hajj and Umrah; for those two remove poverty and sins just as the bellows removes filth from iron, gold, and silver - and there is no reward for Al-Hajj Al-Mabrur except for Paradise
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج اور عمرہ ایک کے بعد دوسرے کو ادا کرو اس لیے کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کو مٹا دیتی ہے اور حج مبرور ۱؎ کا بدلہ صرف جنت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن ہے، اور ابن مسعود کی روایت سے غریب ہے، ۲- اس باب میں عمر، عامر بن ربیعہ، ابوہریرہ، عبداللہ بن حبشی، ام سلمہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلاَ حَزَنٍ وَلاَ وَصَبٍ حَتَّى الْهَمُّ يَهُمُّهُ إِلاَّ يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ فِي هَذَا الْبَابِ . قَالَ وَسَمِعْتُ الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ لَمْ يُسْمَعْ فِي الْهَمِّ أَنَّهُ يَكُونُ كَفَّارَةً إِلاَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Abu Sa'eed Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that:The Messenger of Allah said: "Nothing afflicts the believer, whether fatigue, grief, disease - even a worry that concerns him - except that by it, Allah removes something from his bad deeds
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو جو بھی تکان، غم، اور بیماری حتیٰ کہ فکر لاحق ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «عطاء بن يسار عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- وکیع کہتے ہیں: اس حدیث کے علاوہ کسی حدیث میں «همّ» ”فکر“ کے بارے میں نہیں سنا گیا کہ وہ بھی گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔