بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
3 hadith
Narrated by Zirr bin Hubaish
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ لاَ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى ‏.‏ قَالَ أَنْتَ تَقُولُ ذَاكَ يَا أَصْلَعُ بِمَا تَقُولُ ذَلِكَ قُلْتُ بِالْقُرْآنِ بَيْنِي وَبَيْنَكَ الْقُرْآنُ ‏.‏ فَقَالَ حُذَيْفَةُ مَنِ احْتَجَّ بِالْقُرْآنِ فَقَدْ أَفْلَحَ قَالَ سُفْيَانُ يَقُولُ فَقَدِ احْتَجَّ ‏.‏ وَرُبَّمَا قَالَ قَدْ فَلَجَ فَقَالَ ‏:‏ ‏(‏سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى ‏)‏ قَالَ أَفَتَرَاهُ صَلَّى فِيهِ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ لَوْ صَلَّى فِيهِ لَكُتِبَ عَلَيْكُمْ فِيهِ الصَّلاَةُ كَمَا كُتِبَتِ الصَّلاَةُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ حُذَيْفَةُ قَدْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِدَابَّةٍ طَوِيلَةِ الظَّهْرِ مَمْدُودَةٍ هَكَذَا خَطْوُهُ مَدُّ بَصَرِهِ فَمَا زَايَلاَ ظَهْرَ الْبُرَاقِ حَتَّى رَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَوَعْدَ الآخِرَةِ أَجْمَعَ ثُمَّ رَجَعَا عَوْدَهُمَا عَلَى بَدْئِهِمَا قَالَ وَيَتَحَدَّثُونَ أَنَّهُ رَبَطَهُ لِمَ أَيَفِرُّ مِنْهُ وَإِنَّمَا سَخَّرَهُ لَهُ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Zirr bin Hubaish:"I said to Hudhaifah bin Al-Yaman: 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) perform Salat in Bait Al-Maqdis?' He said: 'No.' I said: 'But he did.' He said: 'You say that, O bald one! Based upon what do you say that?' I said: 'Based upon the Qur'an, (the Judge) between you and I is the Qur'an.' So Hudhaifah said: 'Whoever argues using the Qur'an, then he has indeed succeeded.'" (One of the narrators) Sufyan said: "He means: 'He has indeed proven'" - and perhaps he (Sufyan) said: "He triumphed." He (Zirr) said: "Glorified is He Who took His slave for a journey by night from Al-Masjid Al-Haram to Al-Masjid Al-Aqsa (17:1).' He (Hudhaifah) said: 'Do you see (this proves that) he (ﷺ) performed Salat in it?' I said: 'No.' He said: 'If he had performed Salat in it, then it would have been required upon you that you perform Salat in it, just as it is required that you perform Salat in Al-Masjid Al-Haram.' Hudhaifah said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) was brought a beast with a long back - stretching out like this - one stride of it, is as far as his vision. So, the two of them remained upon the back of Al-Buraq until they saw Paradise and the Fire, and all of what has been prepared for the Hereafter, then they returned back to where they began.' He said: 'They say that he was fettered, but for what? Because he might flee? The Knower of the unseen and the witness subdued him
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں نے حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: بیشک پڑھی تھی، انہوں نے کہا: اے گنجے سر والے، تم ایسا کہتے ہو؟ کس بنا پر تم ایسا کہتے ہو؟ میں نے کہا: میں قرآن کی دلیل سے کہتا ہوں، میرے اور آپ کے درمیان قرآن فیصل ہے۔ حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: جس نے قرآن سے دلیل قائم کی وہ کامیاب رہا، جس نے قرآن سے دلیل پکڑی وہ حجت میں غالب رہا، زر بن حبیش نے کہا: میں نے «سبحان الذي أسرى بعبده ليلا من المسجدالحرام إلى المسجد الأقصى» ۱؎ آیت پیش کی، حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: کیا تم اس آیت میں کہیں یہ دیکھتے ہو کہ آپ نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: اگر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے وہاں نماز پڑھ لی ہوتی تو تم پر وہاں نماز پڑھنی ویسے ہی فرض ہو جاتی جیسا کہ مسجد الحرام میں پڑھنی فرض کر دی گئی ہے ۲؎، حذیفہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لمبی چوڑی پیٹھ والا جانور ( براق ) لایا گیا، اس کا قدم وہاں پڑتا جہاں اس کی نظر پہنچتی اور وہ دونوں اس وقت تک براق پر سوار رہے جب تک کہ جنت جہنم اور آخرت کے وعدہ کی ساری چیزیں دیکھ نہ لیں، پھر وہ دونوں لوٹے، اور ان کا لوٹنا ان کے شروع کرنے کے انداز سے تھا ۳؎ لوگ بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے اسے ( یعنی براق کو بیت المقدس میں ) باندھ دیا تھا، کیوں باندھ دیا تھا؟ کیا اس لیے کہ کہیں بھاگ نہ جائے؟ ( غلط بات ہے ) جس جانور کو عالم الغیب والشھادۃ غائب و موجود ہر چیز کے جاننے والے نے آپ کے لیے مسخر کر دیا ہو وہ کہیں بھاگ سکتا ہے؟ نہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ ‏.‏ أَبُو مَرْثَدٍ اسْمُهُ كَنَّازُ بْنُ حُصَيْنٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ ‏.‏ وَقَدْ تُكُلِّمَ فِي زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَزَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ الْكُوفِيُّ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا وَأَقْدَمُ وَقَدْ سَمِعَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏ وَحَدِيثُ دَاوُدَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَشْبَهُ وَأَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ‏.‏
Ibn Umar narrated:(Another chain with a similar narration)
اس سند سے بھی اس مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی سند کوئی زیادہ قوی نہیں ہے، زید بن جبیرۃ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ۲- زید بن جبیر کوفی ان سے زیادہ قوی اور ان سے پہلے کے ہیں انہوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے سنا ہے، ۳- اس باب میں ابو مرثد کناز بن حصین، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- لیث بن سعد نے یہ حدیث بطریق: «عبد الله بن عمر العمري عن نافع عن ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔ داود کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے۔ لیث بن سعد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہے، عبداللہ بن عمر عمری کو بعض اہل حدیث نے ان کے حفظ کے تعلق سے ضعیف گردانا ہے، انہیں میں سے یحییٰ بن سعیدالقطان بھی ہیں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ خُزَيْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى أَوْ قَالَ حَصًى تُسَبِّحُ بِهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا أَوْ أَفْضَلُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الأَرْضِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذَلِكَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَعْدٍ ‏.‏
Aishah bint Sa`d bin Abi Waqqas narrated from her father,:that he entered with the Messenger of Allah (ﷺ) upon a women, before her was a date-seed – or he said – stone – that she would make Tasbih with. So he (ﷺ) said: “Should I not inform you of what is easier for you then this, and better? Glory to Allah according to the number of what He created in the sky, and glory to Allah according to the number of what He created in the earth, and glory to Allah according to the number of what is between that, and glory to Allah according to the number of what He is going to create, and Allah is great, in similar amount to that, and all praise is due to Allah, in similar amount to that, and there is no might or power except by Allah, in similar amount to that (Subḥān Allāhi `adada mā khalaqa fis-samā’ wa subḥān Allāhi `adada mā khalaqa fil-arḍ, wa subḥān Allāhi `adada mā baina dhālik, wa subḥān Allāhi `adada mā huwa khalaq, wa Allāhu akbaru mithla dhālik, wal ḥamdu lillāhi mithla dhālik, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā billāhi mithla dhālik).”
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس گئے، اس کے آگے کھجور کی گٹھلیاں تھیں یا کنکریاں، ان کے ذریعہ وہ تسبیح پڑھا کرتی تھی، آپ نے اس سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے آسان طریقہ نہ بتا دوں؟ یا اس سے افضل و بہتر طریقہ نہ بتا دوں؟ ( کہ ثواب میں بھی زیادہ رہے اور لمبی چوڑی گنتی کرنے سے بھی بچا رہے ) وہ یہ ہے: «سبحان الله عدد ما خلق في السماء، وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض، وسبحان الله عدد ما بين ذلك، وسبحان الله عدد ما هو خالق، والله أكبر مثل ذلك، والحمد لله مثل ذلك، ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك» ”پاکی ہے اللہ کی اتنی جتنی اس نے آسمان میں چیزیں پیدا کی ہیں، اور پاکی ہے اللہ کی اتنی جتنی اس نے زمین میں چیزیں پیدا کی ہیں، اور پاکی ہے اس کی اتنی جتنی کہ ان دونوں کے درمیان چیزیں ہیں، اور پاکی ہے اس کی اتنی جتنی کہ وہ ( آئندہ ) پیدا کرنے والا ہے، اور ایسے ہی اللہ کی بڑائی ہے اور ایسے ہی اللہ کے لیے حمد ہے اور ایسے ہی لا حول ولا قوۃ ہے، ( یعنی اللہ کی مخلوق کی تعداد کے برابر ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث سعد کی روایت سے حسن غریب ہے۔