بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
3 hadith
Narrated by Sa'eed bin Jubair
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً ‏)‏ قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ وَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوهُ شَتَمُوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَقَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ ‏:‏ ‏(‏وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ ‏)‏ أَىْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ ‏:‏ ‏(‏وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا ‏)‏ عَنْ أَصْحَابِكَ ‏:‏ ‏(‏ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً ‏)‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Sa'eed bin Jubair:from Ibn 'Abbas regarding Allah's saying: "And offer your Salat neither aloud nor in a low voice but follow a way between." He said: "It was revealed when the Messenger of Allah (ﷺ) was hiding himself in Makkah, and when he led his Companions in Salat, he would raise his voice with the Qur'an. So when the idolaters heard it they would insult the Qur'an, the One Who revealed it, and the one who came with it. So Allah, Most High, said to His Prophet: 'And offer your Salat neither aloud' that is: Your recitation, so that the idolaters would not hear it and insult the Qur'an. 'Nor in a low voice (too low)' for your Companions, 'but follow a way between
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» ”صلاۃ میں آواز بہت بلند نہ کیجئے اور نہ ہی بہت پست بلکہ دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کیجئے“ ( الاسراء: ۱۱۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں: یہ آیت مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب آپ مکہ میں چھپے چھپے رہتے تھے، جب آپ اپنے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، مشرکین جب سن لیتے تو قرآن، قرآن نازل کرنے والے اور قرآن لانے والے سب کو گالیاں دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: «ولا تجهر بصلاتك» بلند آواز سے نماز نہ پڑھو ( یعنی بلند آواز سے قرأت نہ کرو ) کہ جسے سن کر مشرکین قرآن کو گالیاں دینے لگیں اور نہ دھیمی آواز سے پڑھو ( کہ تمہارے صحابہ سن نہ سکیں ) بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ فِي الْمَزْبَلَةِ وَالْمَجْزَرَةِ وَالْمَقْبُرَةِ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَفِي الْحَمَّامِ وَفِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ وَفَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar narrated:"The Prophet prohibited Salat from being performed in seven places: the dung heap, the slaughtering area, the graveyard, the commonly used road, the wash area, in the area that camels rest at, and above the House of Allah (the Ka'bah)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ میں، مذبح میں، قبرستان میں، عام راستوں پر، حمام ( غسل خانہ ) میں اونٹ باندھنے کی جگہ میں اور بیت اللہ کی چھت پر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، هُوَ ابْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُكْتِبُ الْغِلْمَانَ وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ دُبُرَ الصَّلاَةِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ مُضْطَرِبٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عُمَرَ وَيَقُولُ عَنْ غَيْرِهِ وَيَضْطَرِبُ فِيهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Mus`ab bin Sa`d and `Amr bin Maimun narrated:“Sa`d used to teach his children these words just as the Muktib teaches children, he would say: ‘Indeed, the Messenger of Allah (ﷺ) used to seek refuge by saying them at the end of (every) Salat: O Allah I seek refuge in You from cowardliness, I seek refuge in You from miserliness, I seek refuge in You from feeble old age, and I seek refuge in You from the trial of the world, and the punishment of the grave (Allāhumma innī a`ūdhu bika minal-jubn, wa a`ūdhu bika minal-bukhl, wa a`ūdhu bika min ardhalil-`umur, wa a`ūdhu bika min fitnatid-dunyā wa `adhābil qabr).’”
مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اپنے بیٹوں کو یہ کلمے ایسے ہی سکھاتے تھے جیسا کہ چھوٹے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے والا معلم سکھاتا ہے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ ہر نماز کے اخیر میں اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ ( وہ کلمے یہ تھے ) : «اللهم إني أعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من البخل وأعوذ بك من أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں بزدلی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں کنجوسی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں ذلیل ترین عمر سے ( یعنی اس بڑھاپے سے جس میں عقل و ہوس کچھ نہ رہ جائے ) اور پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ابواسحاق ہمدانی اس حدیث میں اضطرب کا شکار تھے، کبھی کہتے تھے: روایت ہے عمرو بن میمون سے اور وہ روایت کرتے ہیں عمر سے، اور کبھی کسی اور سے کہتے اور اس روایت میں اضطراب کرتے تھے۔