بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
4 hadith
Narrated by Bahz bin Hakim
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ رِجَالاً وَرُكْبَانًا وَيُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
Narrated Bahz bin Hakim:from his father, from his grandfather [who said:] "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed you shall be gathered walking, riding, and being dragged upon your faces
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( قیامت میں ) جمع کئے جاؤ گے: کچھ لوگ پیدل ہوں گے، کچھ لوگ سواری پر، اور کچھ لوگ اپنے منہ کے بل گھسیٹ کر اکٹھا کئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ، مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَبِي مَعْشَرٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَاسْمُهُ نَجِيحٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ لاَ أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا وَقَدْ رَوَى عَنْهُ النَّاسُ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيِّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِيِّ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَقْوَى مِنْ حَدِيثِ أَبِي مَعْشَرٍ وَأَصَحُّ ‏.‏
Abu Hurairah narrated:(Another chain with a similar narration)
یحییٰ بن موسیٰ کا بیان ہے کہ ہم سے محمد بن ابی معشر نے بھی اسی کے مثل بیان کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث ان سے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۲- بعض اہل علم نے ابومعشر کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ ان کا نام نجیح ہے، وہ بنی ہاشم کے مولیٰ ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں ان سے کوئی روایت نہیں کرتا حالانکہ لوگوں نے ان سے روایت کی ہے نیز بخاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر مخرمی کی حدیث جسے انہوں نے بسند «عثمان بن محمد اخنسی عن سعید المقبری عن أبی ہریرہ» روایت کی ہے، ابومعشر کی حدیث سے زیادہ قوی اور زیادہ صحیح ہے ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے جو اسی معنی کی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَأَرْفِغْنِي وَإِنْ كَانَ بَلاَءً فَصَبِّرْنِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَيْفَ قُلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ قَالَ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ عَافِهِ أَوِ اشْفِهِ ‏"‏ ‏.‏ شُعْبَةُ الشَّاكُّ ‏.‏ فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي بَعْدُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Ali said:“I was ill and the Messenger of Allah (ﷺ) passed by me while I was saying: ‘O Allah, if my term has come, then give me relief, and if it is coming later, then make my life more bountiful, and if it is a trial then make me patient (Allāhumma, in kāna ajalī qad ḥaḍara fa ariḥnī, wa in kāna muta’akh-khiran fa arfighnī, wa in kāna balā’an fa ṣabbirnī).’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘What did you say?’” He said: “So he repeated to him what he said.” He (one of the narrators) said: So he struck him with his foot and said: “O Allah, grant him health (Allāhumma `āfihi)” – or – “heal him (ishfihi).” – Shu`ba is the one who doubted. He said: “So I did not suffer from my ailment again.”
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے شکایت ہوئی ( بیماری ہوئی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں دعا کر رہا تھا: «اللهم إن كان أجلي قد حضر فأرحني وإن كان متأخرا فارفغني وإن كان بلاء فصبرني» ”اے میرے رب! اگر میری موت کا وقت آ پہنچا ہے تو مجھے ( موت دے کر ) راحت دے اور اور اگر میری موت بعد میں ہو تو مجھے اٹھا کر کھڑا کر دے ( یعنی صحت دیدے ) اور اگر یہ آزمائش ہے تو مجھے صبر دے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیسے کہا“ تو انہوں نے جو کہا تھا اسے دہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیر سے ٹھوکا دیا پھر آپ نے فرمایا: «اللهم عافه أو اشفه» ”اے اللہ! انہیں عافیت دے، یا شفاء دے“، اس کے بعد مجھے اپنی تکلیف کی پھر کبھی شکایت نہیں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Hudhaifah bin Al-Yaman
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالاَ ابْعَثْ مَعَنَا أَمِينًا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَإِنِّي سَأَبْعَثُ مَعَكُمْ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏ فَأَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رضى الله عنه ‏.‏ قَالَ وَكَانَ أَبُو إِسْحَاقَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ صِلَةَ قَالَ سَمِعْتُهُ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ أَخْبَرَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ قَلْبُ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ مِنْ ذَهَبٍ ‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ وَأَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Hudhaifah bin Al-Yaman:that Al-'Aqib and As-Sayyid (two of the leaders of the Christians of Najran) came to the Prophet (ﷺ) and said: "Send with us your trustworthy one." He said: "I shall send with you a trustworthy one who is truly a trustworthy one." So the people desired that, and he sent Abu 'Ubaidah, may Allah be pleased with him
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک قوم کا نائب اور سردار دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دونوں نے عرض کیا: ہمارے ساتھ آپ اپنا کوئی امین روانہ فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ ایک ایسا امین بھیجوں گا جو حق امانت بخوبی ادا کرے گا“، تو اس کے لیے لوگوں کی نظریں اٹھ گئیں اور پھر آپ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو روانہ فرمایا۔ راوی حدیث ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں: جب وہ اس حدیث کو صلہ سے روایت کرتے تو کہتے ساٹھ سال ہوئے یہ حدیث میں نے ان سے سنی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابن عمر اور انس رضی الله عنہما کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“۔