حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَالْبَرَاءِ وَأَنَسٍ وَأَبِي أَيُّوبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Ibn Umar narrated that:The Messenger of Allah said: "Accept the invitation when you are offered
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں دعوت دی جائے تو تم دعوت میں آؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوہریرہ، براء، انس اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَهَنَّادٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلاَّمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ أَتَى أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَكُونُ فِي الْفَلاَةِ فَتَكُونُ مِنْهُ الرُّوَيْحَةُ وَيَكُونُ فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلاَ تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ لاَ أَعْرِفُ لِعَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ الْوَاحِدِ وَلاَ أَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ السُّحَيْمِيِّ . وَكَأَنَّهُ رَأَى أَنَّ هَذَا رَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Ali bin Talq narrated that A Bedouin came to the Prophet and said:“O Messenger of Allah! A man among us would be in the desert and a small smell would come from him, (what should he do) while the water is scarce? So the Messenger of Allah said: “When one of you breaks wind then let him perform Wudu, and do not go into your women in their behinds for indeed Allah is not shy of the truth.”
علی بن طلق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! ہم میں ایک شخص صحرا ( بیابان ) میں ہوتا ہے، اور اس کو ہوا خارج ہو جاتی ہے ( اور وضو ٹوٹ جاتا ہے ) اور پانی کی قلت بھی ہوتی ہے ( تو وہ کیا کرے؟ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی جب ہوا خارج ہو جائے تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے، اور عورتوں کی دبر میں صحبت نہ کرو، اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی بن طلق کی حدیث حسن ہے، ۲- اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ سوائے اس ایک حدیث کے علی بن طلق کی کوئی اور حدیث مجھے نہیں معلوم، جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو، اور طلق بن علی سحیمی کی روایت سے میں یہ حدیث نہیں جانتا۔ گویا ان کی رائے یہ ہے کہ یہ صحابہ میں سے کوئی اور آدمی ہیں، ۳- اس باب میں عمر، خزیمہ بن ثابت، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّاسُ وَالرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ مَا شَاءَ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَهِيَ امْرَأَتُهُ إِذَا ارْتَجَعَهَا وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ وَإِنْ طَلَّقَهَا مِائَةَ مَرَّةٍ أَوْ أَكْثَرَ حَتَّى قَالَ رَجُلٌ لاِمْرَأَتِهِ وَاللَّهِ لاَ أُطَلِّقُكِ فَتَبِينِي مِنِّي وَلاَ آوِيكِ أَبَدًا . قَالَتْ وَكَيْفَ ذَاكَ قَالَ أُطَلِّقُكِ فَكُلَّمَا هَمَّتْ عِدَّتُكِ أَنْ تَنْقَضِيَ رَاجَعْتُكِ . فَذَهَبَتِ الْمَرْأَةُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَسَكَتَتْ عَائِشَةُ حَتَّى جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْهُ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ : ( الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ) قَالَتْ عَائِشَةُ فَاسْتَأْنَفَ النَّاسُ الطَّلاَقَ مُسْتَقْبَلاً مَنْ كَانَ طَلَّقَ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ طَلَّقَ . حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ شَبِيبٍ .
Hisham bin Urwah narrated from his father, from Aishah that she said:"The people were such that a man would divorce his wife when he wanted to divorce her, and she remained his wife when he wanted to take her back while she was in her Iddah, and he could divorce a hundred times, or even more, such that a man could say to his wife: 'By Allah! I will neither divorce you irrevocably, nor give you residence ever!' She would say: 'And how is that?' He would say: 'I will divorce you, and whenever your Iddah is just about to end I will take you back. So a woman went to Aishah to inform her about that, and Aishah was silent until the Prophet came. So she told him and the Prophet was silent, until the Qur'an was revealed: Divorce is two times, after that, retain her on reasonable terms or release her with kindness.'" So Aishah said: "So the people could carry on with divorce in the future, (knowing) who was divorced, and who was not divorced
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنی بیوی کو جتنی طلاقیں دینی چاہتا دے دینا رجوع کر لینے کی صورت میں وہ اس کی بیوی بنی رہتی، اگرچہ اس نے سویا اس سے زائد بار اسے طلاق دی ہو، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہ طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو جائے اور نہ تجھے کبھی پناہ ہی دوں گا۔ اس نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس نے کہا: میں تجھے طلاق دوں گا پھر جب عدت پوری ہونے کو ہو گی تو رجعت کر لوں گا۔ اس عورت نے عائشہ رضی الله عنہا کے پاس آ کر انہیں یہ بات بتائی تو عائشہ رضی الله عنہا خاموش رہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو عائشہ رضی الله عنہا نے آپ کو اس کی خبر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش رہے یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا «الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان» ”طلاق ( رجعی ) دو ہیں، پھر یا تو معروف اور بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا بھلائی سے رخصت کر دینا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۹ ) ۔ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: تو لوگوں نے طلاق کو آئندہ نئے سرے سے شمار کرنا شروع کیا، جس نے طلاق دے رکھی تھی اس نے بھی، اور جس نے نہیں دی تھی اس نے بھی۔
Narrated by Ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Ibn Mas'ud: From the Prophet (ﷺ): "He prohibited meeting the owners of the goods." [He said:] There are narrations on this topic from 'Ali, Ibn 'Abbas, Abu Hurairah, Abu Sa'eed, Ibn 'Umar, and a man from the Companions of the Prophet (ﷺ)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں علی، ابن عباس، ابوہریرہ، ابو سعید خدری، ابن عمر، اور ایک اور صحابی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَىَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَإِنْ قَضَيْتُ لأَحَدٍ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Umm Salamah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Indeed you come to me with your disputes, and I am only a human being, perhaps one of you is more eloquent at presenting his argument than the other. If I judge for one of you, giving him something from the rights of his brother, then it is only a piece of the Fire that I am giving him, so do not take anything from it
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنا مقدمہ لے کر میرے پاس آتے ہو میں ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنا دعویٰ بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو ۱؎ تو اگر میں کسی کو اس کے مسلمان بھائی کا کوئی حق دلوا دوں تو گویا میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں، لہٰذا وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، هُوَ الْبَصْرِيُّ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهِدَةً لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَقَدْ أَخْفَرَ بِذِمَّةِ اللَّهِ فَلاَ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "Indeed, whoever kills a Mu'ahid that has a covenant from Allah and a covenant from His Messenger (ﷺ), then he has violated the covenant with Allah and the covenant of His Messenger, so he shall not smell the fragrance of Paradise; even though its fragrance can be sensed from the distance of seventy autumns
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! جس نے کسی ایسے ذمی ۱؎ کو قتل کیا جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ حاصل تھی تو اس نے اللہ کے عہد کو توڑ دیا، لہٰذا وہ جنت کی خوشبو نہیں پا سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت ( دوری ) سے آئے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوہریرہ کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے، ۳- اس باب میں ابوبکرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Jabir bin Samurah
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَالْبَرَاءِ وَجَابِرٍ وَابْنِ أَبِي أَوْفَى وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا اخْتَصَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ وَتَرَافَعُوا إِلَى حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ حَكَمُوا بَيْنَهُمْ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَبِأَحْكَامِ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ يُقَامُ عَلَيْهِمُ الْحَدُّ فِي الزِّنَا . وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ .
Narrated Jabir bin Samurah:That the Prophet (ﷺ) stoned a Jew and a Jewess
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو رجم کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، براء، جابر، ابن ابی اوفی، عبداللہ بن حارث بن جزء اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں: جب اہل کتاب آپس میں جھگڑیں اور مسلم حکمرانوں کے پاس اپنا مقدمہ پیش کریں تو ان پر لازم ہے کہ وہ کتاب و سنت اور مسلمانوں کے احکام کے مطابق فیصلہ کریں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۴- بعض لوگ کہتے ہیں: اہل کتاب پر زنا کی حد نہ قائم کی جائے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّمَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
Narrated Abu Hurairah:"The Prophet (ﷺ) prohibited every predator that possesses canine teeth
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی دانت والے درندے کو حرام قرار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- صحابہ کرام اور دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۱؎۔
Narrated by Al-Bara' bin 'Azib
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمِ نَحْرٍ فَقَالَ " لاَ يَذْبَحَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ " . قَالَ فَقَامَ خَالِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ وَإِنِّي عَجَّلْتُ نُسُكِي لأُطْعِمَ أَهْلِي وَأَهْلَ دَارِي أَوْ جِيرَانِي . قَالَ " فَأَعِدْ ذَبْحًا آخَرَ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ وَهِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ أَفَأَذْبَحُهَا قَالَ " نَعَمْ وَهِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ وَلاَ تُجْزِئُ جَذَعَةٌ لأَحَدٍ بَعْدَكَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَجُنْدَبٍ وَأَنَسٍ وَعُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي زَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لاَ يُضَحَّى بِالْمِصْرِ حَتَّى يُصَلِّيَ الإِمَامُ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لأَهْلِ الْقُرَى فِي الذَّبْحِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ لاَ يُجْزِئَ الْجَذَعُ مِنَ الْمَعْزِ وَقَالُوا إِنَّمَا يُجْزِئُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ .
Narrated Al-Bara' bin 'Azib :"The Messenger of Allah (ﷺ) delivered a sermon to us on the Day of Nahr and he said: 'None of you should slaughter until he performs the Salat." He said: 'So my maternal uncle stood and said: ' O Messenger of Allah, this is the day in which meat is disliked, and I hastened my sacrifice to feed my family and the people of my dwellings - or - 'my neighbors.' He said: 'Repeat your slaughter with another.' He said: 'O Messenger of Allah (ﷺ) I have a she-kid that has better meat than my sheep, should I slaughter it?' He said: 'Yes, and it is better and it will suffice for you, but a Jadha' will not be accepted after you
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا، آپ نے خطبہ کے دوران فرمایا: ”جب تک نماز عید ادا نہ کر لے کوئی ہرگز قربانی نہ کرے“۔ براء کہتے ہیں: میرے ماموں کھڑے ہوئے ۱؎، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں ( زیادہ ہونے کی وجہ سے ) گوشت قابل نفرت ہو جاتا ہے، اس لیے میں نے اپنی قربانی جلد کر دی تاکہ اپنے بال بچوں اور گھر والوں یا پڑوسیوں کو کھلا سکوں؟ آپ نے فرمایا: ”پھر دوسری قربانی کرو“، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس دودھ پیتی پٹھیا ہے اور گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا میں اس کو ذبح کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں! وہ تمہاری دونوں قربانیوں سے بہتر ہے، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ ( بچے ) کی قربانی کافی نہ ہو گی“ ۲؎۔ اس باب میں جابر، جندب، انس، عویمر بن اشقر، ابن عمر اور ابوزید انصاری رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب تک امام نماز عید نہ ادا کر لے شہر میں قربانی نہ کی جائے، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے جب فجر طلوع ہو جائے تو گاؤں والوں کے لیے قربانی کی رخصت دی ہے، ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے، ۴- اہل علم کا اجماع ہے کہ بکری کے جذع ( چھ ماہ کے بچے ) کی قربانی درست نہیں ہے، وہ کہتے ہیں البتہ بھیڑ کے جذع کی قربانی درست ہے ۳؎۔
Narrated by Salim bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَثِيرًا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْلِفُ بِهَذِهِ الْيَمِينِ " لاَ وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Salim bin 'Abdullah:From this father (Ibn Umar) who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) often would swear with this oath: 'No! By the Changer of the Hearts
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھاتے تھے تو اکثر «لا ومقلب القلوب» کہتے تھے ”نہیں، دلوں کے بدلنے والے کی قسم“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُؤَخِّرُوا الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي بَرْزَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ رَأَوْا تَأْخِيرَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "If it were not that it would be a hardship on my Ummah, then I would have ordered you to delay Isha until the third of the night, or its half
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو میں عشاء کو تہائی رات یا آدھی رات تک دیر کر کے پڑھنے کا حکم دیتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ، جابر بن عبداللہ، ابوبرزہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، زید بن خالد اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی کو صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم نے پسند کیا ہے، ان کی رائے ہے کہ عشاء تاخیر سے پڑھی جائے، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Narrated by Abu Ishaq
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ لَنَا رَجُلٌ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا أَبَا عُمَارَةَ قَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ وَلَّى سَرَعَانُ النَّاسِ تَلَقَّتْهُمْ هَوَازِنُ بِالنَّبْلِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَغْلَتِهِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Abu Ishaq: From Al-Bara' bin 'Azib who said: "A man said to us: 'Did you flee from the Messenger of Allah (ﷺ) O Abu 'Umarah ?'" He said: "No, By Allah! I did not flee from the Messenger of Allah (ﷺ), but som hasty people fled and (the tribe of) Hawazin assaulted them with arrows. The Messenger of Allah (Saws) was on his white muls, and Abu Sufyan bin Al-Harith bin 'Abdul Muttalib was holding its reigns. The Messenger of Allah (ﷺ) was saying: 'I am the Prophet without lie, I am the son of 'Abdul-Muttalib.'" [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Ali, and Ibn 'Umar
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم سے ایک آدمی نے کہا: ابوعمارہ! ۱؎ کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے فرار ہو گئے تھے؟ کہا: نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری، بلکہ جلد باز لوگوں نے پیٹھ پھیری تھی، قبیلہ ہوازن نے ان پر تیروں سے حملہ کر دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے ۲؎، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Imran bin Husain
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ اللَّيْثِيُّ، قَالَ أَشْهَدُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ حَدَّثَنَا أَنَّهُ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَمُعَاوِيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عِمْرَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَأَبُو التَّيَّاحِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ .
Narrated 'Imran bin Husain: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited us from (wearing) rings of gold." [He said:] THere are narrations on this topic from 'Ali, Ibn 'Umar, Abu Hurairah, and Mu'awiyah. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of 'Imran is a Hasan Hadith. Abu At-Tayyah's (a narrator) name is Yazid bin Humaid
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمران کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابن عمر، ابوہریرہ اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ أَبُو رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ وَسَطَ الطَّعَامِ فَكُلُوا مِنْ حَافَتَيْهِ وَلاَ تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ إِنَّمَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ . وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
Narrated Ibn 'Abbas: That the Prophet (ﷺ) said: "Indeed the blessing descends to the middle of the food, so eat from its edges, and do not eat from its middle." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It is only known through the narration of 'Ata' bin As-Sa'ib. Shu'bah and Ath-Thawri reported from 'Ata' bin As-Sa'ib. There is something about this topic from Ibn 'Umar
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برکت کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اس لیے تم لوگ اس کے کناروں سے کھاؤ، بیچ سے مت کھاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور صرف عطاء بن سائب کی روایت سے معروف ہے، اسے شعبہ اور ثوری نے بھی عطاء بن سائب سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Qatadah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا . فَقِيلَ الأَكْلُ قَالَ ذَاكَ أَشَدُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Qatadah: From Anas: "The Prophet (ﷺ) prohibited that a man should drink while standing." (Qatadah said:) So it was said: "And eating ?" He (Anas) said: "That is worse." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا، پوچھا گیا: کھڑے ہو کر کھانا کیسا ہے؟ کہا: ”یہ اور برا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ الْبَصْرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَسْتَطِيبُوا، بِالْمَاءِ فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُهُ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ الاِسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ وَإِنْ كَانَ الاِسْتِنْجَاءُ بِالْحِجَارَةِ يُجْزِئُ عِنْدَهُمْ فَإِنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الاِسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ وَرَأَوْهُ أَفْضَلَ . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
Aishah said:"Encourage your Husbands to clean themselves with water, for I am too shy of them, and Allah's Messenger would do that
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کیا کریں، میں ان سے ( یہ بات کہتے ) شرما رہی ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جریر بن عبداللہ بجلی، انس، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے ۱؎، وہ پانی سے استنجاء کرنے کو پسند کرتے ہیں اگرچہ پتھر سے استنجاء ان کے نزدیک کافی ہے پھر بھی پانی سے استنجاء کو انہوں نے مستحب اور افضل قرار دیا ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنَ الْبَنَاتِ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Aishah narrated that the:Messenger of Allah said:"Whoever is tried with something from daughters, and he is patient with them, they will be a barrier from the Fire for him
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لڑکیوں کی پرورش سے دوچار ہو، پھر ان کی پرورش سے آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے تو یہ سب لڑکیاں اس کے لیے جہنم سے آڑ بنیں گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قال حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، قال حَدَّثَنَا فَائِدٌ، مَوْلًى لآلِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ جَدَّتِهِ، سَلْمَى وَكَانَتْ تَخْدُمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ مَا كَانَ يَكُونُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُرْحَةٌ وَلاَ نَكْبَةٌ إِلاَّ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَضَعَ عَلَيْهَا الْحِنَّاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ فَائِدٍ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ فَائِدٍ فَقَالَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ أَصَحُّ وَيُقَالُ سُلْمَى . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قال حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ فَائِدٍ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ مَوْلاَهُ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَدَّتِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ .
Ali bin 'Ubaidullah narrated that his grandmother [Salma] - who used to serve the The Prophet (S.A.W) said:"There was no wound nor cut on the Messenger of Allah (S.A.W) but he would order me to put Hinna on it." Another chain reports a similar narration
سلمی رضی الله عنہا سے (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتی تھیں) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلوار اور چاقو یا پتھر اور کانٹے سے جو زخم بھی لگتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس پر مہندی رکھنے کا ضرور حکم دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے فائد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کی فائد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «عن علي بن عبيد الله، عن جدته سلمى» کی بجائے «عن عبيد الله ابن علي عن جدته سلمى» بیان کیا ہے، «عبيد الله بن علي» ہی زیادہ صحیح ہے، «سلمیٰ» کو «سُلمیٰ» بھی کہا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى .
Jabir narrated that the Prophet(S.A.W) said:"The people of two religions do not inherit from each other
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مختلف مذہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم اس حدیث کو صرف ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ جابر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ سَخَطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ . وَيُقَالُ لَهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمَدَنِيُّ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ .
Sa'd narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:'From (the signs of) the son of Adam's prosperity, is his satisfaction with what Allah decreed for him, and from the son of Adam's misery is his avoiding to request guidance from Allah, and from the son of Adam's misery is his anger with what Allah decreed for him
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا ابن آدم کی سعادت ( نیک بختی ) ہے، اللہ سے خیر طلب نہ کرنا ابن آدم کی شقاوت ( بدبختی ) ہے اور اللہ کے فیصلے پر ناراض ہونا ابن آدم کی شقاوت ( بدبختی ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف محمد بن ابی حمید کی روایت سے جانتے ہیں، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے، ان کی کنیت ابوابراہیم ہے، اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَصْفَرَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي أَنْ لاَ يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وَأَنَّ لاَ يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لاَ يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لأُمَّتِكَ أَنْ لاَ أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وَأَنْ لاَ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا أَوْ قَالَ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Thawban narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Indeed Allah gathered the earth for me so that I saw its east and its west. And surely my Ummah's authority shall reach over all that was shown to me of it. And I have been granted the two treasures; the red and the white. I asked my Lord that my Ummah is not to be destroyed by a universal drought, and that He does not overcome them by enemies outside of them, reaching to their heart of power. My Lord said: 'O Muhammad! When I issue a decree it is not reversed. I have granted for your Ummah that they shall not be destroyed by universal drought. And that they not be overcome by enemies outside of themselves reaching to their heart of power- even if they gather against them from all the regions."' Or he said: "Among the regions. But some of them will destroy others, and some will capture others
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے مشرق ( پورب ) و مغرب ( پچھم ) کو دیکھا یقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک میرے لیے زمین سمیٹی گئی، اور مجھے سرخ و سفید دو خزانے دے گئے، میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے دعا کی کہ ان کو کسی عام قحط سے ہلاک نہ کرے اور نہ ان پر غیروں میں سے کوئی ایسا دشمن مسلط کر جو انہیں جڑ سے مٹا دے، میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے بدلتا نہیں، تیری امت کے حق میں تیری یہ دعا میں نے قبول کی کہ میں اسے عام قحط سے ہلاک و برباد نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط کروں گا جو ان میں سے نہ ہو اور جو انہیں جڑ سے مٹا دے، گو ان کے خلاف تمام روئے زمین کے لوگ جمع ہو جائیں، البتہ ایسا ہو گا کہ انہیں میں سے بعض لوگ بعض کو ہلاک کریں گے، اور بعض کو قیدی بنائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ وَرَقَةَ فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ إِنَّهُ كَانَ صَدَّقَكَ وَلَكِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُرِيتُهُ فِي الْمَنَامِ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بَيَاضٌ وَلَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَكَانَ عَلَيْهِ لِبَاسٌ غَيْرُ ذَلِكَ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَعُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِالْقَوِيِّ .
Aishah said:"The Messenger of Allah (s.a.w) was asked about Waraqah. Khadijah said to him: 'He believed in you, but he died before your advent.' So the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'I saw him in a dream, and upon him were white garments. If he were among the inhabitants of the Fire then he would have been wearing other than that
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ ( ورقہ بن نوفل ) کے بارے میں پوچھا گیا تو خدیجہ نے کہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی مگر وہ آپ کی نبوت کے ظہور سے پہلے وفات پا گئے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے خواب میں انہیں دکھایا گیا ہے، اس وقت ان کے جسم پر سفید کپڑے تھے، اگر وہ جہنمی ہوتے تو ان کے جسم پر کوئی دوسرا لباس ہوتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- محدثین کے نزدیک عثمان بن عبدالرحمٰن قوی نہیں ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ قُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ضَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَلاَ إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلاَّ ذِكْرَ اللَّهِ وَمَا وَالاَهُ وَعَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Lo! Indeed the world is cursed. What is in it is cursed, except for remembrance of Allah, what is conducive to that, the knowledgeable person and the learning person
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک دنیا ملعون ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ کی یاد اور اس چیز کے جس کو اللہ پسند کرتا ہے، یا عالم ( علم والے ) اور متعلم ( علم سیکھنے والے ) کے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ الأَنْصَارِيُّ أَبُو الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ " أَنَا فَاعِلٌ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ قَالَ " اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ " فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ " . قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ قَالَ " فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّي لاَ أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلاَثَ الْمَوَاطِنَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
An-Nadr bin Anas bin Malik narrated from his father who said:"I asked the Prophet (s.a.w) to intercede for me on the Day of Judgement. He said: 'I am the one to do so.'" [He said:] "I said: 'O Messenger of Allah! Then where shall I seek you?' He said: 'Seek me, the first time you should seek me is on the Sirat.'" [He said:] "I said: 'If I do not meet you upon the Sirat?' He said: 'Then seek me at the Mizan.' I said:'And if I do not meet you at the Mizan?' He said: 'Then seek me at the Hawd, for indeed I will not me missed at these three locations
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ قیامت کے دن میرے لیے شفاعت فرمائیں، آپ نے فرمایا: ”ضرور کروں گا“۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کو کہاں تلاش کروں گا؟ آپ نے فرمایا: ”سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈنا“، میں نے عرض کیا: اگر پل صراط پر آپ سے ملاقات نہ ہو سکے، تو فرمایا: ”تو اس کے بعد میزان کے پاس ڈھونڈنا“، میں نے کہا: اگر میزان کے پاس بھی ملاقات نہ ہو سکے تو؟ فرمایا: ”اس کے بعد حوض کوثر پر ڈھونڈنا، اس لیے کہ میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ پر ضرور ملوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَذُكِرَ لَهُ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى قَالَ " يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّ الْفَنَنِ مِنْهَا مِائَةَ سَنَةٍ أَوْ يَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا مِائَةُ رَاكِبٍ شَكَّ يَحْيَى فِيهَا فَرَاشُ الذَّهَبِ كَأَنَّ ثَمَرَهَا الْقِلاَلُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Asma' bint Abi Bakr narrated:"I heard the Messenger of Allah (s.a.w) while mentioning the Lote-Tree of the Utmost Boundary, saying: 'A rider will travel in the shade of one of its branches for a hundred years,' or 'a hundred riders will seek to shade themselves with its shade'-(lne of the narrators) Yahya' was in doubt- 'in it are butterflies of gold, it is as if its fruits are Qilal
اسماء بنت ابوبکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، اس وقت آپ کے سامنے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر آیا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”اس کی شاخوں کے سائے میں سوار سو سال تک چلے گا، یا اس کے سائے میں سو سوار رہیں گے، ( یہ شک حدیث کے راوی یحییٰ کی طرف سے ہے۔ ) اس پر سونے کے بسترے ہیں اور اس کے پھل مٹکے جیسے ( بڑے ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، هُوَ ابْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُوقِدَ عَلَى النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ " . حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، أَوْ رَجُلٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا مَوْقُوفٌ أَصَحُّ وَلاَ أَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ عَنْ شَرِيكٍ .
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"The Fire was kindled for one thousand years until it reddened, then it was kindled for one thousand years until it whitened, then it was kindled for one thousand years until it became blackened, so it is dark black
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کی آگ ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہو گئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سفید ہو گئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہو گئی، اب وہ سیاہ ہے اور تاریک ہے“۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are three things for which whomever has them, then he has tasted the sweetness of faith: The one for whom Allah and His Messenger are more beloved than anything else; whoever loves someone and he does not love him except for the sake of Allah, and whoever hates to return to disbelief after Allah has saved him from it, just as he hates to be thrown into fire
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں تین خصلتیں ہوں گی اسے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت مل کر رہے گی۔ ( ۱ ) جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ ( ۲ ) وہ جس کسی سے بھی محبت کرے تو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرے، ( ۳ ) کفر سے اللہ کی طرف سے ملنے والی نجات کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اس طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں گرنا ناپسند کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قتادہ نے بھی یہ حدیث انس کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
Narrated by Ubaidullah bin Abu Rafi
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَسَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، وَغَيْرُهُ، رَفَعَهُ قَالَ " لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ أَمْرٌ مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً وَسَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَكَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ إِذَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى الاِنْفِرَادِ بَيَّنَ حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ مِنْ حَدِيثِ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ وَإِذَا جَمَعَهُمَا رَوَى هَكَذَا . وَأَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اسْمُهُ أَسْلَمُ .
Narrated 'Ubaidullah bin Abu Rafi:from Abu Rafi' and others, from the Prophet (ﷺ) who said: "Let me not find one of you reclining on his couch when a command I ordered, or a prohibition from me comes to him, and he says: 'I do not know. What we find in the Book of Allah, we follow it
ابورافع رضی الله عنہ وغیرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے ہو اور اس کے پاس میرے امر یا نہی کی قسم کا کوئی حکم پہنچے تو وہ یہ کہے کہ میں کچھ نہیں جانتا، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو چیز پائی اس کی پیروی کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض راویوں نے سفیان سے، سفیان نے ابن منکدر سے اور ابن منکدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور بعض نے یہ حدیث سالم ابوالنضر سے، سالم نے عبیداللہ بن ابورافع سے، عبیداللہ نے اپنے والد ابورافع سے اور ابورافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ۳- ابن عیینہ جب اس حدیث کو علیحدہ بیان کرتے تھے تو محمد بن منکدر کی حدیث کو سالم بن نضر کی حدیث سے جدا جدا بیان کرتے تھے اور جب دونوں حدیثوں کو جمع کر دیتے تو اسی طرح روایت کرتے ( جیسا کہ اس حدیث میں ہے ) ۔ ۴- ابورافع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ان کا نام اسلم ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When one of you arrives at the gathering, then give the Salam, and if he is given a place to sit, then let him sit. Then when he stands, let him give the Salam, the first is more worthy than the last
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، پھر اگر اس کا دل بیٹھنے کو چاہے تو بیٹھ جائے۔ پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو سلام کرے۔ پہلا ( سلام ) دوسرے ( سلام ) سے زیادہ ضروری نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے، ابن عجلان نے بسند «سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُقِمْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Let one of you not have his brother stand from his seat then sit in it
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ نہ بیٹھ جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Zur'ah bin Muslim bin Jardah Al-Aslami
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ جَدِّهِ، جَرْهَدٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِجَرْهَدٍ فِي الْمَسْجِدِ وَقَدِ انْكَشَفَ فَخِذُهُ فَقَالَ " إِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ مَا أَرَى إِسْنَادَهُ بِمُتَّصِلٍ .
Narrated Zur'ah bin Muslim bin Jardah Al-Aslami:about his grandfather Jarhad, he said: "The Prophet (ﷺ) passed by Jarhad in the Masjid and his thigh was exposed, so he said: 'Indeed the thigh is 'Awrah
جرہد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جرہد کے پاس ( یعنی میرے پاس سے ) سے گزرے ( اس وقت ) ان کی ران کھلی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا: ”ران بھی ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
(حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَلْمِ بْنِ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَرَأَ إِذَا زُلْزِلَتِ عُدِلَتْ لَهُ بِنِصْفِ الْقُرْآنِ وَمَنْ قَرَأَْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) عُدِلَتْ لَهُ بِرُبْعِ الْقُرْآنِ وَمَنْ قَرَأَْ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) عُدِلَتْ لَهُ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Idha Zulzilat, it equals half of the Qur'an for him. Whoever recites: Qul Ya Ayyuhal-Kafirun it equals a fourth of the Qur'an for him. And whoever recites: Qul Huwa Allahu Ahad it equals a third of the Qur'an for him
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورۃ «إذا زلزلت الأرض» سورۃ پڑھی تو اسے آدھا قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے سورۃ «قل يا أيها الكافرون» پڑھی تو اسے چوتھائی قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے سورۃ «قل هو الله أحد» پڑھی تو اسے ایک تہائی قرآن پڑھنے کا ثواب ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے کسی اور سے نہیں صرف انہیں حسن بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا قَعَدَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلاَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلاَئِكَةُ وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ .
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever alleviates a burden among the burdens of the world for his brother, Allah alleviates a burden among the burdens of the Day of Judgement for him. And whoever covers (the faults) of a Muslim, Allah covers him in the world and in the Hereafter. And whoever makes things easy for one in dire straits, Allah makes things easy for him in the world and the Hereafter. Allah is helping as long as the (His) Slave is helping his brother. And whoever takes a path to gain knowledge, Allah makes a path to Paradise easy for him. And no people sit in a Masjid reciting Allah's Book, studying it among themselves, except that tranquility descends upon them and they are enveloped in the mercy, and surrounded by the angels. And whoever is slow in his deeds, his lineage shall not speed him up
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی کی کوئی دنیاوی مصیبت دور کی تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کوئی نہ کوئی مصیبت دور فرمائے گا۔ اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی۔ تو اللہ اس کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی کرے گا، اور جس نے کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ اللہ اپنے بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جو ایسی راہ چلتا ہے جس میں اسے علم کی تلاش ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ ہموار کر دیتا ہے اور جب قوم ( لوگ ) مسجد میں بیٹھ کر کلام اللہ ( قرآن ) کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے پڑھتے پڑھاتے ( سمجھتے سمجھاتے ) ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت الٰہی ڈھانپ لیتی ہے۔ ملائکہ انہیں اپنے گھیرے میں لیے رہتے ہیں، جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ایسے ہی کئی رواۃ نے اسی حدیث کی طرح اعمش سے اعمش نے ابوصالح کے واسطہ سے، اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۲- اسباط بن محمد نے بھی اعمش سے روایت کی ہے، ( اس روایت میں ہے کہ ) اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا ہے ۲؎ ابوصالح کے واسطہ سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں پھر اس حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا۔
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا فَقَرَأَ : (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ) فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ ثُمَّ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ قَالَ " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " . وَقَرَأَ : (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Jabir bin 'Abdullah:"When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived in Makkah, performing Tawaf around the House seven times, I heard him reciting: And take the Maqam of Ibrahim as a place of prayer (2:125). So he performed Salat behind the Maqam, then he came to the (Black) Stone, then he said: 'We begin with what Allah began with.' So he began at As-Safa and recited: Indeed As-Safa and Al-Marwah are among the Symbols of Allah (2:)
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے اور آپ بیت اللہ کا سات طواف کیا تو میں نے آپ کو یہ آیت پڑھتے سنا: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو“۔ آپ نے مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر حجر اسود کے پاس آ کر اسے چوما، پھر فرمایا: ”ہم ( سعی ) وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ نے ( اس کا ذکر ) شروع کیا ہے۔ اور آپ نے پڑھا «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، - وَهُوَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رضى الله عنه يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَيَضُرُّهُ شَيْءٌ " . وَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفُ فَالَجِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَبَانُ مَا تَنْظُرُ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا حَدَّثْتُكَ وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللَّهُ عَلَىَّ قَدَرَهُ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
Aban bin `Uthman said:“I heard `Uthman bin `Affan (ra) saying: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no worshiper who says, in the morning of every day, and the evening of every night: ‘In the Name of Allah, who with His Name, nothing in the earth or the heavens can cause harm, and He is the Hearing, the Knowing (Bismillāh, alladhi lā yaḍurru ma`a ismihi shai'un fil-arḍi wa lā fis-samā', wa huwas-Samī`ul `Alīm)’ – three times, (except that) nothing shall harm him.” And Aban had been stricken with a type of semi-paralysis, so a man began to look at him, so Aban said to him, “What are you looking at? Indeed the Hadith is as I reported it to you, but I did not say it one day, so Allah brought about His decree upon me.”
ابان بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو ہر روز صبح و شام کو «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» “ ”میں اس اللہ کے نام کے ذریعہ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سننے والا جاننے والا ہے“، تین بار پڑھے اور اسے کوئی چیز نقصان پہنچا دے۔ ابان کو ایک جانب فالج کا اثر تھا، ( حدیث سن کر ) حدیث سننے والا شخص ان کی طرف دیکھنے لگا، ابان نے ان سے کہا: میاں کیا دیکھ رہے ہو؟ حدیث بالکل ویسی ہی ہے جیسی میں نے تم سے بیان کی ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ جس دن مجھ پر فالج کا اثر ہوا اس دن میں نے یہ دعا نہیں پڑھی تھی، اور نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے مجھ پر اپنی تقدیر کا فیصلہ جاری کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَحَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلاَ بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَلاَ بِالأَبْيَضِ الأَمْهَقِ وَلاَ بِالآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلاَ بِالسَّبِطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Anas bin Malik:"The Messenger of Allah (ﷺ) was not very tall nor was he [very] short, nor was he pale white, nor was he brown, nor was the wave of his hair completely curly nor straight. Allah sent him at the beginning of his forties and he stayed in Makkah for ten years, and in Al-Madinah for ten years. And Allah took him at the beginning of his sixties, and there were not more than twenty white hairs on his head or in his beard
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت لمبے قد والے تھے نہ بہت ناٹے اور نہ نہایت سفید، نہ بالکل گندم گوں، آپ کے سر کے بال نہ گھنگرالے تھے نہ بالکل سیدھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیسویں سال کے شروع میں مبعوث فرمایا، پھر مکہ میں آپ دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس اور ساٹھویں برس ۱؎ کے شروع میں اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں رہے ہوں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مُوسَى الْمَرَئِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْوِتْرِ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَعَائِشَةَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Umm Salamah narrated:"The Prophet would pray two Rak'ah after Al-Witr
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوامامہ، عائشہ رضی الله عنہما اور دیگر کئی لوگوں سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَالَ مِثْلَ مَا تَفْعَلُونَ الْيَوْمَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ الَّذِي رَآهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يَفْصِلَ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ بِجُلُوسٍ .
Ibn Umar narrated:"The Prophet would give a Khutbah on Friday, then sit, then stand and give (another) Khutbah." He said: "Similar to what they do today
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دیتے پھر ( بیچ میں ) بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، راوی کہتے ہیں: جیسے آج کل تم لوگ کرتے ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، جابر بن عبداللہ اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی اہل علم کی رائے ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فصل کرے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِبَادٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي كُسُوفٍ لاَ نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .
Samurah bin Jundah narrated:"The Prophet led us in prayer during an eclipse; we did not hear his voice
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گرہن کی نماز پڑھائی تو ہم آپ کی آواز نہیں سن پا رہے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ، عَنِ ابْنِ أَخِي، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
Amr bin Al-Harith bin Al-Mustaliq narrated from the nephew of Zainab, the wife of Abdullah (Ibn Mas'ud) who said:"The Messenger of Allah delivered a sermon to us, and said: 'O you women! Give charity, even if it is from your jewelry, for indeed you will make up most of the people of Hell on the Day of Judgment
عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: ”اے گروہ عورتوں کی جماعت! زکاۃ دو ۱؎ گو اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ دو۔ کیونکہ قیامت کے دن جہنم والوں میں تم ہی سب سے زیادہ ہو گی“۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبُّ عِبَادِي إِلَىَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا " .
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: "Allah, Mighty and Sublime is He, said: 'Those of My worshippers who are most beloved to me are the quickest to break their fast
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: مجھے میرے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جو افطار میں جلدی کرنے والے ہیں“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ فَانْطَلَقَ يُهِلُّ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ . قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَكَانَ يَزِيدُ مِنْ عِنْدِهِ فِي أَثَرِ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Nafi` narrated:When Ibn Umar would say the talbiyah he would continue saying: "Labbaik Allahumma labbaik. Labbaik la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni`mata laka wal-mulk, la sharika laka" (I respond to Your call O Allah! I respond to Your call, You have no partner, I respond to You call. All praise, thanks and blessings are for You. And You have no partners with You). He said: "Abdullah bin Umar would say: 'This is the Talbiyah of the Messenger of Allah.' He would himself add the following after the Talbiyah of the Messenger of Allah: "Labbaik labbaika wa-sa'daik, wal-khairuu fi yadaik. Labbaika war-raghba'u ilaika wal-amal" ('I respond to Your call, and I am obedient to Your orders, all good is in Your Hands. I respond to Your call and the requests and deeds are for You)
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے اخیر میں اپنی طرف سے ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خوش ہوں تیری تابعداری پر اور ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْكُوفِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، هُوَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَقَالَ " كَيْفَ تَجِدُكَ " . قَالَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرْجُو اللَّهَ وَإِنِّي أَخَافُ ذُنُوبِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ إِلاَّ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُو وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً .
Thabit narrated from Anas, that:The Prophet entered upon a young man while he was dying. So he said: "How do you feel?" He said: "By Allah! O Messenger of Allah! Indeed I hope in Allah and I fear from my sins." So the Messenger of Allah said: "These two will not be gathered in a worshipper's heart at a time such as this, except that Allah will grant him what he hopes and make him safe from what he fears
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس آئے اور وہ سکرات کے عالم میں تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تم اپنے کو کیسا پا رہے ہو؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم، اللہ کے رسول! مجھے اللہ سے امید ہے اور اپنے گناہوں سے ڈر بھی رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں چیزیں اس جیسے وقت میں جس بندے کے دل میں جمع ہو جاتی ہیں تو اللہ اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے جس کی وہ اس سے امید رکھتا ہے اور اسے اس چیز سے محفوظ رکھتا ہے جس سے وہ ڈر رہا ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن اور غریب ہے، ۲- اور بعض لوگوں نے یہ حدیث ثابت سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے۔