بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
4 hadith
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلاَ اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي ذَرٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏
Narrated Jabir bin 'Abdullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When the Quraish belied me, I stood in the Hijr, and Allah displayed Bait Al-Maqdis to me, so I informed them of its features as I was looking at it
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قریش نے مجھے ( معراج کے سفر کے بارے میں ) جھٹلا دیا کہ میں حجر ( حطیم ) میں کھڑا ہوا اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے ظاہر کر دیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر انہیں اس کی نشانیاں ( پہچان ) بتانے لگا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مالک بن صعصعہ ابوسعید، ابن عباس، ابوذر اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ يَقُولُ لأَخٍ لِي صَغِيرٍ ‏ "‏ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَنُضِحَ بِسَاطٌ لَنَا فَصَلَّى عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ لَمْ يَرَوْا بِالصَّلاَةِ عَلَى الْبِسَاطِ وَالطُّنْفُسَةِ بَأْسًا ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَاسْمُ أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ ‏.‏
Anas bin Malik narrated:"Allah's Messenger used to mingle with us such that he said to my younger brother: 'O Abu Umair! What did the Nughair do?'" He (Anas) said: "A Bisat of ours would be sprinkled (with water) to perform Salat on
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے گھل مل جایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے کہتے: ابوعمیر! «ما فعل النغير» ”بلبل کا کیا ہوا؟“ ہماری چٹائی ۱؎ پر چھڑکاؤ کیا گیا پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ وہ چادر اور قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ، وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنِي كِنَانَةُ، مَوْلَى صَفِيَّةَ قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ، تَقُولُ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ يَدَىَّ أَرْبَعَةُ آلاَفِ نَوَاةٍ أُسَبِّحُ بِهَا فَقُلْتُ لَقَدْ سَبَّحْتُ بِهَذِهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ أُعَلِّمُكِ بِأَكْثَرَ مِمَّا سَبَّحْتِ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ بَلَى عَلِّمْنِي ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ قُولِي سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ صَفِيَّةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ هَاشِمِ بْنِ سَعِيدٍ الْكُوفِيِّ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمَعْرُوفٍ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
Saffiyah narrated:“The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me and before me were four thousand date pits, I was making Tasbih with them. He said: ‘You have made Tasbih with these? Should I not teach you that which is more than what you have made Tasbih with?’ So I said: ‘Indeed, teach me.’ So he said: ‘Say: glory is to Allah according to the number of His creation (Subḥān Allāhi `adada khalqihi).’”
کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں کہ میں نے صفیہ رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس وقت میرے سامنے کھجور کی چار ہزار گٹھلیوں کی ڈھیر تھی، میں ان گٹھلیوں کے ذریعہ تسبیح پڑھا کرتی تھی، میں نے کہا: میں نے ان کے ذریعہ تسبیح پڑھی ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ میں تمہیں اس سے زیادہ تسبیح کا طریقہ بتا دوں جتنی تو نے پڑھی ہیں؟“ میں نے کہا: ( ضرور ) مجھے بتائیے، تو آپ نے فرمایا: «سبحان الله عدد خلقه» ”میں تیری مخلوقات کی تعداد کے برابر تیری تسبیح بیان کرتی ہوں“، پڑھ لیا کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صفیہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ہاشم بن سعید کوفی کی روایت سے اور اس کی سند معروف نہیں ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ، هُوَ الأَنْمَاطِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي ‏"‏ ‏.‏وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَزَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ قَدْ رَوَى عَنْهُ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏
Narrated Jabir bin 'Abdullah:"I saw the Messenger of Allah during his Hajj, on the Day of 'Arafah. He was upon his camel Al-Qaswa, giving a Khutbah, so he said: 'O people! Indeed, I have left among you, that which if you hold fast to it, you shall not go astray: The Book of Allah and my family, the people of my house
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری «عترت» یعنی اہل بیت ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- زید بن حسن سے سعید بن سلیمان اور متعدد اہل علم نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوذر، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور حذیفہ بن اسید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔