بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
4 hadith
Narrated by Masruq
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ تَلَتْ عَائِشَةُ هَذِهِ الآيَةَ ‏:‏ ‏(‏ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ ‏)‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ قَالَ ‏"‏ عَلَى الصِّرَاطِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏
Narrated Masruq:"'Aishah recited this Ayah: The Day when the earth will be changed to another earth (14:48). She said: 'O Messenger of Allah! Where will the people be?' He said: 'Upon the Sirat
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» ”جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے“ ( ابراہیم: ۴۸ ) ، پڑھ کر سوال کیا: اللہ کے رسول! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ” «على الصراط» پل صراط پر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نَنَامُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ وَنَحْنُ شَبَابٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ يَتَّخِذُهُ مَبِيتًا وَلاَ مَقِيلاً ‏.‏ وَقَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ذَهَبُوا إِلَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
Ibn Umar narrated:"We would sleep in the Masjid during the time of Allah's Messenger and we were young men
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں سوتے تھے اور ہم نوجوان تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم میں کی ایک جماعت نے مسجد میں سونے کی اجازت دی ہے، ابن عباس کہتے ہیں: کوئی اسے سونے اور قیلولے کی جگہ نہ بنائے ۱؎ اور بعض اہل علم ابن عباس کے قول کی طرف گئے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If the believer knew what is with Allah of punishment, none would hope for Paradise, and if the disbeliever knew what is with Allah of mercy, none would despair of (attaining) Paradise.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مومن کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے یہاں کیسی کیسی سزائیں ہیں تو جنت کی کوئی امید نہ رکھے، اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کتنی وسیع و عظیم ہے تو جنت میں پہنچنے سے کوئی بھی ناامید و مایوس نہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم اسے صرف ابو العلاء کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ اپنے والد اور ان کے والد ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
Narrated by Buraidah
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، ‏:‏ بُرَيْدَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ إنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ ‏)‏ نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ‏.‏
Narrated Buraidah:"The Messenger of Allah (ﷺ) was delivering a Khutbah to us when Al-Hasan and Al-Husain [peace be upon them] came, wearing red shirts, walking and falling down. So the Messenger of Allah (ﷺ) descended from the Minbar and carried them, and placed them in front of him. Then he said: 'Allah spoke the Truth: Indeed, your wealth and your children are a trial (64:15). I looked at these two children walking and falling down, and I could not bear patiently anymore until I interrupted my talk and picked them up
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔