Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِ اللَّهِ : ( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ ) قَالَ " فِي الْقَبْرِ إِذَا قِيلَ لَهُ مَنْ رَبُّكَ وَمَا دِينُكَ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Al-Bara:that regarding Allah's saying: Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world and in the Hereafter (14:27). The Prophet (ﷺ) said: "In the grave, when it is said to him: 'Who is your Lord? What is your religion? And who is your Prophet?
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، قول ثابت ( محکم بات ) کے ذریعہ دنیا و آخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے“ ( ابراہیم: ۲۷ ) ، کی تفسیر میں فرمایا: ”ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا: «من ربك؟» تمہارا رب، معبود کون ہے؟ «وما دينك؟» تمہارا دین کیا ہے؟ «ومن نبيك؟» تمہارا نبی کون ہے؟“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمَتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَأَبُو صَالِحٍ هَذَا هُوَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ وَاسْمُهُ بَاذَانُ وَيُقَالُ بَاذَامُ أَيْضًا .
Ibn Abbbas narrated:"Allah's Messenger cursed the women who visit the graves, and those who use them as Masajid and put torches on them
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں پر مساجد بنانے والے اور چراغ جلانے والے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَوَضَعَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا وَعِنْدَ اللَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلْمَانَ وَجُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah created a hundred mercies, and He placed one mercy among his creation, they show mercy to one another by it, and there are ninety-nine mercies with Allah.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں اور ایک رحمت اپنی مخلوق کے درمیان دنیا میں رکھی، جس کی بدولت وہ دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و شفقت سے پیش آتے ہیں، جب کہ اللہ کے پاس ننانوے ( ۹۹ ) رحمتیں ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سلمان اور جندب بن عبداللہ بن سفیان بجلی رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abu Bakrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ، هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمِنْبَرَ فَقَالَ " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ .
Narrated Abu Bakrah:that the Messenger of Allah (ﷺ) ascended the Minbar and said: "Indeed, this son of mine is a chief, Allah shall bring peace between two [tremendous] parties through his hands
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھ کر فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور «ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں رضی الله عنہما۔