بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
4 hadith
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقِنَاعٍ عَلَيْهِ رُطَبٌ فَقَالَ ‏"‏ مَثَلُ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا قَالَ هِيَ النَّخْلَةُ ‏:‏ ‏(‏ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ ‏)‏ قَالَ هِيَ الْحَنْظَلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ أَبَا الْعَالِيَةِ فَقَالَ صَدَقَ وَأَحْسَنَ ‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي الْعَالِيَةِ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ هَذَا مَوْقُوفًا وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، نَحْوَ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:"The Messenger of Allah (ﷺ) was brought a dish with unripe dates on it. He said: The parable of a goodly word is that of a goodly tree, whose root is firmly fixed, and its branches (reach) to the sky (14:24 & 25).' And he said: 'It is the date-palm.' And the parable of an evil tree uprooted from the surface of the earth, having no stability (14:26). He said: 'It is the colocynth tree
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹوکری لائی گئی جس میں تروتازہ پکی ہوئی کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: «كلمة طيبة كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين بإذن ربها» ۱؎ آپ نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے، اور آیت «ومثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة اجتثت من فوق الأرض ما لها من قرار» ۲؎ میں برے درخت سے مراد اندرائن ہے۔ شعیب بن حبحاب ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کا ذکر ابوالعالیہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ اور صحیح کہا۔
وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا صَغِيرًا كَانَ أَوْ كَبِيرًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى قَيْسٍ عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا ‏.‏
It has been related that :the Prophet said: "Whoever builds a Masjid for (the sake of) Allah, be it small or large, then Allah will build a house for him in Paradise
انس رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے لیے کوئی مسجد بنائی، چھوٹی ہو یا بڑی، اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ فَائِدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَلاَ أُبَالِي يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ وَلاَ أُبَالِي يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لاَ تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah, Blessed is He and Most High, said: ‘O son of Adam! Verily as long as you called upon Me and hoped in Me, I forgave you, despite whatever may have occurred from you, and I did not mind. O son of Adam! Were your sins to reach the clouds of the sky, then you sought forgiveness from Me, I would forgive you, and I would not mind. So son of Adam! If you came to me with sins nearly as great as the earth, and then you met Me not associating anything with Me, I would come to you with forgiveness nearly as great as it.’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے ( مغفرت طلب کرنے کے لیے ) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا ( اور تجھے بخش دوں گا ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ ‏"‏ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ ‏"‏ ادْعِي لِي ابْنَىَّ ‏"‏ ‏.‏ فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ
Narrated Anas bin Malik:That the Messenger of Allah (ﷺ) was asked: "Which of the people of your house are most beloved to you?" He said: "Al-Hasan and Al-Husain." And he used to say to Fatimah: "Call my two sons for me so that I may smell them." And he would hug them
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”حسن اور حسین“ ( رضی الله عنہما ) ، آپ فاطمہ رضی الله عنہا سے فرماتے: ”میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: انس کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔