Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْكَرِيمَ بْنَ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ ثُمَّ جَاءَنِي الرَّسُولُ أَجَبْتُ . ثُمَّ قَرَأََ : ( فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ) قَالَ : وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى لُوطٍ إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ إِذْ قَالَ : ( لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ) فَمَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ نَبِيًّا إِلاَّ فِي ذِرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ " . حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، نَحْوَ حَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " مَا بَعَثَ اللَّهُ بَعْدَهُ نَبِيًّا إِلاَّ فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ " . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الثَّرْوَةُ الْكَثْرَةُ وَالْمَنَعَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable: Yusuf bin Ya'qub bin Ishaq bin Ibrahim." He said: "And if I were to have remained in the prison as long as Yusuf, then the messenger came, I would have accepted." Then he recited: When the messenger came to him, he said: "Return to your king and ask him: 'What happened to the women who cut their hands? (12:50)' He said: "May Allah have mercy upon Lut, certainly he used to lean toward powerful support, since he said: "Would that I had strength to overpower you, or that I could betake myself to some powerful support (11:80)." So Allah did not send a Prophet after him except among a high ranking family (Dhirwah) among his people." (Another chain) except that he said: "Allah did not send a Prophet after him except among a wealthy family (Tharwah) among his people." Muhammad bin 'Amr said: "Ath-Tharwah is riches and power. [Abu 'Eisa said:] This is more correct than the narration of AlFadl bin Must, (a narrator in the chain of no. 3116) and this Hadith is Hasan
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف باپ کے ( یعنی ) یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ۱؎ کی عظمت اور نجابت و شرافت کا یہ حال تھا کہ جتنے دنوں یوسف علیہ السلام جیل خانے میں رہے ۲؎ اگر میں قید خانے میں رہتا، پھر ( بادشاہ کا ) قاصد مجھے بلانے آتا تو میں اس کی پکار پر فوراً جا حاضر ہوتا، یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کی طلبی کو قبول نہ کیا بلکہ کہا جاؤ پہلے بادشاہ سے پوچھو! ان ”محترمات“ کا اب کیا معاملہ ہے، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ لیے تھے۔ پھر آپ نے آیت: «فلما جاءه الرسول قال ارجع إلى ربك فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن» ۳؎ کی تلاوت فرمائی۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ رحم فرمائے لوط علیہ السلام پر جب کہ انہوں نے مجبور ہو کر تمنا کی تھی: اے کاش میرے پاس طاقت ہوتی، یا کوئی مضبوط سہارا مل جاتا۔ جب کہ انہوں نے کہا: «لو أن لي بكم قوة أو آوي إلى ركن شديد» ۴؎۔ آپ نے فرمایا: ”لوط علیہ السلام کے بعد تو اللہ نے جتنے بھی نبی بھیجے انہیں ان کی قوم کے اعلیٰ نسب چیدہ لوگوں اور بلند مقام والوں ہی میں سے بھیجے“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي ذَرٍّ وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ نَحْوَ رِوَايَةِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . وَرَوَى سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا اسْتَحَبُّوا إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ أَنْ لاَ يَجْلِسَ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ عُذْرٌ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَحَدِيثُ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ خَطَأٌ أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ .
Abu Qatadah narrated that :Allah's Messenger said: "When one of you comes to the Masjid, then let him perform two Rak'ah before sitting
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن عجلان اور دیگر کئی لوگوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے جیسے مالک بن انس کی روایت ہے، ۳- سہیل بن ابی صالح ۲؎ نے یہ حدیث بطریق: «عامر بن عبد الله بن الزبير عن عمرو بن سليم الزرقي عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے، ۴ – یہ حدیث غیر محفوظ ہے اور صحیح ابوقتادہ کی حدیث ہے، اس باب میں جابر، ابوامامہ، ابوہریرہ، ابوذر اور کعب بن مالک سے بھی احادیث آئی ہیں، ہمارے اصحاب کا عمل اسی حدیث پر ہے: انہوں نے مستحب قرار دیا ہے کہ جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے، نہ بیٹھے الا یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو، ۵- علی بن مدینی کہتے ہیں: سہیل بن ابی صالح کی حدیث میں غلطی ہوئی ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ .
Ibn `Umar narrated that the Prophet (ﷺ) said:“Indeed Allah accepts the repentance of a slave as long as (his soul does not reach his throat).”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ ( موت کے وقت ) اس کے گلے سے خر خر کی آواز نہ آنے لگے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated by Usamah bin Zaid
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةُ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ طَرَقْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْءٍ لاَ أَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي قُلْتُ مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ قَالَ فَكَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ عَلَى وَرِكَيْهِ فَقَالَ " هَذَانِ ابْنَاىَ وَابْنَا ابْنَتِي اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Narrated Usamah bin Zaid:"I came to the Prophet (ﷺ) one night concerning some need, so the Prophet (ﷺ) came out while he was covering up something, and I did not know what it was. Once I had tended to my need, I said: 'What is this that you were covering up?' So he uncovered it, and I found it was Hasan and Husain [peace be upon them] upon his hips. So he said: 'These are my two sons, and the sons of my daughter. O Allah! Indeed, I love them, so love them, and love those who love them
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین رضی الله عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے، پھر آپ نے فرمایا: ”یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔