حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الآخِرَةِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Al-Bara bin Azib narrated:"The Prophet would recite: By the fig and the olive for Isha
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُمْلِي وَرُبَّمَا قَالَ يُمْهِلُ لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ " . ثُمَّ قَرَأَ : ( كَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى ) الآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ نَحْوَهُ وَقَالَ يُمْلِي . حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَقَالَ يُمْلِي وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ .
Narrated Abu Musa:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Allah Blessed and Most High gives respite (Yumli)" and perhaps he said: "(Yumhil)" respite to the wrong-doer until, when He seizes him, and he cannot escape." Then he recited the Ayah: Such is the punishment of your Lord when He seizes the towns while they are doing wrong (11:)
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے مگر جب اسے گرفت میں لے لیتا ہے پھر تو اسے چھوڑتا بھی نہیں“، پھر آپ نے آیت «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» ”ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت، درد ناک ہوتی ہے“ ( ہود: ۱۰۲ ) ، تلاوت فرمائی۔ ( راوی ابومعاویہ نے کبھی «یملی» کہا اور کبھی «یمہل» دونوں کا معنی ایک ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابواسامہ نے بھی اسے برید سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور «یُملی» کا لفظ استعمال کیا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاَتِي قَالَ " قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَأَبُو الْخَيْرِ اسْمُهُ مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ .
Abdullah bin `Amr narrated from Abu Bakr As-Siddiq that he said:“O Messenger of Allah, teach me a supplication that I may supplicate with in my Salat.” He (ﷺ) said: “Say: ‘O Allah, I have wronged myself much, and none forgives sins except You. So forgive me with forgiveness from You, and have mercy upon me, indeed, You are the Forgiving, the Merciful (Allāhumma innī ẓalamtu nafsī ẓulman kathīran wa lā yaghfirudh-dhunūba illā anta faghfirlī maghfiratan min `indika warḥamnī innaka antal-Ghafūrur-Raḥīm).’”
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئیے جسے میں اپنی نماز میں مانگا کروں ۱؎، آپ نے فرمایا: ”کہو: «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» ”اے اللہ! میں نے اپنے آپ پر بڑا ظلم کیا ہے، جب کہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی اور بخش نہیں سکتا، اس لیے تو مجھے اپنی عنایت خاص سے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، تو ہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، اور یہ لیث بن سعد کی روایت ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلاَئِكَةِ " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ . وَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I saw Ja'far flying in Paradise with the angels
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن جعفر کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن معین وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے، اور عبداللہ بن جعفر: علی بن مدینی کے والد ہیں، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت آئی ہے۔