بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
11
42 hadith
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Anas bin Malik narrated:"The Prophet had a banquet for Safiyyah bint Huyayy with Sawiq and dates
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Umm Salamah narrated that The Messenger of Allah said:“Whichever woman dies while her husband is pleased with her, then she enters Paradise.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت مر جائے اور اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا فَأَمَرَنِي أَبِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَأَبَيْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلِّقِ امْرَأَتَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ‏.‏
Ibn Umar narrated:"I had a wife whom I loved, but my father disliked her, so he ordered me to divorce her but I refused. I mentioned that to the Prophet and he said: 'O Abdullah bin Umar! Divorce your wife
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی، میں اس سے محبت کرتا تھا، اور میرے والد اسے ناپسند کرتے تھے۔ میرے والد نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، لیکن میں نے ان کی بات نہیں مانی۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”عبداللہ بن عمر! تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف ابن ابی ذئب ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِ الْمِكْيَالِ وَالْمِيزَانِ ‏ "‏ إِنَّكُمْ قَدْ وُلِّيتُمْ أَمْرَيْنِ هَلَكَتْ فِيهِ الأُمَمُ السَّالِفَةُ قَبْلَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ ‏.‏ وَحُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said to the people of weights and measures: "Indeed you have been entrusted with two matters that nations preceding you in the past were destroyed for." [Abu 'Eisa said:] We do not know this Hadith to be Marfu' except through the narration of Husain bin Qais, and Husain bin Qais was graded weak in Hadith. This has been reported as Maquf narration from Ibn 'Abbas with a Sahih chain of narration
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپ تول والوں سے فرمایا: ”تمہارے دو ایسے کام ۱؎ کیے گئے ہیں جس میں تم سے پہلے کی امتیں ہلاک ہو گئیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم اس حدیث کو صرف بروایت حسین بن قیس مرفوع جانتے ہیں، اور حسین بن قیس حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔ نیز یہ صحیح سند سے ابن عباس سے موقوفاً مروی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي فِي الْحُكْمِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَائِشَةَ وَابْنِ حَدِيدَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يَصِحُّ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ حَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ ‏.‏
Abu Hurairah narrated:"The Messenger of Allah (ﷺ) cursed the one who bribes and the one who takes a bribe for a judgement
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلے میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے بھی مروی ہے انہوں عبداللہ بن عمرو سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- اور ابوسلمہ سے ان کے باپ کے واسطے سے بھی مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے، ۴- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کو کہتے سنا کہ ابوسلمہ ( ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ) کی حدیث جسے انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اس باب میں سب سے زیادہ اچھی اور سب سے زیادہ صحیح ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔ ۵- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عائشہ، ابن حدیدہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Umar bin Al-Khattab
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا الأَحْمَرُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يُقَادُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Umar bin Al-Khattab:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The father does not suffer retaliation for [killing] the son
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا“ ۱؎۔
Narrated by Ubadah bin As-Samit
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خُذُوا عَنِّي فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ الرَّجْمُ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْىُ سَنَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَغَيْرُهُمْ قَالُوا الثَّيِّبُ تُجْلَدُ وَتُرْجَمُ ‏.‏ وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَغَيْرُهُمَا الثَّيِّبُ إِنَّمَا عَلَيْهِ الرَّجْمُ وَلاَ يُجْلَدُ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلُ هَذَا فِي غَيْرِ حَدِيثٍ فِي قِصَّةِ مَاعِزٍ وَغَيْرِهِ أَنَّهُ أَمَرَ بِالرَّجْمِ وَلَمْ يَأْمُرْ أَنْ يُجْلَدَ قَبْلَ أَنْ يُرْجَمَ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ ‏.‏
Narrated 'Ubadah bin As-Samit:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Take from me. For Allah has a way made for them : For the married person who commits adultery with a married person is one hundred lashes, then stoning. And for the virgin who commits adultery with a virgin is one hundred lashes and banishment for a year
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( دین خاص طور پر زنا کے احکام ) مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ۱؎ راہ نکال دی ہے: شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ ملوث ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے، اور کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اہل علم صحابہ کا اسی پر عمل ہے، ان میں علی بن ابی طالب، ابی بن کعب اور عبداللہ بن مسعود وغیرہ رضی الله عنہم شامل ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: شادی شدہ زانی کو کوڑے لگائے جائیں گے اور رجم کیا جائے گا، بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۳- جب کہ صحابہ میں سے بعض اہل علم جن میں ابوبکر اور عمر وغیرہ رضی الله عنہما شامل ہیں، کہتے ہیں: شادی شدہ زنا کار پر صرف رجم واجب ہے، اسے کوڑے نہیں لگائے جائیں گے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح دوسری حدیث میں ماعز وغیرہ کے قصہ کے سلسلے میں آئی ہے کہ آپ نے صرف رجم کا حکم دیا، رجم سے پہلے کوڑے لگانے کا حکم نہیں دیا، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی اور احمد کا یہی قول ہے ۲؎۔
Narrated by Ata bin Yasar
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ الرَّجُلُ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ حَتَّى تَبَاهَى النَّاسُ فَصَارَتْ كَمَا تَرَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَعُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ مَدَنِيٌّ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشٍ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَا عَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ تُجْزِئُ الشَّاةُ إِلاَّ عَنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏
Narrated 'Ata bin Yasar:"I asked Abu Abyub [Al-Ansari] how the slaughtering was done during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He said: 'A man would sacrifice a sheep for himself and the people in his household. They would eat from it and feed others, until the people (later) would boast about it and it became as you see now
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانیاں کیسے ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: ایک آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا، وہ لوگ خود کھاتے تھے اور دوسروں کو کھلاتے تھے یہاں تک کہ لوگ ( کثرت قربانی پر ) فخر کرنے لگے، اور اب یہ صورت حال ہو گئی جو دیکھ رہے ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- راوی عمارہ بن عبداللہ مدنی ہیں، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے ایک مینڈھے کی قربانی کی اور فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے، جنہوں نے قربانی نہیں کی ہے“، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: ایک بکری ایک ہی آدمی کی طرف سے کفایت کرے گی، عبداللہ بن مبارک اور دوسرے اہل علم کا یہی قول ہے ( لیکن راجح پہلا قول ہے ) ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ قِيلَ لِسَلْمَانَ قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ فَقَالَ سَلْمَانُ أَجَلْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ وَأَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَجَابِرٍ وَخَلاَّدِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ سَلْمَانَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ رَأَوْا أَنَّ الاِسْتِنْجَاءَ بِالْحِجَارَةِ يُجْزِئُ وَإِنْ لَمْ يَسْتَنْجِ بِالْمَاءِ إِذَا أَنْقَى أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏
Abdur-Rahman bin Yazld said, :"They said to Salman, 'Your Prophet taught you about everything, even defecating?' So Salman said, 'Yes. He prohibited us from facing the Qiblah when defecating and urinating, performing Istinja with the right hand, using less than three stones for Istinja, and using dung or bones for Istinja
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی الله عنہ سے بطور طنز یہ بات کہی گئی کہ تمہارے نبی نے تمہیں ساری چیزیں سکھائی ہیں حتیٰ کہ پیشاب پاخانہ کرنا بھی، تو سلمان فارسی رضی الله عنہ نے بطور فخر کہا: ہاں، ایسا ہی ہے ہمارے نبی نے ہمیں پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے، اور تین پتھر سے کم سے استنجاء کرنے، اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، خزیمہ بن ثابت جابر اور خلاد بن السائب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- سلمان رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ۳- صحابہ و تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ پتھر سے استنجاء کر لینا کافی ہے جب وہ پاخانہ اور پیشاب کے اثر کو زائل و پاک کر دے اگرچہ پانی سے استنجاء نہ کیا گیا ہو، یہی قول ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے۔
Narrated by Shurahbil bin As-Samt
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، أَنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ، قَالَ يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاحْذَرْ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الإِسْلاَمِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ وَحَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ هَكَذَا رَوَاهُ الأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَأَدْخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ فِي الإِسْنَادِ رَجُلاً ‏.‏ وَيُقَالُ كَعْبُ بْنُ مُرَّةَ وَيُقَالُ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ الْبَهْزِيُّ وَالْمَعْرُوفُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ الْبَهْزِيُّ وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَادِيثَ ‏.‏
Narrated Shurahbil bin As-Samt: "O Ka'b bin Murrah! Relate (something) to is from the Messenger of Allah (ﷺ), and be cautious. He said: 'I heard the Prophet (ﷺ) say: "Whoever develops some gray hair in Islam, it shall be a light from him on the Day of Judgement." [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from Fadalah bin 'Ubaid and 'Abdullah bin 'Amr. The narration of Ka'b bin Murrah was reported like this from Al-A'mash, from 'Amr bin Murrah. This Hadith is been reported from Mansur, from Salim bin Abu Al-Ja'd, and he included a man between him and between Ka'b bin Murrah in the chain. He is called: "Ka'b bin Murrah," and he is called: "Murrah bin Ka'b Al-Bahzi," and the one known among the Companions of the Prophet (ﷺ) is Ka'b bin Murrah Al-Bahzi, he reported some Ahadith from the Prophet (ﷺ)
سالم بن ابی جعد سے روایت ہے، شرحبیل بن سمط نے کہا: کعب بن مرہ رضی الله عنہ! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کیجئے اور کمی زیادتی سے محتاط رہئیے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اسلام میں بوڑھا ہو جائے، تو قیامت کے دن یہ اس کے لیے نور بن کر آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں فضالہ بن عبید اور عبداللہ بن عمرو سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- کعب بن مرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اعمش نے اسی طرح عمرو بن مرہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث منصور سے بھی آئی ہے، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ہے، انہوں نے سالم اور کعب بن مرہ کے درمیان سند میں ایک آدمی کو داخل کیا ہے، ۳- کعب بن مرہ کو کبھی کعب بن بن مرہ اور مرہ بن کعب بہزی بھی کہا گیا ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَالصُّنَابِحِيِّ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَأَنَسٍ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ وَعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ وَحَدِيثُ الْعَبَّاسِ قَدْ رُوِيَ مَوْقُوفًا عَنْهُ وَهُوَ أَصَحُّ ‏.‏ وَالصُّنَابِحِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ صَاحِبُ أَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ اخْتَارُوا تَعْجِيلَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ وَكَرِهُوا تَأْخِيرَهَا حَتَّى قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَيْسَ لِصَلاَةِ الْمَغْرِبِ إِلاَّ وَقْتٌ وَاحِدٌ وَذَهَبُوا إِلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَيْثُ صَلَّى بِهِ جِبْرِيلُ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ ‏.‏
Salmah bin AI-Akwa narrated:"Allah's Messenger prayed Maghrib when the sun had set and it (the sun) had hidden in the veil (of darkness)
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا اور پردے میں چھپ جاتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سلمہ بن الاکوع والی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، صنابحی، زید بن خالد، انس، رافع بن خدیج، ابوایوب، ام حبیبہ، عباس بن عبدالمطلب اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- عباس رضی الله عنہ کی حدیث ان سے موقوفاً روایت کی گئی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، ۴- اور صنابحی نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے، وہ تو ابوبکر رضی الله عنہ کے دور کے ہیں، ۵- اور یہی قول صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا ہے، ان لوگوں نے نماز مغرب جلدی پڑھنے کو پسند کیا ہے اور اسے مؤخر کرنے کو مکروہ سمجھا ہے، یہاں تک کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مغرب کا ایک ہی وقت ہے ۲؎، یہ تمام حضرات نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی اس حدیث کی طرف گئے ہیں جس میں ہے کہ جبرائیل نے آپ کو نماز پڑھائی اور یہی ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ رَكِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَقَالَ ‏ "‏ مَا كَانَ مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Anas bin Malik: "The Prophet (ﷺ) rode a horse belonging to Abu Talhah called Mandub. He said: 'There is nothing to be frightened of, and we found him to be (quick) like the sea.'" [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from Ibn 'Amr Al-'As
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو گئے اس گھوڑے کو «مندوب» کہا جاتا تھا: کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں تھی، اس گھوڑے کو ہم نے چال میں سمندر پایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَرُكَانَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Jabir: "On the day of the Conquest, the Prophet (ﷺ) entered Makkah, and he was wearing a black 'Imamah." [He said:] THere are narrations on this topic from 'Ali, 'Amr bin Huraith, Ibn 'Abbas, Rukanah. [Abu 'Eisa said:] The Hadith is Jabir is Hasan Sahih Hadith
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں علی، عمر، ابن حریث، ابن عباس اور رکانہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَسَقَطَتْ لُقْمَةٌ فَلْيُمِطْ مَا رَابَهُ مِنْهَا ثُمَّ لْيَطْعَمْهَا وَلاَ يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏
Narrated Jabir: That the Prophet (ﷺ) said: "When one of you eats food, and he drops a pieces of it, then let him remove anything suspicious from it and eat it. Do not leave it for Ash-Shaitan." He said: There is something about this from Anas
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے اور نوالہ گر جائے تو اس میں سے جو ناپسند سمجھے اسے ہٹا دے ۱؎، اسے پھر کھا لے، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Jabir bin ‘Abdullah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited making Nabidh from unripend dates and fresh dates together. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «گدر» ( ادھ پکی ) کھجور اور تازہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي سُوَيْدٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ زَعَمَتِ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مُحْتَضِنٌ أَحَدَ ابْنَىِ ابْنَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّكُمْ لَتُبَخِّلُونَ وَتُجَبِّنُونَ وَتُجَهِّلُونَ وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَالأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِهِ ‏.‏ وَلاَ نَعْرِفُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَمَاعًا مِنْ خَوْلَةَ ‏.‏
Umar bin 'Abdul-'Aziz said:'a righteous woman, Khawlah bint Hakim said: "The Messenger of Allah came out during the middle of the day, while holding one of the sons of his daughter in his arms. He was saying: 'You are what makes them stingy, cowardly and ignorant. And you are but Raihanillah
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشتہ ناتا توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا“۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان نے کہا: «قاطع» سے مراد «قاطع رحم» ( یعنی رشتہ ناتا توڑنے والا ) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْتَجِمُ فِي الأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ وَكَانَ يَحْتَجِمُ لِسَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صحيح ‏.‏
Anas narrated:"The Prophet (S.A.W) would get cupped in his jugular veins and his upper back. And he would get cupped on the seventeenth (of the month), (or) the nineteenth, and (or) the twenty first
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب موجود دو پوشیدہ رگوں اور کندھے پر پچھنا لگواتے تھے، اور آپ مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگواتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور معقل بن یسار رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قال: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَهُوَ ابْنُ وَرْدَانَ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ مَوْلًى، لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَعَ مِنْ عِذْقِ نَخْلَةٍ فَمَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ وَارِثٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَادْفَعُوهُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِ الْقَرْيَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
Aishah narrated that a freed slave of the Prophet (s.a.w) fell from foliage on a date-palm and died. So the Prophet (S.A.W) said:"See if he has any heirs." They said: "No." He said: 'Pay it to someone among the people of the town
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کی ٹہنی سے گرا اور مر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو، کیا اس کا کوئی وارث ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اس کا مال اس کے گاؤں کے کچھ لوگوں کو دے دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا فَقَالَ ‏ "‏ هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ وَهَذَا أَصَحُّ هَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
Ibn Abi Khizamah narrated from his father,that a man came to the Prophet(s.a.w) and said:"O Messenger of Allah! Do you think that the Ruqyah we use, the treatments we use, and what we seek to protect ourselves with prevent anything from Allah's Decree?' He said: 'They are from Allah's Decree
ابوخزامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دم جن سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، دوائیں جن سے علاج کرتے ہیں اور بچاؤ کی چیزیں جن سے بچاؤ کرتے ہیں، آپ بتائیے کیا یہ اللہ کی تقدیر میں سے کچھ لوٹا سکتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ سب بھی تو اللہ کی تقدیر سے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم اس حدیث کو صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں، کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن سفيان عن الزهري عن أبي خزامة عن أبيه» کی سند سے روایت کی ہے، یہ زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح کئی لوگوں نے «عن الزهري عن أبي خزامة عن أبيه» کی سند سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ وَالْمُدْهِنِ فِيهَا كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ فِي الْبَحْرِ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلاَهَا وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا فَكَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا يَصْعَدُونَ فَيَسْتَقُونَ الْمَاءَ فَيَصُبُّونَ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلاَهَا فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَعْلاَهَا لاَ نَدَعُكُمْ تَصْعَدُونَ فَتُؤْذُونَنَا فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا فَإِنَّا نَنْقُبُهَا مِنْ أَسْفَلِهَا فَنَسْتَقِي فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ فَمَنَعُوهُمْ نَجَوْا جَمِيعًا وَإِنْ تَرَكُوهُمْ غَرِقُوا جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
An-Nu'man bin Bashir narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The parable of the one who upholds Allah's laws and the one who breaches them, is that of a people who drew lots on a ship at sea. Some of them got the upper part, and some of them the lower part. Those on the lower part ascended to get water, spilling it upon those upper part. So those in the upper part say: 'We will not leave you to come up here and bother us.' Then those on the lower part say: 'We should make a hole in the lower part, so we can get water.' If they take them by the hand and stop them, then they will save all of them, and if they leave them, they will all drown
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے حدود پر قائم رہنے والے ( یعنی اس کے احکام کی پابندی کرنے والے ) اور اس کی مخالفت کرنے والوں کی مثال اس قوم کی طرح ہے، جو قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک کشتی میں سوار ہوئی، بعض لوگوں کو کشتی کے بالائی طبقہ میں جگہ ملی اور بعض لوگوں کو نچلے حصہ میں، نچلے طبقہ والے اوپر چڑھ کر پانی لیتے تھے تو بالائی طبقہ والوں پر پانی گر جاتا تھا، لہٰذا بالائی حصہ والوں نے کہا: ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تاکہ ہمیں تکلیف پہنچاؤ ( یہ سن کر ) نچلے حصہ والوں نے کہا: ہم کشتی کے نیچے سوراخ کر کے پانی لیں گے، اب اگر بالائی طبقہ والے ان کے ہاتھ پکڑ کر روکیں گے تو تمام نجات پا جائیں گے اور اگر انہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کریں گے تو تمام کے تمام ڈوب جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرَيْرِيُّ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَىَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَعُرِضَ عَلَىَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الدِّينَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif narrated from some of the companions of the Prophet (s.a.w) that the Prophet (s.a.w) said:"While I was sleeping I saw people presented before me, and that they were wearing shirts. Some of them (the shirts) reaching their breasts, and some of them reaching below that." He said: "Then 'Umar was presented before me and he was wearing a shirt that was dragging." They said: "How did you interpret that O Messenger of Allah?" He said: "The religion
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہما بعض صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا دیکھا: لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں، بعض کی قمیص چھاتی تک پہنچ رہی تھی اور بعض کی اس سے نیچے تک پہنچ رہی تھی، پھر میرے سامنے عمر کو پیش کیا گیا ان کے جسم پر جو قمیص تھی وہ اسے گھسیٹ رہے تھے“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ”دین سے“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ سَمِعْتُ بِلاَلَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ فَيَكْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ فَيَكْتُبُ اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو نَحْوَ هَذَا قَالُوا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ بِلاَلِ بْنِ الْحَارِثِ ‏.‏ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ بِلاَلِ بْنِ الْحَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ جَدِّهِ ‏.‏
Muhammed bin 'Amr narrated from his father, from his grandfather who said:"I heard Bilal bin Al-Harith Al Muzani, the Companion of the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: "Indeed one of you says a statement pleasing to Allah, not realizing that you have achieved what you have achieved. Then for it, Allah writes for him His pleasure until the Day of Meeting Him. And one of you says a statement angering Allah, not realizing that you have achieved what you have achieved. Then for it, Allah writes for him His anger until the Day of Meeting with Him
صحابی رسول بلال بن حارث مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کوئی اللہ کی رضا مندی کی ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا کہ اس کی وجہ سے اس کا مرتبہ کہاں تک پہنچے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کی اس بات کی وجہ سے اس کے حق میں اس دن تک کے لیے اپنی خوشنودی اور رضا مندی لکھ دیتا ہے جس دن وہ اس سے ملے گا، اور تم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ اس کی وجہ سے اس کا وبال کہاں تک پہنچے گا جب کہ اللہ اس کی اس بات کی وجہ سے اس کے حق میں اس دن تک کے لیے ہے جس دن وہ اس سے ملے گا اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے اسی طرح سے کئی لوگوں نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کیا ہے یعنی «عن محمد بن عمرو عن أبيه عن جده عن بلال بن الحارث» کی سند سے، ۳- اس حدیث کو مالک نے «عن محمد بن عمرو عن أبيه عن بلال بن الحارث» کی سند سے روایت کیا ہے لیکن اس میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں ہے، ۴- اس باب میں ام حبیبہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا الصُّورُ قَالَ ‏ "‏ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِهِ ‏.‏
Abdullah bin 'Amr bin Al-'As said:"A Bedouin came to the Prophet (S.a.w) and said: 'What is the Sur?' He said: 'A horn that will be blown into'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported by more than one narrator from Sulaimãn At-Taimi, and we do not know of it except as his narration
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کیا: «صور» کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک سنکھ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- کئی لوگوں نے سلیمان تیمی سے اس حدیث کی روایت کی ہے، اسے ہم صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْ أَنَّ مَا يُقِلُّ ظُفُرٌ مِمَّا فِي الْجَنَّةِ بَدَا لَتَزَخْرَفَتْ لَهُ مَا بَيْنَ خَوَافِقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَلَوْ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَ فَبَدَا أَسَاوِرُهُ لَطَمَسَ ضَوْءَ الشَّمْسِ كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ وَقَالَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Dawud bin Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas narrated from his father, from his grandfather that the Prophet (s.a.w) said:"If as little as what can be placed on a fingernail of what is in Paradise were to become apparent, it would have beautified all the far corners of the heavens and the earth. And if a man among the people of Paradise were to appear and his bracelets were to become apparent, it would have blotted out the light of the sun, as the sun blots out the light of the stars
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ناخن کے برابر جنت کی کوئی چیز ظاہر ہو جائے تو وہ آسمان و زمین کے کناروں کو چمکا دے، اور اگر جنت کا کوئی آدمی جھانکے اور اس کے کنگن ظاہر ہو جائیں تو وہ سورج کی روشنی کو ایسے ہی مٹا دیں، جیسے سورج ستاروں کی روشنی کو مٹا دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں ۱؎۔ ۲- یحییٰ بن ایوب نے یہ حدیث یزید بن ابی حبیب سے روایت کی ہے اور سند یوں بیان کی ہے: «عن عمر بن سعد بن أبي وقاص عن النبي صلى الله عليه وسلم» ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلاَلٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ أَنَّ رُصَاصَةً مِثْلَ هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى مِثْلِ الْجُمْجُمَةِ أُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ وَهِيَ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ لَبَلَغَتِ الأَرْضَ قَبْلَ اللَّيْلِ وَلَوْ أَنَّهَا أُرْسِلَتْ مِنْ رَأْسِ السِّلْسِلَةِ لَصَارَتْ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ أَصْلَهَا أَوْ قَعْرَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَسَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ هُوَ مِصْرِيٌّ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الأَئِمَّةِ ‏.‏
Abdullah bin 'Amr bin Al-'As narrated that the Messenger of Allah said:"If a pellet like this one, and he pointed to one like Al-jumjumah were to be dropped from the heavens to the earth – and it is the distance of traveling five hundred years it would reach the earth before the night-fall. But if it were dropped from the top of the chain it would travel for forty years, day and night, before it would reach its foundation or bottom.” (Hasan)
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کے برابر ایک ٹکڑا ( اور آپ نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا ) آسمان سے زمین کی طرف جو پانچ سو سال کی مسافت ہے، چھوڑا جائے تو زمین پر رات سے پہلے پہنچ جائے گا اور اگر وہی ٹکڑا زنجیر ( جس کا ذکر ) قرآن میں آیا ہے: «ثم في سلسلة ذرعها سبعون ذراعا فاسلكوه» ( الحاقة: ۳۲ ) کے سر سے چھوڑا جائے تو اس زنجیر کی جڑ یا اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال رات اور دن کے گزر جائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند حسن صحیح ہے، ۲- سعید بن یزید مصری ہیں۔ ان سے لیث بن سعد اور کئی ائمہ نے حدیث روایت کی ہے۔
Narrated by Abdullah bin Buraidah narrated from his father
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَيُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلاَةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Narrated Abdullah bin Buraidah narrated from his father:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The covenant between us and them is the Salat, so whoever abandons it he has committed disbelief
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور منافقین کے درمیان نماز کا معاہدہ ہے ۱؎ تو جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Ali bin Abi Talib
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَكْذِبُوا عَلَىَّ فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ يَلِجُ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرِ وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَسٍ وَجَابِرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَمُعَاوِيَةَ وَبُرَيْدَةَ وَأَبِي مُوسَى الْغَافِقِيِّ وَأَبِي أُمَامَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَالْمُنْقَعِ وَأَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَثْبَتُ أَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏ وَقَالَ وَكِيعٌ لَمْ يَكْذِبْ رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ فِي الإِسْلاَمِ كِذْبَةً
Narrated 'Ali bin Abi Talib:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not lie upon me, for indeed whoever lies upon me, he will be admitted into the Fire
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر جھوٹ نہ باندھو کیونکہ مجھ پر جھوٹ باندھنے والا جہنم میں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر، عمر، عثمان، زبیر، سعید بن زید، عبداللہ بن عمرو، انس، جابر، ابن عباس، ابوسعید، عمرو بن عبسہ، عقبہ بن عامر، معاویہ، بریدہ، ابوموسیٰ، ابوامامہ، عبداللہ بن عمر، مقنع اور اوس ثقفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Al-Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ وَيُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَجَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَقَالَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ إِنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
Narrated Al-Hasan:from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: "The rider gives the Salam to the walking person, and the walking person to the sitting person and the few to the many." Ibn Al-Muthanna added in his narration: "And the young one gives the Salam to the elder
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو ( یعنی چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے“۔ اور ابن مثنی نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: ”چھوٹا اپنے بڑے کو سلام کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے متعدد سندوں سے مروی ہے، ۲- ایوب سختیانی، یونس بن عبید اور علی بن یزید کہتے ہیں کہ حسن بصری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ۳- اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، فضالہ بن عبید اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔)
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعُطَاسُ مِنَ اللَّهِ وَالتَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ وَإِذَا قَالَ آهْ آهْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ وَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ آهْ آهْ إِذَا تَثَاءَبَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ فِي جَوْفِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The sneeze is from Allah and the yawn is from Ash-Shaitan. So when one of you yawns let him cover his mouth with his hand. For when he says 'Ah, Ah' Ash-Shaitan laughs from inside his opening." [And indeed Allah loves the sneeze and He dislikes the Yawn, so when a man says Ah, Ah when yawning, indeed Ash-Shaitan laughs from inside his opening]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھینکنا اللہ کی جانب سے ہے اور جمائی شیطان کی جانب سے ہے۔ جب کسی کو جمائی آئے تو اسے چاہیئے کہ جمائی آتے وقت اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لے، اور جب جمائی لینے والا آہ، آہ کرتا ہے تو شیطان جمائی لینے والے کے پیٹ میں گھس کر ہنستا ہے۔ اور بیشک اللہ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی لینے کو ناپسند کرتا ہے۔ تو ( جان لو ) کہ آدمی جب جمائی کے وقت آہ آہ کی آواز نکالتا ہے تو اس وقت شیطان اس کے پیٹ کے اندر گھس کر ہنستا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by (Another route) from Az-Zuhri
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَقَالَ لاَ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً أَوْ قَالَ لاَ تَجِدُ فِيهَا إِلاَّ رَاحِلَةً ‏.‏
Narrated (Another route) from Az-Zuhri:with this chain, and it is similar, but he said: "You can find a mount among them." - from Salim, from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "People are but like one hundred camels, you can not find a mount among them - or he said - you can not find but one mount among them
سفیان بن عیینہ زہری سے اسی سند سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور انہوں نے کہا: تم ان میں ایک بھی سواری کے قابل نہ پاؤ گے، یا یہ کہا: تم ان میں سے صرف ایک سواری کے قابل پا سکو گے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ضَرَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خِبَاءَهُ عَلَى قَبْرٍ وَهُوَ لاَ يَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ضَرَبْتُ خِبَائِي عَلَى قَبْرٍ وَأَنَا لاَ أَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هِيَ الْمَانِعَةُ هِيَ الْمُنْجِيَةُ تُنْجِيهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:"One of the companions of the Prophet (ﷺ) pitched a tent on a grave without knowing that it was a grave. Suddenly he heard a person from the grave reciting Surah al-Mulk till he completed it. So he went to the Prophet (ﷺ) and said: 'Oh Messenger of Allah, I pitched my tent on a grave without realizing that is was a grave. Then suddenly I heard a person from the grave reciting Surah al-Mulk till he completed it.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is the defender, it is the deliverer - it delivers from the punishment of the grave
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے، ( انہوں نے آواز سنی ) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ «تبارك الملك» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ آپ نے فرمایا: «هي المانعة» ”یہ سورۃ مانعہ ہے، یہ نجات دینے والی ہے، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Abdullah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بِئْسَمَا لأَحَدِهِمْ أَوْ لأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ فَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated 'Abdullah:that the Prophet (ﷺ) said: "How horrible it is for one of them - or - one of you to say: "I have forgotten such and such Ayah,' rather he was made to forget. So be mindful of the Qur'an, for - by the One in Whose Hand is my soul - it escapes from men's hearts faster than a camel from its fetter
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے یا تم میں سے کسی کے لیے یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ یہ کہو کہ وہ بھلا دیا گیا ۱؎ تم قرآن یاد کرتے دھراتے رہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! قرآن لوگوں کے سینوں سے نکل بھاگنے میں چوپایوں کے اپنی رسی سے نکل بھاگنے کی بہ نسبت زیادہ تیز ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَبُو عَمَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا وُجِّهَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْكَعْبَةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ‏:‏ ‏(‏وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ‏)‏ الآيَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:"When the Prophet (ﷺ) began facing the Ka'bah they said: 'O Messenger of Allah! How about our brothers who died while they were praying toward Bait Al-Maqdis?' So Allah Most High revealed: Allah would not allow your faith to be wasted. (2:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور وہ گزر گئے تو ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ”اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان ضائع نہ کرے گا“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا فَدَعَا لَهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ وَأَبُو قَطَنٍ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ‏.‏
Ibn `Abbas narrated from Ubayy bin Ka`b that :whenever the Messenger of Allah (ﷺ) would mention someone and supplicate for him, he would begin with himself (ﷺ)
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو یاد کر کے اس کے لیے دعا کرتے، تو پہلے اپنے لیے دعا کرتے پھر اس کے لیے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Narrated by Abu Musa Al-Ash'ari
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ أَبُو نُوحٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجَ أَبُو طَالِبٍ إِلَى الشَّامِ وَخَرَجَ مَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي أَشْيَاخٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَشْرَفُوا عَلَى الرَّاهِبِ هَبَطُوا فَحَلُّوا رِحَالَهُمْ فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الرَّاهِبُ وَكَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ يَمُرُّونَ بِهِ فَلاَ يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ وَلاَ يَلْتَفِتُ ‏.‏ قَالَ فَهُمْ يَحُلُّونَ رِحَالَهُمْ فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُهُمُ الرَّاهِبُ حَتَّى جَاءَ فَأَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ هَذَا سَيِّدُ الْعَالَمِينَ هَذَا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَبْعَثُهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ أَشْيَاخٌ مِنْ قُرَيْشٍ مَا عِلْمُكَ فَقَالَ إِنَّكُمْ حِينَ أَشْرَفْتُمْ مِنَ الْعَقَبَةِ لَمْ يَبْقَ شَجَرٌ وَلاَ حَجَرٌ إِلاَّ خَرَّ سَاجِدًا وَلاَ يَسْجُدَانِ إِلاَّ لِنَبِيٍّ وَإِنِّي أَعْرِفُهُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ أَسْفَلَ مِنْ غُضْرُوفِ كَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ ‏.‏ ثُمَّ رَجَعَ فَصَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا أَتَاهُمْ بِهِ وَكَانَ هُوَ فِي رِعْيَةِ الإِبِلِ قَالَ أَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ غَمَامَةٌ تُظِلُّهُ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْقَوْمِ وَجَدَهُمْ قَدْ سَبَقُوهُ إِلَى فَىْءِ الشَّجَرَةِ فَلَمَّا جَلَسَ مَالَ فَىْءُ الشَّجَرَةِ عَلَيْهِ فَقَالَ انْظُرُوا إِلَى فَىْءِ الشَّجَرَةِ مَالَ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ قَائِمٌ عَلَيْهِمْ وَهُوَ يُنَاشِدُهُمْ أَنْ لاَ يَذْهَبُوا بِهِ إِلَى الرُّومِ فَإِنَّ الرُّومَ إِذَا رَأَوْهُ عَرَفُوهُ بِالصِّفَةِ فَيَقْتُلُونَهُ فَالْتَفَتَ فَإِذَا بِسَبْعَةٍ قَدْ أَقْبَلُوا مِنَ الرُّومِ فَاسْتَقْبَلَهُمْ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكُمْ قَالُوا جِئْنَا أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ خَارِجٌ فِي هَذَا الشَّهْرِ فَلَمْ يَبْقَ طَرِيقٌ إِلاَّ بُعِثَ إِلَيْهِ بِأُنَاسٍ وَإِنَّا قَدْ أُخْبِرْنَا خَبَرَهُ بُعِثْنَا إِلَى طَرِيقِكَ هَذَا فَقَالَ هَلْ خَلْفَكُمْ أَحَدٌ هُوَ خَيْرٌ مِنْكُمْ قَالُوا إِنَّمَا أُخْبِرْنَا خَبَرَهُ بِطَرِيقِكَ هَذَا ‏.‏ قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ أَمْرًا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَهُ هَلْ يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ رَدَّهُ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ فَبَايَعُوهُ وَأَقَامُوا مَعَهُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَيُّكُمْ وَلِيُّهُ قَالُوا أَبُو طَالِبٍ فَلَمْ يَزَلْ يُنَاشِدُهُ حَتَّى رَدَّهُ أَبُو طَالِبٍ وَبَعَثَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ بِلاَلاً وَزَوَّدَهُ الرَّاهِبُ مِنَ الْكَعْكِ وَالزَّيْتِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Narrated Abu Musa Al-Ash'ari:"Abu Talib departed to Ash-Sham, and the Prophet (ﷺ) left with him, along with some older men from the Quraish. When they came across the monk they stopped there and began setting up their camp, and the monk came out to them. Before that they used to pass by him and he wouldn't come out nor pay attention to them." He said: "They were setting up their camp when the monk was walking amidst them, until he came and took the hand of the Messenger of Allah (ﷺ). Then he said: 'This is the master of the men and jinn, this is the Messenger of the Lord of the worlds. Allah will raise him as a mercy to the men and jinn.' So some of the older people from the Quraish said: 'What do you know?' He said: 'When you people came along from the road, not a rock nor a tree was left, except that it prostrated, and they do not prostrate except for a Prophet. And I can recognize him by the seal of the Prophethood which is below his shoulder blade, like an apple.' Then he went back, and made them some food, and when he brought it to them, he [the Prophet (ﷺ)] was tending to the camels. So he said: 'Send for him.' So he came, and there was a cloud over him that was shading him. When he came close to the people, he found that they had beaten him to the tree's shade. So when he sat down, the shade of the tree leaned towards him. He (the monk) said: 'Look at the shade of the tree leaning towards him.'" He said: "So while he was standing over them, telling them not to take him to Rome with him - because if the Romans were to see him, they would recognize him by his description, and they would kill him - he turned, and there were seven people who had come from Rome. So he faced them and said: 'Why have you come?' They said: 'We came because this Prophet is going to appear during this month, and there isn't a road left except that people have been sent to it, and we have been informed of him, and we have been send to this road of yours.' So he said: 'Is there anyone better than you behind you?' They said: 'We only have news of him from this road of yours.' He said: 'Do you think that if there is a matter which Allah wishes to bring about, there is anyone among the people who can turn it away?' They said: 'No.'" He said: "So they gave him their pledge, and they stayed with him. And he said: 'I ask you by Allah, which of you is his guardian?' They said: 'Abu Talib.' So he kept adjuring him until Abu Talib returned him (back to Makkah) and he sent Abu Bakr and Bilal with him. And the monk gave him provisions of Ka'k (a type of bread) and olive oil
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطالب شام کی طرف ( تجارت کی غرض سے ) نکلے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش کے بوڑھوں میں ان کے ساتھ نکلے، جب یہ لوگ بحیرہ راہب کے پاس پہنچے تو وہیں پڑاؤ ڈال دیا اور اپنی سواریوں کے کجاوے کھول دیے، تو راہب اپنے گرجا گھر سے نکل کر ان کے پاس آیا حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس کے پاس سے گزرتے تھے، لیکن وہ کبھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا، اور نہ ان کے پاس آتا تھا، کہتے ہیں: تو یہ لوگ اپنی سواریاں ابھی کھول ہی رہے تھے کہ راہب نے ان کے بیچ سے گھستے ہوئے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا: یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے رب کے رسول ہیں، اللہ انہیں سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گا، تو اس سے قریش کے بوڑھوں نے پوچھا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ تو اس نے کہا: جب تم لوگ اس ٹیلے سے اترے تو کوئی درخت اور پتھر ایسا نہیں رہا جو سجدہ میں نہ گر پڑا ہو، اور یہ دونوں صرف نبی ہی کو سجدہ کیا کرتے ہیں، اور میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو شانہ کی ہڈی کے سرے کے نیچے سیب کے مانند ہے، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانا تیار کیا، جب وہ کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ چرانے گئے تھے تو اس نے کہا: کسی کو بھیج دو کہ ان کو بلا کر لائے، چنانچہ آپ آئے اور ایک بدلی آپ پر سایہ کئے ہوئے تھی، جب آپ لوگوں کے قریب ہوئے تو انہیں درخت کے سایہ میں پہلے ہی سے بیٹھے پایا، پھر جب آپ بیٹھ گئے تو درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا اس پر راہب بول اٹھا: دیکھو! درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا ہے، پھر راہب ان کے سامنے کھڑا رہا اور ان سے قسم دے کر کہہ رہا تھا کہ انہیں روم نہ لے جاؤ اس لیے کہ روم کے لوگ دیکھتے ہی انہیں ان کے اوصاف سے پہچان لیں گے اور انہیں قتل کر ڈالیں گے، پھر وہ مڑا تو دیکھا کہ سات آدمی ہیں جو روم سے آئے ہوئے ہیں تو اس نے بڑھ کر ان سب کا استقبال کیا اور پوچھا آپ لوگ کیوں آئے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: ہم اس نبی کے لیے آئے ہیں جو اس مہینہ میں آنے والا ہے، اور کوئی راستہ ایسا باقی نہیں بچا ہے جس کی طرف کچھ نہ کچھ لوگ نہ بھیجے گئے ہوں، اور جب ہمیں تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم تمہاری اس راہ پر بھیجے گئے، تو اس نے پوچھا: کیا تمہارے پیچھے کوئی اور ہے جو تم سے بہتر ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہمیں تو تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم اس پر ہو لیے اس نے کہا: اچھا یہ بتاؤ کہ اللہ جس امر کا فیصلہ فرما لے کیا لوگوں میں سے اسے کوئی ٹال سکتا ہے؟ ان لوگوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: پھر تم اس سے بیعت کرو، اور اس کے ساتھ رہو، پھر وہ عربوں کی طرف متوجہ ہو کر بولا: میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تم میں سے اس کا ولی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوطالب، تو وہ انہیں برابر قسم دلاتا رہا یہاں تک کہ ابوطالب نے انہیں واپس مکہ لوٹا دیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے آپ کے ساتھ بلال رضی الله عنہ کو بھی بھیج دیا اور راہب نے آپ کو کیک اور زیتون کا توشہ دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that :Allah's Messenger said: "Perform Witr before the morning comes upon you
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو“۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ ‏.‏
Anas bin Malik narrated:"The Prophet would pray the Friday prayer when the sun was declining
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ مُتَخَشِّعًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ قَالَ يُصَلِّي صَلاَةَ الاِسْتِسْقَاءِ نَحْوَ صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ يُكَبِّرُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى سَبْعًا وَفِي الثَّانِيَةِ خَمْسًا وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ لاَ يُكَبِّرُ فِي صَلاَةِ الاِسْتِسْقَاءِ كَمَا يُكَبِّرُ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ ‏.‏ وَقَالَ النُّعْمَانُ أَبُو حَنِيفَةَ لاَ تُصَلَّى صَلاَةُ الاِسْتِسْقَاءِ وَلاَ آمُرُهُمْ بِتَحْوِيلِ الرِّدَاءِ وَلَكِنْ يَدْعُونَ وَيَرْجِعُونَ بِجُمْلَتِهِمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى خَالَفَ السُّنَّةَ ‏.‏
(Another chain) from Hisham bin Ishaq bin Abdullah bin Kinanah, from his father, :and he mentioned a similar narration and added: "with humility" to it
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ سے روایت ہے، آگے انہوں نے اسی طرح ذکر کیا البتہ اس میں انہوں نے لفظ «منخشعاً» کا اضافہ کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہی شافعی کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ نماز استسقاء عیدین کی نماز کی طرح پڑھی جائے گی۔ پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ، اور انہوں نے ابن عباس کی حدیث سے استدلال کیا ہے، ۳- مالک بن انس سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ استسقاء میں عیدین کی نماز کی تکبیروں کی طرح تکبیریں نہیں کہے گا، ۴- ابوحنیفہ نعمان کہتے ہیں کہ استسقاء کی کوئی نماز نہیں پڑھی جائے گی اور نہ میں انہیں چادر پلٹنے ہی کا حکم دیتا ہوں، بلکہ سارے لوگ ایک ساتھ دعا کریں گے اور لوٹ آئیں گے، ۵- ان کا یہ قول سنت کے مخالف ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَنِ اسْتَفَادَ مَالاً فَلاَ زَكَاةَ فِيهِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ عِنْدَ رَبِّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى أَيُّوبُ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا ‏.‏ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُمَا مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ زَكَاةَ فِي الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَالٌ تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَفِيهِ الزَّكَاةُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ سِوَى الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ فَإِنِ اسْتَفَادَ مَالاً قَبْلَ أَنْ يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ فَإِنَّهُ يُزَكِّي الْمَالَ الْمُسْتَفَادَ مَعَ مَالِهِ الَّذِي وَجَبَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ ‏.‏
Ibn Umar said:"Whoever acquired wealth, then there is no Zakat on it until the Hawl has passed while it is in his possession
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں جسے کوئی مال حاصل ہو تو اس پر زکاۃ نہیں جب تک کہ اس کے ہاں اس مال پر ایک سال نہ گزر جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ ( موقوف ) حدیث عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کی ( مرفوع ) حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ ۲- ایوب، عبیداللہ بن عمر اور دیگر کئی لوگوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر سے موقوفاً ( ہی ) روایت کی ہے۔ ۳- عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہیں، احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور ان کے علاوہ دیگر محدثین نے ان کی تضعیف کی ہے وہ کثرت سے غلطیاں کرتے ہیں، ۴- صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں ہے، جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۵- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب آدمی کے پاس پہلے سے اتنا مال ہو جس میں زکاۃ واجب ہو تو حاصل شدہ مال میں بھی زکاۃ واجب ہو گی اور اگر اس کے پاس حاصل شدہ مال کے علاوہ کوئی اور مال نہ ہو جس میں زکاۃ واجب ہوئی ہو تو کمائے ہوئے مال میں بھی کوئی زکاۃ واجب نہیں ہو گی جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے، اور اگر اسے ( پہلے سے نصاب کو پہنچے ہوئے ) مال پر سال گزرنے سے پہلے کوئی کمایا ہوا مال ملا تو وہ اس مال کے ساتھ جس میں زکاۃ واجب ہو گئی ہے، مال مستفاد کی بھی زکاۃ نکالے گا سفیان ثوری اور اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا أَنَّ الصَّوْمَ وَالْفِطْرَ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَعُظْمِ النَّاسِ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "The fast is the day the people fast, the breaking of the fast is the day the people break their fast, and the sacrifice is the day the people sacrifice
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صیام کا دن وہی ہے جس دن تم سب روزہ رکھتے ہو اور افطار کا دن وہی ہے جب سب عید الفطر مناتے ہو اور اضحٰی کا دن وہی ہے جب سب عید مناتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تشریح یوں کی ہے کہ صوم اور عید الفطر اجتماعیت اور سواد اعظم کے ساتھ ہونا چاہیئے ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، وَهُمَا، يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ لاَ يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلاَّ مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ سَعْدٌ بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي ‏.‏ فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ ‏.‏ فَقَالَ سَعْدٌ قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Muhammad bin Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal narrated that:He heard Sa'd bin Abi Waqas, and Ad-Dahhak bin Qais while they were mentioning Tamattu after "Umrah until Hajj. Ad-Dahhak bin Qais said: "No one does that except one who is ignorant of the order of Allah, Most High." Sa'd said: "How horrible is it what you have said O my nephew!" So Ad-Dahhak (bin Qais) said: "Indeed Umar bin Al-Khattab has prohibited that." So Sa'd said: "The Messenger of Allah did it, and we did it with him
محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی الله عنہما سے سنا، دونوں عمرہ کو حج میں ملانے کا ذکر کر رہے تھے۔ ضحاک بن قیس نے کہا: ایسا وہی کرے گا جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا: بہت بری بات ہے جو تم نے کہی، میرے بھتیجے! تو ضحاک بن قیس نے کہا: عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اس سے منع کیا ہے، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی اسے کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَامُ بْنُ الْمِصَكِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا وَلاَ أُحِبُّ مَوْتًا كَمَوْتِ الْحِمَارِ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ وَمَا مَوْتُ الْحِمَارِ قَالَ ‏"‏ مَوْتُ الْفَجْأَةِ ‏"‏ ‏.‏
Alqamah narrated:"I heard Abdullah saying: 'I heard the Messenger of Allah saying: "The believer's soul seeps out, and I do not like the death like that of a donkey." They said: "And what is the death of a donkey?" He said: "A sudden death
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”مومن کی جان تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتی ہے جیسے جسم سے پسینہ نکلتا ہے اور مجھے گدھے جیسی موت پسند نہیں“۔ عرض کیا گیا: گدھے کی موت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اچانک موت“۔