حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ الْحُلْوَانِيُّ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ هَذَا الْحَرْفَ قَالُوا صَدَقْتَ هَكَذَا صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى زَادَ أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ هَذَا الْحَرْفَ قَالُوا صَدَقْتَ هَكَذَا صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
(Another chain) that Muhammad bin Amir bin Ata narrated from Abu Humaid As-Saidi,:he (Muhammad) said: "I heard him saying - while he was among ten of the Companions of the Prophet, one of whom was Abu Qatadah bin Ribi
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی الله عنہ کو دس صحابہ کرام کی موجودگی میں جن میں ابوقتادہ بن ربعی بھی تھے، کہتے سنا، پھر انہوں نے یحییٰ بن سعید کی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے عبدالحمید بن جعفر کے واسطے سے اس لفظ کا اضافہ کیا ہے کہ ( نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نماز والی اس صفت و کیفیت کو سننے والے ) صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین نے کہا کہ آپ نے صحیح کہا، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔
Narrated by Suhaib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّّ : (لِلََّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ ) قَالَ " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ نَادَى مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ قَالُوا أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ وَتُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ قَالَ فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ . قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ مَرْفُوعًا . وَرَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَوْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ صُهَيْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Suhaib:from the Prophet (ﷺ), regarding the saying of Allah Most High: And for those who have done good is the best and even more (10:26) - He (ﷺ) said: "When the inhabitants of Paradise have entered Paradise a caller will call out: 'Indeed there remains for you a promise with Allah, and He wants to reward you with it.' They will say: 'Have your faces not been made bright, have we not been saved from the Fire, and have we not been admitted into Paradise?'" He said: "So the Veil will be lifted." He said: "By Allah! Nothing given to them [by Allah] will be more beloved to them than looking at Him
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» ”جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے اچھائی ( جنت ) ہے اور مزید برآں بھی ( یعنی دیدار الٰہی ) “ ( یونس: ۲۶ ) ، کی تفسیر اس طرح فرمائی: ”جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا: اللہ کے پاس تمہارے لیے اس کی طرف سے کیا ہوا ایک وعدہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تم سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دے۔ تو وہ جنتی کہیں گے: کیا اللہ نے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دیئے ہیں اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی ہے اور ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا ہے؟ ( اب کون سی نعمت باقی رہ گئی ہے؟ ) “، آپ نے فرمایا: ”پھر پردہ اٹھا دیا جائے گا“، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! اللہ نے انہیں کوئی ایسی چیز دی ہی نہیں جو انہیں اس کے دیدار سے زیادہ لذیذ اور محبوب ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حماد بن سلمہ کی حدیث ایسی ہی ہے، ۲- کئی ایک نے اسے حماد بن سلمہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ سلیمان بن مغیرہ نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ان کے قول کی حیثیت سے روایت کی ہے اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ یہ روایت صہیب سے ہے اور صہیب رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ طَاهِرًا يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى يُدْرِكَهُ النُّعَاسُ لَمْ يَنْقَلِبْ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ إِلاَّ أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Abu Umamah Al-Bahili said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: “Whoever goes to his bed while in a state of purity and remembering Allah, until slumber overtakes him, he shall not get up at any hour of the night and ask Allah for something from the good of the world and the Hereafter except that Allah shall grant it to him.’”
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنے بستر پر پاک و صاف ہو کر سونے کے لیے جائے اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اسے نیند آ جائے تو رات کے جس کسی لمحے میں بھی بیدار ہو کر وہ دنیا و آخرت کی جو کوئی بھی بھلائی، اللہ سے مانگے گا اللہ اسے وہ چیز ضروری عطا کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲- یہ حدیث شہر بن حوشب سے بطریق: «أبي ظبية عن عمرو بن عبسة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّهَا كَانَتْ تَحْمِلُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَتُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَحْمِلُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Hisham bin Urwah narrated :from his father about Aishah, that she would carry some Zamzam water, and she would say: "Indeed the Messenger of Allah would carry it
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ زمزم کا پانی ساتھ مدینہ لے جاتی تھیں، اور بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی زمزم ساتھ لے جاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔