حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ سَمِعْتُهُ وَهُوَ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ يَقُولُ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالُوا مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً وَلاَ أَكْثَرَنَا لَهُ إِتْيَانًا قَالَ بَلَى . قَالُوا فَاعْرِضْ . فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ اعْتَدَلَ قَائِمًا وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ " . وَرَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ فَلَمْ يُصَوِّبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلاً ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الأَرْضِ سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ " . ثُمَّ جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ وَفَتَخَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلاً ثُمَّ أَهْوَى سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ " . ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ وَقَعَدَ وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ ثُمَّ نَهَضَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاَةَ ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا صَلاَتُهُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَى شِقِّهِ مُتَوَرِّكًا ثُمَّ سَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ يَعْنِي قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ .
Muhammad bin Amr bin Ata' narrated from Abu Humaid As-Saidi, :he (Muhammad) said: "I heard him saying - while he was among ten of the Companions of the Prophet, one of whom was Abu Qatadah bin Ribi - 'I am the most knowledgeable among you of the Salat of the Allah's Messenger.' They said: 'You did not precede us in his companionship, nor were you in his company more than us.' He said: 'Even still." They said: 'Go ahead.' So he said: 'When Allah's Messenger stood for Salat he would stand with his back straight and raise his hands until they were at the level of his shoulder. Then he would say: (Allahu Akbar) "Allah is Most Great" and bow. Then he would straighten (his back) so that he would not lower his head, nor raise it, and he placed his hands on his knees. Then he said: (Sami Allahu liman hamidah) "Allah listens to those who praise Him." And he raised his hands and stood up straight until all of his bones completely returned to their places. Then he went down to the ground prostrating, then he said: (Allahu Akbar) "Allah is Most Great." Then he held his upper arms away from his midsection, and opened his toes on his feet (facing the Qiblah), then he bend his left foot and sat on it then straightened up until all of his bones completely returned to their placed, then he went down to prostrate. Then he said: (Allahu Akbar) "Allah is Most Great," then he bent his foot and sat and straightened up until all of his bones completely returned to their places. Then he got up. Then in the second Rak'ah he did the same as that, such that when he stood from the two prostrations, he sad the Takbir and raised his hands until they were at the level of his shoulders as he did when he opened the Salat. Then he did like that until it was the Rak'ah in which his Salat was to end, when he moved his left foot over and sat on his side (in the Mutawarrik postion). Then he said the Taslim
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو حمید ساعدی رضی الله عنہ کو کہتے ہیں سنا ( جب ) صحابہ کرام میں سے دس لوگوں کے ساتھ تھے، ان میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے، ابوحمید رضی الله عنہ کہہ رہے تھے کہ میں تم میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی نماز کا سب سے زیادہ جانکار ہوں، تو لوگوں نے کہا کہ تمہیں نہ تو ہم سے پہلے صحبت رسول میسر ہوئی اور نہ ہی تم ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آتے جاتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں یہ ٹھیک ہے ( لیکن مجھے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے ) اس پر لوگوں نے کہا ( اگر تم زیادہ جانتے ہو ) تو پیش کرو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہو جاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور رکوع کرتے اور بالکل سیدھے ہو جاتے، نہ اپنا سر بالکل نیچے جھکاتے اور نہ اوپر ہی اٹھائے رکھتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور سیدھے کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ جسم کی ہر ایک ہڈی سیدھی ہو کر اپنی جگہ پر لوٹ آتی پھر سجدہ کرنے کے لیے زمین کی طرف جھکتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور اپنے بازوؤں کو اپنی دونوں بغل سے جدا رکھتے، اور اپنے پیروں کی انگلیاں کھلی رکھتے، پھر اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور سیدھے ہو جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آتی، اور آپ اٹھتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ دوسری رکعت سے جب ( تیسری رکعت کے لیے ) اٹھتے تو «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں کرتے جیسے اس وقت کیا تھا جب آپ نے نماز شروع کی تھی، پھر اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب وہ رکعت ہوتی جس میں نماز ختم ہو رہی ہو تو اپنا بایاں پیر مؤخر کرتے یعنی اسے داہنی طرف دائیں پیر کے نیچے سے نکال لیتے اور سرین پر بیٹھتے، پھر سلام پھیرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ان کے قول «رفع يديه إذا قام من السجدتين» ”دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے“ کا مطلب ہے کہ جب دو رکعتوں کے بعد ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے۔
Narrated by Az-Zuhri
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ، قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَكَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّامِ فِي فَتْحِ أَرْمِينِيَّةَ وَأَذْرَبِيجَانَ مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَرَأَى حُذَيْفَةُ اخْتِلاَفَهُمْ فِي الْقُرْآنِ فَقَالَ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَدْرِكْ هَذِهِ الأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ كَمَا اخْتَلَفَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ نَنْسَخُهَا فِي الْمَصَاحِفِ ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْكِ فَأَرْسَلَتْ حَفْصَةُ إِلَى عُثْمَانَ بِالصُّحُفِ فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنِ انْسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ وَقَالَ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّينَ الثَّلاَثَةِ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ . حَتَّى نَسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ بَعَثَ عُثْمَانُ إِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِنْ تِلْكَ الْمَصَاحِفِ الَّتِي نَسَخُوا . قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الأَحْزَابِ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا : ( مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ ) فَالْتَمَسْتُهَا فَوَجَدْتُهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا . قَالَ الزُّهْرِيُّ فَاخْتَلَفُوا يَوْمَئِذٍ فِي التَّابُوتِ وَالتَّابُوهِ فَقَالَ الْقُرَشِيُّونَ التَّابُوتُ . وَقَالَ زَيْدٌ التَّابُوهُ . فَرُفِعَ اخْتِلاَفُهُمْ إِلَى عُثْمَانَ فَقَالَ اكْتُبُوهُ التَّابُوتُ فَإِنَّهُ نَزَلَ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ . قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَرِهَ لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ نَسْخَ الْمَصَاحِفِ وَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أُعْزَلُ عَنْ نَسْخِ كِتَابَةِ الْمُصْحَفِ وَيَتَوَلاَّهَا رَجُلٌ وَاللَّهِ لَقَدْ أَسْلَمْتُ وَإِنَّهُ لَفِي صُلْبِ رَجُلٍ كَافِرٍ يُرِيدُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَلِذَلِكَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ اكْتُمُوا الْمَصَاحِفَ الَّتِي عِنْدَكُمْ وَغُلُّوهَا فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : ( وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) فَالْقُوا اللَّهَ بِالْمَصَاحِفِ . قَالَ الزُّهْرِيُّ فَبَلَغَنِي أَنَّ ذَلِكَ كَرِهَهُ مِنْ مَقَالَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ رِجَالٌ مِنْ أَفَاضِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِهِ .
Narrated Az-Zuhri:from Anas who said: "Hudhaifah bin Al-Yaman came to 'Uthman, at the time when the people of Ash-Sham and the people of Al-'Iraq were waging war to conquer Arminiyah and Adharbijan. Hudhaifah saw their (the people of Ash-Sham and Al-'Iraq) different forms of recitation of the Qur'an. So he said to 'Uthman: 'O Commander of the Believers! Save this nation before they differ about the Book as the Jews and the Christians did before them.' So he ('Uthman) sent a message to Hafsah (saying): 'Send us the manuscripts so that we may copy them in the Musahif (plural of Mushaf: a written copy of the Qur'an) then we shall return it to you.' So Hafsah sent the manuscripts to 'Uthman bin 'Affan. 'Uthman then sent order for Zaid bin Thabit, Sa'eed bin Al-'As, 'Abdur-Rahman bin Al-Harith bin Hisham, and 'Abdullah bin Az-Zubair to copy the manuscripts in the Musahif. 'Uthman said to the three Quraish men: 'In case you disagree with Zaid bin Thabit on any point in the (recitation dialect of the) Qur'an, then write it in the dialect of Quraish for it was in their tongue.' So when they had copied the manuscripts, 'Uthman sent one Mushaf from those Musahif that they had copied to every province." Az-Zuhri said: "Kharijah bin Zaid [bin Thabit] narrated to me that Zaid bin Thabit said: 'I missed an Ayah of Surat Al-Ahzab that I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting: Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah, of them some have fulfilled their obligations, and some of them are still waiting (33:23) - so I searched for it and found it with Khuzaimah bin Thabit, or Abu Khuzaimah, so I put it in its Surah.'" Az-Zuhri said: "They differed then with At-Tabut and At-Tabuh. The Quraish said: At-Tabut while Zaid said: At-Tabuh. Their disagreement was brought to 'Uthman, so he said: 'Write it as At-Tabut, for it was revealed in the tongue of the Quraish.'" Az-Zuhri said: "'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah informed me that 'Abdullah bin Mas'ud disliked Zaid bin Thabit copying the Musahif, and he said: 'O you Muslim people! I am removed from recording the transcription of the Mushaf and it is overseen by a man, by Allah, when I accepted Islam he was but in the loins of a disbelieving man' - meaning Zaid bin Thabit - and it was regarding this that 'Abdullah bin Mas'ud said: 'O people of Al-'Iraq! Keep the Musahif that are with you, and conceal them. For indeed Allah said: And whoever conceals something, he shall come with what he concealed on the Day of Judgement (3:161). So meet Allah with the Musahif.'" Az-Zuhri said: "It was conveyed to me that some men amongst the most virtuous of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) disliked that view of Ibn Mas'ud
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حذیفہ بن الیمان عثمان رضی الله عنہما کے پاس آئے، ان دنوں آپ شام والوں کے ساتھ آرمینیہ کی فتح میں اور عراق والوں کے ساتھ آذر بائیجان کی فتح میں مشغول تھے، حذیفہ رضی الله عنہ نے قرآن کی قرأت میں لوگوں کا اختلاف دیکھ کر عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے کہا: امیر المؤمنین! اس امت کو سنبھالئے اس سے پہلے کہ یہ کتاب ( قرآن مجید ) کے معاملے میں اختلاف کا شکار ہو جائے ( اور آپس میں لڑنے لگے ) جیسا کہ یہود و نصاریٰ اپنی کتابوں ( تورات و انجیل اور زبور ) کے بارے میں مختلف ہو گئے۔ تو عثمان رضی الله عنہ نے حفصہ رضی الله عنہا کے پاس پیغام بھیجا کہ ( ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے تیار کرائے ہوئے ) صحیفے ہمارے پاس بھیج دیں ہم انہیں مصاحف میں لکھا کر آپ کے پاس واپس بھیج دیں گے، چنانچہ ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے پاس یہ صحیفے بھیج دیے۔ پھر عثمان نے زید بن ثابت اور سعید بن العاص اور عبدالرحمٰن بن الحارث بن ہشام اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم کے پاس ان صحیفوں کو اس حکم کے ساتھ بھیجا کہ یہ لوگ ان کو مصاحف میں نقل کر دیں۔ اور تینوں قریشی صحابہ سے کہا کہ جب تم میں اور زید بن ثابت رضی الله عنہ میں اختلاف ہو جائے تو قریش کی زبان ( و لہجہ ) میں لکھو کیونکہ قرآن انہیں کی زبان میں نازل ہوا ہے، یہاں تک کہ جب انہوں نے صحیفے مصحف میں نقل کر لیے تو عثمان نے ان تیار مصاحف کو ( مملکت اسلامیہ کے حدود اربعہ میں ) ہر جانب ایک ایک مصحف بھیج دیا۔ زہری کہتے ہیں مجھ سے خارجہ بن زید نے بیان کیا کہ زید بن ثابت نے کہا کہ میں سورۃ الاحزاب کی ایک آیت جسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنتا تھا اور مجھے یاد نہیں رہ گئی تھی اور وہ آیت یہ ہے «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» ۱؎ تو میں نے اسے ڈھونڈا، بہت تلاش کے بعد میں اسے خزیمہ بن ثابت کے پاس پایا ۲؎ خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہ کہا یا ابوخزیمہ کہا۔ ( راوی کو شک ہو گیا ) تو میں نے اسے اس کی سورۃ میں شامل کر دیا۔ زہری کہتے ہیں: لوگ اس وقت ( لفظ ) «تابوهاور» تابوت میں مختلف ہو گئے، قریشیوں نے کہا «التابوت» اور زید نے «التابوه» کہا۔ ان کا اختلاف عثمان رضی الله عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: «التابوت» لکھو کیونکہ یہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ زہری کہتے ہیں: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بتایا ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے زید بن ثابت رضی الله عنہما کے مصاحف لکھنے کو ناپسند کیا اور کہا: اے گروہ مسلمانان! میں مصاحف کے لکھنے سے روک دیا گیا، اور اس کام کا والی و کارگزار وہ شخص ہو گیا جو قسم اللہ کی جس وقت میں ایمان لایا وہ شخص ایک کافر شخص کی پیٹھ میں تھا ( یعنی پیدا نہ ہوا تھا ) یہ کہہ کر انہوں نے زید بن ثابت کو مراد لیا ۳؎ اور اسی وجہ سے عبداللہ بن مسعود نے کہا: عراق والو! جو مصاحف تمہارے پاس ہیں انہیں چھپا لو، اور سنبھال کر رکھو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو کوئی چیز چھپا رکھے گا قیامت کے دن اسے لے کر حاضر ہو گا تو تم قیامت میں اپنے مصاحف ساتھ میں لے کر اللہ سے ملاقات کرنا ۴؎ زہری کہتے ہیں: مجھے یہ اطلاع و خبر بھی ملی کہ کبار صحابہ نے ابن مسعود رضی الله عنہ کی یہ بات ناپسند فرمائی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور یہ زہری کی حدیث ہے، اور ہم اسے صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمِّلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ . وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهَذَا أَصَحُّ وَمُؤَمِّلٌ غَلِطَ فِيهِ فَقَالَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ وَلاَ يُتَابَعُ فِيهِ .
Anas narrated that the Prophet (ﷺ) said:“Be constant with: ‘O Possessor of Majesty and Honor (Yā Dhal-Jalāli wal-Ikrām).’”
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يا ذا الجلال والإكرام» کو لازم پکڑو ( یعنی: اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، محفوظ نہیں ہے، ۲- یہ حدیث حماد بن سلمہ نے حمید سے، انہوں نے حسن بصری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ اور مومل سے اس میں غلطی ہوئی ہے، چنانچہ انہوں نے «عن حميد عن أنس» دیا، جبکہ اس میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ وَهُوَ مُحْرِمٌ غَيْرَ الْمُقَتَّتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى الْمُقَتَّتُ الْمُطَيَّبُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ . وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فِي فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ وَرَوَى عَنْهُ النَّاسُ .
Ibn Umar narrated:"The Prophet would apply oil that is not scented (Ghair Muqattat) while he was a Muhrim
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں زیتون کا تیل لگاتے تھے اور یہ ( تیل ) بغیر خوشبو کے ہوتا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف فرقد سبخی کی روایت سے جانتے ہیں، اور فرقد نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے فرقد سبخی کے سلسلے میں کلام کیا ہے، اور فرقد سے لوگوں نے روایت کی ہے، ۲- مقتت کے معنی خوشبودار کے ہیں۔