حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَؤُمُّنَا فَيَنْصَرِفُ عَلَى جَانِبَيْهِ جَمِيعًا عَلَى يَمِينِهِ وَعَلَى شِمَالِهِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ هُلْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يَنْصَرِفُ عَلَى أَىِّ جَانِبَيْهِ شَاءَ إِنْ شَاءَ عَنْ يَمِينِهِ وَإِنْ شَاءَ عَنْ يَسَارِهِ . وَقَدْ صَحَّ الأَمْرَانِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَيُرْوَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ إِنْ كَانَتْ حَاجَتُهُ عَنْ يَمِينِهِ أَخَذَ عَنْ يَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ حَاجَتُهُ عَنْ يَسَارِهِ أَخَذَ عَنْ يَسَارِهِ .
Qabisah bin Hulb narrated that his father said:"When Allah's Messenger would lead us in Salat he would turn (to leave) from both sides, on his right and on his left
ہلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے ( تو سلام پھیرنے کے بعد ) اپنے دونوں طرف پلٹتے تھے ( کبھی ) دائیں اور ( کبھی ) بائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہلب رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، انس، عبداللہ بن عمرو، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ امام اپنے جس جانب چاہے پلٹ کر بیٹھے چاہے تو دائیں طرف اور چاہے تو بائیں طرف، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے دونوں ہی باتیں ثابت ہیں ۱؎ اور علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں اگر آپ کی ضرورت دائیں طرف ہوتی تو دائیں طرف پلٹتے اور بائیں طرف ہوتی تو بائیں طرف پلٹتے۔
Narrated by Ali
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، كُوفِيٌّ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً، يَسْتَغْفِرُ لأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقُلْتُ لَهُ أَتَسْتَغْفِرُ لأَبَوَيْكَ وَهُمَا مُشْرِكَانِ . فَقَالَ أَوَلَيْسَ اسْتَغْفَرَ إِبْرَاهِيمُ لأَبِيهِ وَهُوَ مُشْرِكٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَتْ : ( مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ .
Narrated 'Ali:"I heard a man seeking forgiveness for his parents who were idolaters, so I said to him: 'You seek forgiveness for your parents while they are idolaters?' He said: 'Did Ibrahim not seek forgiveness for his father, and he was an idolater?' So I mentioned that to the Prophet (ﷺ) and (the following) was revealed: It is not for the Prophet nor those who believe, that they should seek forgiveness for the idolaters (9:)
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو اپنے مشرک ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا تو میں نے اس سے کہا: کیا اپنے مشرک ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہو؟ اس نے کہا: کیا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مشرک باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی؟ پھر میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ پر یہ آیت نازل ہوئی «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين» ”نبی اور مومنین کے لیے زیبا نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کریں“ ( التوبہ: ۱۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں سعید بن مسیب سے بھی روایت ہے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِي كَعْبٍ، صَاحِبِ الْحَرِيرِ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ قُلْتُ لأُمِّ سَلَمَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ عِنْدَكِ قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " . قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لأَكْثَرِ دُعَائِكَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَ " يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّهُ لَيْسَ آدَمِيٌّ إِلاَّ وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ أَقَامَ وَمَنْ شَاءَ أَزَاغَ " . فَتَلاَ مُعَاذٌ : ( ربَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا ) قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَالنَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ وَأَنَسٍ وَجَابِرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَنُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ . قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Shahr bin Hawshab said:“I said to Umm Salamah: ‘O Mother of the Believers! What was the supplication that the Messenger of Allah (ﷺ) said most frequently when he was with you?” She said: ‘The supplication he said most frequently was: “O Changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion (Yā Muqallibal-qulūb, thabbit qalbī `alā dīnik).’” She said: ‘So I said: “O Messenger of Allah, why do you supplicate so frequently: ‘O Changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion.’ He said: ‘O Umm Salamah! Verily, there is no human being except that his heart is between Two Fingers of the Fingers of Allah, so whomsoever He wills He makes steadfast, and whomever He wills He causes to deviate.’”
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی الله عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے“، پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ اکثر یہ دعا: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتا ہے ( دین حق پر ) قائم و ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا دل ٹیڑھا کر دیتا ہے پھر ( راوی حدیث ) معاذ نے آیت: «ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا» ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دے دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی ( گمراہی ) نہ پیدا کر“ ( آل عمران: ۸ ) ، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان، انس، جابر، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً قَالَ " لَيْتَ رَجُلاً صَالِحًا يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ " . قَالَتْ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ السِّلاَحِ فَقَالَ " مَنْ هَذَا " . فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا جَاءَ بِكَ " . فَقَالَ سَعْدٌ وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ . فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَامَ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated 'Aishah:"The Messenger of Allah (ﷺ) did not sleep one night upon arriving in Al-Madinah. So he said: 'If only a righteous man would guard me tonight.'" She said: "So we were like that, when we heard the clanging of weapons. He said: 'Who is this?' So he said: 'Sa'd bin Abi Waqqas.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'What has brought you?' Sa'd said: 'Fear for the Messenger of Allah (ﷺ) came upon me, so I came to protect him.' So the Messenger of Allah (ﷺ) supplicated for him, then slept
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی غزوہ سے مدینہ واپس آنے پر ایک رات نیند نہیں آئی، تو آپ نے فرمایا: ”کاش کوئی مرد صالح ہوتا جو آج رات میری نگہبانی کرتا“، ہم اسی خیال میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کے کھنکھناہٹ کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ آنے والے نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ تو سعد رضی الله عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس لیے میں آپ کی نگہبانی کے لیے آیا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ . فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ تُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُزَاحِمُ عَلَيْهِ . فَقَالَ إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " لاَ يَضَعُ قَدَمًا وَلاَ يَرْفَعُ أُخْرَى إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Ibn Ubaid bin Umair narrated from his father:"Ibn Umar was clinging on the two corners (in a manner that I had not seen any of the Companions of the Prophet doing) so I said: 'O Abu Abdur-Rahman! You are clinging on the two corners in a manner that I have not seen any of the Companions of the Prophet clining.' So he said: 'I do it because I heard the Messenger of Allah saying: "Touching them atones for sins." And I heard him saying: "Whoever performs Tawaf around this House seven times and he keeps track of it, then it is as if he freed a slave." And I heard him saying: "One foot is not put down, nor another raised except that Allah removes a sin from him and records a good merit for him
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما حجر اسود اور رکن یمانی پر ایسی بھیڑ لگاتے تھے جو میں نے صحابہ میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا۔ تو میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ دونوں رکن پر ایسی بھیڑ لگاتے ہیں کہ میں نے صحابہ میں سے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا؟ تو انہوں نے کہا: اگر میں ایسا کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”ان پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کا کفارہ ہے“۔ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے اس گھر کا طواف سات مرتبہ ( سات چکر ) کیا اور اسے گنا، تو یہ ایسے ہی ہے گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا۔“ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: ”وہ جتنے بھی قدم رکھے اور اٹھائے گا اللہ ہر ایک کے بدلے اس کی ایک غلطی معاف کرے گا اور ایک نیکی لکھے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- حماد بن زید نے بطریق: «عطا بن السائب، عن ابن عبید بن عمير، عن ابن عمر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے ابن عبید کے باپ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔