حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَلَّمَ لاَ يَقْعُدُ إِلاَّ مِقْدَارَ مَا يَقُولُ " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " .
Aishah narrated:"When Allah's Messenger said the Salam he would not remain seated except long enough to say: (Allahumma antas-salam, wa minkas-salam, tabarakta dhal jalali wal-Ikram) 'O Allah! You are the One free of defects, and perfection is from You. Blessed are You, Possessor of Majesty and Honor
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ تو سلام ہے، تجھ سے سلامتی ہے، بزرگی اور عزت والے! تو بڑی برکت والا ہے“ کہنے کے بقدر ہی بیٹھتے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ مَاتَ أَبُوهُ فَقَالَ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ . فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَقَالَ " إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي " . فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ جَذَبَهُ عُمَرُ وَقَالَ أَلَيْسَ قَدْ نَهَى اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ " أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ : (اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ) " . فَصَلَّى عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: (وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ ) فَتَرَكَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Ibn 'Umar:"'Abdullah bin 'Abdullah bin Ubayy came to the Messenger of Allah (ﷺ) when his father died, and said: 'Give me your shirt to shroud him in and perform the Salat upon him, and seek forgiveness for him.' So he (ﷺ) gave him his shirt, and said: 'When you are finished then inform me.' So when he wanted to perform the Salat, 'Umar tugged at him and said: 'Has not Allah prohibited that you perform Salat over the hypocrites?' He said: 'I have been given the choice between two: 'Whether you seek forgiveness for them or you do not seek forgiveness for them.... (9:80)' So he performed the Salat for him. Then Allah revealed: 'And never pray for any of them who dies, nor stand at his grave... (9:84)' So he abandoned praying for them
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی کے باپ کا جب انتقال ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ اپنی قمیص ہمیں عنایت فرما دیں، میں انہیں ( عبداللہ بن ابی ) اس میں کفن دوں گا۔ اور ان کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے اور ان کے لیے استغفار فرما دیجئیے۔ تو آپ نے عبداللہ کو اپنی قمیص دے دی۔ اور فرمایا: ”جب تم ( غسل و غیرہ سے ) فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر دو۔ پھر جب آپ نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو عمر رضی الله عنہ نے آپ کو کھینچ لیا، اور کہا: کیا اللہ نے آپ کو منافقین کی نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے دو چیزوں «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ”ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو“ میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا۔ چنانچہ آپ نے اس کی نماز پڑھی۔ جس پر اللہ نے آیت «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» نازل فرمائی۔ تو آپ نے ان ( منافقوں ) پر نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جُرَىٍّ النَّهْدِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ " التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ يَمْلَؤُهُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الإِيمَانِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ .
A man from Banu Sulaim narrated:“The Messenger of Allah (ﷺ) counted them out in my hand” - or - “in his hand: ‘At-Tasbīḥ is half of the Scale, and “All praise is due to Allah (Al-Ḥamdulillāh)” fills it, and At-Takbīr (Allāhu Akbar) fills what is between the sky and the earth, and fasting is half of patience, and purification is half of faith.”
بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ کی انگلیوں یا اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر گن کر بتایا کہ «سبحان الله» نصف میزان رہے گا اور «الحمد لله» اس پورے پلڑے کو بھر دے گا اور «الله أكبر» آسمان و زمین کے درمیان کی ساری جگہوں کو بھر دے گا، روزہ آدھا ہے، اور پاکی نصف ایمان ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور اس حدیث کو شعبہ اور سفیان ثوری نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Ali
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَا سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ قَالَ عَلِيٌّ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَاهُ وَأُمَّهُ لأَحَدٍ إِلاَّ لِسَعْدٍ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي وَقَالَ لَهُ ارْمِ أَيُّهَا الْغُلاَمُ الْحَزَوَّرُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدٍ . وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ
Narrated 'Ali:"The Messenger of Allah (ﷺ) did not mention both (his) parents for anyone except Sa'd bin Abi Waqqas. On the Day of (the battle of) Uhud he said: 'Shoot, may my father and mother be ransomed for you.' And he said to him: 'Shoot O young man
علی بن زید اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے باپ اور ماں کو جمع نہیں کیا ۱؎، احد کے دن آپ نے سعد سے فرمایا: ”تم تیر مارو میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں، تم تیر مارو اے جوان پٹھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد لوگوں سے روایت کی گئی ہے ان سب نے اسے یحییٰ بن سعید سے، اور یحییٰ نے سعید بن مسیب کے واسطہ سے سعد رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ سَمِعْتُ مَرْوَانَ الأَصْفَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَلِيًّا، قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ " بِمَ أَهْلَلْتَ " . قَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " لَوْلاَ أَنَّ مَعِي هَدْيًا لأَحْلَلْتُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Anas bin Malik narrated:"When Ali returned to the Messenger of Allah from Yemen he said: 'For what did you intended the Talbiyah?' He replied: 'I intended the Talbiyah for what the Messenger of Allah announced it.' So he (pbuh) said: 'If I did not have the Hadi with me then I would exit Ihram
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے آئے تو آپ نے پوچھا: ”تم نے کیا تلبیہ پکارا، اور کون سا احرام باندھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے وہی تلبیہ پکارا، اور اسی کا احرام باندھا ہے جس کا تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا، اور جو احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے ۱؎ آپ نے فرمایا: ”اگر میرے ساتھ ہدی کے جانور نہ ہوتے تو میں احرام کھول دیتا“ ۲؎، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔