قَالَ سَعِيدٌ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، نَحْوَ هَذَا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ وَوَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَدْ رَوَى يُونُسُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
Anas bin Malik narrated similar to this (no. 147).:[He said:] There are narrations on this topic from 'Abdullah bin Mas'ud, Ibn Abbas, and Wathilah bin AI-Asqa
اس سند سے انس بن مالک سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابن عباس اور واثلہ بن اسقع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَبُو حَفْصٍ التِّنِّيسِيُّ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُسَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً تِلْقَاءَ وَجْهِهِ يَمِيلُ إِلَى الشِّقِّ الأَيْمَنِ شَيْئًا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ عَائِشَةَ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَهْلُ الشَّأْمِ يَرْوُونَ عَنْهُ مَنَاكِيرَ وَرِوَايَةُ أَهْلِ الْعِرَاقِ عَنْهُ أَشْبَهُ وَأَصَحُّ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ كَأَنَّ زُهَيْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الَّذِي كَانَ وَقَعَ عِنْدَهُمْ لَيْسَ هُوَ هَذَا الَّذِي يُرْوَى عَنْهُ بِالْعِرَاقِ كَأَنَّهُ رَجُلٌ آخَرُ قَلَبُوا اسْمَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ قَالَ بِهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي التَّسْلِيمِ فِي الصَّلاَةِ وَأَصَحُّ الرِّوَايَاتِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَسْلِيمَتَانِ وَعَلَيْهِ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ . وَرَأَى قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً فِي الْمَكْتُوبَةِ . قَالَ الشَّافِعِيُّ إِنْ شَاءَ سَلَّمَ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً وَإِنْ شَاءَ سَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ .
Aishah narrated:"Allah's Messenger would say one Taslim for the Salat while facing forward and turning to his right side a little
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنے چہرے کے سامنے داہنی طرف تھوڑا سا مائل ہو کر ایک سلام پھیرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: زہیر بن محمد سے اہل شام منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ البتہ ان سے مروی اہل عراق کی روایتیں زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کا کہنا ہے کہ شاید زہیر بن محمد جو اہل شام کے یہاں گئے تھے، وہ نہیں جن سے عراق میں روایت کی جاتی ہے، کوئی دوسرے آدمی ہیں جن کا نام ان لوگوں نے بدل دیا ہے، ۴- اس باب میں سہل بن سعد رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۵- نماز میں سلام پھیرنے کے سلسلے میں بعض اہل علم نے یہی کہا ہے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی سب سے صحیح روایت دو سلاموں والی ہے ۱؎، صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں۔ البتہ صحابہ کرام اور ان کے علاوہ میں سے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ فرض نماز میں صرف ایک سلام ہے، شافعی کہتے ہیں: چاہے تو صرف ایک سلام پھیرے اور چاہے تو دو سلام پھیرے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، حَدَّثَهُ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي الْغَارِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يَنْظُرُ إِلَى قَدَمَيْهِ لأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ . فَقَالَ " يَا أَبَا بَكْرٍ! مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا؟ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ تَفَرَّدَ بِهِ . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ هَمَّامٍ نَحْوَ هَذَا .
Narrated Anas:that Abu Bakr narrated to him, he said: "While were in the cave, I said to the Prophet (ﷺ): 'If one of them were to look down at his feet, then he would see us under his feet.' So he said: 'O Abu Bakr! What do you think about two, the third of whom is Allah?
ابوبکر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جب غار میں تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ان ( کافروں ) میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالے تو ہمیں اپنے قدموں کے نیچے ( غار میں ) دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال و گمان ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہمام کی حدیث مشہور ہے اور ہمام اس روایت میں منفرد ہیں، ۳- اس حدیث کو حبان بن ہلال اور کئی لوگوں نے اسی کے مانند ہمام سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ سَلاَّمٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلاَّمٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوُضُوءُ شَطْرُ الإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلآنِ أَوْ تَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَالصَّلاَةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Malik Al-Ash`ari narrated that the Messenger of Allah said:“Al-Wudu is half of faith, and All praise is due to Allah (Al-Ḥamdulillāh) fills the Scale, and Glory is to Allah and all praise is to Allah (Subḥān Allāh wal-Ḥamdulillāh)’ fill” - or - “fills what is between the heavens and the earth, and Salat is light and charity is an evidence, and patience is an illumination, and the Quran is a proof for you or against you. And all people shall come to the morning selling their souls, either setting it free or destroying it.”
ابو مالک اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو آدھا ایمان ہے، اور «الحمد لله» ( اللہ کی حمد ) میزان کو ثواب سے بھر دے گا اور «سبحان الله» اور «الحمد لله» یہ دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے درمیان کی جگہ کو یا ان میں سے ہر ایک بھر دے گا آسمانوں اور زمین کے درمیان کی ساری خلا کو ( اجر و ثواب سے ) «صلاة» نور ہے، اور «صدقة» دلیل اور کسوٹی ہے ( ایمان کی ) اور «صبر» روشنی ہے اور «قرآن» تمہارے حق میں حجت و دلیل ہے یا اور تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان صبح اٹھ کر اپنے نفس کو فروخت کرتا ہے چنانچہ یا تو ( اللہ کے یہاں فروخت کر کے ) اس کو ( جہنم سے ) آزاد کرا لیتا ہے، یا ( شیطان کے ہاں فروخت کر کے ) اس کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Sa'd
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ، - بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ " . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ " . وَهَذَا أَصَحُّ .
Narrated Sa'd:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O Allah, respond to Sa'd when he supplicates to You
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد سے قیس بن حازم کے واسطہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما“ اور یہ زیادہ صحیح ہے ( یعنی: مرسل روایت زیادہ صحیح ہے ) ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْخَصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَكَذَا رَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ . وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ أَبِيهِ . وَرِوَايَةُ مَالِكٍ أَصَحُّ . وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .
Abi Al-Baddah bin Adi narrated from his father:"The Prophet permitted the shepherds to stone a day and leave a day
عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح ابن عیینہ نے بھی روایت کی ہے، اور مالک بن انس نے بسند «عبد الله بن أبي بكر بن محمد ابن عمرو بن حزم عن أبيه عن أبي البداح بن عدي عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اور مالک کی روایت زیادہ صحیح ہے، ۲- اہل علم کی ایک جماعت نے چرواہوں کو رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ترک کر دیں۔