حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَبِهِ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ . قَالُوا يَقْرَأُ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ وَلاَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ إِلاَّ وَهُوَ طَاهِرٌ . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
Ali narrated:"Allah's Messenger would recite the Qur'an in all conditions, as long as he was not Junub
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہمیں قرآن پڑھاتے تھے۔ خواہ کوئی بھی حالت ہو جب تک کہ آپ جنبی نہ ہوتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎، ۲- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی وضو کے بغیر قرآن پڑھ سکتا ہے، لیکن مصحف میں دیکھ کر اسی وقت پڑھے جب وہ باوضو ہو۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلاَةِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ الْيُمْنَى يَدْعُو بِهَا وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَنُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ يَخْتَارُونَ الإِشَارَةَ فِي التَّشَهُّدِ وَهُوَ قَوْلُ أَصْحَابِنَا .
Ibn Umar narrated:"When the Prophet would sit during the Salat, he would place his right hand on his knee, and raise his finger, the one that is next to the [right] thumb, supplicating with it, and his left hand was spread flat on his left knee
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے ( دائیں ) گھٹنے پر رکھتے اور اپنے داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے قریب والی انگلی اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے یعنی اشارہ کرتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنے ( بائیں ) گھٹنے پر پھیلائے رکھتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن زبیر، نمیر خزاعی، ابوہریرہ، ابوحمید اور وائل بن حجر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عمر کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبیداللہ بن عمر کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اہل علم کا اسی پر عمل تھا، یہ لوگ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کو پسند کرتے اور یہی ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے۔
Narrated by Thawban
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ : ( وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ ) قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ أُنْزِلَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَا أُنْزِلَ . لَوْ عَلِمْنَا أَىُّ الْمَالِ خَيْرٌ فَنَتَّخِذَهُ فَقَالَ " أَفْضَلُهُ لِسَانٌ ذَاكِرٌ وَقَلْبٌ شَاكِرٌ وَزَوْجَةٌ مُؤْمِنَةٌ تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ فَقُلْتَ لَهُ سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ سَمِعَ مِنْ ثَوْبَانَ فَقَالَ لاَ . فَقُلْتُ لَهُ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعَ مِنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَذَكَرَ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Thawban:"When (the following) was revealed: And those who hoard up gold and silver... (9:34)" He said: "We were with the Messenger of Allah (ﷺ) during one of his journeys, so some of his Companions said: (This) has been revealed about gold and silver, if we knew which wealth was better then we would use it. So he (ﷺ) said: 'The most virtuous of it is a remembering tongue, a grateful heart, and a believing wife that helps him with his faith
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «والذين يكنزون الذهب والفضة» ”اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو آپ انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئیے“ ( التوبہ: ۳۴ ) ، نازل ہوئی، اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے بعض صحابہ نے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں جو اترا سو اترا ( یعنی اس کی مذمت آئی ) اگر ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو اسی کو اپناتے۔ آپ نے فرمایا: ”بہترین مال یہ ہے کہ آدمی کے پاس اللہ کو یاد کرنے والی زبان ہو، شکر گزار دل ہو، اور اس کی بیوی ایسی مومنہ عورت ہو جو اس کے ایمان کو پختہ تر بنانے میں مددگار ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا کہ کیا سالم بن ابی الجعد نے ثوبان سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نے ان سے کہا: پھر انہوں نے کسی صحابی سے سنا ہے؟ کہا: انہوں نے جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما سے سنا ہے اور انہوں نے ان کے علاوہ کئی اور صحابہ کا ذکر کیا۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَهُوَ الْمُلَيْكِيُّ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَ " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ .
Ibn Umar narrated that the Messenger of Allah said (ﷺ):“Allah has not been asked for anything more beloved to Him than being asked for Al-`Āfiyah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے جو بھی چیزیں مانگی گئی ہیں ان میں اللہ کو سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ اس سے عافیت ( دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے نجات ) مانگی جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوبکر ملیکی کی روایت سے جانتے ہیں، ( اور یہ ضعیف ہیں ) ۔
Narrated by Abu Salamah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " إِنَّ أَمْرَكُنَّ مِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلاَّ الصَّابِرُونَ " . قَالَ ثُمَّ تَقُولُ عَائِشَةُ فَسَقَى اللَّهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ . تُرِيدُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَقَدْ كَانَ وَصَلَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَالٍ يقالُ بِيعَتْ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Narrated Abu Salamah:from 'Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "Indeed your affair [feminine plural: referring to the wives of the Prophet (ﷺ)] is from that which concerns me after me, and none shall be able to be patient concerning you except the patient ones." He said: "Then 'Aishah said: 'So may Allah give your father drink from the Salsabil of Paradise" intending 'Abdur-Rahman bin 'Awf (Abu Salamah is the son of 'Abdur-Rahman bin 'Awf). And he had maintained ties with the wives of the Prophet (ﷺ) with property that had been sold for forty-thousand
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں سے ) فرماتے تھے: تم لوگوں کا معاملہ مجھے پریشان کئے رہتا ہے کہ میرے بعد تمہارا کیا ہو گا؟ تمہارے حقوق کی ادائیگی کے معاملہ میں صرف صبر کرنے والے ہی صبر کر سکیں گے۔ پھر عائشہ رضی الله عنہا نے ( ابوسلمہ سے ) کہا: اللہ تمہارے والد یعنی عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کی نہر سلسبیل سے سیراب کرے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو چالیس ہزار ( دینار ) میں بکا، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، اشْتَكَى عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَسَأَلَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ فَقَالَ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَذْكُرُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يَتَدَاوَى الْمُحْرِمُ بِدَوَاءٍ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ طِيبٌ .
Nubaih bin Wahb narrated that :Umar bin Ubaidullah bin Ma'mar was complaining about his eyes while he was a Muhrim. He asked Aban bin Uthman about it and he said: "Bandage it with some aloes, for I heard Uthman bin Affan mentioning that the Messenger of Allah said: 'Bandage it with aloes
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں، وہ احرام سے تھے، انہوں نے ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: ان میں ایلوے کا لیپ کر لو، کیونکہ میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کو اس کا ذکر کرتے سنا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ان پر ایلوے کا لیپ کر لو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ محرم کے ایسی دوا سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جس میں خوشبو نہ ہو۔