بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ، لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَتْ قُلْتُ لأُمِّ سَلَمَةَ إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَوْطَإِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا وَطِئَ الرَّجُلُ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ أَنَّهُ لاَ يَجِبُ عَلَيْهِ غَسْلُ الْقَدَمِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَطْبًا فَيَغْسِلَ مَا أَصَابَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِهُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ وَهُوَ وَهَمٌ وَلَيْسَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ابْنٌ يُقَالُ لَهُ هُودٌ وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ وَهَذَا الصَّحِيحُ ‏.‏
Abdur-Rahman bin Awf's Umm Walad said, :"I said to Umm Salamah: 'Indeed I am a woman with lengthy hems, and I walk in places of filth.' So she said: 'Allah's Messenger said: "It is purified by what comes after it
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کی ایک ام ولد سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے کہا: میں لمبا دامن رکھنے والی عورت ہوں اور میرا گندی جگہوں پر بھی چلنا ہوتا ہے، ( تو میں کیا کروں؟ ) انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کے بعد کی ( پاک ) زمین اسے پاک کر دیتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ گندی جگہوں پر سے گزرنے کے بعد پاؤں نہیں دھوتے تھے، ۲- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ جب آدمی کسی گندے راستے سے ہو کر آئے تو اسے پاؤں دھونے ضروری نہیں سوائے اس کے کہ گندگی گیلی ہو تو ایسی صورت میں جو کچھ لگا ہے اسے دھو لے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُخْفِيَ، التَّشَهُّدَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏
Abdullah bin Mas`ud said:"It is from the Sunnah to say the Tashahhud quietly
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں سنت سے یہ ہے ۱؎ کہ تشہد آہستہ پڑھا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ ثُمَّ أَتْبَعَهُ عَلِيًّا فَبَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ إِذْ سَمِعَ رُغَاءَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقَصْوَاءَ فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَزِعًا فَظَنَّ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَدَفَعَ إِلَيْهِ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ فَانْطَلَقَا فَحَجَّا فَقَامَ عَلِيٌّ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فَنَادَى ذِمَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ بَرِيئَةٌ مِنْ كُلِّ مُشْرِكٍ فَسِيحُوا فِي الأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَلاَ يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَلاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَكَانَ عَلِيٌّ يُنَادِي فَإِذَا عَيِيَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَادَى بِهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:"The Messenger of Allah (ﷺ) dispatched Abu Bakr ordering him to announce these statements. Then 'Ali followed him. When Abu Bakr was at a particular road, he heard the heavy breathing of Al-Qiswa, the she camel of the Messenger of Allah (ﷺ), so Abu Bakr appeared frightened because he thought that it was the Messenger of Allah (ﷺ). When he saw that it was 'Ali, he gave him the letter of the Messenger of Allah (ﷺ), and told 'Ali to announce the statements. So he left to perform Hajj. During the day of At-Tashriq 'Ali stood to announce: 'The protection of Allah and His Messenger is removed from every idolater. So travel in the land for four months. There is to be no idolater performing Hajj after this year, nor may anyone perform Tawaf around the House while naked. None shall enter Paradise but a believer.' 'Ali was making the announcement, so when he became exhausted Abu Bakr would announce it
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ کو ( مکہ ) بھیجا کہ وہاں پہنچ کر لوگوں میں ان کلمات ( سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات ) کی منادی کر دیں۔ پھر ( ان کے بھیجنے کے فوراً بعد ہی ) ان کے پیچھے آپ نے علی رضی الله عنہ کو بھیجا۔ ابوبکر رضی الله عنہ بھی کسی جگہ راستہ ہی میں تھے کہ انہوں نے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصویٰ کی بلبلاہٹ سنی، گھبرا کر ( خیمہ ) سے باہر آئے، انہیں خیال ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، لیکن وہ آپ کے بجائے علی رضی الله عنہ تھے۔ علی رضی الله عنہ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خط انہیں پکڑا دیا، اور ( آپ نے ) علی رضی الله عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کلمات کا ( بزبان خود ) اعلان کر دیں۔ پھر یہ دونوں حضرات ساتھ چلے، ( دونوں نے حج کیا، اور علی رضی الله عنہ نے ایام تشریق میں کھڑے ہو کر اعلان کیا: اللہ اور اس کے رسول ہر مشرک و کافر سے بری الذمہ ہیں، صرف چار مہینے ( سر زمین مکہ میں ) گھوم پھر لو، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، کوئی شخص بیت اللہ کا ننگا ہو کر طواف نہ کرے، جنت میں صرف مومن ہی جائے گا، علی رضی الله عنہ اعلان کرتے رہے جب وہ تھک جاتے تو انہیں کلمات کا ابوبکر رضی الله عنہ اعلان کرنے لگتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَأُعْطِيتَهَا فِي الآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ ‏.‏
Anas bin Malik narrated that a man came to the Prophet (ﷺ) and said:“O Messenger of Allah, which supplication is the best?” He (ﷺ) said: “Ask Your Lord For Al-`Āfiyah and Al-Mu`āfāh in this world and in the Hereafter.” Then he came to him on the second day and said: “O Messenger of Allah, which supplication is the best?” So he (ﷺ) said to him similar to that. Then he came to him on the third day, so he (ﷺ) said to him similar to that. He (ﷺ) said: “So when you have been given Al-`Āfiyah in this world, and you have been given it in the Hereafter, then you have succeeded.”
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ( سب سے اچھی ) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے رب سے دنیا و آخرت میں بلاؤں و مصیبتوں سے بچا دینے کی دعا کرو“، پھر آپ کے پاس وہی شخص دوسرے دن بھی آیا، اور آپ سے پھر پوچھا: ”کون سی دعا افضل ہے؟“ آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا پہلے جواب دیا تھا، وہ شخص تیسرے دن بھی آپ کے پاس حاضر ہوا، اس دن بھی آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا، مزید فرمایا: ”جب تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو سمجھ لو کہ تم نے کامیابی حاصل کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated by Hisham bin 'Urwah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَوْصَى الزُّبَيْرُ إِلَى ابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ صَبِيحَةَ الْجَمَلِ فَقَالَ مَا مِنِّي عُضْوٌ إِلاَّ وَقَدْ جُرِحَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حَتَّى انْتَهَى ذَاكَ إِلَى فَرْجِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏
Narrated Hisham bin 'Urwah:"On the Day of (the battle of) Al-Jamal, Az-Zubair exhorted his son 'Abdullah, saying: 'There is not a part of me except that it has been injured while with the Messenger of Allah (ﷺ),' until that ended with his private parts
ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ زبیر رضی الله عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ ( رضی الله عنہما ) کو جنگ جمل کی صبح کو وصیت کی اور کہا: میرا کوئی عضو ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں زخمی نہ ہوا ہو یہاں تک کہ میری شرمگاہ بھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حماد بن زید کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، سَمِعَ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ يَعْنِي مَرْفُوعًا، قَالَ ‏ "‏ يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ بِمَكَّةَ ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مَرْفُوعًا ‏.‏
Al-Ala bin Al-Hadrami narrated :(that the Prophet said): "The Muhajir may stay for three (days) in Makkah after carrying out his rites
علاء بن حضرمی رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر اپنے حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد مکے میں تین دن ٹھہر سکتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اس سند سے اور طرح سے بھی یہ حدیث مرفوعاً روایت کی گئی ہے۔