حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " . قَالَتْ قُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ . قَالَ " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلاَفًا فِي ذَلِكَ بِأَنْ لاَ بَأْسَ أَنْ تَتَنَاوَلَ الْحَائِضُ شَيْئًا مِنَ الْمَسْجِدِ .
Aishah narrated:"Allah's Messenger said to me: 'Bring me the Khumrah from the Masjid.' She said: "I said: 'I am menstruating.' He said: 'Indeed your menstruation is not in your hand
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مسجد سے مجھے بوریا اٹھا کر دو“، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، آپ نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے۔ ہم اس مسئلہ میں کہ ”حائضہ کے مسجد سے کوئی چیز اٹھانے میں کوئی حرج نہیں“ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، قَدِمَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِهِمَا فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " أَوْ " إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ سِحْرٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمَّارٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Ibn 'Umar narrated that two men arrived during the time of the Messenger of Allah delivering an address. The people were amazed by their speech, so the Messenger of Allah turned to us and said:"Indeed there is magic in eloquence'-or- 'Indeed some eloquence is magic
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو آدمی آئے ۱؎ اور انہوں نے تقریر کی، لوگ ان کی تقریر سن کر تعجب کرنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کچھ باتیں جادو ہوتی ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمار، ابن مسعود اور عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَلِيُّ أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي لاَ تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ . وَقَدْ ضَعَّفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْحَارِثَ الأَعْوَرَ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ الإِقْعَاءَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ .
Ali narrated:"Allah's Messenger said to me: 'O Ali! I love for you what I love for myself, and I dislike for you what I dislike for myself. Do not squat between prostrations
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے کرتا ہوں، اور وہی چیز ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں۔ تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء ۱؎ نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اسے علی کی حدیث سے صرف ابواسحاق سبیعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں، انہوں نے حارث سے اور حارث نے علی سے روایت کی ہے، ۲- بعض اہل علم نے حارث الاعور کو ضعیف قرار دیا ہے ۲؎، ۳- اس باب میں عائشہ، انس اور ابوہریرہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ وہ اقعاء کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَمِّرُوا الآنِيَةَ وَأَوْكُوا الأَسْقِيَةَ وَأَجِيفُوا الأَبْوَابَ وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا جَرَّتِ الْفَتِيلَةَ فَأَحْرَقَتْ أَهْلَ الْبَيْتِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Jabir bin 'Abdullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Cover the vessels, tie the water-skins, close the doors, extinguish the torches, for indeed the mischief-makers (vermin) may drag away the wick, causing a fire for the inhabitants of the house
جابر رضی الله عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( رات میں ) برتنوں کو ڈھانپ کر رکھو اور مشکوں کے منہ باندھ دیا کرو، گھر کے دروازے بند کر دیا کرو، اور چراغوں کو بجھا دیا کرو کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چوہیا چراغ کی بتی کھینچ لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا ڈالتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے جابر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہے۔
Narrated by Abu Burdah bin Abi Musa
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَىَّ أَمَانَيْنِ لأُمَّتِي : ( وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ ) ( وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ) إِذَا مَضَيْتُ تَرَكْتُ فِيهِمْ الاِسْتِغْفَارَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ .
Narrated Abu Burdah bin Abi Musa:from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah sent down two guarantees of safety for the benefit of my Ummah: And Allah would not punish them while you are among them, nor will He punish them while they seek forgiveness (8:33). So when I pass, I leave seeking forgiveness among them until the Day of Resurrection
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لیے اللہ نے مجھ پر دو امان نازل فرمائے ہیں ( ایک ) «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم» ”تمہارے موجود رہتے ہوئے اللہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، ( دوسرا ) «وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون» ”دوسرے جب وہ توبہ و استغفار کرتے رہیں گے تو بھی ان پر اللہ عذاب نازل نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، اور جب میں ( اس دنیا سے ) چلا جاؤں گا تو ان کے لیے دوسرا امان استغفار قیامت تک چھوڑ جاؤں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے۔ ۲- اسماعیل بن مہاجر حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ سَمِعَنِي أَبِي، وَأَنَا أَقُولُ اللَّهُمَّ، إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْكَسَلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ . قَالَ يَا بُنَىَّ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا قَالَ قُلْتُ سَمِعْتُكَ تَقُولُهُنَّ . قَالَ الْزَمْهُنَّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُنَّ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ [صَحِيحٌ][غَرِيبٌ] .
Muslim bin Abi Bakrah said:“My father heard me while I was saying: “O Allah, I seek refuge in You from sadness and laziness and the punishment of the grave (Allāhumma, innī a`ūdhu bika minal-hammi wal-kasali wa `adhābil-qabr).’ He said: ‘O my son, from who did you hear this?’” He said: “I said: ‘I heard you saying them.’ He said: ‘Stick to them, for indeed, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying them.’”
مسلم بن ابوبکرہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والكسل وعذاب القبر» ”اے اللہ میں غم و فکر اور سستی و کاہلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں“، پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: اے بیٹے تو نے یہ دعا کس سے سنی؟ میں نے کہا: میں نے آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنی ہے، انہوں نے کہا: انہیں پابندی سے پڑھتے رہا کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated by Umm 'Atiyyah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرَاحِيلَ، قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ . قَالَتْ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ " اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عَلِيًّا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Narrated Umm 'Atiyyah:"The Prophet (ﷺ) sent an army in which was 'Ali." She said: "While he was raising his hands, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'O Allah! Do not cause me to die until You allow me to see 'Ali
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس میں علی رضی الله عنہ بھی تھے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے: «اللهم لا تمتني حتى تريني عليا» ”اے اللہ! تو مجھے مارنا نہیں جب تک کہ مجھے علی کو دکھا نہ دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَفَأَشْتَرِطُ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَتْ كَيْفَ أَقُولُ قَالَ " قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ مَحِلِّي مِنَ الأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِي " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ الاِشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُونَ إِنِ اشْتَرَطَ فَعَرَضَ لَهُ مَرَضٌ أَوْ عُذْرٌ فَلَهُ أَنْ يَحِلَّ وَيَخْرُجَ مِنْ إِحْرَامِهِ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَلَمْ يَرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الاِشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَقَالُوا إِنِ اشْتَرَطَ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ إِحْرَامِهِ . وَيَرَوْنَهُ كَمَنْ لَمْ يَشْتَرِطْ .
Ibn Abbas narrated:"Duba'ah bint Az-Zubair came to the prophet and said: 'O Messenger of Allah! I want to perform Hajj so should I state a condition?' He said: 'Yes.' She asked: 'So how should I say it?' He said: 'Say; "Labbaik Allahumma labbaika mahilli minal Ard haithu tahbisuni (I respond to Your call O Allah, I respond to Your call, I will exit Ihram any where on the earth where You prevent me)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، تو کیا میں شرط لگا سکتی ہوں؟ ( کہ اگر کوئی عذر شرعی لاحق ہوا تو احرام کھول دوں گی ) آپ نے فرمایا: ”ہاں، تو انہوں نے پوچھا: میں کیسے کہوں؟ آپ نے فرمایا: «لبيك اللهم لبيك لبيك محلي من الأرض حيث تحبسني» ”حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں حاضر ہوں، میرے احرام کھولنے کی جگہ وہ ہے جہاں تو مجھے روک دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، اسماء بنت ابی بکر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے، وہ حج میں شرط لگا لینے کو درست سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے شرط کر لی پھر اسے کوئی مرض یا عذر لاحق ہوا تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ حلال ہو جائے اور اپنے احرام سے نکل آئے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- بعض اہل علم حج میں شرط لگانے کے قائل نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے شرط لگا بھی لی تو اسے احرام سے نکلنے کا حق نہیں، یہ لوگ اسے اس شخص کی طرح سمجھتے ہیں جس نے شرط نہیں لگائی ہے ۱؎۔