بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ مُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ فَقَالَ ‏ "‏ وَاكِلْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَرَوْا بِمُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ بَأْسًا ‏.‏ وَاخْتَلَفُوا فِي فَضْلِ وَضُوئِهَا فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ فَضْلَ طَهُورِهَا ‏.‏
Abdullah bin Sa'd narrated:I asked the Prophet about eating with a menstruating woman. He said: "Eat with her
عبداللہ بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ کھاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن سعد رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے: یہ لوگ حائضہ کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں جانتے۔ البتہ اس کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے سلسلہ میں ان میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے اس کی اجازت دی ہے اور بعض نے اس کی طہارت سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ، مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الإِيمَانِ وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ ‏.‏ قَالَ وَالْعِيُّ قِلَّةُ الْكَلاَمِ وَالْبَذَاءُ هُوَ الْفُحْشُ فِي الْكَلاَمِ وَالْبَيَانُ هُوَ كَثْرَةُ الْكَلاَمِ مِثْلُ هَؤُلاَءِ الْخُطَبَاءِ الَّذِينَ يَخْطُبُونَ فَيُوَسِّعُونَ فِي الْكَلاَمِ وَيَتَفَصَّحُونَ فِيهِ مِنْ مَدْحِ النَّاسِ فِيمَا لاَ يُرْضِي اللَّهَ ‏.‏
Abu Umamah narrated that the Messenger of Allah (s.A.W) said:"Al-Haya' and Al-'Iy are two branches of faith, and Al-Badha and Al-Bayan are two branches of Hypocrisy
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء اور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں، جب کہ فحش کلامی اور کثرت کلام نفاق کی دو شاخیں ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب، ہم اسے صرف ابوغسان محمد بن مطرف ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- «عي» کا معنی ”کم گوئی“ اور «بذاء» کا معنی ”فحش گوئی“ ہے، «بيان» کا معنی ”کثرت کلام“ ہے، مثلا وہ مقررین جو لمبی تقریریں کرتے ہیں اور لوگوں کی تعریف میں ایسی فصاحت بگھاڑتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ، وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَحْنِ رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَسْجُدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَسْجُدَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَمُعَاوِيَةَ وَابْنِ مَسْعَدَةَ صَاحِبِ الْجُيُوشِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ أَهْلُ الْعِلْمِ إِنَّ مَنْ خَلْفَ الإِمَامِ إِنَّمَا يَتْبَعُونَ الإِمَامَ فِيمَا يَصْنَعُ لاَ يَرْكَعُونَ إِلاَّ بَعْدَ رُكُوعِهِ وَلاَ يَرْفَعُونَ إِلاَّ بَعْدَ رَفْعِهِ ‏.‏ لاَ نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلاَفًا ‏.‏
Al-Bara said:"When we performed Salat behind Allah's Messenger, he would raise his head from bowing, and no man among us would bend his back until Allah's Messenger prostrated, then we prostrated
براء بن عازب رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے اور جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو ہم میں سے کوئی بھی شخص اپنی پیٹھ ( سجدے کے لیے ) اس وقت تک نہیں جھکاتا تھا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں نہ چلے جاتے، آپ سجدے میں چلے جاتے تو ہم سجدہ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، معاویہ، ابن مسعدہ صاحب جیوش، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور یہی اہل علم کہتے ہیں یعنی: جو امام کے پیچھے ہو وہ ان تمام امور میں جنہیں امام کر رہا ہو امام کی پیروی کرے، یعنی اسے امام کے بعد کرے، امام کے رکوع میں جانے کے بعد ہی رکوع میں جائے اور اس کے سر اٹھانے کے بعد ہی اپنا سر اٹھائے، ہمیں اس مسئلہ میں ان کے درمیان کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ نَظَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلاَثُمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلاً فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ وَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ آتِنِي مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الإِسْلاَمِ لاَ تُعْبَدُ فِي الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏ فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ مِنْ مَنْكِبَيْهِ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ مُرْدِفِينَ ‏)‏ فَأَمَدَّهُمُ اللَّهُ بِالْمَلاَئِكَةِ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا يَوْمَ بَدْرٍ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:from 'Umar bin Al-Khattab, who said: "The Prophet (ﷺ) looked over the idolaters, and there were a thousand of them, while his Companions were three-hundred and ten and some odd number of men. So the Prophet of Allah (ﷺ) faced the Qiblah, stretched forth his hands and began beseeching his Lord: 'O Allah! Fulfill what You promised for me. [O Allah! Bring about what You promised for me] O Allah! If you destroy this band of adherents to Islam, you will not be worshiped upon the earth,' He continued beseeching his Lord with his hands stretched, facing the Qiblah until his Rida fell from his shoulders. Abu Bakr came to him, took his Rida and placed it back upon his shoulders, then embraced him from behind and said: 'O Prophet of Allah! You have sufficiently beseeched your Lord, indeed He shall fulfill what He promised you.' So Allah, Blessed and Most High, revealed: When you sought help of your Lord and He answered you (saying): 'I will help you with a thousand of the angels in succession (8:9).' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib. We do not know of it as a Hadith of 'Umar, except through the narration of 'Ikrimah bin 'Ammar, from Abu Zumail, and Abu Zumail's name is Simãk Al-Hanafi. And this was on the Day of Badr
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( جنگ بدر کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مشرکین مکہ پر ) ایک نظر ڈالی، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے صحابہ تین سو دس اور کچھ ( کل ۳۱۳ ) تھے۔ پھر آپ قبلہ رخ ہو گئے اور اپنے دونوں ہاتھ اللہ کے حضور پھیلا دیئے اور اپنے رب کو پکارنے لگے: ”اے میرے رب! مجھ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا فرما دے، جو کچھ تو نے مجھے دینے کا وعدہ فرمایا ہے، اسے عطا فرما دے، اے میرے رب! اگر اہل اسلام کی اس مختصر جماعت کو تو نے ہلاک کر دیا تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جا سکے گی“۔ آپ قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتے رہے یہاں تک کہ آپ کی چادر آپ کے دونوں کندھوں پر سے گر پڑی۔ پھر ابوبکر رضی الله عنہ نے آ کر آپ کی چادر اٹھائی اور آپ کے کندھوں پر ڈال کر پیچھے ہی سے آپ سے لپٹ کر کہنے لگے۔ اللہ کے نبی! بس، کافی ہے آپ کی اپنے رب سے اتنی ہی دعا۔ اللہ نے آپ سے جو وعدہ کر کھا ہے وہ اسے پورا کرے گا ( ان شاءاللہ ) پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی «إذ تستغيثون ربكم فاستجاب لكم أني ممدكم بألف من الملائكة مردفين» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- عمر رضی الله عنہ کی اس حدیث کو صرف عکرمہ بن عمار کی روایت سے جانتے ہیں۔ جسے وہ ابوزمیل سے روایت کرتے ہیں۔ ابوزمیل کا نام سماک حنفی ہے۔ ایسا بدر کے دن ہوا ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُومُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتَّى يَدْعُوَ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ لأَصْحَابِهِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا وَلاَ تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا وَلاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلاَ تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لاَ يَرْحَمُنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏
Ibn `Umar said:“Rarely would the Messenger of Allah (ﷺ) stand from a sitting until he supplicated with these words for his Companions: ‘O Allah, apportion for us, fear of You, that shall come between us and disobedience of You, and of obedience to You, which shall cause us to obtain Your Paradise, and of certainty, which shall make the afflictions of the world easy for us, and enjoyment of our hearing, and our seeing, and our strength as long as You keep us alive, and make it the inheritor of us. And let our vengeance be upon those who have wronged us, and aid us against those who show enmity towards us, and do not make our affliction in our religion, and do not make this world our greatest concern, nor the limit of our knowledge, and do not give power over us to those who will not have mercy on us. (Allāhumma-qsim lanā min khashyatika mā yaḥūlu, bainanā wa baina ma`āṣīka wa min ṭā`atika mā tuballighuna bihī jannatak, wa minal-yaqīni mā tuhawwinu bihī `alainā muṣībatid-dunyā, wa matti`na bi-asmā`inā wa abṣārina wa quwwatina mā aḥyaytanā, waj`alhul-wāritha minnā, waj`al tha’ranā `alā man ẓalamanā, wanṣurna `alā man `ādānā, wa lā taj`al muṣībatanā fī dīninā, wa lā taj`alid-dunyā akbara hamminā wa lā mablagha `ilminā, wa lā tusalliṭ `alainā man lā yarḥamunā).’”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی مجلس سے اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا کیے بغیر اٹھے ہوں: «اللهم اقسم لنا من خشيتك ما يحول بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثأرنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا أكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا» ”اے اللہ! ہمارے درمیان تو اپنا اتنا خوف بانٹ دے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے، اور ہمارے درمیان اپنی اطاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ہمیں اتنا یقین دیدے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اور آسان ہو جائیں، اور جب تک تو زندہ رکھ ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ، اور ان سب کو ( ہماری موت تک ) باقی رکھ، اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ ان سے لے جو ہم پر ظلم کرے، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما، اور دنیا کو ہمارا برا مقصد نہ بنا دے، اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا ( کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھانا صرف دنیا کی خاطر ہو ) اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض محدثین نے یہ حدیث خالد بن ابوعمران سے اور خالد نے نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے۔
Narrated by Ali
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي، يَحْيَى بْنِ عِيسَى الرَّمْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ لَقَدْ عَهِدَ إِلَىَّ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَّهُ لاَ يُحِبُّكَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَبْغَضُكَ إِلاَّ مُنَافِقٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِينَ دَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated 'Ali:"The Prophet (ﷺ) - the Unlettered Prophet - exhorted me (saying): 'None loves you except a believer and none hates you except a hypocrite.'" 'Adi bin Thabit (a narrator) said: "I am from the generation whom the Prophet (ﷺ) supplicated for
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے“ ۱؎۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں: میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں، جن کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالاَ صَدَقَ ‏.‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنِ الْحَجَّاجِ، مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَرَوَى مَعْمَرٌ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏ وَحَجَّاجٌ الصَّوَّافُ لَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَافِعٍ ‏.‏ وَحَجَّاجٌ ثِقَةٌ حَافِظٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ رِوَايَةُ مَعْمَرٍ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ أَصَحُّ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏
Ikrimah narrated from Al-Hajjaj bin Amr who narrated that:The Messenger of Allah said: "Whoever suffers a fracture or becomes lame them he (leaves the state of Ihram) and is required to perform another Hajj." I (Ikrimah) mentioned that to Abu Hurairah and Ibn Abbas and they said: "He told the truth
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا کوئی عضو ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو اس کے لیے احرام کھول دینا درست ہے، اس پر دوسرا حج لازم ہو گا“ ۱؎۔ میں نے اس کا ذکر ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے کیا تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں نے ( حجاج ) سچ کہا۔ اسحاق بن منصور کی سند بھی حجاج رضی الله عنہ سے اسی کے مثل روایت ہے البتہ اس میں «عن الحجاج بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» کے بجائے «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم» کے الفاظ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی اور لوگوں نے بھی حجاج الصواف سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- معمر اور معاویہ بن سلام نے بھی یہ حدیث بطریق: «يحيى بن أبي كثير عن عكرمة عن عبد الله بن رافع عن الحجاج بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اور حجاج الصواف نے اپنی روایت میں عبداللہ بن رافع کا ذکر نہیں کیا ہے، حجاج الصواف محدثین کے نزدیک ثقہ اور حافظ ہیں، ۵- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ معمر اور معاویہ بن سلام کی روایت سب سے زیادہ صحیح ہے، ۶- عبدالرزاق نے بسند «معمر عن يحيى بن أبي كثير عن عكرمة عن عبد الله بن رافع عن الحجاج بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔