بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
11
45 hadith
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنْ قَضَى اللَّهُ بَيْنَهُمَا وَلَدًا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Ibn Abbas narrated that:The Messenger of Allah said: "If anyone of you, when having sexual intercourse with his wife, says: (Bismillah, Allahumma jannibnash-Shaitana wa jannibish-Shaitana ma razaqtana) 'In the Name of Allah, O Allah! Protect me from Shaitan and protect what you bestow upon us from Shaitan' - then if Allah decrees that they should have a child, Shaitan will not be able to harm him
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے یعنی اس سے صحبت کرنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے: «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! تو ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ اور اسے بھی شیطان سے محفوظ رکھ جو تو ہمیں عطا کرے یعنی ہماری اولاد کو“، تو اگر اللہ نے ان کے درمیان اولاد دینے کا فیصلہ کیا ہو گا تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى امْرَأَةً فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ فَقَضَى حَاجَتَهُ وَخَرَجَ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَهِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ هُوَ هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ ‏.‏
Jabir (bin Abdullah) narrated:“The Prophet saw a woman, then he went to Zainab to fulfill his need and he left. He said: ‘Indeed when the woman enters, she enters in the image of Shaitan. So when one of you sees a woman that he is fascinated with, then let him go to his wife, for indeed with her (his wife) is the same as that which is with her.”
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو آپ زینب رضی الله عنہا کے پاس تشریف لائے اور آپ نے اپنی ضرورت پوری کی اور باہر تشریف لا کر فرمایا: ”عورت جب سامنے آتی ہے تو وہ شیطان کی شکل میں آتی ہے ۱؎، لہٰذا جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے بھلی لگے تو اپنی بیوی کے پاس آئے اس لیے کہ اس کے پاس بھی اسی جیسی چیز ہے جو اس کے پاس ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث صحیح حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- ہشام دستوائی دراصل ہشام بن سنبر ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُزَاحِمُ بْنُ ذَوَّادِ بْنِ عُلْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ لَمْ تَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ‏"‏
Thawban narrated that:The Prophet said: "The women who seek a Khul are hypocrites
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خلع لینے والی عورتیں منافق ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے، اس کی سند قوی نہیں ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے آپ نے فرمایا: ”جس عورت نے بلا کسی سبب کے اپنے شوہر سے خلع لیا، تو وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گی“۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ بِعِشْرِينَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَخَذَهُ لأَهْلِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas: "The Prophet (ﷺ) died while his armour was pawned for twenty Sa' of food that he got for his family." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ بیس صاع غلے کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔ آپ نے اسے اپنے گھر والوں کے لیے لیا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ عَلَيْهَا قَائِمًا فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَذَهَبْتُ لأَتَأَخَّرَ عَنْهُ فَدَعَانِي حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَمِعْتُ الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الأَعْمَشِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ وَكِيعٌ هَذَا أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْحِ ‏.‏ وَسَمِعْتُ أَبَا عَمَّارٍ الْحُسَيْنَ بْنَ حُرَيْثٍ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَكَذَا رَوَى مَنْصُورٌ وَعُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ الأَعْمَشِ ‏.‏ وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَعَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَحَدِيثُ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَصَحُّ ‏.‏ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَوْلِ قَائِمًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَعَبِيدَةُ بْنُ عَمْرٍو السَّلْمَانِيُّ رَوَى عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ ‏.‏ وَعَبِيدَةُ مِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ يُرْوَى عَنْ عَبِيدَةَ أَنَّهُ قَالَ أَسْلَمْتُ قَبْلَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِسَنَتَيْنِ ‏.‏ وَعُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ صَاحِبُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيُّ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْكَرِيمِ ‏.‏
Hudhaifah narrated:"Allah's Messenger came to a waste area used by people, so he urinated on it while standing. I brought him the (water for) Wudu. Then I left to be away from him, but he called me until I was behind him. So he performed Wudu and wiped (Masaba) over his Khuff
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا گزر ایک قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر سے ہوا تو آپ نے اس پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں آپ کے لیے وضو کا پانی لایا، اسے رکھ کر میں پیچھے ہٹنے لگا، تو آپ نے مجھے اشارے سے بلایا، میں ( آ کر ) آپ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وکیع کہتے ہیں: یہ حدیث مسح کے سلسلہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی حدیثوں میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ۲- یہ حدیث بروایت مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے ۱؎ ابووائل کی حدیث جسے انہوں نے حذیفہ سے روایت کیا ( مغیرہ کی روایت سے ) زیادہ صحیح ہے ۲؎، ۳- محدثین میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ شَامِيٌّ وَبُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ كُوفِيٌّ وَأَبُو مَرْيَمَ هُوَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ ‏.‏
(Another chain) from Abu Maryam the Companion of the Prophet (ﷺ), from the Prophet (ﷺ)
ابومریم رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ یزید بن ابی مریم شام کے رہنے والے ہیں اور برید بن ابی مریم کوفہ کے رہنے والے ہیں اور ابومریم کا نام عمرو بن مرہ جہنی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فِي الدِّمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Indeed the first cases to be judged between the worshippers are those of bloodshed
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( آخرت میں ) بندوں کے درمیان سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا“۔
Narrated by Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Uthbah
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَشِبْلٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ رَجُلاَنِ يَخْتَصِمَانِ فَقَامَ إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا وَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَائْذَنْ لِي فَأَتَكَلَّمَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَا بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَفَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ ثُمَّ لَقِيتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَزَعَمُوا أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا ‏.‏
Narrated 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Uthbah:That he heard from Abu Hurairah, Zaid bin Khalid, and Shibl, that they were with the Prophet (ﷺ) and two men came to him disputing. So one of them stood before him and said: "I ask you by Allah, O Messenger of Allah! Only that you would judge between us by the book of Allah." So his disputant said - and he was more eloquent that him: "I agree of O Messenger of Allah! Judge between us by the Book of Allah, and allow me to speak. My son was a servant for this man and he committed adultery with his wife. So they told me that my son was to be stoned. I paid him one hundred female sheep and a female slave. Then I met some people from the people of knowledge and they said that my son was to be lashed one hundred times, and to be banished for a year and that stoning is only for this man's wife." So the Prophet (ﷺ) said: "By the One in Whose Hand is my soul! I will judge between you two by the Book of Allah. The one hundred female sheep and the female slave should be returned to you. For your son is one hundred lashes and banishment for a year. O Unais! Go to this Man's wife, and if she confesses then stone her." He went to her and she confessed, so he stoned her
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اسی دوران آپ کے پاس جھگڑتے ہوئے دو آدمی آئے، ان میں سے ایک کھڑا ہوا اور بولا: اللہ کے رسول! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں! آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کیجئے ( یہ سن کر ) مدعی علیہ نے کہا اور وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا، ہاں، اللہ کے رسول! ہمارے درمیان آپ کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کیجئے، اور مجھے مدعا بیان کرنے کی اجازت دیجئیے، ( چنانچہ اس نے بیان کیا ) میرا لڑکا اس کے پاس مزدور تھا، چنانچہ وہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر بیٹھا ۱؎، لوگوں ( یعنی بعض علماء ) نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم واجب ہے، لہٰذا میں نے اس کی طرف سے سو بکری اور ایک خادم فدیہ میں دے دی، پھر میری ملاقات کچھ اہل علم سے ہوئی تو ان لوگوں نے کہا: میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی واجب ہے ۲؎، اور اس کی بیوی پر رجم واجب ہے ۳؎، ( یہ سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے موافق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکری اور خادم تمہیں واپس مل جائیں گے، ( اور ) تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے اسے شہر بدر کیا جائے گا، انیس! ۴؎ تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دو“، چنانچہ انیس اس کے گھر گئے، اس نے اقبال جرم کر لیا، لہٰذا انہوں نے اسے رجم کر دیا ۵؎۔ اس سند سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی سے، اسی جیسی اسی معنی کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ اس سند سے بھی مالک کی سابقہ حدیث جیسی اسی معنی کی حدیث روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ اور زید بن خالد کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح مالک بن انس، معمر اور کئی لوگوں نے بطریق: «الزهري، عن عبيد الله بن عتبة، عن أبي هريرة و زيد بن خالد، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- کچھ اور لوگوں نے بھی اسی سند سے ۶؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس میں ہے کہ ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی مرتبہ زنا کرے تو اسے بیچ دو، خواہ قیمت میں گندھے ہوئے بالوں کی رسی ہی کیوں نہ ملے“، ۴- اور سفیان بن عیینہ زہری سے، زہری عبیداللہ سے، عبیداللہ ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں، ان لوگوں نے کہا: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ۵- ابن عیینہ نے اسی طرح دونوں حدیثوں کو ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے، ابن عیینہ کی حدیث میں سفیان بن عیینہ سے وہم ہوا ہے، انہوں نے ایک حدیث کو دوسری حدیث کے ساتھ خلط ملط کر دیا ہے، صحیح وہ حدیث ہے جسے محمد بن ولید زبیدی، یونس بن عبید اور زہری کے بھتیجے نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے ابوہریرہ اور زید بن خالد سے اور ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ“، ۶- اور زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے شبل بن خالد سے، شبل نے عبداللہ بن مالک اوسی سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”جب لونڈی زنا کرے“، ۷- اہل حدیث کے نزدیک ( شبل کی روایت بواسطہ عبداللہ بن مالک ) یہی صحیح ہے، کیونکہ شبل بن خالد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا ہے، بلکہ شبل، عبداللہ بن مالک اوسی سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، یہی صحیح ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی روایت میں ”شبل بن حامد“ کہا ہے، یہ غلط ہے، صحیح ”شبل بن خالد“ ہے اور انہیں ”شبل بن خلید“ بھی کہا جاتا ہے، ۸- اس باب میں ابوبکرہ، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، ابوسعید، ابن عباس، جابر بن سمرہ، ہزال، بریدہ، سلمہ بن محبق، ابوبرزہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Umm Habibah bint Al-'Irbad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ وَهْبٍ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ الْعِرْبَاضِ، وَهُوَ ابْنُ سَارِيَةَ عَنْ أَبِيهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنِ الْخَلِيسَةِ وَأَنْ تُوطَأَ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى سُئِلَ أَبُو عَاصِمٍ عَنِ الْمُجَثَّمَةِ قَالَ أَنْ يُنْصَبَ الطَّيْرُ أَوِ الشَّىْءُ فَيُرْمَى ‏.‏ وَسُئِلَ عَنِ الْخَلِيسَةِ فَقَالَ الذِّئْبُ أَوِ السَّبُعُ يُدْرِكُهُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُهُ مِنْهُ فَيَمُوتُ فِي يَدِهِ قَبْلَ أَنْ يُذَكِّيَهَا ‏.‏
Narrated Umm Habibah bint Al-'Irbad:From her father: "On the day of Khaibar, the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited eating the meat of every predator that has canine teeth, the meat of every bird that has talons, the meat of the domestic donkey, the Mujath-thamah, the Khalisah, and from having relations with a pregnant slave until she gives birth to what is in her womb." Muhammad bin Yahya said: "Abu 'Asim was asked about Mujath-thamah and he said: "To ensnare a bird or something and then shoot it." He was asked about Khalisah, so he said: "(Prey) that a man finds with a wolf or a predator, then he takes it from him but it dies in his hand before it can be slaughtered
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے دن ہر کچلی والے درندے ۱؎ پنجے والے پرندے ۲؎، پالتو گدھے کے گوشت، «مجثمة» اور «خليسة» سے منع فرمایا، آپ نے حاملہ ( لونڈی جو نئی نئی مسلمانوں کی قید میں آئے ) کے ساتھ جب تک وہ بچہ نہ جنے جماع کرنے سے بھی منع فرمایا۔ راوی محمد بن یحییٰ قطعی کہتے ہیں: ابوعاصم سے «مجثمة» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: پرندے یا کسی دوسرے جانور کو باندھ کر اس پر تیر اندازی کی جائے ( یہاں تک کہ وہ مر جائے ) اور ان سے «خليسة» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: «خليسة» وہ جانور ہے، جس کو بھیڑیا یا درندہ پکڑے اور اس سے کوئی آدمی اسے چھین لے پھر وہ جانور ذبح کئے جانے سے پہلے اس کے ہاتھ میں مر جائے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ يُجْزِئُ أَيْضًا الْبَعِيرُ عَنْ عَشَرَةٍ ‏.‏ وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
Narrated Jabir:"We performed the Nahr (sacrifice) with the Messenger of Allah (ﷺ) at Al-Hudaibiyyah: A camel for seven (persons) and a cow for seven (persons)
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے موقع پر اونٹ اور گائے کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر ( ذبح ) کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام میں سے اہل علم اور ان کے علاوہ لوگوں کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اونٹ دس آدمی کی طرف سے بھی کفایت کر جائے گا، انہوں نے ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث سے استدلال کیا ہے ۱؎۔
Narrated by Sa'd bin 'Ubaidah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، سَمِعَ رَجُلاً، يَقُولُ لاَ وَالْكَعْبَةِ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يُحْلَفُ بِغَيْرِ اللَّهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَفُسِّرَ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ قَوْلَهُ ‏"‏ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ ‏"‏ عَلَى التَّغْلِيظِ ‏.‏ وَالْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ عُمَرَ يَقُولُ وَأَبِي وَأَبِي ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَنْ قَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللاَّتِ وَالْعُزَّى فَلْيَقُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا مِثْلُ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الرِّيَاءَ شِرْكٌ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذِهِ الآيَة ‏:‏ ‏(‏ وَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا ‏)‏ الآيَةَ قَالَ لاَ يُرَائِي ‏.‏
Narrated Sa'd bin 'Ubaidah:That Ibn 'Umar heard a man saying: "No by the Ka'bah" so Ibn 'Umar said: "Nothing is sworn by other than Allah, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever swears by other than Allah, he has committed disbelief or shirk
سعد بن عبیدہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہما نے ایک آدمی کو کہتے سنا: ایسا نہیں قسم ہے کعبہ کی، تو اس سے کہا: غیر اللہ کی قسم نہ کھائی جائے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کی تفسیر بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «فقد كفر أو أشرك» تنبیہ و تغلیظ کے طور پر ہے، اس کی دلیل ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم، میرے باپ کی قسم! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ باپ، دادا کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے“، نیز ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ( روایت ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لات اور عزیٰ کی قسم کھائی وہ «لا إله إلا الله» کہے، امام ترمذی کہتے ہیں: ۳- یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی طرح ہے ”بیشک ریا، شرک ہے، ۴- بعض اہل علم نے آیت کریمہ «فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا» ( الکہف: ۱۱۰ ) کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ ریا نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَشَدَّ تَعْجِيلاً لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلاً لِلْعَصْرِ مِنْهُ ‏.‏
Umm Salamah narrated:"Allah's Messenger would hasten Zuhr more than you (people), while you (people) hasten Asr more than him
ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ظہر میں تم لوگوں سے زیادہ جلدی کرتے تھے اور تم لوگ عصر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ جلدی کرتے ہو ۱؎۔
Narrated by Zaid bin Khalid Al-Juhani
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فَقَدْ غَزَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani: That the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever prepares a fighter in Allah's cause, he has participated in a military expedition, and whoever watches after the family of a fighter, he has participated in a military expedition." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کیا حقیقت میں اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے گھر والے کی خبرگیری کی حقیقت میں اس نے جہاد کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Al-Muhallab bin Abi Sufrah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ، عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنْ بَيَّتَكُمُ الْعَدُوُّ فَقُولُوا‏:‏ حم لاَ يُنْصَرُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ‏.‏ وَهَكَذَا رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مِثْلَ رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ وَرُوِيَ عَنْهُ عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏.‏
Narrated Al-Muhallab bin Abi Sufrah: From one who heard the Prophet (ﷺ) saying: "If you suffer a surprise attack from the enemy then say: 'Ha Min, they will not be victorious.'" [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from Salamah bin Al-Akwa'. This is how some of them reported it from Abu Ishaq, the same as the narration of Ath-Thawri. And it has been reported from him, from Al-Muhallab bin Abi Sufrah from the Prophet (ﷺ) in Mursal form
مہلب بن ابی صفرۃ ان لوگوں سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”اگر رات میں تم پر دشمن حملہ کریں تو تم «حم لا ينصرون» کہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بعض لوگوں نے اسی طرح ثوری کی روایت کے مثل ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے، اور ابواسحاق سے یہ حدیث بواسطہ «عن المهلب بن أبي صفرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے، ۲- اس باب میں سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Umm Salamah
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَبَّرَ لِفَاطِمَةَ شِبْرًا مِنْ نِطَاقِهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ رُخْصَةٌ لِلنِّسَاءِ فِي جَرِّ الإِزَارِ لأَنَّهُ يَكُونُ أَسْتَرَ لَهُنَّ ‏.‏
Narrated Umm Salamah: "The Prophet (ﷺ) slackened Fatimah's garment a hand-span." [Abu 'Eisa said:] Some of them reported it from Hammad bin Salamah, from 'Ali bin Zaid, from Al-Hasan, from his father, from Umm Salamah
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کے «نطاق» کے لیے ایک بالشت کا اندازہ لگایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بعض لوگوں نے اسے «حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن أمه عن أم سلمة» کی سند سے روایت کی ہے، ۲- اس حدیث میں عورتوں کے لیے تہ بند ( چادر ) گھسیٹنے کی اجازت ہے، اس لیے کہ یہ ان کے لیے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے۔
Narrated by Abdullah bin 'Umar
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلاَ يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَحَفْصَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهَكَذَا رَوَى مَالِكٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏ وَرَوَى مَعْمَرٌ وَعُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرِوَايَةُ مَالِكٍ وَابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin 'Umar: That the Prophet (ﷺ) said: "Let none of you wat with his left hand nor drink with his left hand, for indeed Ash-Shaitan eats with his left hand and drinks with his left hand." He said: There are narrations on this topic from Jabir, 'Umar bin Abi Salamah, Salamah bin Al-Akwa', Anas bin Malik, and Hafsah. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. This is how Malik and Ibn 'Uyainah reported it from Az-Zuhri, from Abu Bakr bin 'Ubaidullah, from Ibn 'Umar. Ma'mar and 'Uqail reported it from Az-Zuhri, from Salim, from Ibn 'Umar. And the narration of Malik and Ibn 'Uyainah is more correct
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح مالک اور ا تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة ۱۳ ( ۲۰۲۰ ) سنن ابی داود/ الأطعمة ۲۰ ( ۳۷۷۶ ) ، ( تحفة الأشراف : ۸۵۷۹ ) ، وط/صفة النبی ﷺ ۴ ( ۶ ) ، و مسند احمد ( ۲/۱۰۶ ) ، سنن الدارمی/الأطعمة
Narrated by Umar
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، نَحْوَهُ ‏.‏ وَرَوَى أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏
Narrated 'Umar: "Indeed Khamr comes from wheat." And he mentioned this Hadith
اس سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ اشْتَكَى أَبُو الرَّدَّادِ اللَّيْثِيُّ فَعَادَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ خَيْرُهُمْ وَأَوْصَلُهُمْ مَا عَلِمْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ أَنَا اللَّهُ وَأَنَا الرَّحْمَنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنَ اسْمِي فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ أَبِي أَوْفَى وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سُفْيَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَرَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ رَدَّادٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَمَعْمَرٌ كَذَا يَقُولُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ خَطَأٌ ‏.‏
Abu Salamah said:" Abu[Ar-Raddad] Al-Laithi complained(of an illness). So 'Abdur-Rahman bin 'Awf visited him. He said: 'The best of you, and the most apt to maintain good relations, as far as I know, is Abu Muhammad('Abdur-Rahman bin 'Awf). So 'Abdur-Rahman bin 'Awf' said: 'I heard the Messenger of Allah saying : "Allah, Most Blessed and Most High, said: 'I am Allah, and I am Ar-Rahman. I created the Rahim(womb), and named it after My Name. So whoever keeps good relations with it, I keep good relation with him, and whoever severs it, I am finished with him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی لڑکا اپنے باپ کا احسان نہیں چکا سکتا ہے سوائے اس کے کہ اسے ( یعنی باپ کو ) غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ہم اسے صرف سہیل بن ابی صالح کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث سہیل بن ابی صالح سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قال حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قال حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ اللَّدُودُ وَالسَّعُوطُ وَالْحِجَامَةُ وَالْمَشِيُّ وَخَيْرُ مَا اكْتَحَلْتُمْ بِهِ الإِثْمِدُ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلاَثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ‏.‏
Ibn 'Abbas narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Indeed the best of what you treat is As-Sa'ut, Al-Ladud, cupping and laxatives.' And the best of what you use for Kuhl is Ithmid, for it clears the vision and grows the hair (eye-lashes)." And he said:" The Messenger of Allah (s.a.w) had a Kuhl holder with which he would apply Kuhl before sleeping three in each eye
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز سے تم علاج کرتے ہو ان میں سب سے بہتر منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا، ناک میں ڈالنے کی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے اور تمہارا اپنی آنکھوں میں لگانے کا سب سے بہتر سرمہ اثمد ہے، اس لیے کہ وہ بینائی ( نظر ) کو بڑھاتا ہے اور بال اگاتا ہے“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے سوتے وقت ہر آنکھ میں تین سلائی لگاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عباد بن منصور کی یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قال حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ فِي الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا إِنَّهَا أَوَّلُ جَدَّةٍ أَطْعَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُدُسًا مَعَ ابْنِهَا وَابْنُهَا حَىٌّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ - وَقَدْ وَرَّثَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْجَدَّةَ مَعَ ابْنِهَا وَلَمْ يُوَرِّثْهَا بَعْضُهُمْ ‏.‏
Abdullah bin Mas'ud said, about the grandmother along with her daughter:"The Messenger of Allah(S.A.W) gave the first grandmother, along with her son, a sixth for them to consume while her son was living
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ( پوتے کے ترکہ میں ) دادی اور اس کے بیٹے کے حصہ کے بارے میں کہتے ہیں: وہ پہلی دادی تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کی موجودگی میں چھٹا حصہ دیا، اس وقت اس کا بیٹا زندہ تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اسے صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- بعض صحابہ نے بیٹے کی موجودگی میں دادی کو وارث ٹھہرایا ہے اور بعض نے وارث نہیں ٹھہرایا ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَيُؤْمِنُ بِالْمَوْتِ وَبِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَيُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ رِبْعِيٌّ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَلِيٍّ، ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ، عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ النَّضْرِ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏ حَدَّثَنَا الْجَارُودُ قَالَ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ بَلَغَنَا أَنَّ رِبْعِيًّا لَمْ يَكْذِبْ فِي الإِسْلاَمِ كِذْبَةً ‏.‏
Ali narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:'A slave (of Allah) shall not believe until he believes in four: The testimony of La Ilaha Illallah, and that I am the Messenger of Allah whom He sent with the Truth, and he believes in the death, and he believes in the Resurrection after death, and he believes in Al-Qadar." Another chain reports a similar narration
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ چار چیزوں پر ایمان لائے بغیر مومن نہیں ہو سکتا: ( ۱ ) گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، ( ۲ ) موت پر ایمان لائے، ( ۳ ) مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے، ( ۴ ) تقدیر پر ایمان لائے“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيُّ الأَشْهَلِيُّ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتُلُوا إِمَامَكُمْ وَتَجْتَلِدُوا بِأَسْيَافِكُمْ وَيَرِثَ دُنْيَاكُمْ شِرَارُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ‏.‏
Hudhaifah bin Al-Yaman narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"By the One in Whose Hand is my soul! The Hour will not be established until you fight your A'immah, and you strike each other with your swords, and your world will be inherited by the evilest among you
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم اپنے امام کو قتل نہ کر دو، اپنی تلواروں سے ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور برے لوگ تمہاری دنیا کے وارث نہ بن جائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم اسے صرف عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنِ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي شُرَيْحٍ وَوَاثِلَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الأَوَّلِ ‏.‏
(another chain) from Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami who narrated from 'Ali from the Prophet with similar narrations. [He said:This narration is Hasan.] There are narration on this topic from Ibn 'Abbas, Abu Hurairah, Abu Shuraih and Wathilah bin Al-Asqa
اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، ابوشریح اور واثلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَاَ عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَعْنِي رَجُلٌ أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَوَلاَ تَدْرِي فَلَعَلَّهُ تَكَلَّمَ فِيمَا لاَ يَعْنِيهِ أَوْ بَخِلَ بِمَا لاَ يَنْقُصُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Anas bin Malik narrated that a man among his companions was dying so he said- meaning a man said to him:"Glad tidings of Paradise." To which the Messenger of Allah (s.a.w) said: "You do not know. Perhaps he spoke of what did not concern him or he was greedy with that which would not decrease him
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی کی وفات ہو گئی، ایک آدمی نے کہا: تجھے جنت کی بشارت ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے کوئی ایسی بات کہی ہو جو بےفائدہ ہو، یا ایسی چیز کے ساتھ بخل سے کام لیا ہو جس کے خرچ کرنے سے اس کا کچھ نقصان نہ ہوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُجَاءُ بِابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ بَذَجٌ فَيُوقَفُ بَيْنَ يَدَىِ اللَّهِ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ أَعْطَيْتُكَ وَخَوَّلْتُكَ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْكَ فَمَاذَا صَنَعْتَ ‏.‏ فَيَقُولُ يَا رَبِّ جَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ فَتَرَكْتُهُ أَكْثَرَ مَا كَانَ فَارْجِعْنِي آتِكَ بِهِ ‏.‏ فَيَقُولُ لَهُ أَرِنِي مَا قَدَّمْتَ ‏.‏ فَيَقُولُ يَا رَبِّ جَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ فَتَرَكْتُهُ أَكْثَرَ مَا كَانَ فَارْجِعْنِي آتِكَ بِهِ ‏.‏ فَإِذَا عَبْدٌ لَمْ يُقَدِّمْ خَيْرًا فَيُمْضَى بِهِ إِلَى النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْحَسَنِ قَوْلَهُ وَلَمْ يُسْنِدُوهُ ‏.‏ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ‏.‏
Anas narrated that the Prophet (s.a.w) said:"The son of Adam will be brought on the Day of Judgement as if he is a goat kid to be stood before Allah, Most High. Allah will say to him: 'I gave to you, I granted you, and I bestowed favors upon you. So what did you do?' So he says: 'I collected it, increased it, and left it as more than what it was. So return me and I shall give it all to You.' So He will say to him: 'Show me what you have prepared.' So he says: 'My Lord! I collected it, increased it and left it more than it was, So return me and I shall give it all to You.' So when the servant does not present any good he will be entered into the Fire." Abu 'Eisa said: More than one narrator reported this from Al-Hasan as his saying. And they did not rely upon Ismä'il bin Muslim who was graded weak in Hadith [due to his memory]. There are narrations on this topic from Abu Hurairah and Abu Sa'eed Al-Khudri
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کو قیامت کے روز بھیڑ کے بچے کی شکل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: میں نے تجھے مال و اسباب سے نواز دے، اور تجھ پر انعام کیا اس میں تو نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا اے میرے رب! میں نے بہت سارا مال جمع کیا اور اسے بڑھایا اور دنیا میں اسے پہلے سے زیادہ ہی چھوڑ کر آیا، سو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج! تاکہ میں ان سب کو لے آؤں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جو کچھ تو نے عمل خیر کیا ہے اسے دکھا، وہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے بہت سارا مال جمع کیا، اسے بڑھایا اور دنیا میں پہلے سے زیادہ ہی چھوڑ کر آیا، مجھے دوبارہ بھیج تاکہ میں اسے لے آؤں، یہ اس بندے کا حال ہو گا جس نے خیر اور بھلائی کی راہ میں کوئی مال خرچ نہیں کیا ہو گا، چنانچہ اسے اللہ کے حکم کے مطابق جہنم میں ڈال دیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی روایت کئی لوگوں نے حسن بصری سے کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ ان کا قول ہے، اسے مرفوع نہیں کیا، ۲- اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں، ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْءُ وُجُوهِهِمْ عَلَى مِثْلِ ضَوْءِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى مِثْلِ أَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَائِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏. حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالثَّانِيَةُ عَلَى لَوْنِ أَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً يَبْدُو مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَائِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed the first batch to enter Paradise will appear like the moon of a night that is full. The second will appear like the color of the most beautiful (brightest) star in the sky. Each man among them shall have two wives, each wife wearing seventy bracelets, with the marrow of their shins being visible from behind them." (Another chain) from Abu Sa'eed Al-Khudri who narrated that the Prophet SAW said: "The first batch to enter Paradise will appear like the moon of a night that it is full. The second will appear like the color of the most beautiful (brightest) star in the sky. Each man among them shall have two wives, each wife wearing seventy bracelets, with the marrow of their shins being visible from behind them
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کے چہرے کی روشنی چودہویں کے چاند کی روشنی کی طرح ہو گی اور دوسرا گروہ آسمان کے روشن اور سب سے خوبصورت ستارے کی طرح ہو گا، ان میں سے ہر آدمی کے لیے دو دو بیویاں ہوں گی اور ہر بیوی کے جسم پر ستر جوڑے کپڑے ہوں گے اور ان کے پنڈلی کا گودا ان کے کپڑوں کے باہر سے نظر آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ‏:‏ ‏(‏اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ‏)‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي دَارِ الدُّنْيَا لأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعَايِشَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ يَكُونُ طَعَامَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Ibn 'Abbas narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) recited this Ayah:Have the Taqwa of Allah as His due, and do not die except as Muslims. And the Messenger of Allah (s.a.w) said: "If only a drop of Az-Zaqqum were to drip into the abode of the world, it would spoil the peoples' livelihood, so how about the person for whom it is his food?
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ”تم اللہ سے ڈرنے کی طرح ڈرو اور مسلمان ہی رہتے ہوئے مرو“ ( آل عمران: ۱۰۲ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر «زقوم» تھوہڑ کا ایک قطرہ بھی دنیا کی زمین میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کی معیشت بگڑ جائے، بھلا اس آدمی کا کیا ہو گا جس کی غذا ہی «زقوم» ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بَيْنَ الْكُفْرِ وَالإِيمَانِ تَرْكُ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jabir:that the Prophet (ﷺ) said: "Between disbelief and faith is abandoning the Salat
Narrated by Simak bin Hard
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا فَبَلَّغَهُ كَمَا سَمِعَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏
Narrated Simak bin Hard:"I heard 'Abdur-Rahman bin 'Abdullah bin Mas'ud narrating from his father who said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'May Allah gladden a man who hears something from us, so he conveys it as he heard it. Perhaps the one it is conveyed to is more understanding than the one who heard it
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ ( اور خوش ) رکھے جس نے مجھ سے کوئی بات سنی پھر اس نے اسے جیسا کچھ مجھ سے سنا تھا ہوبہو دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں بات ( حدیث ) پہنچائی جائے پہنچانے والے سے کہیں زیادہ بات کو توجہ سے سننے اور محفوظ رکھنے والے ہوتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو عبدالملک بن عمیر نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ کے واسطہ سے بیان کیا۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلاَمِ وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not precede the Jews and the Christians with the Salam. And if one of you meets them in the path, then force them to its narrow portion
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تمہاری ان کے کسی فرد سے راستے میں ملاقات ہو جائے تو اسے تنگ راستے سے ہی جانے پر مجبور کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Ikrimah bin Abi Jahl
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ جِئْتُهُ ‏ "‏ مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي جُحَيْفَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ لاَ نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ سُفْيَانَ ‏.‏ وَمُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ بَشَّارٍ يَقُولُ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَكَتَبْتُ كَثِيرًا عَنْ مُوسَى بْنِ مَسْعُودٍ ثُمَّ تَرَكْتُهُ ‏.‏ كَمُلَ كِتَابُ الاِسْتِئْذَانِ وَيَتْلُوهُ كِتَابُ الأَدَبِ
Narrated 'Ikrimah bin Abi Jahl:"The day that I came to him, the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Welcome to the riding emigrant.'" There are narrations on this topic from Buraidah, Ibn 'Abbas, and Abu Juhaifah
عکرمہ بن ابی جہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب میں ( مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے ) آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر سوار کا آنا مبارک ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے۔ ہم اسے صرف موسیٰ بن مسعود کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں۔ موسیٰ بن مسعود حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے بھی یہ حدیث سفیان سے اور سفیان نے ابواسحاق سے مرسلاً روایت کی ہے۔ اور اس سند میں مصعب بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے اور یہی صحیح تر ہے، ۳- میں نے محمد بن بشار کو کہتے ہوئے سنا: موسیٰ بن مسعود حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۴- محمد بن بشار کہتے ہیں: میں نے موسیٰ بن مسعود سے بہت سی حدیثیں لیں، پھر میں نے ان سے حدیثیں لینی چھوڑ دی، ۵- اس باب میں بریدہ، ابن عباس اور ابوجحیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abdullah bin Buraidah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ‏ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، قَالَ‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذِهِ وَمَا هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَرَمَى بِحَصَاتَيْنِ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَذَاكَ الأَمَلُ وَهَذَاكَ الأَجَلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin Buraidah:from his father that the Prophet (ﷺ) said: "Do you know what the parable of this and this is?" - and he tossed two pebbles. They said: "Allah and His Messenger (ﷺ) know better." He said: "This (the farther) one is hope, and this (closer) one is death
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کنکریاں پھینکتے ہوئے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے اور یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ امید ( و آرزو ) ہے اور یہ اجل ( موت ) ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَبِالْبَصْرَةِ لاَ يَعْرِفُونَ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَهَارُونُ أَبُو مُحَمَّدٍ شَيْخٌ مَجْهُولٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بِهَذَا ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَلاَ يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ ‏.‏ وَ فِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ
Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed for everything there is a heart, and the Qur'an's heart is Ya Sin. Whoever recites Ya Sin, then for its recitation, Allah writes for him that he recited the Qur'an ten times
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یاسین ہے۔ اور جس نے سورۃ یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا“۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔ ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ ۴- اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Alqamah
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَدِمْنَا الشَّامَ فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ فَقَالَ أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَىَّ قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَأَشَارُوا إِلَىَّ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا ‏.‏ قَالَ كَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ ‏(وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ‏)‏ قَالَ قُلْتُ سَمِعْتُهُ يَقْرَؤُهَا ‏(‏‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ‏)‏ ‏(‏وَالذَّكَر وَالأُنْثَى ‏)‏ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا وَهَؤُلاَءِ يُرِيدُونَنِي أَنْ أَقْرَأَهَا‏(‏وَمَا خَلَقَ ‏)‏ فَلاَ أُتَابِعُهُمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهَكَذَا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ‏(‏ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى * وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى ‏)‏‏.‏
Narrated 'Alqamah:"We arrived in Ash-Sham and we went to Abu Ad-Darda. So he said: 'Is there any among you who can recite for me according to the recitation of 'Abdullah?'" He said: "They pointed to me, so I said: 'Yes, [I (can recite)].' He said: 'How did you hear 'Abdullah recite this Ayah: By the night as it envelopes?'" He said: "I said: 'I heard him recite it: "Wal-Laili Idha Yaghsha, Wadh-Dhakari Wal-Untha" Abu Ad-Darda said: 'Me too, By Allah, this is how I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting it. But these people want me to recite it: Wa Ma Khalaqa but I will not follow them
علقمہ کہتے ہیں کہ ہم شام پہنچے تو ابوالدرواء رضی الله عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا: کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود کی قرأت کی طرح پر قرأت کرتا ہو؟ تو لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے یہ آیت «والليل إذا يغشى» عبداللہ بن مسعود کو کیسے پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں نے انہیں «والليل إذا يغشى والذكر والأنثى» ۱؎ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ ابو الدرداء نے کہا: اور میں، قسم اللہ کی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے، اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اسے «وما خلق» پڑھوں ( یعنی «وما خلق والذكر والأنثى» ) تو میں ان کی بات نہ مانوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن مسعود کی قرأت بھی اسی طرح ہے: «والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى والذكر والأنثى»
Narrated by Abu Sa'eed
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏كََذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا ‏)‏ قَالَ ‏"‏ عَدْلاً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُدْعَى نُوحٌ فَيُقَالُ هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ ‏.‏ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ وَمَا أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ ‏.‏ فَيَقُولُ مَنْ شُهُودُكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ‏.‏ قَالَ فَيُؤْتَى بِكُمْ تَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ ‏:‏ ‏(‏ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ‏)‏ وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، نَحْوَهُ ‏.‏
Narrated Abu Sa'eed:that about Allah's saying: Thus we have made you a Wasata nation (2:143) - the Prophet (ﷺ) said: "The meaning of Wasata is just." [Abu 'Eisa said: This Hadith is [Hasan] Sahih. (Another chain) From Abu Sa'eed who narrated that: "The Messenger of Allah a said: 'Nuh will be called and it will be said: "Did you deliver (the Message)? "He will say: "Yes" and his people will be called and it will be said: "Did he call you?" They will say: "No warner came to us. No one came to us.' It will be said: "Who will testify for you?" So it is said: "Muhammad and his Ummah (community)." He (ﷺ) said: You will be brought to testify that he delivered (the Message) and that is His saying: Thus, we have made you a Wasata nation that you will be witnesses over mankind and the Messenger (Muhammad) will be a witness over you.' And Al-Wasat is "Just." (Sahih) Abu 'Eisa said: This Hadith is Hasan Sahih
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا» ”ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) کے سلسلے میں فرمایا: ” «وسط» سے مراد عدل ہے“ ( یعنی انصاف پسند ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَطِيَّةَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَجِيبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ وَالْكُرَبِ فَلْيُكْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] narrated that:The Messenger of Allah said: “Whoever wishes that Allah would respond to him during hardship and grief, then let him supplicate plentifully when at ease.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اچھا لگے ( اور پسند آئے ) کہ مصائب و مشکلات ( اور تکلیف دہ حالات ) میں اللہ اس کی دعائیں قبول کرے، تو اسے کشادگی و فراخی کی حالت میں کثرت سے دعائیں مانگتے رہنا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Narrated by Abdullah bin Salam
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنِي أَبُو مَوْدُودٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهُ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَبُو مَوْدُودٍ وَقَدْ بَقِيَ فِي الْبَيْتِ مَوْضِعُ قَبْرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ هَكَذَا قَالَ عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاكِ وَالْمَعْرُوفُ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَدَنِيُّ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin Salam:"The description of Muhammad is written in the Tawrah, [and the description that] 'Eisa will be buried next to him." (One of the narrators) Abu Mawdud said: "[And] there is a place for a grave left in the house
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ تورات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال لکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ عیسیٰ بن مریم انہیں کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ ابوقتیبہ کہتے ہیں کہ ابومودود نے کہا: حجرہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، سند میں راوی نے عثمان بن ضحاک کہا اور مشہور ضحاک بن عثمان مدنی ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever sleeps past Al-Witr or forgets it, then let him pray it when he remembers it or when he awakens
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وتر پڑھے بغیر سو جائے، یا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آئے یا جاگے پڑھ لے“۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ يَعْنِي الضَّمْرِيَّ، وَكَانَتْ، لَهُ صُحْبَةٌ فِيمَا زَعَمَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَسَمُرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي الْجَعْدِ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنِ اسْمِ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ فَلَمْ يَعْرِفِ اسْمَهُ وَقَالَ لاَ أَعْرِفُ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَلاَ نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏
Abu Al-Ja'd - meaning Ad-Damri - narrated, and he was a Companion according to the claim of Muhammad bin Amr:"Allah's Messenger said: 'Whoever neglects the Friday prayer three times (in a row) without an excuse, then Allah sets a seal upon his heart
ابوالجعد ضمری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جمعہ تین بار سستی ۱؎ سے حقیر جان کر چھوڑ دے گا تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوالجعد کی حدیث حسن ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ابوالجعد ضمری کا نام پوچھا تو وہ نہیں جان سکے، ۳- اس حدیث کے علاوہ میں ان کی کوئی اور حدیث نہیں جانتا جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو، ۴- ہم اس حدیث کو صرف محمد بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ ثَوَابِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ وَلاَ يَطْعَمُ يَوْمَ الأَضْحَى حَتَّى يُصَلِّيَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الأَسْلَمِيِّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَالَ مُحَمَّدٌ لاَ أَعْرِفُ لِثَوَابِ بْنِ عُتْبَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لاَ يَخْرُجَ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ شَيْئًا وَيُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يُفْطِرَ عَلَى تَمْرٍ وَلاَ يَطْعَمَ يَوْمَ الأَضْحَى حَتَّى يَرْجِعَ ‏.‏
Abdullah bin Buraidah narrated from his father:"The Prophet would not leave on the Day of Fitr until he ate, and he would not eat on the day of Adha until he prayed
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کھا نہ لیتے نکلتے نہیں تھے اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز نہ پڑھ لیتے کھاتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ بن حصیب اسلمی رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ثواب بن عتبہ کی اس کے علاوہ کوئی حدیث مجھے نہیں معلوم، ۳- اس باب میں علی اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم نے مستحب قرار دیا ہے کہ آدمی عید الفطر کی نماز کے لیے کچھ کھائے بغیر نہ نکلے اور اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ کھجور ۱؎ کا ناشتہ کرے اور عید الاضحی کے دن نہ کھائے جب تک کہ لوٹ کر نہ آ جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ بِالنَّاسِ يَسْتَسْقِي فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَاسْتَسْقَى وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَآبِي اللَّحْمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَعَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَعَمُّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيُّ ‏.‏
Abbad bin Tamim narrated from his uncle:"The Messenger of Allah went out with the people to seek rain. So he led them in prayer for two Rak'ah, reciting aloud in them, turning his upper wrap around, raising his hands, requesting rain, and facing the Qiblah
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش طلب کرنے کے لیے لوگوں کو ساتھ لے کر باہر نکلے، آپ نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی، جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی، اپنی چادر پلٹی، اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور قبلہ رخ ہو کر بارش کے لیے دعا کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، انس اور آبی اللحم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور اسی کے شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی قائل ہیں۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ التِّنِّيسِيُّ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فِي الْعَسَلِ فِي كُلِّ عَشَرَةِ أَزُقٍّ زِقٌّ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَيَّارَةَ الْمُتَعِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ وَلاَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْبَابِ كَبِيرُ شَيْءٍ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَيْسَ فِي الْعَسَلِ شَيْءٌ ‏.‏ وَصَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِحَافِظٍ وَقَدْ خُولِفَ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ نَافِعٍ ‏.‏
Ibn Umar narrated that :the Messenger of Allah said: "A Ziqq is due for every ten Ziqq of honey
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہد میں ہر دس مشک پر ایک مشک زکاۃ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ، ابوسیارہ متعی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی سند میں کلام ہے ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کچھ زیادہ صحیح چیزیں مروی نہیں اور اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ شہد میں کوئی زکاۃ نہیں ۲؎، ۴- صدقہ بن عبداللہ حافظ نہیں ہیں۔ نافع سے اس حدیث کو روایت کرنے میں صدقہ بن عبداللہ کی مخالفت کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ وَجَدَ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ وَمَنْ لاَ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ مِثْلَ هَذَا غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ وَهُوَ حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَلاَ نَعْلَمُ لَهُ أَصْلاً مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى أَصْحَابُ شُعْبَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنِ الرَّبَابِ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ ‏.‏ وَهَكَذَا رَوَوْا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ شُعْبَةُ عَنِ الرَّبَابِ ‏.‏ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنِ الرَّبَابِ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ‏.‏ وَابْنُ عَوْنٍ يَقُولُ عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ‏.‏ وَالرَّبَابُ هِيَ أُمُّ الرَّائِحِ ‏.‏
Anas bin Malik narrated that :the Messenger of Allah said: "Whoever has dried dates, then let him break the fast with that, and whoever does not, then let him break the fast with water, for indeed water is purifying
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کھجور میسر ہو، تو چاہیئے کہ وہ اسی سے روزہ کھولے، اور جسے کھجور میسر نہ ہو تو چاہیئے کہ وہ پانی سے کھولے کیونکہ پانی پاکیزہ چیز ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ہم نہیں جانتے کہ انس کی حدیث سعید بن عامر کے علاوہ کسی اور نے بھی شعبہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث غیر محفوظ ہے ۱؎، ہم اس کی کوئی اصل عبدالعزیز کی روایت سے جسے انہوں نے انس سے روایت کی ہو نہیں جانتے، اور شعبہ کے شاگردوں نے یہ حدیث بطریق: «شعبة عن عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اور یہ سعید بن عامر کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، کچھ اور لوگوں نے اس کی بطریق: «شعبة عن عاصم عن حفصة بنت سيرين عن سلمان» روایت کی ہے اور اس میں شعبہ کی رباب سے روایت کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے اور صحیح وہ ہے جسے سفیان ثوری، ابن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے، اور ابن عون کہتے ہیں: «عن أم الرائح بنت صليع عن سلمان بن عامر» اور رباب ہی دراصل ام الرائح ہیں ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قِرَاءَةً عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْرَدَ الْحَجَّ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَفْرَدَ الْحَجَّ وَأَفْرَدَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَالَ الثَّوْرِيُّ إِنْ أَفْرَدْتَ الْحَجَّ فَحَسَنٌ وَإِنْ قَرَنْتَ فَحَسَنٌ وَإِنْ تَمَتَّعْتَ فَحَسَنٌ ‏.‏ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ مِثْلَهُ ‏.‏ وَقَالَ أَحَبُّ إِلَيْنَا الإِفْرَادُ ثُمَّ التَّمَتُّعُ ثُمَّ الْقِرَانُ ‏.‏
Aishah narrated:"the Messenger of Allah performed the Ifrad form of Hajj
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد ۱؎ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم نے بھی افراد کیا، ۵- ثوری کہتے ہیں کہ حج افراد کرو تو بھی بہتر ہے، حج قران کرو تو بھی بہتر ہے اور حج تمتع کرو تو بھی بہتر ہے۔ شافعی نے بھی اسی جیسی بات کہی، ۶- کہا: ہمیں سب سے زیادہ افراد پسند ہے پھر تمتع اور پھر قران۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَوِ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ مَاتَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَقُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى شَقِيقٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ أَبُو وَائِلٍ الأَسَدِيُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ كَانَ يُسْتَحَبُّ أَنْ يُلَقَّنَ الْمَرِيضُ عِنْدَ الْمَوْتِ قَوْلَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا قَالَ ذَلِكَ مَرَّةً فَمَا لَمْ يَتَكَلَّمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَلاَ يَنْبَغِي أَنْ يُلَقَّنَ وَلاَ يُكْثَرَ عَلَيْهِ فِي هَذَا ‏.‏ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ جَعَلَ رَجُلٌ يُلَقِّنُهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَكْثَرَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا قُلْتُ مَرَّةً فَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مَا لَمْ أَتَكَلَّمْ بِكَلاَمٍ ‏.‏ وَإِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّمَا أَرَادَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ آخِرُ قَوْلِهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
Umm Salamah narrated:"The Messenger of Allah said to us: 'When you attend to the sick or dying then say only good, for indeed the angels say "Amin" to what you say.'" She said: "When Abu Salamah died I went to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah! Abu Salamah has died.' He said: 'Then say: "O Allah forgive me and him, and give me a good replacement for him." She said: "I said tat, and Allah gave a replace that was better than him: The Messenger of Allah
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب تم مریض کے پاس یا کسی مرے ہوئے آدمی کے پاس آؤ تو اچھی بات کہو ۱؎، اس لیے کہ جو تم کہتے ہو اس پر ملائکہ آمین کہتے ہیں“، جب ابوسلمہ کا انتقال ہوا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسلمہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: تو تم یہ دعا پڑھو: «اللهم اغفر لي وله وأعقبني منه عقبى حسنة» ”اے اللہ! مجھے اور انہیں معاف فرما دے، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما“ وہ کہتی ہیں کہ: جب میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ نے مجھے ایسی ہستی عطا کر دی جو ان سے بہتر تھی یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام سلمہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ مستحب سمجھا جاتا تھا کہ مریض کو اس کی موت کے وقت «لا إله إلا الله» کی تلقین کی جائے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں: جب وہ ( میت ) اسے ایک بار کہہ دے اور اس کے بعد پھر نہ بولے تو مناسب نہیں کہ اس کے سامنے باربار یہ کلمہ دہرایا جائے، ۴- ابن مبارک کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان کی موت کا وقت آیا، تو ایک شخص انہیں «لا إله إلا الله» کی تلقین کرنے لگا اور باربار کرنے لگا، عبداللہ بن مبارک نے اس سے کہا: جب تم نے ایک بار کہہ دیا تو میں اب اسی پر قائم ہوں جب تک کوئی اور گفتگو نہ کروں، عبداللہ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ ان کی مراد اس سے وہی تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ”جس کا آخری قول «لا إله إلا الله» ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا“۔