حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدَةُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ قَالَ " لاَ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي " . قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ وَقَالَ " تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاَةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكٌ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ إِذَا جَاوَزَتْ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا اغْتَسَلَتْ وَتَوَضَّأَتْ لِكُلِّ صَلاَةٍ .
Aishah narrated:"Fatimah bint Abi-Hubaish came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah! I am a woman who suffers from persistent bleeding and I do not become clean. Shall I give up Salat?' He said: 'No. That is only a bIood vessel, it is not menstruation. When your menstruation begins then leave the Salat. And when it ends, then wash the blood from you and perform Salat
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی الله عنہا نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ مجھے استحاضہ کا خون ۱؎ آتا ہے تو میں پاک ہی نہیں رہ پاتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو ایک رگ ہے حیض نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو۔ اور جب وہ چلا جائے ( یعنی حیض کے دن پورے ہو جائیں ) تو خون دھو کر ( غسل کر کے ) نماز پڑھو“، ابومعاویہ کی روایت میں ہے ؛ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نماز کے لیے وضو کرو یہاں تک کہ وہ وقت ( حیض کا وقت ) آ جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔ ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے، اور یہی سفیان ثوری، مالک، ابن مبارک اور شافعی بھی یہی کہتے ہیں کہ جب مستحاضہ عورت کے حیض کے دن گزر جائیں تو وہ غسل کرے اور ہر نماز کے لیے ( تازہ ) وضو کرے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا لاَ أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً فَقُولُوا لاَ رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا الْبَيْعَ وَالشِّرَاءَ فِي الْمَسْجِدِ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ فِي الْمَسْجِدِ
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you see someone selling or buying in the Masjid then say: 'May Allah not profit your business.' And when you see someone announcing about something lost then say: 'May Allah not return it to you.'" The Hadith of Abu Hurairah is Hasan Gharib. This is acted upon according to some of the people of knowledge. They dislike selling and buying in the Masjid. This is the view of Ahmad and Ishaq. Some of the people of knowledge permitted selling and buying in the Masjid
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں گمشدہ چیز ( کا اعلان کرتے ہوئے اسے ) تلاش کرتا ہو تو کہو: اللہ تمہاری چیز تمہیں نہ لوٹائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ مسجد میں خرید و فروخت ناجائز سمجھتے ہیں۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- بعض اہل علم نے اس میں خرید و فروخت کی رخصت دی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا " . وَهَذَا الْحَدِيثُ مُفَسِّرٌ .
Ibn 'Umar narrated that the Messenger of Allah said:"The believer is not one who curses others
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن لعن و طعن کرنے والا نہیں ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- بعض لوگوں نے اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعن وطعن کرنے والا ہو“، یہ حدیث پہلی حدیث کی وضاحت کر رہی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُمِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلاَ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَلاَ ثِيَابَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Ibn Abbas narrated:"The Prophet ordered that one prostrate on seven bones and that he not gather his hair nor his garment
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء پر سجدہ کریں اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Jabir bin Samurah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ جَالَسْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ وَيَتَذَاكَرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ سَاكِتٌ فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ مَعَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ زُهَيْرٌ عَنْ سِمَاكٍ أَيْضًا .
Narrated Jabir bin Samurah:"I sat with the Prophet (ﷺ) more than one-hundred times. His Companions used to recite poetry and talk about things that occurred during Jahiliyyah, and he would remain silent, and sometimes he would smile along with them
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سو بار سے زیادہ بیٹھنے کا شرف حاصل ہے، آپ کے صحابہ شعر پڑھتے ( سنتے و سناتے ) تھے، اور جاہلیت کی بہت سی باتیں باہم ذکر کرتے تھے۔ آپ چپ بیٹھے رہتے اور کبھی کبھی ان کے ساتھ مسکرانے لگتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے زہیر بھی نے سماک سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَوْلُهُ الْحَقُّ إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلاَ تَكْتُبُوهَا فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا بِمِثْلِهَا فَإِنْ تَرَكَهَا وَرُبَّمَا قَالَ لَمْ يَعْمَلْ بِهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً ثُمَّ قَرَأَ : ( مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ) " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah, Blessed and Most High, has said - and His saying is the Truth: 'When My slave considers doing something good then write it as one good for him. If he acts upon it then write ten of the same for him. And when he considers doing something evil, then do not write it. If he acts upon it, then write it. If he leaves it" - and perhaps he said: "if he does not act upon it, then write a good reward for him.'" Then he [the Prophet (ﷺ)] recited: Whoever comes with a good, then he shall have ten the like thereof (6:)
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا فرمان برحق ( و درست ) ہے: جب میرا بندہ کسی نیکی کا قصد و ارادہ کرے، تو ( میرے فرشتو! ) اس کے لیے نیکی لکھ لو، اور اگر وہ اس بھلے کام کو کر گزرے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ لو، اور جب وہ کسی برے کام کا ارادہ کرے تو کچھ نہ لکھو، اور اگر وہ برے کام کو کر ڈالے تو صرف ایک گناہ لکھو، پھر اگر وہ اسے چھوڑ دے ( کبھی راوی نے یہ کہا ) اور کبھی یہ کہا ( دوبارہ ) اس گناہ کا ارتکاب نہ کرے ) تو اس کے لیے اس پر بھی ایک نیکی لکھ لو، پھر آپ نے آیت «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ فائدہ ۱؎: ”جس نے نیک کام کیا ہو گا اس کو دس گنا ثواب ملے گا، اور جس نے برائی کی ہو گی اس کو اسی قدر سزا ملے گی اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا“ ( الانعام: ۱۶۰ ) ۔
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ [غَرِيبٌ] .
Abdullah bin `Abbas narrated:that the Messenger of Allah (ﷺ) used [to teach them this supplication as he used] to teach them a Surat of the Quran: “O Allah, indeed, I seek refuge in you from the punishment of Hell, and from the punishment of the grave, and I seek refuge in You from the trial of the false Masih, and I seek refuge in You from the trial of living and dying. (Allāhumma innī a`ūdhu bika min `adhābi jahannam, wa min `adhābil-qabr, wa a`ūdhu bika min fitnatil-masīḥid-dajjāl, wa a`ūdhu bika min fitnatil-maḥyā wal-mamāt)”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ( صحابہ کو ) یہ دعا سکھایا کرتے تھے جیسا کہ انہیں قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں حیات و موت کے فتنے ( کشمکش ) سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلاَئِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ بُعِثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَصَلَّى عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلاَثَاءِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُسْلِمٍ الأَعْوَرِ . وَمُسْلِمٌ الأَعْوَرُ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ حَبَّةَ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا
Narrated Anas bin Malik:"The advent of the Prophet (ﷺ) was on Monday and 'Ali performed Salat on Tuesday
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوشنبہ کو مبعوث کیا گیا اور علی نے منگل کو نماز پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف مسلم اعور کی روایت سے جانتے ہیں اور مسلم اعور محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ۲- اسی طرح یہ حدیث مسلم اعور سے بھی آئی ہے اور مسلم نے حبہ کے واسطہ سے اسی طرح علی سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ فَقَالَ " إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ " . ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ ثَلاَثٌ مِنَ الشَّهْرِ وَصَلَّى بِنَا فِي الثَّالِثَةِ وَدَعَا أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ فَقَامَ بِنَا حَتَّى تَخَوَّفْنَا الْفَلاَحَ . قُلْتُ لَهُ وَمَا الْفَلاَحُ قَالَ السُّحُورُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ فَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنْ يُصَلِّيَ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ رَكْعَةً مَعَ الْوِتْرِ . وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَهُمْ بِالْمَدِينَةِ . وَأَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عِشْرِينَ رَكْعَةً . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ وَهَكَذَا أَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بِمَكَّةَ يُصَلُّونَ عِشْرِينَ رَكْعَةً . وَقَالَ أَحْمَدُ رُوِيَ فِي هَذَا أَلْوَانٌ . وَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ . وَقَالَ إِسْحَاقُ بَلْ نَخْتَارُ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ رَكْعَةً عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ . وَاخْتَارَ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ الصَّلاَةَ مَعَ الإِمَامِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ . وَاخْتَارَ الشَّافِعِيُّ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ إِذَا كَانَ قَارِئًا . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ .
Abu Dharr narrated:"We fasted with the Prophet, so he did not pray (the night prayer) with us until seven (nights) of the month remained. Then he (pbuh) led us in prayer until a third of the night had gone, then he did not lead us in prayer on the sixth. Then he led us in prayer on the fifth until half of the night had gone. We said to him: 'O Messenger of Allah! Wouldn't you lead us in prayer for the remainder of the night?' He said: 'Indeed, whoever stands (praying) with the Imam until he finished, then it is recorded for him that he prayed the whole night.; Then he did not lead us in prayer until three (nights) of the month remained. Then he led us in prayer on the third and he called his family and his women to pray with us until we feared missing the Falah" I (Jubair bin Nufair) said to him: "What is the Falah" He said: "The Suhur
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صیام رمضان رکھے تو آپ نے ہمیں نماز ( تراویح ) نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ رمضان کے صرف سات دن باقی رہ گئے تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا ( یعنی تہجد پڑھی ) یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی۔ پھر جب چھ راتیں رہ گئیں تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا، ( یعنی تہجد نہیں پڑھی ) اور جب پانچ راتیں رہ گئیں تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا ( یعنی تہجد پڑھی ) یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی۔ تو ہم نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس رات کے باقی ماندہ حصہ میں بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے ( تو بہتر ہوتا ) ؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے امام کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام لکھا جائے گا، پھر آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ مہینے کے صرف تین دن باقی رہ گئے، پھر آپ نے ہمیں ستائیسویں رات کو نماز پڑھائی۔ اور اپنے گھر والوں اور اپنی عورتوں کو بھی بلایا، آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں فلاح کے چھوٹ جانے کا اندیشہ ہوا۔ ( راوی کہتے ہیں ) میں نے پوچھا: فلاح کیا چیز ہے؟ تو انہوں نے کہا: سحری ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، نعمان بن بشیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- رمضان کے قیام کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وتر کے ساتھ اکتالیس رکعتیں پڑھے گا، یہ اہل مدینہ کا قول ہے، ان کے نزدیک مدینے میں اسی پر عمل تھا، ۴- اور اکثر اہل علم ان احادیث کی بنا پر جو عمر، علی اور دوسرے صحابہ کرام رضی الله عنہم سے مروی ہے بیس رکعت کے قائل ہیں۔ یہ سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔ اور شافعی کہتے ہیں: اسی طرح سے میں نے اپنے شہر مکے میں پایا ہے کہ بیس رکعتیں پڑھتے تھے، ۵- احمد کہتے ہیں: اس سلسلے میں کئی قسم کی باتیں مروی ہیں ۱؎ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی، ۶- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: ہمیں ابی بن کعب کی روایت کے مطابق ۴۱ رکعتیں مرغوب ہیں، ۷- ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے ماہ رمضان میں امام کے ساتھ نماز پڑھنے کو پسند کیا ہے، ۸- شافعی نے اکیلے پڑھنے کو پسند کیا ہے جب وہ قاری ہو۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنْ لاَ بَأْسَ بِالْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ . وَهَكَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا لاَ يَعْتَمِرُونَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ رَخَّصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَقَالَ " دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . يَعْنِي لاَ بَأْسَ بِالْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ . وَأَشْهُرُ الْحَجِّ شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَةِ وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ لاَ يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ إِلاَّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ . وَأَشْهُرُ الْحُرُمِ رَجَبٌ وَذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ . هَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ .
Ibn Abbas narrated:That the Prophet said: "Umrah has been entered into Hajj until the Day of Resurrection
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو چکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں سراقہ بن جعشم اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہی تشریح شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی کی ہے کہ جاہلیت کے لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کرتے تھے، جب اسلام آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی اور فرمایا: ”عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو چکا ہے“، یعنی حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اشہر حج شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں“، کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ حج کے مہینوں کے علاوہ کسی اور مہینے میں حج کا احرام باندھے، اور حرمت والے مہینے یہ ہیں: رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں ۱؎۔