حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِنْتُ مِلْحَانَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَعْنِي غُسْلاً إِذَا هِيَ رَأَتْ فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ قَالَ " نَعَمْ إِذَا هِيَ رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ " . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قُلْتُ لَهَا فَضَحْتِ النِّسَاءَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا رَأَتْ فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ فَأَنْزَلَتْ أَنَّ عَلَيْهَا الْغُسْلَ . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ وَخَوْلَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ .
Umm Salamah narrated:Umm Sulaim bint Milhan came to the Prophet and she said: 'O Messenger of Allah! Indeed Allah is not embarrassed of the truth. So is it required of a woman - meaning Ghusl - when she sees in her sleep similar to what a man sees?' He replied: 'Yes. When she finds water (wetness), then she is perform Ghusl.'" Umm Salamah said: "I said to her: 'O Umm SuIaim! You have disgraced the women
ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم بنت ملحان نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! اللہ حق سے نہیں شرماتا ۱؎ کیا عورت پر بھی غسل ہے، جب وہ خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے ۲؎ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے“ ۳؎ ام سلمہ کہتی ہیں: میں نے ام سلیم سے کہا: ام سلیم! آپ نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بیشتر فقہاء کا قول ہے کہ عورت جب خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے پھر اسے انزال ہو جائے ( یعنی منی نکل جائے ) تو اس پر غسل واجب ہے، یہی سفیان ثوری اور شافعی بھی کہتے ہیں، ۳- اس باب میں ام سلیم، خولہ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abu Rafi', the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ)
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكْرًا فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ . قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ . فَقُلْتُ لاَ أَجِدُ فِي الإِبِلِ إِلاَّ جَمَلاً خِيَارًا رَبَاعِيًّا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْطِهِ إِيَّاهُ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Abu Rafi', the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ): "The Messenger of Allah got a camel in advance. Some camels from the charity." Abu Rafi' said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) told me to pay the man back for his camel. I said: 'I did not find among the camels but a superior selection of Raba'. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Give it to him, for indeed the base of people is the best of them in repaying.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا، پھر آپ کے پاس صدقے کا اونٹ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آدمی کا اونٹ ادا کر دوں، میں نے آپ سے عرض کیا: مجھے چار دانتوں والے ایک عمدہ اونٹ کے علاوہ کوئی اور اونٹ نہیں مل رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اسے اسی کو دے دو، کیونکہ لوگوں میں سب سے اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں سب سے اچھے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيَّ، يَقُولُ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا وَلاَ صَخَّابًا فِي الأَسْوَاقِ وَلاَ يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَبْدٍ وَيُقَالُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ .
Abu Abdullah Al-Jadali narrated:"I asked 'Aishah about the character of the Messenger of Allah. She said: 'He was not obscene, nor uttering obscenities, nor screaming in the markets, he would not return an evil with an evil, but rather he was pardoning and forgiving
ابوعبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو، بدکلامی کرنے والے اور بازار میں چیخنے والے نہیں تھے، آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ عفو و درگزر فرما دیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعبداللہ جدلی کا نام عبد بن عبد ہے، اور عبدالرحمٰن بن عبد بھی بیان کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَجَدَ أَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ مِنَ الأَرْضِ وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي حُمَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَسْجُدَ الرَّجُلُ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ فَإِنْ سَجَدَ عَلَى جَبْهَتِهِ دُونَ أَنْفِهِ فَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُجْزِئُهُ . وَقَالَ غَيْرُهُمْ لاَ يُجْزِئُهُ حَتَّى يَسْجُدَ عَلَى الْجَبْهَةِ وَالأَنْفِ .
Abu Humaid As-Sa'idi narrated:"When the Prophet would prostrate, he placed his nose and his forehead on the ground, and he held his forearms away from his sides, and he placed his hands parallel to his shoulders
ابو حمید ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی خوب اچھی طرح زمین پر جماتے، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے دور رکھتے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دونوں شانوں کے بالمقابل رکھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، وائل بن حجر اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی اپنی پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ کرے، اور اگر صرف پیشانی پر سجدہ کرے ناک پر نہ کرے تو اہل علم میں سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اسے کافی ہو گا، اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کافی نہیں ہو گا جب تک کہ وہ پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ نہ کرے ۱؎۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ يَمْشِي وَهُوَ يَقُولُ خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَرَمِ اللَّهِ تَقُولُ الشِّعْرَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خَلِّ عَنْهُ يَا عُمَرُ فَلَهِيَ أَسْرَعُ فِيهِمْ مِنْ نَضْحِ النَّبْلِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ هَذَا وَرُوِيَ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَكَعْبُ بْنُ مَالِكٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْحَدِيثِ لأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ قُتِلَ يَوْمَ مُؤْتَةَ وَإِنَّمَا كَانَتْ عُمْرَةُ الْقَضَاءِ بَعْدَ ذَلِكَ .
Narrated Anas:that the Prophet (ﷺ) entered Makkah during 'Umratil-Qada and 'Abdullah bin Rawahah was walking in front of him reciting verses of poetry. "O tribes of disbelievers get out of his way - today we will strike you about its revelation; a strike that removes the heads from the shoulders - and makes the friend not concerned about his friend." 'Umar said to him: "O Ibn Rawahah! Before the Messenger of Allah (ﷺ), and in the sanctuary of Allah you utter poetry?" the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Leave him O 'Umar! For it is quicker upon them than the raining arrow
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ آپ کے آگے یہ اشعار پڑھتے ہوئے چل رہے تھے۔ «خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» ”اے کفار کی اولاد! اس کے ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ) راستے سے ہٹ جاؤ، آج کے دن ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو کھوپڑی کو گردنوں سے جدا کر دے گی، ایسی مار ماریں گے جو دوست کو دوست سے غافل کر دے گی“ عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: ابن رواحہ! تم رسول اللہ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر پڑھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”انہیں کہنے دو، عمر! یہ اشعار ان ( کفار و مشرکین ) پر تیر برسانے سے بھی زیادہ زود اثر ہیں ( یہ انہیں بوکھلا کر رکھ دیں گے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر سے اور معمر نے زہری کے واسطہ سے انس سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے ( اس وقت ) کعب بن مالک آپ کے ساتھ آپ کے سامنے موجود تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بعض محدثین کے نزدیک یہ زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ عبداللہ بن رواحہ جنگ موتہ میں مارے گئے ہیں۔ اور عمرۃ القضاء اس کے بعد ہوا ہے ۱؎۔
Narrated by Abdullah bin Mas'ud
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ دَاوُدَ الأَوْدِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى الصَّحِيفَةِ الَّتِي عَلَيْهَا خَاتَمُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الآيَاتِ : ( قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ) الآيَةَ إِلَى قَوْلِهِ : ( لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:"Whoever wishes to look at the Sahifah which Muhammad (ﷺ) placed his seal upon, then let him look at these Ayat, 'Say: Come, I will recite what your Lord has prohibited you from... up to His saying "That you may have Taqwa (6:)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جسے اس بات سے خوشی ہو کہ وہ صحیفہ دیکھے جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ہے تو اسے یہ آیات «قل تعالوا أتل ما حرم ربكم عليكم» سے «لعلكم تتقون» ۱؎ تک پڑھنی چاہیئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ " اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبُّهُ عِنْدَكَ اللَّهُمَّ مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِي فِيمَا تُحِبُّ اللَّهُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ لِي فَرَاغًا فِيمَا تُحِبُّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَأَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ اسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُمَاشَةَ .
Abdullah bin Yazid Al-Khatmi Al-Ansari narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say in his supplication:“O Allah grant me Your love and the love of those whose love will benefit me with You. O Allah, whatever you have provided me of that which I love, then make it strength for me for that which You love. O Allah, and what you have kept from me of that which I love, then make it for me a period of rest in that which You love. (Allāhummarzuqnī ḥubbuka, wa ḥubba man yanfa`unī ḥubbuhū `indak. Allāhumma mā razaqtanī mimmā uḥibbu faj`alhu quwwatan lī fīmā tuḥibb. Allāhumma wa mā zawaita `annī mimmā uḥibbu faj`alhu farāghan lī fīmā tuḥibb). “
عبداللہ بن یزید اخطمی انصاری سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں کہتے تھے: «اللهم ارزقني حبك وحب من ينفعني حبه عندك اللهم ما رزقتني مما أحب فاجعله قوة لي فيما تحب اللهم وما زويت عني مما أحب فاجعله فراغا لي فيما تحب» ”اے اللہ! تو مجھے اپنی محبت عطا کر، اور مجھے اس شخص کی بھی محبت عطا کر جس کی محبت مجھے تیرے دربار میں فائدہ دے، اے اللہ! جو بھی تو مجھے میری پسندیدہ و پاکیزہ رزق عطا کرے اس رزق کو اپنی پسندیدہ چیزوں میں استعمال کے لیے قوت و طاقت کا ذریعہ بنا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَيْشَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعَلَى الآخَرِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَقَالَ " إِذَا كَانَ الْقِتَالُ فَعَلِيٌّ " . قَالَ فَافْتَتَحَ عَلِيٌّ حِصْنًا فَأَخَذَ مِنْهُ جَارِيَةً فَكَتَبَ مَعِي خَالِدٌ كِتَابًا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَشِي بِهِ . قَالَ فَقَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَ الْكِتَابَ فَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ ثُمَّ قَالَ " مَا تَرَى فِي رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ قُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَ مِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ وَإِنَّمَا أَنَا رَسُولٌ فَسَكَتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Narrated Al-Bara:"The Prophet (ﷺ) dispatched two armies and put 'Ali bin Abi Talib in charge of one of them, and Khalid bin Al-Walid in charge of the other. He said: "When there is fighting, then (the leader is) 'Ali." He said: "So 'Ali conquered a fortress and took a slave girl. So Khalid sent me with a letter to the Prophet (ﷺ) complaining about him. So I came to the Prophet (ﷺ) and he read the letter and his color changed, then he said: 'What is your view concerning one who loves Allah and His Messenger, and Allah and His Messenger love him.'" He said: "I said: 'I seek refuge in Allah from the wrath of Allah and the anger of His Messenger, and I am but a Messenger.' So he became silent
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر بھیجے اور ان دونوں میں سے ایک کا امیر علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو اور دوسرے کا خالد بن ولید رضی الله عنہ کو بنایا اور فرمایا: ”جب لڑائی ہو تو علی امیر رہیں گے چنانچہ علی رضی الله عنہ نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس سے ( مال غنیمت میں سے ) ایک لونڈی لے لی، تو میرے ساتھ خالد رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھ کر بھیجا جس میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علی رضی الله عنہ کی شکایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہو گیا پھر آپ نے فرمایا: ”تم کیا چاہتے ہو ایک ایسے شخص کے سلسلے میں جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں“، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں تو صرف ایک قاصد ہوں، پھر آپ خاموش ہو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمُعْتَكِفِ إِذَا قَطَعَ اعْتِكَافَهُ قَبْلَ أَنْ يُتِمَّهُ عَلَى مَا نَوَى فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا نَقَضَ اعْتِكَافَهُ وَجَبَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ . وَاحْتَجُّوا بِالْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنِ اعْتِكَافِهِ فَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ نَذْرُ اعْتِكَافٍ أَوْ شَيْءٌ أَوْجَبَهُ عَلَى نَفْسِهِ وَكَانَ مُتَطَوِّعًا فَخَرَجَ فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَقْضِيَ إِلاَّ أَنْ يُحِبَّ ذَلِكَ اخْتِيَارًا مِنْهُ وَلاَ يَجِبُ ذَلِكَ عَلَيْهِ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ . قَالَ الشَّافِعِيُّ فَكُلُّ عَمَلٍ لَكَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ فِيهِ فَإِذَا دَخَلْتَ فِيهِ فَخَرَجْتَ مِنْهُ فَلَيْسَ عَلَيْكَ أَنْ تَقْضِيَ إِلاَّ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
Anas bin Malik narrated:"The Prophet would perform I'tikaf during the last ten (nights) of Ramadan. One year he did not perform I'tikaf, so he performed I'tikaf for twenty (nights) in the following year
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، ایک سال آپ اعتکاف نہیں کر سکے تو جب اگلا سال آیا تو آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس بن مالک کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- معتکف جب اپنا اعتکاف اس مدت کے پورا کرنے سے پہلے ختم کر دے جس کی اس نے نیت کی تھی تو اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم نے کہا: جب وہ اعتکاف توڑ دے تو اس پر قضاء واجب ہو گی انہوں نے اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اعتکاف سے نکل آئے تو آپ نے شوال میں دس دن کا اعتکاف کیا، یہ مالک کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں: اگر اس پر اعتکاف کی نذر یا کوئی ایسی چیز نہ ہو جسے اس نے اپنے اوپر واجب کر لی ہو اور وہ نفل کی نیت سے اعتکاف میں رہا ہو پھر اعتکاف سے نکل آیا ہو تو اس پر قضاء واجب نہیں الا یہ کہ وہ اپنی پسند سے اسے چاہے اور یہ اس پر واجب نہیں ہو گا۔ یہی شافعی کا قول ہے، ۳- شافعی کہتے ہیں: ہر وہ عمل جس کے کرنے یا نہ کرنے کے سلسلے میں تمہیں اختیار ہو جب تم اسے کرنا شروع کر دو پھر اس کے پورا ہونے سے پہلے تم اسے چھوڑ دو تو اس کی قضاء تم پر لازم نہیں ہے۔ سوائے حج اور عمرہ کے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، . قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abdullah bin Buraidah narrated from his father who said:"A woman came to the Prophet and said: 'My mother died and she did not perform Hajj should I perform Hajj on her behalf?' He said: 'Yes, perform Hajj on her behalf
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں مر گئی ہے، وہ حج نہیں کر سکی تھی، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تو اس کی طرف سے حج کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔