حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا قَوْلُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَغَيْرِهِ . وَقَدْ رَوَى غَيْرُ، وَاحِدٍ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ . وَقَدْ رَوَى عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ . وَيَرَوْنَ أَنَّ هَذَا غَلَطٌ مِنْ أَبِي إِسْحَاقَ .
Abu Ishaq:There is a similar report (as no. 1I8) narrated via Abu Ishaq
اس سند سے بھی ابواسحاق سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہی سعید بن مسیب وغیرہ کا قول ہے، ۲- کئی سندوں سے عائشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سونے سے پہلے وضو کرتے تھے، ۳- یہ ابواسحاق سبیعی کی حدیث ( رقم ۱۱۸ ) سے جسے انہوں نے اسود سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے، اور ابواسحاق سبیعی سے یہ حدیث شعبہ، ثوری اور دیگر کئی لوگوں نے بھی روایت کی ہے اور ان کے خیال میں اس میں غلطی ابواسحاق سبیعی سے ہوئی ہے ۱؎۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِنًّا فَأَعْطَاهُ سِنًّا خَيْرًا مِنْ سِنِّهِ وَقَالَ " خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَرَوْا بِاسْتِقْرَاضِ السِّنِّ بَأْسًا مِنَ الإِبِلِ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ .
Narrated Abu Hurairah: "The Messenger of Allah (ﷺ) took a camel of a particular age on loan. He gave back to him a camel of a better age than the one he was given. He said: 'The best among you is the best in repaying.'" He said: There is something on this topic from Abu Rafi'. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Hurairah is a Hasan Sahih Hadith. Shu'bah and Sufyan reported it from Salamah. This is acted upon according to some of the people of knowledge, they saw no harm is taking a camel of a particular age as a loan. This is the view of Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq. But some of them disliked that
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا اور آپ نے اسے اس سے بہتر اونٹ دیا اور فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ اور سفیان نے بھی سلمہ سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں ابورافع رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کسی بھی عمر کا اونٹ قرض لینے کو مکروہ نہیں سمجھتے ہیں، ۵- اور بعض لوگوں نے اسے مکروہ جانا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Ad-Darda narrated that the Messenger of Allah said:"Whoever was given his share of gentleness, then he has been given a share of good. And whoever has been prevented from his share of gentleness, then he has been prevented from his share of good
ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو نرم برتاؤ کا حصہ مل گیا، اسے اس کی بھلائی کا حصہ بھی مل گیا اور جو شخص نرم برتاؤ کے حصہ سے محروم رہا وہ بھلائی سے بھی محروم رہا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، جریر بن عبداللہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ يَقُولَ الإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ . وَيَقُولُ مَنْ خَلْفَ الإِمَامِ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ . وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ . وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ وَغَيْرُهُ يَقُولُ مَنْ خَلْفَ الإِمَامِ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ . مِثْلَ مَا يَقُولُ الإِمَامُ . وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَإِسْحَاقُ .
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "When the Imam says: (Sami Allahu liman hamidah) 'Allah listens to those who praise Him. Then (all of you) say: (Rabbana wa lakal-hamd) 'O our Lord! And to You is the praise for whoever's saying concurs with the saying of the angels, then his past sins will be forgiven
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع الله لمن حمده» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» ”ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہو کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ امام «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہے ۱؎ اور مقتدی «ربنا ولك الحمد» کہیں، یہی احمد کہتے ہیں، ۳- اور ابن سیرین وغیرہ کا کہنا ہے جو امام کے پیچھے ( یعنی مقتدی ) ہو وہ بھی «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» اسی طرح کہے گا ۲؎ جس طرح امام کہے گا اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed some poetry is wisdom
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Abdullah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ: ( الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ) شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا لاَ يَظْلِمُ نَفْسَهُ . قَالَ " لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ لُقْمَانُ لاِبْنِهِ : ( يَا بُنَيَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ) " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated 'Abdullah:"When (the following) was revealed: It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong) (6:82) - That bothered some Muslims, so they said: 'O Messenger of Allah! Which of us has not wronged himself?' He said: 'It is not that, it is only Shirk, have you not heard what Luqman said to his son: O my son! Do not commit Shirk with Allah. Verily Shirk is a tremendous Zulm (wrong) (31:)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم ( شرک ) کی آمیزش نہ کی“ ( الأنعام ۸۲ ) ، نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بات گراں گزری، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کون ایسا ہے جس سے اپنی ذات کے حق میں ظلم و زیادتی نہ ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( تم غلط سمجھے ) ایسی بات نہیں ہے، اس ظلم سے مراد صرف شرک ہے، کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحت کی تھی؟ انہوں نے کہا تھا: «يا بني لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اے میرے بیٹے! شرک نہ کر، شرک بہت بڑا گناہ ہے“ ( لقمان: ۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ : ( ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ) قَالَ فِي الدُّنْيَا الْعِلْمَ وَالْعِبَادَةَ وَفِي الآخِرَةِ الْجَنَّةَ .
Hisham bin Hassan narrated from Al-Hasan :concerning the saying of Allah: O our Lord, give us good in this world, and good in the Hereafter. He said: “Knowledge and worship in this world, and Paradise in the Hereafter.”
اللہ تعالیٰ کی اس آیت: «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة» کے بارے میں حسن سے مروی ہے، دنیا میں «حسنہ» سے مراد علم اور عبادت ہے، اور آخرت میں «حسنہ» سے مراد جنت ہے۔
Narrated by Ali
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي .هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Narrated 'Ali:"When I would ask the Messenger of Allah (ﷺ), he would give me, and when I would be silent, he would initiate (speech or giving) with me
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي رَمَضَانَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ هُوَ مَدِينِيٌّ ثِقَةٌ وَهُوَ أَخُو إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ ابْنُ نَجِيحٍ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيِّ وَكَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يُضَعِّفُهُ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ وَقَالُوا لِلْمُسَافِرِ أَنْ يُفْطِرَ فِي بَيْتِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَقْصُرَ الصَّلاَةَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ جِدَارِ الْمَدِينَةِ أَوِ الْقَرْيَةِ . وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيِّ .
(Another chain) from Muhammad bin Ka'b who said:"I went to Anas bin Malik during Ramadan" and he mentioned a similar narration (as no)
اس سند سے بھی محمد بن کعب سے روایت ہے کہ میں رمضان میں انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس آیا پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور محمد بن جعفر ہی ابن ابی کثیر مدینی ہیں اور ثقہ ہیں اور یہی اسماعیل بن جعفر کے بھائی ہیں اور عبداللہ بن جعفر علی بن عبداللہ مدینی کے والد ابن نجیح ہیں، یحییٰ بن معین ان کی تضعیف کرتے تھے، ۲- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مسافر کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے گھر سے نکلنے سے پہلے افطار کرے لیکن اسے نماز قصر کرنے کی اجازت نہیں جب تک کہ شہر یا گاؤں کی فصیل سے باہر نہ نکل جائے۔ یہی اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ حنظلی کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . يَعْنِي حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ طَرِيفٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً . وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنَّ الصَّبِيَّ إِذَا حَجَّ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَ فَعَلَيْهِ الْحَجُّ إِذَا أَدْرَكَ لاَ تُجْزِئُ عَنْهُ تِلْكَ الْحَجَّةُ عَنْ حَجَّةِ الإِسْلاَمِ وَكَذَلِكَ الْمَمْلُوكُ إِذَا حَجَّ فِي رِقِّهِ ثُمَّ أُعْتِقَ فَعَلَيْهِ الْحَجُّ إِذَا وَجَدَ إِلَى ذَلِكَ سَبِيلاً وَلاَ يُجْزِئُ عَنْهُ مَا حَجَّ فِي حَالِ رِقِّهِ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
(Another chain) from Jabir bin Abdullah:From the Prophet, with similar (Hadith of Muhammad bin Tarif no)