حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلاَ يَمَسُّ مَاءً .
Aishah narrated:"Allah's Messenger would sleep while he was Junub, and without touching water (performing Ghusl)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سوتے اور پانی کو ہاتھ نہ لگاتے اور آپ جنبی ہوتے ۱؎۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلاً فَقَالَ " يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ مَا هَذَا " . قَالَ أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " أَفَلاَ جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ " . ثُمَّ قَالَ " مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي الْحَمْرَاءِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَبُرَيْدَةَ وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا الْغِشَّ وَقَالُوا الْغِشُّ حَرَامٌ .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) passed by a pile of food. He put his fingers in it and felt wetness. He said: 'O owner of the food! What is this ?' He replied: 'It was rained upon O Messenger of Allah.' He said: 'Why not put it on top of the food so the people can see it?' Then he said: 'Whoever cheats, he is not one of us.'" He said: There are narrations on this topic from Ibn 'Umar, Abu Al-Hamra', Ibn 'Abbas, Buraidah, Abu Burdah bin Niyar, and Hudhaifah bin Al-Yaman. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Hurairah is Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge. They dislike cheating and they say that cheating is unlawful
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کر دیا، آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں تو آپ نے فرمایا: ”غلہ والے! یہ کیا معاملہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش سے بھیگ گیا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے اوپر کیوں نہیں کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”جو دھوکہ دے ۱؎، ہم میں سے نہیں ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲ – اس باب میں ابن عمر، ابوحمراء، ابن عباس، بریدہ، ابوبردہ بن دینار اور حذیفہ بن یمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ دھوکہ دھڑی کو ناپسند کرتے ہیں اور اسے حرام کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الأَنَاةُ مِنَ اللَّهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَالأَشَجُّ بْنُ عَبْدِ الْقَيْسِ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَائِذٍ .
Abdullah-Muhaimin bin 'Abbas bin Sahl bin Sa'd As-Saidi narrated from his father, from his grandfather, who said that the Messenger of Allah said:"Deliberateness is from Allah, and haste is from the Ash-shaitan
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوچ سمجھ کر کام کرنا اور جلد بازی نہ کرنا اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے عبدالمہیمن بن عباس بن سہل کے بارے میں کلام کیا ہے، اور حافظے کے تعلق سے انہیں ضعیف کہا ہے، ۳- اشج بن عبدالقیس کا نام منذر بن عائذ ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ أَبِي أَوْفَى وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ قَالَ يَقُولُ هَذَا فِي الْمَكْتُوبَةِ وَالتَّطَوُّعِ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ يَقُولُ هَذَا فِي صَلاَةِ التَّطَوُّعِ وَلاَ يَقُولُهَا فِي صَلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَإِنَّمَا يُقَالُ الْمَاجِشُونِيُّ لأَنَّهُ مِنْ وَلَدِ الْمَاجِشُونِ .
Ali bin Abi Talib narrated:"When Allah's Messenger would raise his head from bowing he would say: (Sami Allahi liman hamidal. Rabba na lakal-hamd, mil'as-samawati wa mil'al-ardi wa mil'a ma bainahuma wa mil'a ma shi'ia min shay'in ba'd) 'Allah listens to those who praise Him. O our Lord! And to You is the praise that fills the heavens and fills the earth, and fills what is between them, and fills whatever there is beyond that You will.' He said: There are narrations on this topic from Ibn Umar, Ibn Abbas, Ibn Abi Awfa, Abu Juhaifa, and Abu Sa'eed
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد» ”اللہ نے اس شخص کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تعریف تیرے ہی لیے ہے آسمان بھر، زمین بھر، زمین و آسمان کی تمام چیزوں بھر، اور اس کے بعد ہر اس چیز بھر جو تو چاہے“ کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، ابن ابی اوفی، ابوحجیفہ اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں کہ فرض ہو یا نفل دونوں میں یہ کلمات کہے گا ۱؎ اور بعض اہل کوفہ کہتے ہیں: یہ صرف نفل نماز میں کہے گا۔ فرض نماز میں اسے نہیں کہے گا۔
Narrated by Abdullah
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا رَفَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ عَنِ ابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ . وَرَوَى غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ هَذَا الْحَدِيثَ مَوْقُوفًا . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَبُرَيْدَةَ وَكَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ .
Narrated 'Abdullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed some poetry is wisdom
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں“۔
Narrated by Sa'd bin Abi Waqqas
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيِّ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذِهِ الآيَةِ: (قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ ) فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمَا إِنَّهَا كَائِنَةٌ وَلَمْ يَأْتِ تَأْوِيلُهَا بَعْدُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Narrated Sa'd bin Abi Waqqas:from the Prophet (ﷺ), regarding this Ayah "Say: He has the power to send torment on you from above or from under your feet...' the Prophet (ﷺ) said "Indeed they shall be, even though they have not occurred as of yet
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم أو من تحت أرجلكم» ”کہہ دو ( اے محمد! ) وہ ( اللہ ) قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے یا تمہارے پیروں کے نیچے سے“ ( الانعام: ۶۵ ) ، کے متعلق فرمایا: ”آگاہ رہو یہ تو ہو کر رہنے والی بات ہے اور ابھی تک اس کا وقوع و ظہور نہیں ہوا ہے“ ( یعنی یہ عذاب نہیں آیا ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَادَ رَجُلاً قَدْ جُهِدَ حَتَّى صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ " أَمَا كُنْتَ تَدْعُو أَمَا كُنْتَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ " . قَالَ كُنْتُ أَقُولُ اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّكَ لاَ تُطِيقُهُ - أَوْ لاَ تَسْتَطِيعُهُ أَفَلاَ كُنْتَ تَقُولُ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Anas bin Malik narrated that:The Prophet (ﷺ) visited a man who was so emaciated that he had become like a baby bird. He (ﷺ) said to him: “And did you not used to supplicate? Did you not used to ask Your Lord for sound health?” He said: “I used to say: “O Allah, whatever You are going to punish me with in the Hereafter, then hasten it for me in this world.” So the Prophet (ﷺ) said: “Glory is to Allah, you are not capable of that” – or – “you are not able to stand that. Would you not say: ‘O Allah, give us good in this world, and good in the Hereafter, and spare us the punishment of the Fire (Allāhumma ātinā fid-dunyā ḥasanatan wa fil ākhirati ḥasanatan wa qinā `adhāban-nār).’”
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی جو بیماری سے سخت لاغر اور سوکھ کر چڑیا کے بچے کی طرح ہو گئے تھے عیادت کی، آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم اپنے رب سے اپنی صحت و عافیت کی دعا نہیں کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا تھا وہ سزا مجھے تو دنیا ہی میں پہلے ہی دیدے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! پاک ہے اللہ کی ذات، تو اس سزا کو کاٹنے اور جھیلنے کی طاقت و استطاعت نہیں رکھتا، تم یہ کیوں نہیں کہا کرتے تھے: «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ”اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی نیکی، اچھائی و بھلائی دے اور آخرت میں بھی حسنہ، نیکی بھلائی و اچھائی دے، اور بچا لے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے“ ( البقرہ: ۲۰۱ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس بن مالک کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگر کئی اور سندوں سے بھی آئی ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَيْرٌ فَقَالَ " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ " . فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ السُّدِّيِّ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ . وَعِيسَى بْنُ عُمَرَ هُوَ كُوفِيٌّ وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَزَائِدَةُ وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ .
Narrated Anas bin Malik:"There was a bird with the Prophet (ﷺ), so he said: 'O Allah, send to me the most beloved of Your creatures to eat this bird with me.' So 'Ali came and ate with him
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندہ تھا، آپ نے دعا فرمائی کہ ”اے للہ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے، تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- عیسیٰ بن عمر کوفی ہیں ۴- اور سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے، اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے، شعبہ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ يُرِيدُ سَفَرًا وَقَدْ رُحِلَتْ لَهُ رَاحِلَتُهُ وَلَبِسَ ثِيَابَ السَّفَرِ فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأَكَلَ فَقُلْتُ لَهُ سُنَّةٌ قَالَ سُنَّةٌ . ثُمَّ رَكِبَ .
Muhammad bin Ka'b narrated:"I went to Anas bin Malik during Ramadan and he was about to travel. His mount was prepared for him, and he put on his traveling clothes, then he called for some food to eat, and I said to him: 'Is it Sunnah?' He said: 'It is Sunnah.' Then he rode
محمد بن کعب کہتے ہیں کہ میں رمضان میں انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس آیا، وہ سفر کا ارادہ کر رہے تھے، ان کی سواری پر کجاوہ کسا جا چکا تھا اور وہ سفر کے کپڑے پہن چکے تھے، انہوں نے کھانا منگایا اور کھایا۔ میں نے ان سے پوچھا: یہ سنت ہے؟ کہا: ہاں سنت ہے۔ پھر وہ سوار ہوئے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَجَّ بِي أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
As-Sa'ib bin Yazid narrated:"My father took me for Hajj with the Messenger of Allah during the Farewell Hajj, and I was seven years old