بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v2.0 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
10
13 hadith
Narrated by Abu Barzah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ الأَسْوَدِ، عَنْ مُنْيَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي بَرْزَةَ، عَنْ جَدِّهَا أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ عَزَّى ثَكْلَى كُسِيَ بُرْدًا فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ ‏.‏
Abu Barzah narrated that :The Messenger of Allah said: "Whoever consoles a bereaved mother, he will be clothes with a Burd in Paradise
ابوبرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی ایسی عورت کی تعزیت ( ماتم پرسی ) کی جس کا لڑکا مر گیا ہو، تو اسے جنت میں اس کے بدلہ ایک عمدہ کپڑا پہنایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند قوی نہیں ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِي الاِحْتِلاَمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى سَمِعْتُ الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ لَمْ نَجِدْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ عِنْدَ شَرِيكٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَالزُّبَيْرِ وَطَلْحَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas said:"Water is for water' is only about the wet dream
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ منی نکلنے سے ہی غسل واجب ہوتا ہے“ کا تعلق احتلام سے ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، زبیر، طلحہ، ابوایوب اور ابوسعید رضی الله عنہم نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا منی نکلنے ہی پر غسل واجب ہوتا ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ وَلاَ تَبِعْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَمَعْنَاهُ أَنَّهُ إِذَا أُحِيلَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ ‏.‏ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا أُحِيلَ الرَّجُلُ عَلَى مَلِيٍّ فَاحْتَالَهُ فَقَدْ بَرِئَ الْمُحِيلُ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ عَلَى الْمُحِيلِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا تَوِيَ مَالُ هَذَا بِإِفْلاَسِ الْمُحَالِ عَلَيْهِ فَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ عَلَى الأَوَّلِ ‏.‏ وَاحْتَجُّوا بِقَوْلِ عُثْمَانَ وَغَيْرِهِ حِينَ قَالُوا لَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوًى ‏.‏ قَالَ إِسْحَاقُ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ ‏"‏ لَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوًى ‏"‏ ‏.‏ هَذَا إِذَا أُحِيلَ الرَّجُلُ عَلَى آخَرَ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ مَلِيٌّ فَإِذَا هُوَ مُعْدِمٌ فَلَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوًى ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar: That the Prophet (ﷺ) said: "Procrastination (in paying a debt) by a rich person is oppression. So if your debt is transfered from your debtor you should agree, and do not make two sales in one sale." [Abu 'Eisa said:] The Hadith is the Abu Hurairah (no. 1308) is a Hasan Sahih Hadith. And its meaning is that when the debt of one of you is transferred then agree. Some of the people of knowledge said when a man is offered to transfer his debt to a rich man and he does so, then the transferor is free of it, he is not to seek its return from the transferor. This is the view of Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq. Some of the people of knowledge said: "When this wealth could not be collected due to bankruptcy of the one it was transferred to, then he may seek its return to the first one." They argue this view with the saying of 'Uthman and others, when they said: "There is nothing due on a Muslim's wealth that is lost." Ishaq said: "The meaning of this Hadith: 'There is nothing due on a Muslim's wealth that is lost' this is when a man transfers it to another whom he thinks is wealthy, then he becomes bankrupt, so there is nothing due on the Muslim's wealth that is lost
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ اور جب تم کسی مالدار کے حوالے کئے جاؤ تو اسے قبول کر لو، اور ایک بیع میں دو بیع نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی قرض وصول کرنے میں کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب آدمی کو کسی مالدار کے حوالے کیا جائے اور وہ حوالہ قبول کر لے تو حوالے کرنے والا بری ہو جائے گا اور قرض خواہ کے لیے درست نہیں کہ پھر حوالے کرنے والے کی طرف پلٹے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: کہ «محتال علیہ» ”جس آدمی کی طرف تحویل کیا گیا ہے“، کے مفلس ہو جانے کی وجہ سے اس کے مال کے ڈوب جانے کا خطرہ ہو تو قرض خواہ کے لیے جائز ہو گا کہ وہ پہلے کی طرف لوٹ جائے، ان لوگوں نے اس بات پر عثمان رضی الله عنہ وغیرہ کے قول سے استدلال کیا ہے کہ مسلمان کا مال ضائع نہیں ہوتا ہے، ۵- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اس حدیث «ليس على مال مسلم توي» ”مسلمان کا مال ضائع نہیں ہوتا ہے“، کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی قرض خواہ کسی کے حوالے کیا گیا اور اسے مالدار سمجھ رہا ہو لیکن درحقیقت وہ غریب ہو تو ایسی صورت میں مسلمان کا مال ضائع نہ ہو گا ( اور وہ اصل قرض دار سے اپنا مال طلب کر سکتا ہے ) ۔
Narrated by Abu Al-Ahwas narrated from his father who
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ أَمُرُّ بِهِ فَلاَ يَقْرِينِي وَلاَ يُضَيِّفُنِي فَيَمُرُّ بِي أَفَأَجْزِيهِ قَالَ ‏"‏ لاَ أَقْرِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَرَآنِي رَثَّ الثِّيَابِ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ مِنَ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلْيُرَ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الأَحْوَصِ اسْمُهُ عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ الْجُشَمِيُّ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ أَقْرِهِ ‏"‏ أَضِفْهُ وَالْقِرَى هُوَ الضِّيَافَةُ ‏.‏
Abu Al-Ahwas narrated from his father who said:"I said: 'O Messenger of Allah! I stayed with a man who did not entertain me nor behave hospitably with me. Then he came to stay with me, shall I reciprocate the same to him?' He (ﷺ said: 'No, entertain him." He said: 'He (ﷺ saw me wearing tattered clothes and said:'(Do you have any wealth?' I said: 'Allah has given me various kinds of wealth through camels and goats.' He said: 'Then let it be seen on you)
مالک بن نضلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک ایسا آدمی ہے جس کے پاس سے میں گزرتا ہوں تو میری ضیافت نہیں کرتا اور وہ بھی کبھی کبھی میرے پاس سے گزرتا ہے، کیا میں اس سے بدلہ لوں؟ ۱؎ آپ نے فرمایا: ”نہیں، ( بلکہ ) اس کی ضیافت کرو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بدن پر پرانے کپڑے دیکھے تو پوچھا، تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال اونٹ اور بکری عطاء کی ہے، آپ نے فرمایا: ”تمہارے اوپر اس مال کا اثر نظر آنا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «اقْرِهِ» کا معنی ہے تم اس کی ضیافت کرو «قری» ضیافت کو کہتے ہیں، ۳- اس باب میں عائشہ، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک نضلہ جشمی ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ رَايَاتٌ سُودٌ لاَ يَرُدُّهَا شَيْءٌ حَتَّى تُنْصَبَ بِإِيلِيَاءَ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Black standards will come from Khurasan, nothing shall turn them back until they are planted in Jerusalem
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے، ان جھنڈوں کو کوئی چیز پھیر نہیں سکے گی یہاں تک کہ ( فلسطین کے شہر ) ایلیاء میں یہ نصب کیے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Narrated by Abdul-Wahhab bin Al-Ward
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ الْوَرْدِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رضى الله عنها أَنِ اكْتُبِي إِلَىَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلاَ تُكْثِرِي عَلَىَّ ‏.‏ فَكَتَبَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها إِلَى مُعَاوِيَةَ سَلاَمٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنِ الْتَمَسَ رِضَاءَ اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ اللَّهُ مُؤْنَةَ النَّاسِ وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَاءَ النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ وَالسَّلاَمُ عَلَيْكَ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَتَبَتْ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏
Abdul-Wahhab bin Al-Ward narrated from a man among the inhabitants of Al-Madinah who said:"Mu'awiyah wrote a letter to 'Aishah, that: 'Write a letter to advise me , and do not overburden me.'" He said: "So 'Aishah [may Allah be pleased with her]wrote to Mu'awiyah: 'Peace be upon you. As for what follows: Indeed I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: Whoever seeks Allah's pleasure by the people's wrath, Allah will suffice him from the people. And who ever seeks the people's pleasure by Allah's wrath, Allah will entrust him to the people. And Peace be upon you
عبدالوہاب بن ورد سے روایت ہے کہ ان سے مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا: معاویہ رضی الله عنہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ایک خط لکھا کہ مجھے ایک خط لکھئیے اور اس میں کچھ وصیت کیجئے لیكن ‌بہت ‌زیادہ ‌نہیں ۔ چنانچہ عائشہ رضی الله عنہا نے معاویہ رضی الله عنہ کے پاس خط لکھا: دعا و سلام کے بعد معلوم ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو لوگوں کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو تو لوگوں سے پہنچنے والی تکلیف کے سلسلے میں اللہ اس کے لیے کافی ہو گا اور جو اللہ کی ناراضگی میں لوگوں کی رضا کا طالب ہو تو اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کو اسے تکلیف دینے کے لیے مقرر کر دے گا“، ( والسلام علیک تم پر اللہ کی سلامتی نازل ہو ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَذَكَرُوا صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي حُمَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يُجَافِيَ الرَّجُلُ يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ‏.‏
Abbas bin Sahl [bin Sa'd] narrated:"Abu Humaid, Abu Usaid, Sahl bin Sa'd, and Muhammad bin Maslamah were once together and they were mentioning the Salat of Allah's Messenger. Abu Humaid said: 'I am the most knowledgeable among you of the Salat of Allah's Messenger: Allah's Messenger would bow and place his hands on his knees as if he was grasping them, and he would draw his forearms to hold them away from his sides
عباس بن سہل بن سعد کا بیان ہے کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد، اور محمد بن مسلمہ ( رضی الله عنہم ) چاروں اکٹھا ہوئے تو ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا، ابوحمید رضی الله عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے گویا آپ انہیں پکڑے ہوئے ہیں، اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح ( ٹائٹ ) بنایا اور انہیں اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ ‏ "‏ أَنْتِ جَمِيلَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ وَعَائِشَةَ وَالْحَكَمِ بْنِ سَعْدٍ وَمُسْلِمٍ وَأُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ وَشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِيهِ وَخَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) changed the name of 'Asiyah, he said: "You are Jamilah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاصیہ» کا نام بدل دیا اور کہا ( آج سے ) تو «جمیلہ» یعنی: ”تیرا نام جمیلہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو یحییٰ بن سعید قطان نے مرفوع بیان کیا ہے۔ یحییٰ نے عبیداللہ سے عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، اور بعض راویوں نے یہ حدیث عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے عمر سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن سلام، عبداللہ بن مطیع، عائشہ، حکم بن سعید، مسلم، اسامہ بن اخدری، ہانی اور عبدالرحمٰن بن ابی سبرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَعَدِيِّ بْنِ بَدَاءٍ فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا مُسْلِمٌ فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ فَقِيلَ اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِيٍّ وَتَمِيمٍ فَقَامَ رَجُلاَنِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا بِاللَّهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَأَنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ ‏.‏ قَالَ وَفِيهِمْ نَزَلَتْ ‏:‏ ‏(‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ ‏)‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:"A man from Banu Sahm went out with Tamim Ad-Dari and 'Adi bin Badda. The Sahmi man died in a land in which there were no Muslims. When they arrived with what he left behind, they searched for a bowl made of silver which was inlaid with gold. The Messenger of Allah (ﷺ) had the two of them take an oath. Then they found the bowl in Makkah, and the person said: 'We purchased it from Tamim and 'Adi.' So two men among the relatives of the Sahmi man stood to take an oath by Allah that they (his family) had more right to it than them." He said: "So it was about them that the following was revealed: O you who believe! (When death approaches any of you then) take the testimony (5:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بنی سہم کا ایک شخص، تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ ( سفر پر ) نکلا اور یہ سہمی ( جو تمیم داری اور عدی کا ہم سفر تھا ) ایک ایسی سر زمین میں انتقال کر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب اس کے دونوں ساتھی اس کا ترکہ لے کر آئے تو اس کے گھر والے ( ورثاء ) کو اس کے متروکہ سامان میں چاندی کا وہ پیالہ نہ ملا جس پر سونے کا جڑاؤ تھا، چنانچہ ( جب مقدمہ پیش ہوا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قسم کھلائی۔ ( اور انہوں نے قسم کھا لی کہ ہمیں پیالہ نہیں ملا تھا ) لیکن وہ پیالہ سہمی کے گھر والوں کو مکہ میں کسی اور کے پاس مل گیا، انہوں نے بتایا کہ ہم نے تمیم اور عدی سے اسے خریدا ہے۔ تب سہمی کے وارثین میں سے دو شخص کھڑے ہوئے۔ اور انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ ہماری شہادت ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے۔ اور پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے۔ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: انہیں لوگوں کے بارے میں «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم» والی آیت نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، یہ ابن ابی زائدہ کی روایت ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَقَالَ لَهَا ‏ "‏ قُولِي اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهَكَذَا رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الأَعْمَشِ عَنِ الأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا ‏.‏ وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مُرْسَلٌ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that:Fatimah came to the Prophet (ﷺ), asking him for a servant. So he (ﷺ) said to her: “Say: ‘O Allah, Lord of the Seven Heavens and the Lord of the Magnificent Throne, our Lord, and the Lord of everything, Revealer of the Tawrah, the Injil, and the Quran, Splitter of the seed-grain and the date-stone, I seek refuge in You from the evil of everything that You are holding by the forelock, You are the First, for there is nothing above You, and You are the Last, for there is nothing after you. And you are az-Zahir, for there is nothing above you. And you are Al-Batin, for there is nothing below You. Relieve me from debt, and enrich me from poverty (Allāhumma rabbas samāwātis-sab`i wa rabbal-`arshil-`aẓīm, rabbana, wa rabba kulli shai’in, munzilat-Tawrāti wal-Injīli wal-Qur’ān, fāliqal-habbi wan-nawā, a`ūdhu bika min sharri kulli shai’in anta ākhidhun bināṣiyatihi, antal-awwalu falaisa qablaka shai’un, wa antal-ākhiru falaisa ba`daka shai’un, wa antaẓ-ẓāhiru falaisa fawqaka shai’un, wa antal-bāṭinu falaisa dūnaka shai’un, iqḍi `anni-daina wa aghnini minal-faqr).”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ ( بنت رسول ) رضی الله عنہا آپ کے پاس ایک خادم مانگنے آئیں، آپ نے ان سے کہا: تم یہ دعا پڑھتی رہو: «اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن فالق الحب والنوى أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب، عرش عظیم کا رب، اے ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب، توراۃ، انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے، زمین پھاڑ کر دانے اگانے اور اکھوے نکالنے والے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر چیز کے شر سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تو پہلا ہے ( شروع سے ہے ) تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر ( یعنی اوپر ہے ) ، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو پوشیدہ ہے سب کی نظروں سے، لیکن تم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، اے اللہ! تو میرے اوپر سے قرض اتار دے، اور مجھے محتاجی سے نکال کر مالدار کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، اور اعمش کے بعض شاگردوں نے اعمش سے ایسے ہی روایت کی ہے، ۲- ایسے ہی بعض راویوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، اور انہوں نے اپنی روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated by Al-Bara bin 'Azib
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْرَائِيلَ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ‏ "‏ أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Al-Bara bin 'Azib:that the Prophet (ﷺ) said to 'Ali bin Abi Talib: "You are from me, and I am from you." And there is a story along with this Hadith
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی سے فرمایا: ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور اس حدیث میں ایک واقعہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Zirr
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ قُلْتُ لأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّى عَلِمْتَ أَبَا الْمُنْذِرِ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ قَالَ بَلَى أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَّهَا لَيْلَةٌ صَبِيحَتُهَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ ‏"‏ ‏.‏ فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَلَكِنْ كَرِهَ أَنْ يُخْبِرَكُمْ فَتَتَّكِلُوا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Zirr said:"I said to Ubayy bin Ka'b: 'O Abu Al-Mundhir! How do you know that it is the night of the twenty-seventh?' He said: 'Rather, the Messenger of Allah informed us that it is a night (after which) the sun rises without rays, so we counted and we remembered it. By Allah! Ibn Mas'ud learned that it is in Ramadan and that it is the nigh of the twenty-seventh, but he did not want to inform you lest you would depend on it
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے پوچھا: ابوالمنذر! آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ ستائیسویں رات ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ ”یہ ایک ایسی رات ہے جس کی صبح جب سورج نکلے گا تو اس میں شعاع نہیں ہو گی، تو ہم نے گنتی کی اور ہم نے یاد رکھا، ( زرّ کہتے ہیں ) اللہ کی قسم! ابن مسعود کو بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان میں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے۔ لیکن وہ یہ ناپسند کرتے ہیں کہ تمہیں ( اسے مسلمانو! ) بتا دیں اور تم تکیہ کر کے بیٹھ جاؤ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ أَنَّهُ كَانَ يُمْسِكُ عَنِ التَّلْبِيَةِ، فِي الْعُمْرَةِ إِذَا اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا لاَ يَقْطَعُ الْمُعْتَمِرُ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا انْتَهَى إِلَى بُيُوتِ مَكَّةَ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏
Ibn Abbas narrated:(that the Prophet): "Would stop saying the Talbiyah during "Umrah when he touched the (Black) Stone
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ میں تلبیہ پکارنا اس وقت بند کرتے جب حجر اسود کا استلام کر لیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ کرنے والا شخص تلبیہ بند نہ کرے جب تک کہ حجر اسود کا استلام نہ کر لے، ۴- بعض کہتے ہیں کہ جب مکے کے گھروں یعنی مکہ کی آبادی میں پہنچ جائے تو تلبیہ پکارنا بند کر دے۔ لیکن عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( مذکورہ ) حدیث پر ہے۔ یہی سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔