حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلاَّ وَقَاهُ اللَّهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ . رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ إِنَّمَا يَرْوِي عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَلاَ نَعْرِفُ لِرَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ سَمَاعًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو .
Abdullah bin Amr narrated that:The Messenger of Allah said: "No Muslim dies on the day of Friday, nor the night of Friday, except that Allah protects him from the trials of the grave
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو مرتا ہے، اللہ اسے قبر کے فتنے سے محفوظ رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، ربیعہ بن سیف ابوعبدالرحمٰن حبلی سے روایت کرتے ہیں اور وہ عبداللہ بن عمرو سے۔ اور ہم نہیں جانتے کہ ربیعہ بن سیف کی عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے سماع ہے یا نہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ إِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ ثُمَّ نُهِيَ عَنْهَا .
Ubayy bin Ka'b narrated:"Water is for water,' was only permitted in the beginning of Islam. Then it was prohibited
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صرف منی ( نکلنے ) پر غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، پھر اس سے روک دیا گیا۔
Narrated by Abu Mas'ud
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ رَجُلاً مُوسِرًا وَكَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ وَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ تَجَاوَزُوا عَنْهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو .
Narrated Abu Mas'ud: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A man among those before you was called to reckon and nothing good was found with him. Except that he was a wealthy man so he used to mix with the pople and he would tell his servant to be lenient with the insolvent. So Allah, Mighty and Sublime is He, said: 'We are more worthy of that than him, so be lenient with him.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Abu Al-Yasar is Ka'b bin 'Amr
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلی امتوں میں سے ایک آدمی کا حساب ( اس کی موت کے بعد ) لیا گیا، تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ملی، سوائے اس کے کہ وہ ایک مالدار آدمی تھا، لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ ( تقاضے کے وقت ) تنگ دست سے درگزر کریں، تو اللہ تعالیٰ نے ( فرشتوں سے ) فرمایا: ہم اس سے زیادہ اس کے ( درگزر کے ) حقدار ہیں، تم لوگ اسے معاف کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ فَقَالَ " تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ " . وَسُئِلَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ فَقَالَ " الْفَمُ وَالْفَرْجُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَوْدِيُّ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah was asked about that for which people are admitted into Paradise the most, so he said:"Taqwa of Allah, and good character." And he was asked about that for which people are admitted into the Fire the most, and he said: " The mouth and the private parts
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق پھر آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”منہ اور شرمگاہ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ مَنْ تَرَكَ مِنْكُمْ عُشْرَ مَا أُمِرَ بِهِ هَلَكَ ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ مَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ بِعُشْرِ مَا أُمِرَ بِهِ نَجَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ نُعَيْمِ بْنِ حَمَّادٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ .
Abu Hurairah narrated that the Prophet(s.a.w) said:"You are in a time when whoever abandons a tenth of what he has been ordered, then he is ruined. Then, there will come a time in which whoever does a tenth of what he has been ordered shall be saved
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ایسے زمانہ میں ہو کہ جو اس کا دسواں حصہ چھوڑ دے جس کا اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ ہلاک ہو جائے گا، پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ تم میں سے جو اس کے دسویں حصہ پر عمل کرے جس کا اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ نجات پا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف نعیم بن حماد کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ سفیان بن عیینہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوذر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ حَسَّانَ الْمَخْزُومِيَّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ صَالِحٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ كَلاَمِ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لاَ لَهُ إِلاَّ أَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهْىٌ عَنْ مُنْكَرٍ أَوْ ذِكْرُ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ .
Umm Habibah, the wife of the Prophet (s.a.w), narrated from the Prophet (s.a.w) who said:"The son of Adam's speech is against him not for him, except for commanding good, or forbidding evil, or remembrance of Allah
ام المؤمنین حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کی ساری باتیں اس کے لیے وبال ہیں ان میں سے اسے امربالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے سوا اسے کسی اور کا ثواب نہیں ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے اسے ہم صرف محمد بن یزید بن خنیس کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ قَالَ لَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عَنْهُ إِنَّ الرُّكَبَ سُنَّتْ لَكُمْ فَخُذُوا بِالرُّكَبِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَأَبِي مَسْعُودٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ لاَ اخْتِلاَفَ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ إِلاَّ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَبَعْضِ أَصْحَابِهِ أَنَّهُمْ كَانُوا يُطَبِّقُونَ . وَالتَّطْبِيقُ مَنْسُوخٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
Abu Abdur-Rahman As-Sulami said:"Umar bin Al-Khattab [may Allah be pleased with him] said to us: 'The knees are the Sunnah for you, so hold the knees
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ ہم سے عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: گھٹنوں کو پکڑنا تمہارے لیے مسنون کیا گیا ہے، لہٰذا تم ( رکوع میں ) گھٹنے پکڑے رکھو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، انس، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ اور ابومسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ سوائے اس کے جو ابن مسعود اور ان کے بعض شاگردوں سے مروی ہے کہ وہ لوگ تطبیق ۱؎ کرتے تھے، اور تطبیق اہل علم کے نزدیک منسوخ ہے۔
Narrated by Samurah bin Jundab
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُسَمِّي غُلاَمَكَ رَبَاحٌ وَلاَ أَفْلَحُ وَلاَ يَسَارٌ وَلاَ نَجِيحٌ يُقَالُ أَثَمَّ هُوَ فَيُقَالُ لاَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Samurah bin Jundab:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not name your boy Rabah, nor Aflah, nor Yasar, nor Najih, so that it may be said: 'Is he there?' and it may be said: 'No
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے غلام کا نام رباح، افلح، یسار اور نجیح نہ رکھو ( کیونکہ ) پوچھا جائے کہ کیا وہ یہاں ہے؟ تو کہا جائے گا: نہیں“ ۱؎۔
Narrated by Abu Umayah Ash-Sha'bani
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ فَقُلْتُ لَهُ كَيْفَ تَصْنَعُ فِي هَذِهِ الآيَةِ قَالَ أَيَّةُ آيَةٍ قُلْتُ قَوْلُهُ : ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ) قَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْىٍ بِرَأْيِهِ فَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعِ الْعَوَامَّ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ الْقَبْضِ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلاً يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِكُمْ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَزَادَنِي غَيْرُ عُتْبَةَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْرُ خَمْسِينَ رَجُلاً مِنَّا أَوْ مِنْهُمْ قَالَ " لاَ بَلْ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Narrated Abu Umayah Ash-Sha'bani:"I went to Abu Tha'balah Al-Khushani and said to him: 'How do you deal with this Ayah?' He said: 'Which Ayah?' I said: 'Allah's saying: Take care of yourselves! If you follow the guidance no harm shall come to you (5:105).' He said: 'Well, by Allah! I asked one well-informed about it, I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about it. [So] he said: "Rather, comply with (and order) the good, and stay away from (and prohibit) the evil, until you see avarice obeyed, desires followed, and the world preferred, and everyone is amazed with his view. Then you should be worried about yourself in particular, and worry of the common folk. Ahead of you are the days in which patience is like holding onto an ember, for the doer (of righteous deeds) during them is the like of the reward of fifty of those who do the like of what you do." 'Abdullah bin Al-Mubarak said: "It was added for me, by other than 'Utbah, that it was said: 'O Messenger of Allah! The reward of fifty men among us, or them?' He said: 'No! Rather the reward of fifty men among you
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کے پاس آ کر پوچھا: اس آیت کے سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: آیت یہ ہے: «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» انہوں نے کہا: آگاہ رہو! قسم اللہ کی تم نے اس کے متعلق ایک واقف کار سے پوچھا ہے، میں نے خود اس آیت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، آپ نے فرمایا: ”بلکہ تم اچھی باتوں کا حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ لوگ بخالت کے راستے پر چل پڑے ہیں، خواہشات نفس کے پیرو ہو گئے ہیں، دنیا کو آخرت پر حاصل دی جا رہی ہے اور ہر عقل و رائے والا بس اپنی ہی عقل و رائے پر مست اور مگن ہے تو تم خود اپنی فکر میں لگ جاؤ، اپنے آپ کو سنبھالو، بچاؤ اور عوام کو چھوڑ دو، کیونکہ تمہارے پیچھے ایسے دن آنے والے ہیں کہ اس وقت صبر کرنا ( کسی بات پر جمے رہنا ) ایسا مشکل کام ہو گا جتنا کہ انگارے کو مٹھی میں پکڑے رہنا، اس زمانہ میں کتاب و سنت پر عمل کرنے والے کو تم جیسے پچاس کام کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا۔ ( اس حدیث کے راوی ) عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: عتبہ کے سوا اور کئی راویوں نے مجھ سے اور زیادہ بیان کیا ہے۔ کہا گیا: اللہ کے رسول! ( ابھی آپ نے جو بتایا ہے کہ پچاس عمل صالح کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا تو ) یہ پچاس عمل صالح کرنے والے ہم میں سے مراد ہیں یا اس زمانہ کے لوگوں میں سے مراد ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس زمانہ کے، تم میں سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، - وَهُوَ رَجُلٌ صَالِحٌ حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لاَهٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . سَمِعْتُ عَبَّاسًا الْعَنْبَرِيَّ يَقُولُ اكْتُبُوا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيِّ فَإِنَّهُ ثِقَةٌ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Call upon Allah while being certain of being answered, and know that Allah does not respond to a supplication from the heart of one heedless and occupied by play.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی، اور ( اچھی طرح ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہی اور بے توجہی سے مانگی ہوئی غفلت اور لہو و لعب میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میں نے عباس عنبری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عبداللہ بن معاویہ جمحی کی بیان کردہ روایتیں لکھ لو کیونکہ وہ ثقہ راوی ہیں۔
Narrated by Ali bin Abi Talib
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِي ابْنَتَهُ وَحَمَلَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ وَأَعْتَقَ بِلاَلاً مِنْ مَالِهِ رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الْحَقُّ وَمَالَهُ صَدِيقٌ رَحِمَ اللَّهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلاَئِكَةُ رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَالْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ كَثِيرُ الْغَرَائِبِ وَأَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ كُوفِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ .
Narrated 'Ali bin Abi Talib:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "May Allah have mercy upon Abu Bakr, he married me to his daughter, and he carried me to the land of Hijrah, and he freed Bilal with his wealth. May Allah have mercy upon 'Umar, he says the truth even if it is sour. The truth caused him to be left without a friend. May Allah have mercy upon 'Uthman, the angels are shy of him. May Allah have mercy upon 'Ali. O Allah! Place the truth with him wherever he turns
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنی لڑکی سے میری شادی کر دی اور مجھے دارلہجرۃ ( مدینہ ) لے کر آئے اور بلال کو اپنے مال سے ( خرید کر ) آزاد کیا، اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے وہ حق بات کہتے ہیں، اگرچہ وہ کڑوی ہو، حق نے انہیں ایسے حال میں چھوڑا ہے کہ ( اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ) ان کا کوئی دوست نہیں، اللہ عثمان پر رحم کرے ان سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں، اللہ علی پر رحم فرمائے، اے اللہ! حق کو ان کے ساتھ پھیر جہاں وہ پھریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- مختار بن نافع کثیر الغرائب اور بصریٰ شیخ ہیں، ۳- ابوحیان تیمی کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان تیمی ہے اور یہ کوفی ہیں اور ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ فِي مُعْتَكَفِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً . رَوَاهُ مَالِكٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ مُرْسَلاً . وَرَوَاهُ الأَوْزَاعِيُّ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ فِي مُعْتَكَفِهِ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْتَغِبْ لَهُ الشَّمْسُ مِنَ اللَّيْلَةِ الَّتِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهَا مِنَ الْغَدِ وَقَدْ قَعَدَ فِي مُعْتَكَفِهِ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ .
Aishah narrated:"When the Messenger of Allah wanted to perform I'tikaf, he would perform Fajr prayer and then he would enter his place of I'tikaf
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھتے پھر اپنے معتکف ( جائے اعتکاف ) میں داخل ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے بواسطہ عمرۃ مرسلاً بھی مروی ہے ( اس میں عائشہ کے واسطے کا ذکر نہیں ) ، ۲- اور اسے مالک اور دیگر کئی لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے عمرۃ سے مرسلاً ہی روایت کی ہے، ۳- اور اوزاعی، سفیان ثوری اور دیگر لوگوں نے بطریق: «يحيى بن سعيد عن عروة عن عائشة» روایت کی ہے، ۴- بعض اہل علم کے نزدیک عمل اسی حدیث پر ہے، وہ کہتے ہیں: جب آدمی اعتکاف کا ارادہ کرے تو فجر پڑھے، پھر اپنے معتکف ( اعتکاف کی جگہ ) میں داخل ہو جائے، احمد اور اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ بعض کہتے ہیں: جب آدمی اعتکاف کا ارادہ کرے تو اگلے دن جس میں وہ اعتکاف کرنا چاہتا ہے کی رات کا سورج ڈوب جائے تو وہ اپنے معتکف ( اعتکاف کی جگہ ) میں بیٹھا ہو، یہ سفیان ثوری اور مالک بن انس کا قول ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ يَرَوْنَ أَنَّ الْمُحْرِمَ إِذَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ وَذَبَحَ وَحَلَقَ أَوْ قَصَّرَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَرُمَ عَلَيْهِ إِلاَّ النِّسَاءَ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلاَّ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ .
Aishah narrated:"I put perfume with musk in it on the Messenger of Allah before he assumed Ihram, and on the Day of An-Nahr before he performed Tawaf around the House
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے اور دسویں ذی الحجہ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے خوشبو لگائی جس میں مشک تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ محرم جب دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی کر لے، جانور ذبح کر لے، اور سر مونڈا لے یا بال کتروا لے تو اب اس کے لیے ہر وہ چیز حلال ہو گئی جو اس پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۴- عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ اس کے لیے ہر چیز حلال ہو گئی سوائے عورتوں اور خوشبو کے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، اور یہی کوفہ والوں کا بھی قول ہے۔