بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
1
14 hadith
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعَرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ وَجِيهٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِهِ وَهُوَ شَيْخٌ لَيْسَ بِذَاكَ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الأَئِمَّةِ ‏.‏ وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ وَيُقَالُ الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ وَيُقَالُ ابْنُ وَجْبَةَ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Under every hair is sexual impurity so wash (all of) the hair and cleanse the skin
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے، اس لیے بالوں کو اچھی طرح دھویا کرو اور کھال کو اچھی طرح مل کر صاف کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- حارث بن وجیہ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں ۱؎، وہ اس حدیث کو مالک بن دینار سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ، مَكْتُومُ بْنُ الْعَبَّاسِ التِّرْمِذِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَقُولُ ‏"‏ هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ ‏"‏ ‏.‏ فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ وَإِلاَّ قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ ‏"‏ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَامَ فَقَالَ ‏"‏ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا عَلَىَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ ‏.‏
Abu Hurairah narrated:"A deceased man would be brought to the Messenger of Allah while a debt was due upon him. So he would say: 'Has he left anything to pay off his debt?' If he was told that he had left something to pay it then he would pray (the funeral prayer) for him. Otherwise he would tell the Muslims: 'Pray for your companion.' So when Allah granted him the victories, he stood and said: 'I am more worthy in the case of the believers than they themselves are. So whoever among the believers dies and leaves a debt behind, then it is up to me to fulfill it. And whoever leaves wealth behind, then it is for his heirs
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی فوت شدہ شخص جس پر قرض ہو لایا جاتا تو آپ پوچھتے: ”کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر آپ کو بتایا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے اس کے قرض کی مکمل ادائیگی ہو جائے گی تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھاتے، ورنہ مسلمانوں سے فرماتے: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھ سکتا ) “، پھر جب اللہ نے آپ کے لیے فتوحات کا دروازہ کھولا تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: ”میں مسلمانوں کا ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حقدار ہوں۔ تو مسلمانوں میں سے جس کی موت ہو جائے اور وہ قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو کوئی مال چھوڑ کر جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے یحییٰ بن بکیر اور دیگر کئی لوگوں نے لیث بن سعد سے عبداللہ بن صالح کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated by Bushair bin Yasar, the freed slave of Banu Harithah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلاَّ لأَصْحَابِ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ وَعَنْ كُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Narrated Bushair bin Yasar, the freed slave of Banu Harithah: Rafi' bin Khadij and Sahl bin Abi Hathmah narrated to him that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited Al-Muzabanah sales, (buying) fruits with dried dates, except for those who practice Al-'Araya - for he permitted it for them - and from buying grapes with raisins, and from every fruit by its estimation. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib from this route
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی سوکھی کھجوروں کے عوض درخت پر لگی کھجور بیچنے سے منع فرمایا، البتہ آپ نے عرایا والوں کو اجازت دی، اور خشک انگور کے عوض تر انگور بیچنے سے اور اندازہ لگا کر کوئی بھی پھل بیچنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَزَالُ الرَّجُلُ يَذْهَبُ بِنَفْسِهِ حَتَّى يُكْتَبَ فِي الْجَبَّارِينَ فَيُصِيبُهُ مَا أَصَابَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Iylas bin Salamah bin Al-Akwa' narrated from his father that the Messenger of Allah said:"A man shall remain exalting himself until he is written among the tyrants, so that he suffers from their afflictions
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان ہمیشہ اپنے آپ کو تکبر ( گھمنڈ ) کی طرف لے جاتا ہے، یہاں تک کہ ظالموں کی فہرست میں اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اور اس لیے اسے وہی عذاب لاحق ہوتا ہے جو ظالموں کو لاحق ہوا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَفَ عَلَى أُنَاسٍ جُلُوسٍ فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَسَكَتُوا فَقَالَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَجُلٌ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ وَشَرُّكُمْ مَنْ لاَ يُرْجَى خَيْرُهُ وَلاَ يُؤْمَنُ شَرُّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) came across some people who were sitting, so he said:'Shall I not inform you of the best of you from your worst?'" He said: "They became silent, so he said that three times, then a man said: 'Of course, O Messenger of Allah! Inform us of the best among us from our worst.' He said: 'The best of you is the one whose goodness is hoped for, and people are safe from his evil. And the worst of you is he whose goodness is not hoped for, and people are not safe from his evil
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آ کر ٹھہرے اور فرمایا: ”کیا میں تمہارے اچھے لوگوں کو تمہارے برے لوگوں میں سے نہ بتا دوں؟“ لوگ خاموش رہے، آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا، ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ ہمارے اچھے لوگوں کو برے لوگوں میں سے بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تم میں بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون ( بےخوف ) رہا جائے اور تم میں سے برا وہ ہے جس سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون ( بےخوف ) نہ رہا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ يَتَكَفَّلُ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَهْلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ‏.‏
Sahl bin Sa'd narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Whoever guarantees for me what is between his jaws and what is between his legs, I shall guarantee Paradise for him
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مجھ سے اپنی دونوں ڈاڑھوں اور دونوں ٹانگوں کے بیچ کا ضامن ہو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سہل بن سعد کی روایت سے حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ مِقْلاَصٍ الصَّيْرَفِيِّ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ أَكَلَ طَيِّبًا وَعَمِلَ فِي سُنَّةٍ وَأَمِنَ النَّاسُ بَوَائِقَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ فِي النَّاسِ لَكَثِيرٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَسَيَكُونُ فِي قُرُونٍ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ ‏.‏
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Whoever eats the Tayyib and acts in accordance with the Sunnah, and the people are safe from his harm, he will enter Paradise." So a man said: "O Messenger of Allah! This is the case with many people today." So he said: "It shall be so in the generation after me
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حلال کھائے، سنت پر عمل کرے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں، وہ جنت میں داخل ہو گا“، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسے لوگ تو اس زمانے میں بہت پائے جاتے ہیں؟“، آپ نے فرمایا: ”ایسے لوگ میرے بعد کے زمانوں میں بھی ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو اسرائیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحَسَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُكَبِّرُ وَهُوَ يَهْوِي ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ قَالُوا يُكَبِّرُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَهْوِي لِلرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ‏.‏
Abu Hurairah narrated:"Allah's Messenger would say the Takhir while he was going down
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جھکتے وقت «الله أكبر» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے تابعین میں سے اہل علم کا قول یہی ہے کہ رکوع اور سجدہ کے لیے جھکتے ہوئے آدمی «الله أكبر» کہے۔
Narrated by Amr bin Shu'aib
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِتَسْمِيَةِ الْمَوْلُودِ يَوْمَ سَابِعِهِ وَوَضْعِ الأَذَى عَنْهُ وَالْعَقِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Narrated 'Amr bin Shu'aib:from his father, from his grandfather that the Prophet (ﷺ) ordered naming the child on the seventh day, removing the harm from him, and Al-'Aqq (removing the hair and slaughtering the animal for 'Aqiqah)
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں دن نومولود بچے کا نام رکھنے اس اور اس کا عقیقہ کر دینے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated by Ikrimah
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ الْفَلاَّسُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي إِذَا أَصَبْتُ اللَّحْمَ انْتَشَرْتُ لِلنِّسَاءِ وَأَخَذَتْنِي شَهْوَتِي فَحَرَّمْتُ عَلَىَّ اللَّحْمَ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلاَلاً طَيِّبًا ‏)‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ مُرْسَلاً لَيْسَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَوَاهُ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلاً ‏.‏
Narrated 'Ikrimah:from Ibn 'Abbas: "A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah! When I consume meat and I get around women, my desires get the best of me. So I made meat unlawful for myself.' So Allah revealed: O you who believe! Make not unlawful the good things which Allah has made lawful to you, and transgress not. Verily Allah does not like the transgressors. And eat of the things which Allah has provided for you, lawful and good (5:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں گوشت کھا لیتا ہوں تو عورت کے لیے بے چین ہو جاتا ہوں، مجھ پر شہوت چھا جاتی ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے آپ پر گوشت کھانا حرام کر لیا ہے۔ ( اس پر ) اللہ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين وكلوا مما رزقكم الله حلالا طيبا» ”مسلمانو! اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام مت کرو اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور جو کچھ اللہ عزوجل نے تمہیں عطا کر رکھا ہے اس میں پاکیزہ حلال کھاؤ“ ( المائدہ: ۸۷ ) ، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے اسے عثمان بن سعد سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ابن عباس سے روایت کا ذکر نہیں ہے، ۳- خالد حذاء نے بھی اس حدیث کو عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَدْعُو وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زَيْدٌ فَذَكَرْتُهُ لِزُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ ذَلِكَ بِسِنِينَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ‏.‏ قَالَ زَيْدٌ ثُمَّ ذَكَرْتُهُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ فَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَى شَرِيكٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ وَإِنَّمَا أَخَذَهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ وَإِنَّمَا دَلَّسَهُ ‏.‏ وَرَوَى شَرِيكٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ‏.‏
Abdullah bin Buraidah Al Aslami narrated from his father, who said:“The Prophet (ﷺ) heard a man supplicating, and he was saying: ‘O Allah, indeed, I ask you by my testifying that You are Allah, there is none worthy of worship except You, the One, As-Samad, the one who does not beget, nor was begotten, and there is none who is like Him (Allāhumma innī as’aluka bi annī ashhadu annaka antallāh, lā ilāha illā ant, al-aḥaduṣ-ṣamad, alladhī lam yalid wa lam yūlad, wa lam yakun lahu kufuwan aḥad).” He said: “So he said: ‘By the One in Whose Hand is my soul, he has asked Allah by His Greatest Name, the one which if He is called upon by it, He responds, and when He is asked by it, He gives.’”(One of the narrators) Zaid said: “So I mentioned it to Zuhair bin Mu`awiyah years after that, and he said: Abu Ishaq reported to me from Malik bin Mighwal.’” Zaid said: “Then I mentioned it to Sufyan, so he reported it to me from Malik.”
بریدہ اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ان کلمات کے ساتھ: «اللهم إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں بایں طور کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اس بات پر کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا ( معبود ) ہے تو بے نیاز ہے، ( تو کسی کا محتاج نہیں تیرے سب محتاج ہیں ) ، ( تو ایسا بے نیاز ہے ) جس نے نہ کسی کو جنا ہے اور نہ ہی کسی نے اسے جنا ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہوا ہے“، دعا کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”قسم ہے اس رب کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے وسیلے سے مانگا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی گئی ہے اس نے وہ دعا قبول کی ہے، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی گئی ہے اس نے دی ہے“۔ زید ( راوی ) کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث کئی برسوں بعد زہیر بن معاویہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے یہ حدیث ابواسحاق نے مالک بن مغول کے واسطہ سے بیان کی ہے۔ زید کہتے ہیں: پھر میں نے یہ حدیث سفیان ثوری سے ذکر کی تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث مالک کے واسطے سے بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- شریک نے یہ حدیث ابواسحاق سے، ابواسحاق نے ابن بریدہ سے، ابن بریدہ نے اپنے والد ( بریدہ رضی الله عنہ ) سے روایت کی ہے، حالانکہ ابواسحاق ہمدانی نے یہ حدیث مالک بن مغول سے روایت کی ہے۔
Narrated by Abu Musa Al-Ash'ari
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ حَائِطًا لِلأَنْصَارِ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَقَالَ لِي ‏"‏ يَا أَبَا مُوسَى أَمْلِكْ عَلَىَّ الْبَابَ فَلاَ يَدْخُلَنَّ عَلَىَّ أَحَدٌ إِلاَّ بِإِذْنٍ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَ رَجُلٌ يَضْرِبُ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُمَرُ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ فَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ عُثْمَانُ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏
Narrated Abu Musa Al-Ash'ari:"I went with the Prophet (ﷺ) and he entered a garden of the Ansar, and he relieved himself. He said to me: 'O Abu Musa! Watch the gate for me, and do not let anyone enter except with permission.' Then a man came and knocked at the gate, so I said: 'Who is it?' He said: 'Abu Bakr.' So I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! It is Abu Bakr asking permission?' He said: 'Give him permission and give him the glad tidings of Paradise.' So he entered, and I gave him the glad tidings of Paradise. Another man came and knocked at the gate. I said: 'Who is it?' He said: "'Umar.' So I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! It is 'Umar asking permission?' He said: 'Open it for him, and give him the glad tidings of Paradise.' I opened [the gate], he entered, and I gave him the glad tidings of Paradise. Then another man knocked at the gate. I said: 'Who is it?' So he said: ''Uthman.' I said: 'O Messenger of Allah! It is 'Uthman asking permission.' He said: 'Open it for him, and give him the glad tidings of Paradise due to a calamity that will befall him
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: ”ابوموسیٰ! تم دروازہ پر رہو کوئی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونے پائے“، پھر ایک شخص نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر ہوں، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”انہیں آنے دو، اور انہیں جنت کی بشارت دے دو“، چنانچہ وہ اندر آئے اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر ایک دوسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: عمر ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عمر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو“، چنانچہ میں نے دروازہ کھول دیا، وہ اندر آ گئے، اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دے دی، پھر ایک تیسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: عثمان ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عثمان اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے بھی دروازہ کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دے دو، ساتھ ہی ایک آزمائش کی جو انہیں پہنچ کر رہے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی ابوعثمان نہدی سے آئی ہے، ۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَطْهُرُ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصِّيَامِ وَلاَ يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلاَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلاَفًا أَنَّ الْحَائِضَ تَقْضِي الصِّيَامَ وَلاَ تَقْضِي الصَّلاَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَعُبَيْدَةُ هُوَ ابْنُ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيُّ الْكُوفِيُّ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْكَرِيمِ ‏.‏
Aishah narrated:"We would menstruate during the time of the Messenger of Allah, then when we became pure we were ordered to make up the fasts but we were not ordered to make up the Salat
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں حیض آتا پھر ہم پاک ہو جاتے تو آپ ہمیں روزے قضاء کرنے کا حکم دیتے اور نماز قضاء کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ معاذہ سے بھی مروی ہے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے، ہم ان کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں جانتے کہ حائضہ عورت روزے کی قضاء کرے گی، نماز کی نہیں کرے گی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ ‏"‏ ‏.‏ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَالْمُقَصِّرِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ أُمِّ الْحُصَيْنِ وَمَارِبَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي مَرْيَمَ وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ وَإِنْ قَصَّرَ يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏
Ibn Umar narrated that:The Messenger of Allah said: "May Allah have mercy upon those who shaved" saying it one or two times, then he said: "And those who shortened
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوایا، صحابہ کی ایک جماعت نے بھی سر مونڈوایا اور بعض لوگوں نے بال کتروائے۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار یا دو بار فرمایا: ”اللہ سر مونڈانے والوں پر رحم فرمائے“، پھر فرمایا: ”کتروانے والوں پر بھی“ ۱؎۔