بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
1
13 hadith
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ، مَيْمُونَةَ قَالَتْ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غُسْلاً فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَأَكْفَأَ الإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَأَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ ثُمَّ دَلَكَ بِيَدِهِ الْحَائِطَ أَوِ الأَرْضَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَجَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
Ibn 'Abbas narrated that his maternal aunt Maimunah said:"I prepared some water for the Prophet to perform Ghusl for Janabah with. So he turned the vessel with his left hand, (pouring some water) over his right. Then he washed his hands. Then he entered his hand into the vessel to pour water over his private area, then he rubbed his hands on the wall, or the ground. Then he rinsed out his mouth and washed his nose by putting water in and blowing it out, and washed his face and forearms. Then he poured water over his head three times, then he poured water over the remainder of his body, then he moved from where he was and washed his feet
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے لیے نہانے کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا، تو برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر جھکایا اور اپنے پہونچے دھوئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہایا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر وہاں سے پرے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ، جابر، ابوسعید جبیر بن مطعم اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Sa'd bin Hisham narrated that:Aishah mentioned that the Messenger of Allah said: "Whoever loves to meet Allah, then Allah loves to meet him. And whoever dislikes meeting Allah, then Allah dislikes meeting him." She said: "O Messenger of Allah! All of us dislike death." He said: "It is not like that. But when the believer is given the good news of Allah's mercy, His pleasure, and His Paradise, then he loves to meet Allah and Allah loves to meet him. Whereas when the disbeliever is given the news of Allah's punishment and His wrath, he dislikes meeting Allah, and Allah dislikes meeting him
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے“۔ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سبھی کو موت ناپسند ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”یہ مراد نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ مومن کو جب اللہ کی رحمت، اس کی خوشنودی اور اس کے جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنا چاہتا ہے اور اللہ اس سے ملنا چاہتا ہے، اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی غصے کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أُرَاهُ رَفَعَهُ قَالَ ‏ "‏ أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَيُّوبَ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ أَيْضًا بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالصَّحِيحُ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفٌ قَوْلُهُ ‏.‏
Muhammad bin Sirin narrated from Abu Hurairah - and I think he (narrated it from the Prophet) who said:"Love your beloved moderately, perhaps he becomes hated to you someday. And hate whom you hate moderately, perhaps he becomes your beloved someday
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے دوست سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دوستی رکھو شاید وہ کسی دن تمہارا دشمن ہو جائے اور اپنے دشمن سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دشمنی کرو شاید وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث ایوب کے واسطہ سے دوسری سند سے بھی آئی ہے، حسن بن ابی جعفر نے اپنی سند سے اس کی روایت کی ہے، جو علی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے، یہ روایت بھی ضعیف ہے، اس روایت کے سلسلے میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ علی سے موقوفا مروی ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ الْكُوفِيِّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَاكِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَعُمَرُ بْنُ شَاكِرٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ قَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"There shall come upon the people a time in which the one who is patient upon his religion will be like the one holding onto a burning ember
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- عمر بن شاکر ایک بصریٰ شیخ ہیں، ان سے کئی اہل علم نے حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمْزَةُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لَقَدْ خَلَقْتُ خَلْقًا أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنَ الصَّبِرِ فَبِي حَلَفْتُ لأُتِيحَنَّهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ مِنْهُمْ حَيْرَانًا فَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عَلَىَّ يَجْتَرِءُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
Ibn 'Umar narrated that the Prophet(s.a.w) said:"Indeed Allah, Most High, said:'I have created creatures whose tongues are sweeter than honey and their hearts are more bitter than aloes. So by Me, I swear to abase them with a Fitnah, leaving them utterly devoid of reason. Is it Me whom they try to delude, or it is against Me whom they conspire?
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے ایک ایسی مخلوق پیدا کی ہے جن کی زبانیں شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہیں اور ان کے دل ایلوا کے پھل سے بھی زیادہ کڑوے ہیں، میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں! کہ ضرور میں ان کے درمیان ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا، پھر بھی یہ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا جرات کرتے ہیں؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب ہے اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَقَالَ حَفِظْنَا سَكْتَةً ‏.‏ فَكَتَبْنَا إِلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ بِالْمَدِينَةِ فَكَتَبَ أُبَىٌّ أَنْ حَفِظَ سَمُرَةُ ‏.‏ قَالَ سَعِيدٌ فَقُلْنَا لِقَتَادَةَ مَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ قَالَ إِذَا دَخَلَ فِي صَلاَتِهِ وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِذَا قَرَأَ ‏:‏ ‏(‏وَلاَ الضَّالِّينَ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ أَنْ يَسْكُتَ حَتَّى يَتَرَادَّ إِلَيْهِ نَفَسُهُ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ لِلإِمَامِ أَنْ يَسْكُتَ بَعْدَ مَا يَفْتَتِحُ الصَّلاَةَ وَبَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْقِرَاءَةِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ وَأَصْحَابُنَا ‏.‏
Al-Hasan narrated that :Samurah said: "there are two pauses that I preserved from Allah's Messenger." But Imran bin Husain rejected that and said: "We preserved one pause." "So we wrote to Ubayy bin Ka'b in Al-Madinah. Ubayy wrote that Samurah was correct." Sa'eed said: "We said to Qatadah: 'What are those two pauses?' He said: 'When he entered into his Salat, and when he finished his recitation.' Then he (Qatadah) said after that: 'And when he recited (Nor those who went astray.)' And he said: 'He liked to pause when he finished the recitation until he caught his breath
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( نماز میں ) دو سکتے ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کیا ہے، اس پر عمران بن حصین رضی الله عنہ نے اس کا انکار کیا اور کہا: ہمیں تو ایک ہی سکتہ یاد ہے۔ چنانچہ ( سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں ) ہم نے مدینے میں ابی بن کعب رضی الله عنہ کو لکھا، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ نے ( ٹھیک ) یاد رکھا ہے۔ سعید بن ابی عروبہ کہتے ہیں: تو ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: جب نماز میں داخل ہوتے ( پہلا اس وقت ) اور جب آپ قرأت سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد کہا اور جب «ولا الضالين» کہتے ۱؎ اور آپ کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ جب آپ قرأت سے فارغ ہوں تو تھوڑی دیر چپ رہیں یہاں تک کہ سانس ٹھہر جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ وہ امام کے لیے نماز شروع کرنے کے بعد اور قرأت سے فارغ ہونے کے بعد ( تھوڑی دیر ) چپ رہنے کو مستحب جانتے ہیں۔ اور یہی احمد، اسحاق بن راہویہ اور ہمارے اصحاب بھی کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ السَّدُوسِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْقِلُهَا وَأَتَوَكَّلُ أَوْ أُطْلِقُهَا وَأَتَوَكَّلُ قَالَ ‏ "‏ اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ يَحْيَى وَهَذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوُ هَذَا ‏.‏
Anas bin Malik narrated that a man said:"O Messenger of Allah! Shall I tie it and rely(upon Allah), or leave it loose and rely(upon Allah)?" He said: "Tie it and rely(upon Allah)." Other chains report similar narrations
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اونٹ کو پہلے باندھ دوں پھر اللہ پر توکل کروں یا چھوڑ دوں پھر توکل کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے باندھ دو، پھر توکل کرو“۔ عمرو بن علی الفلاس کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہ حدیث منکر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث انس کی روایت سے غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ ۲- اسی طرح سے یہ حدیث عمرو بن امیہ ضمری کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
Narrated by Ali
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَا سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ قَالَ عَلِيٌّ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَاهُ وَأُمَّهُ لأَحَدٍ إِلاَّ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ ‏"‏ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ لَهُ ‏"‏ ارْمِ أَيُّهَا الْغُلاَمُ الْحَزَوَّرُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ الزُّبَيْرِ وَجَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏
Narrated 'Ali:"The Messenger of Allah (ﷺ) did not mention both of his parents for anyone except Sa'd bin Abi Waqqas. On the Day of Uhud he said: 'Shoot, may my father and mother be ransomed for you.' And he said to him: 'Shoot! O young man
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والد اور اپنی ماں کو سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے سوا کسی کے لیے جمع نہیں کیا۔ جنگ احد میں آپ نے ان سے کہا: ”تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں“، اور آپ نے ان سے یہ بھی کہا: ”اے بہادر قوی جوان! تیر چلاتے جاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث علی سے متعدد سندوں سے روایت کی گئی ہے، ۳- اس حدیث کو متعدد لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے سعید بن مسیب سے، سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کو یکجا کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ”تیر چلائے جاؤ، تم پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں“، ۴- اس باب میں زبیر اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Al-Bara bin 'Azib
وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَيْضًا حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، بِهَذَا قَالَ قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُهَا قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَيْفَ بِأَصْحَابِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا فَنَزَلَتْْ ‏:‏ ‏(‏ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ‏)‏ الآيَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Al-Bara bin 'Azib:"Some people among the Companions of the Prophet (ﷺ) died while they had been drinking Khamr. So when it was revealed that it was unlawful, some people among the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'How about our companions who died while they were drinking it?' So (the following) Ayah was revealed: Those who believe and do righteous good deeds, there is no sin on them for what they ate (5:)
اس سند سے ابواسحاق نے براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ انتقال کر گئے، وہ لوگ شراب پیتے تھے، پھر شراب کی حرمت آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے کہا: ہمارے ان ساتھیوں کا کیا حال ہو گا؟ جو شراب پیتے تھے اور وہ مر چکے ہیں؟ تو ( اس وقت ) آیت «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا» نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الأَسْوَدِ الْعِجْلِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ تَسْبِيحَةٌ فِي رَمَضَانَ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ تَسْبِيحَةٍ فِي غَيْرِهِ ‏.‏
Az-Zuhri said:“A Tasbihah in Ramadan is better than a thousand Tasbihah in other that it.”
زہری کہتے ہیں کہ رمضان میں ایک بار سبحان اللہ کہنا غیر رمضان میں ہزار بار سبحان اللہ کہنے سے زیادہ بہتر ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَىٌّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:"While the Messenger of Allah (ﷺ) was alive, we used to say: 'Abu Bakr, and (then) 'Umar, and (then) 'Uthman
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کہتے تھے: ”ابوبکر، عمر، اور عثمان ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ لَيْلَى، عَنْ مَوْلاَتِهَا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الصَّائِمُ إِذَا أَكَلَ عِنْدَهُ الْمَفَاطِيرُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ لَيْلَى عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏
Laila narrated from the one who freed her (Umm Amarah) that:The Prophet said: "When those who are not fasting eat in the presence of the fasting person, the angels send Salat upon him
لیلیٰ کی مالکن (ام عمارہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے پاس جب افطار کی چیزیں کھائی جاتی ہیں، تو فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: شعبہ نے بھی یہ حدیث بطریق: «حبيب بن زيد عن ليلى عن جدته أم عمارة عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے اسی طرح روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ، صَاحِبِ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ قَالَ ‏ "‏ انْحَرْهَا ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهَا فَيَأْكُلُوهَا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ ذُؤَيْبٍ أَبِي قَبِيصَةَ الْخُزَاعِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ نَاجِيَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا فِي هَدْىِ التَّطَوُّعِ إِذَا عَطِبَ لاَ يَأْكُلُ هُوَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِهِ وَيُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْكُلُونَهُ وَقَدْ أَجْزَأَ عَنْهُ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَالُوا إِنْ أَكَلَ مِنْهُ شَيْئًا غَرِمَ بِقَدْرِ مَا أَكَلَ مِنْهُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا أَكَلَ مِنْ هَدْىِ التَّطَوُّعِ شَيْئًا فَقَدْ ضَمِنَ الَّذِي أَكَلَ ‏.‏
Najiyah Al-Khuza'i (the Companion of the Messenger of Allah) said:"I said: 'O Messenger of Allah! What should be done with the afflicted among the Hadi?' He said: 'Slaughter them, then dip their sandals in their blood, then leave them so that the people can eat them
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرنے والے ناجیہ خزاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو اونٹ راستے میں مرنے لگیں انہیں میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں نحر ( ذبح ) کر دو، پھر ان کی جوتی انہیں کے خون میں لت پت کر دو، پھر انہیں لوگوں کے لیے چھوڑ دو کہ وہ ان کا گوشت کھائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ناجیہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ذویب ابو قبیصہ خزاعی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ نفلی ہدی کا جانور جب مرنے لگے تو نہ وہ خود اسے کھائے اور نہ اس کے سفر کے ساتھی کھائیں۔ وہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دے، کہ وہ اسے کھائیں۔ یہی اس کے لیے کافی ہے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس میں سے کچھ کھا لیا تو جتنا اس نے اس میں سے کھایا ہے اسی کے بقدر وہ تاوان دے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ نفلی ہدی کے جانور میں سے کچھ کھا لے تو جس نے کھایا وہ اس کا ضامن ہو گا۔