بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
1
14 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ ‏.‏ قَالَ بَكْرٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ‏.‏ قَالَ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِهِ وَعِمَامَتِهِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ذَكَرَ بَعْضُهُمُ الْمَسْحَ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْضُهُمُ النَّاصِيَةَ ‏.‏ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ وَسَلْمَانَ وَثَوْبَانَ وَأَبِي أُمَامَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَسٌ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ الأَوْزَاعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ قَالُوا يَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ لاَ يَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ إِلاَّ أَنْ يَمْسَحَ بِرَأْسِهِ مَعَ الْعِمَامَةِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَمِعْتُ الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ الْجَرَّاحِ يَقُولُ إِنْ مَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ يُجْزِئُهُ لِلأَثَرِ ‏.‏
Ibn Al-Mughirah bin Shu'bah narrated from his father:"The Prophet performed Wudu and wiped over the Khuff and 'Imamah." Abu Bakr (one of the narrators) said: "And indeed I heard it from Ibn Al Mughirah
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں موزوں اور عمامے پر مسح کیا۔ محمد بن بشار نے ایک دوسری جگہ اس حدیث میں یہ ذکر کیا ہے کہ ”آپ نے اپنی پیشانی اور اپنے عمامے پر مسح کیا“، یہ حدیث اور بھی کئی سندوں سے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی گئی ہے، ان میں سے بعض نے پیشانی اور عمامے پر مسح کا ذکر کیا ہے اور بعض نے پیشانی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن امیہ، سلمان، ثوبان اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا بھی یہی قول ہے۔ ان میں سے ابوبکر، عمر اور انس رضی الله عنہم ہیں اور اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ عمامہ پر مسح کرے، صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا کہنا ہے کہ عمامہ پر مسح نہیں سوائے اس صورت کے کہ عمامہ کے ساتھ ( کچھ ) سر کا بھی مسح کرے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی اسی کے قائل ہیں، ۴- وکیع بن جراح کہتے ہیں کہ اگر کوئی عمامے پر مسح کر لے تو حدیث کی رو سے یہ اسے کافی ہو گا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ لِخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ أَوْ خَالِدٌ لِسُلَيْمَانَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ فِي هَذَا الْبَابِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Abu Ishaq As-Sabi'i said:"Sulaiman bin Surad said to Khalid bin Urfutah - or, Khalid said to Sulaiman - 'Did you hear the Messenger of Allah saying: "Whoever is killed by his stomach then he will not be punished in the grave"?' One of them said to the other: "Yes
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ سلیمان بن صرد نے خالد بن عرفطہٰ سے ( یا خالد نے سلیمان سے ) پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا؟ جسے اس کا پیٹ مار دے ۱؎ اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا تو ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس کے علاوہ یہ اور بھی طریق سے مروی ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ ‏"‏ ‏. قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Ours is not a bad example: The one who takes back his gift is like the dog who takes back his vomit." [He said:] On this topic, there is the narration from Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ) that he said: "It is not lawful for anyone that has given a gift to take it back, except for a father who gives something to his son
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بری مثال ہمارے لیے مناسب نہیں، ہدیہ دے کر واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹتا ہے“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا فَضَالَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كَفَى بِكَ إِثْمًا أَنْ لاَ تَزَالَ مُخَاصِمًا ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Ibn Abbas narrated that the Messenger of Allah said:"It is enough sin for you that you never stop disputing
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑتے رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَمَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abdur-Rahman bin 'Abdullah bin Mas'ud narrated from his father, that he heard the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed you shall be aided, capturing, and victorious; so whoever among you sees that, then let him have Taqwa of Allah, and let him command the good and forbid the evil, and whoever lies about me on purpose, then let him take his seat in the Fire
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ( دشمنوں پر ) تمہاری مدد کی جائے گی، تمہیں مال و دولت ملے گی اور تمہارے لیے قلعے کے دروازے کھولے جائیں گے، پس تم میں سے جو شخص ایسا وقت پائے اسے چاہیئے کہ وہ اللہ سے ڈرے، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ أَبُو زُهَيْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَوَدُّ أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يُعْطَى أَهْلُ الْبَلاَءِ الثَّوَابَ لَوْ أَنَّ جُلُودَهُمْ كَانَتْ قُرِضَتْ فِي الدُّنْيَا بِالْمَقَارِيضِ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَوْلَهُ شَيْئًا مِنْ هَذَا ‏.‏
Jabir narrated that the Prophet (s.a.w) said:"On the Day of Judgement, when the people who were tried (in this world) are given their rewards, the people who were pardoned (in life), will wish that their skins had been cut off with scissors while they were in the world." This Hadith is Gharib, we do not know of it with this chain except through this route. Some of them have reported something similar to this Hadith from Al-A`mash, from Talhah bin Musarrif from Masruq
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کے دن ایسے لوگوں کو ثواب دیا جائے گا جن کی دنیا میں آزمائش ہوئی تھی تو اہل عافیت خواہش کریں گے کاش دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کتری جاتیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کا کچھ حصہ «عن الأعمش عن طلحة بن مصرف عن مسروق» کی سند مسروق کے قول سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ‏:‏ ‏(‏غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏)‏ فَقَالَ ‏"‏ آمِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنَّ الرَّجُلَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّأْمِينِ وَلاَ يُخْفِيهَا ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ ‏:‏ ‏(‏ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏)‏ فَقَالَ ‏"‏ آمِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ حَدِيثُ سُفْيَانَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ فِي هَذَا وَأَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي مَوَاضِعَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ وَإِنَّمَا هُوَ حُجْرُ بْنُ عَنْبَسٍ وَيُكْنَى أَبَا السَّكَنِ ‏.‏ وَزَادَ فِيهِ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عَلْقَمَةَ وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَقَالَ وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ وَإِنَّمَا هُوَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ حَدِيثُ سُفْيَانَ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ ‏.‏ قَالَ وَرَوَى الْعَلاَءُ بْنُ صَالِحٍ الأَسَدِيُّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ نَحْوَ رِوَايَةِ سُفْيَانَ ‏.‏
Wa'il bin Hujr narrated:"I heard the Prophet recite: (Not (the way) of those who earned Your anger, nor those who went astray) and he said: 'Amin.' And he stretched it out with his voice
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھ کر، آمین کہتے سنا، اور اس کے ساتھ آپ نے اپنی آواز کھینچی ( یعنی بلند کی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وائل بن حجر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی آمین کہنے میں اپنی آواز بلند کرے اسے پست نہ رکھے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ ( شاذ ) ۴- شعبہ نے یہ حدیث بطریق «سلمة بن كهيل، عن حُجر أبي العنبس، عن علقمة بن وائل، عن أبيه وائل» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھا تو آپ نے آمین کہی اور اپنی آواز پست کی، ۵- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ شعبہ نے اس حدیث میں کئی مقامات پر غلطیاں کی ہیں ۱؎ انہوں نے حجر ابی عنبس کہا ہے، جب کہ وہ حجر بن عنبس ہیں اور ان کی کنیت ابوالسکن ہے اور اس میں انہوں نے «عن علقمة بن وائل» کا واسطہ بڑھا دیا ہے جب کہ اس میں علقمہ کا واسطہ نہیں ہے، حجر بن عنبس براہ راست حجر سے روایت کر رہے ہیں، اور «وخفض بها صوته» ( آواز پست کی ) کہا ہے، جب کہ یہ «ومدّ بها صوته» ( اپنی آواز کھینچی ) ہے، ۶- میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ اور علاء بن صالح اسدی نے بھی سلمہ بن کہیل سے سفیان ہی کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ حَنْظَلَةَ الأُسَيْدِيِّ، وَكَانَ، مِنْ كُتَّابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يَبْكِي فَقَالَ مَا لَكَ يَا حَنْظَلَةُ قَالَ نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا أَبَا بَكْرٍ نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَأَنَّا رَأْىَ عَيْنٍ فَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى الأَزْوَاجِ وَالضَّيْعَةِ نَسِينَا كَثِيرًا ‏.‏ قَالَ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَكَذَلِكَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَانْطَلَقْنَا فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ يَا حَنْظَلَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَكُونُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَأَنَّا رَأْىَ عَيْنٍ فَإِذَا رَجَعْنَا عَافَسْنَا الأَزْوَاجَ وَالضَّيْعَةَ وَنَسِينَا كَثِيرًا ‏.‏ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ تَدُومُونَ عَلَى الْحَالِ الَّذِي تَقُومُونَ بِهَا مِنْ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ فِي مَجَالِسِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ وَعَلَى فُرُشِكُمْ وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً وَسَاعَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu 'Uthman narrated from Hanzalah Al-Usaidi – and he was one of the scribes of the Messenger of Allah (s.a.w)- that he passed by Abu Bakr while he was crying, so he(Abu Bakr) said to him:“What is wrong with you, O Hanzalah?” He replied: “Hanzalah has become a hypocrite O Abu Bakr! When we are with the Messenger of Allah (s.a.w) we remember the Fire and Paradise as if we are looking at them with the naked eye. But when we return we busy ourselves with our wives and livelihood and we forget so much.” He(Abu Bakr) said: “By Allah! The same thing happens to me. Let us go to the Messenger of Allah (s.a.w).” (Hanzalah said:) “So he went." When the Messenger of Allah (s.a.w) saw him, he said: “What is wrong with you O Hanzalah?” He said: “Hanzalah has become a hypocrite O Messenger of Allah! When we are with you we remember the Fire and Paradise as if we can see them with the naked eye. But when we return we are busy with our wives and livelihood, and we forget so much.” He said: “So the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If you were to abide in the state that you are in when you are with me, then the Angels would shake hands with you in your gatherings, and upon your bedding, and in your paths. But O Hanzalah! There is a time for this and a time for that.'” (Sahih)
حنظلہ اسیدی رضی الله عنہ سے روایت ہے (یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبوں میں سے ایک کاتب تھے) ،‏‏‏‏ وہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس سے روتے ہوئے گزرا تو انہوں نے کہا: حنظلہ! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: ابوبکر! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے ( بات یہ ہے ) کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں، اور آپ ہمیں جہنم اور جنت کی یاد اس طرح دلاتے ہیں گویا ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن جب ہم دنیاوی کاروبار اور اپنے بچوں میں واپس چلے آتے ہیں تو اس نصیحت میں سے بہت کچھ بھول جاتے ہیں، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارا بھی یہی حال ہے۔ چلو ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، چنانچہ ہم دونوں چل پڑے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”حنظلہ! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حنظلہ منافق ہو گیا ہے، جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہمیں جہنم اور جنت کی یاد اس طرح دلاتے ہیں تو ان وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، لیکن جب ہم دنیاوی کاروبار اور اپنے بال بچوں میں واپس لوٹ جاتے ہیں تو بہت سی باتیں بھول جاتے ہیں۔ حنظلہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس کیفیت میں میرے پاس ہوتے ہو تو یقین جانو کہ فرشتے تمہاری مجلسوں میں، تمہارے راستوں میں اور تمہارے بستروں پر تم سے مصافحہ کریں، لیکن اے حنظلہ! وقت وقت کی بات ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Isma'il bin Abi Khalid
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبْيَضَ قَدْ شَابَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ وَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثَةَ عَشَرَ قَلُوصًا فَذَهَبْنَا نَقْبِضُهَا فَأَتَانَا مَوْتُهُ فَلَمْ يُعْطُونَا شَيْئًا فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِدَةٌ فَلْيَجِئْ ‏.‏ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَمَرَ لَنَا بِهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ نَحْوَ هَذَا ‏.‏ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ وَلَمْ يَزِيدُوا عَلَى هَذَا ‏.‏
Narrated Isma'il bin Abi Khalid:that Abu Juhaifah said: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) (he was) white and turning grey. Al-Hasan bin 'Ali resembles him most. He had promised thirteen young she-camels for us, so we went to get them. When we arrived he had died without giving us anything. So when Abu Bakr (became the Khalifah) he said: 'If there is anyone to whom the Messenger of Allah (ﷺ) made a promise, then let him come forth.' I stood to inform him about it, and he ordered that they be given to us
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گورا چٹا دیکھا، آپ پر بڑھاپا آ چلا تھا حسن بن علی رضی الله عنہما ( شکل و صورت میں ) آپ کے مشابہ تھے۔ آپ نے تیرہ ( ۱۳ ) جوان اونٹنیاں ہم کو عنایت کرنے کے لیے حکم صادر فرمایا، ہم انہیں لینے کے لیے گئے ہی تھے کہ اچانک آپ کے انتقال کی خبر آ گئی، چنانچہ لوگوں نے ہمیں کچھ نہ دیا، پھر جب ابوبکر رضی الله عنہ نے مملکت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو انہوں نے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس کسی کا بھی کوئی عہد و پیمان ہو تو وہ ہمارے پاس آئے ( اور پیش کرے ) چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور انہیں آپ کے حکم سے آگاہ کیا، تو انہوں نے ہمیں ان اونٹنیوں کے دینے کا حکم فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- مروان بن معاویہ نے یہ حدیث اپنی سند سے ابوجحیفہ رضی الله عنہ کے واسطے سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- کئی اور لوگوں نے بھی اسماعیل بن ابوخالد کے واسطہ سے ابوجحیفہ سے روایت کی ہے، ( اس روایت میں ہے ) وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے حسن بن علی رضی الله عنہما آپ کے مشابہ تھے۔ اور انہوں نے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا۔
Narrated by Abu 'Ubaidah
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمَّا وَقَعَ فِيهِمُ النَّقْصُ كَانَ الرَّجُلُ فِيهِمْ يَرَى أَخَاهُ عَلَى الذَّنْبِ فَيَنْهَاهُ عَنْهُ فَإِذَا كَانَ الْغَدُ لَمْ يَمْنَعْهُ مَا رَأَى مِنْهُ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَخَلِيطَهُ فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ فَقَالَ ‏:‏ ‏(‏ لُعِِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ ‏:‏ ‏(‏وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ فَاسِقُونَ ‏)‏ قَالَ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ ‏"‏ لاَ حَتَّى تَأْخُذُوا عَلَى يَدَىِ الظَّالِمِ فَتَأْطِرُوهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَمْلاَهُ، عَلَىَّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏
Narrated Abu 'Ubaidah:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the Children of Isra'il fell into decline, a man among them would see his brother committing a sin, and prohibit them from it. The next day, what he saw him doing would not prevent him from eating with him, drinking with him, and associating with him. So Allah pitted their hearts against each other, and He revealed about them in the Qur'an, He said: Those among the Children of Isra'il who disbelieved were cursed by the tongue of Dawud and 'Eisa, son of Mariam. That was because they disobeyed and were ever transgressing.' And he recited until he reached: 'And had they believed in Allah, and in the Prophet, and in what has been revealed to him, never would they have taken them as friends; but many of them are rebellious (5:78-81).' He said: "And Allah's Prophet (ﷺ) was reclining, so he sat up and said: 'No! Not until you take the hand of the wrong-doer and incline him toward the truth
ابوعبیدہ (بن عبداللہ بن مسعود) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں جب کوتاہیاں و برائیاں پیدا ہوئیں تو اس وقت حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ میں مبتلا دیکھتا تو اسے اس گناہ کے کرنے سے روکتا، لیکن جب دوسرا دن آتا تو جو کچھ اس نے اسے کرتے دیکھا تھا وہ چیز اسے اس کا ہم نوالہ و ہم پیالہ اور ہم مجلس ہونے سے نہ روکتی، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دل ایک دوسرے سے ملا دیئے اور انہی لوگوں کے متعلق قرآن نازل ہوا، آپ نے «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون» سے لے کر «ولو كانوا يؤمنون بالله والنبي وما أنزل إليه ما اتخذوهم أولياء ولكن كثيرا منهم فاسقون» ۱؎ تک پڑھا۔ یہ باتیں کرتے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لیکن جب گفتگو اس مقام پر پہنچی تو آپ سنبھل کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”نہیں، تم نجات نہ پاؤ گے، تم عذاب الٰہی سے بچ نہ سکو گے جب تک کہ تم ظالم کا ہاتھ پکڑ نہ لو، اور اسے پوری طرح حق کی طرف موڑ نہ دو“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلاَّ أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that:The Prophet (ﷺ) said: “Whoever says in the morning and in the evening ‘Glory is to Allah and with His Praise (Subḥān Allāh, wa biḥamdih)’ a hundred times, none shall bring better than him on the Day of Judgment except one who did the same as him, or increased upon it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح و شام میں سو ( سو ) مرتبہ: «سبحان الله وبحمده» کہے، قیامت کے دن کوئی شخص اس سے اچھا عمل لے کر نہیں آئے گا، سوائے اس شخص کے جس نے وہی کہا ہو جو اس نے کہا ہے یا اس سے بھی زیادہ اس نے یہ دعا پڑھی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated by Abu Al-Ash'ath As-Sana'ani
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّ خُطَبَاءَ، قَامَتْ بِالشَّامِ وَفِيهِمْ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ لَوْلاَ حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا قُمْتُ ‏.‏ وَذَكَرَ الْفِتَنَ فَقَرَّبَهَا فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ‏.‏ قَالَ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ فَقُلْتُ هَذَا قَالَ نَعَمْ ‏.هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ‏.‏
Narrated Abu Al-Ash'ath As-Sana'ani:"Some people were delivering Khutbah in Ash-Sham, and among them were Companions of the Prophet (ﷺ). So the last of them, a man called Murrah bin Ka'b, stood, and he said: 'If it were not for a Hadith I heard from the Messenger of Allah (ﷺ), I would not have stood (to address you). He (ﷺ) mentioned the tribulations, and that they would be coming soon. Then a man who was concealed by a garment passed by. So he said: "This one will be upon guidance that day." So I went towards him, and it was 'Uthman bin 'Affan. I turned, facing him, and I said: "This one?" He said: "Yes
ابواشعث صنعانی سے روایت ہے کہ مقررین ملک شام میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ تھے، پھر سب سے آخر میں ایک شخص کھڑا ہوا جسے مرہ بن کعب رضی الله عنہ کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اگر میں نے ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہوتی تو میں کھڑا نہ ہوتا، پھر انہوں نے فتنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس کا ظہور قریب ہے، پھر ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے ہوئے گزرا تو مرہ نے کہا: یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا: ”یہ اس دن ہدایت پر ہو گا“، تو میں اسے دیکھنے کے لیے اس کی طرف اٹھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عثمان بن عفان رضی الله عنہ ہیں، پھر میں نے ان کا منہ مرہ کی طرف کر کے کہا: وہ یہی ہیں، انہوں نے کہا: ہاں وہ یہی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اس باب میں ابن عمر، عبداللہ بن حوالہ اور کعب بن عجرۃ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ فِي هَذَا الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that :The Prophet said: "When one of you is invited (to a meal) and he is fasting, then let him said: 'Indeed I am fasting
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے اور وہ روزہ سے ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے میں روزہ سے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ سے مروی دونوں حدیثیں حسن صحیح ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏
Ibn Umar narrated:"The Prophet purchased his Hadi in Qudaid
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہدی کا جانور قدید سے خریدا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ثوری کی حدیث سے صرف یحییٰ بن یمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں: اور نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر نے قدید ۱؎ سے خریدا، اور یہ زیادہ صحیح ہے ۲؎۔