بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
1
43 hadith
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ‏.‏ وَحَدِيثُ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ ‏.‏ وَابْنُ لَهِيعَةَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏
Abu Qatadah narrated that :he saw the Prophet urinating while facing the Qiblah. Qutaibah narrated that to us, he said: "Ibn Lahi'ah informed us." Jabir's Hadlth about the Prophet is more correct than the Hadith of Ibn Lahi'ah. Ibn Lahi'ah is weak according to the scholars of Hadith. He was graded weak by Yahya bin Sa'eed Al-Qattan, and others, [due to his memorization]
عبداللہ بن لہیعہ نے یہ حدیث ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر رضی الله عنہ سے کہ ابوقتادہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جابر رضی الله عنہ کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ حدیث ابن لہیعہ کی حدیث ( جس میں جابر کے بعد ابوقتادہ رضی الله عنہ کا واسطہ ہے ) سے زیادہ صحیح ہے، ابن لہیعہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعیدالقطان وغیرہ نے ان کی حفظ کے اعتبار سے تضعیف کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ فِي هَذَا الْبَابِ ‏.‏ وَعِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الأَنْصَارِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ وَعِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الَّذِي يَرْوِي عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ التَّفْسِيرَ هُوَ ثِقَةٌ ‏.‏
Aishah narrated that:The Messenger of Allah said: "Publicize this marriage, and hold it in the Masjid, and beat the Duff for it
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نکاح کا اعلان کرو، اسے مسجدوں میں کرو اور اس پر دف بجاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث غریب حسن ہے، ۲- عیسیٰ بن میمون انصاری حدیث میں ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، ۳- عیسیٰ بن میمون جو ابن ابی نجیح سے تفسیر روایت کرتے ہیں، ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ هَكَذَا رَوَى هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا ‏.‏ وَرَوَى عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ زَوْجَ بَرِيرَةَ وَكَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ ‏.‏ وَهَكَذَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَقَالُوا إِذَا كَانَتِ الأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ فَأُعْتِقَتْ فَلاَ خِيَارَ لَهَا وَإِنَّمَا يَكُونُ لَهَا الْخِيَارُ إِذَا أُعْتِقَتْ وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَرَوَى الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرَوَى أَبُو عَوَانَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ قَالَ الأَسْوَدُ وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏
Aishah narrated:“Barfah’s husband was a free man, so the Messenger of Allah let her choose.”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے، پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا، ۳- عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں نے بریرہ کے شوہر کو دیکھا ہے، وہ غلام تھے اور انہیں مغیث کہا جاتا تھا، ۴- اسی طرح کی ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی گئی ہے، ۵- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب لونڈی آزاد مرد کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کر دی جائے تو اسے اختیار نہیں ہو گا۔ اسے اختیار صرف اس صورت میں ہو گا، جب وہ آزاد کی جائے اور وہ کسی غلام کی زوجیت میں ہو۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۶- لیکن اعمش نے بطریق: «إبراهيم عن الأسود عن عائشة» روایت کی ہے کہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا۔ اور ابو عوانہ نے بھی اس حدیث کو بطریق: «الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة» بریرہ کے قصہ کے سلسلہ میں روایت کیا ہے، اسود کہتے ہیں: بریرہ کے شوہر آزاد تھے، ۷- تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَرْدَكَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ مَاهَكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ثَلاَثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ وَالطَّلاَقُ وَالرَّجْعَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ الْمَدَنِيُّ وَابْنُ مَاهَكَ هُوَ عِنْدِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah said: "Three are serious when they are serious, and serious when they are in jest: Marriage, divorce, and return
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے کرنا بھی سنجیدگی ہے اور ہنسی مذاق میں کرنا بھی سنجیدگی ہے نکاح، طلاق اور رجعت“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۳- عبدالرحمٰن، حبیب بن اردک مدنی کے بیٹے ہیں اور ابن ماہک میرے نزدیک یوسف بن ماہک ہیں۔
Narrated by Abu Dharr
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ ثَلاَثَةٌ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا فَقَالَ ‏"‏ الْمَنَّانُ وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Abu Dharr: That the Prophet (ﷺ) said: "There are three whom Allah will not look at on the Day of Judgement, nor will He purify them, and theirs is a painful punishment." We said: "Who are they O Messenger of Allah ? For they have indeed failed and are lost!" He sai: "The Mannan, the one whose Izar hangs (below the ankels) and the one who promotes his merchandise with false oath." [He said:] There are narrations on this topic from Ibn Mas'ud, Abu Hurairah, Abu Umamah bin Tha'labah, 'Imran bin Husain, and Ma'qil bin Yasar [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Dharr is a Hasan Sahih Hadith
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ ( رحمت کی نظر سے ) نہیں دیکھے گا، نہ انہیں ( گناہوں سے ) پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ یہ تو نقصان اور گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: ”احسان جتانے والا، اپنے تہبند ( ٹخنے سے نیچے ) لٹکانے والا ۱؎ اور جھوٹی قسم کے ذریعہ اپنے سامان کو رواج دینے والا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، ابوامامہ بن ثعلبہ، عمران بن حصین اور معقل بن یسار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ فَإِذَا جَارَ تَخَلَّى عَنْهُ وَلَزِمَهُ الشَّيْطَانُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ ‏.‏
[Abdullah] Ibn Abi Al-Awfa narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"[Indeed] Allah is with the judge as long as he is not unjust. So when he is unjust, He leaves him and he is attended by Shaitan
عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ۱؎ جب تک وہ ظلم نہیں کرتا، اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔ اور اس سے شیطان چمٹ جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف عمران بن قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا، أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلاَّ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ مَسْعُودِ ابْنِ الْعَجْمَاءِ وَيُقَالُ مَسْعُودُ بْنُ الأَعْجَمِ وَابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated 'Aishah:"The Quraish were troubled by the affair of a woman from the tribe of Makhzum who stole. So they said: 'Who will speak about her to the Messenger of Allah (ﷺ)?' They said: 'Who can do it other than Usamah bin Zaid, the one dear to the Messenger of Allah?' So Usamah spoke with him, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Do you intercede about a penalty from Allah's penalties?' Then he stood up and adressed the people saying: 'Those before you were only destroyed because they used to leave a noble person if he stole. And if a weak person stole they would establish the penalty upon him. And by Allah! If Fatimah bint Muhammad stole, then I would cut off her hand
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ قریش قبیلہ بنو مخزوم کی ایک عورت ۱؎ کے معاملے میں جس نے چوری کی تھی، کافی فکرمند ہوئے، وہ کہنے لگے: اس کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید کے علاوہ کون اس کی جرات کر سکتا ہے؟ چنانچہ اسامہ نے آپ سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟“ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے آپ نے فرمایا: ”لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اپنی اس روش کی بنا پر ہلاک ہوئے کہ جب کوئی اعلیٰ خاندان کا شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے، اور جب کمزور حال شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے، اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا ( بھی ) ہاتھ کاٹ دیتا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مسعود بن عجماء، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- مسعود بن عجماء کو مسعود بن اعجم بھی کہا جاتا ہے، ان سے صرف یہی ایک حدیث آئی ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا فَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ عَبْدُ الرَّزَّاقِ اخْتَصَرَهُ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ قَالَ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ غُلاَمًا ‏.‏ فَطَافَ عَلَيْهِنَّ فَلَمْ تَلِدِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ نِصْفَ غُلاَمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَكَانَ كَمَا قَالَ ‏"‏ ‏.‏ هَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ هَذَا الْحَدِيثُ بِطُولِهِ وَقَالَ ‏"‏ سَبْعِينَ امْرَأَةً ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever swears [about an oath] and says: 'If Allah wills (Insha Allah), then he will not have broken it
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا، وہ «حانث» نہیں ہوا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: اس حدیث میں غلطی ہے، اس میں عبدالرزاق سے غلطی ہوئی ہے، انہوں نے اس کو معمر کی حدیث سے اختصار کر دیا ہے، معمر اس کو بسند «ابن طاؤس عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”سلیمان بن داود علیہما السلام نے کہا: ( اللہ کی قسم! ) آج رات میں ستر بیویوں کے پاس ضرور جاؤں گا، ہر عورت سے ایک لڑکا پیدا ہو گا، وہ ستر بیویوں کے پاس گئے، ان میں سے کسی عورت نے بچہ نہیں جنا، صرف ایک عورت نے آدھے ( ناقص ) بچے کو جنم دیا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر انہوں ( سلیمان علیہ السلام ) نے «إن شاء اللہ» کہہ دیا ہوتا تو ویسے ہی ہوتا جیسا انہوں نے کہا تھا“، اسی طرح یہ حدیث پوری تفصیل کے ساتھ عبدالرزاق سے آئی ہے، عبدالرزاق نے بسند «معمر عن ابن طاؤس عن أبيه» روایت کی ہے اس میں «على سبعين امرأة» کے بجائے «سبعين امرأة» ہے، یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے دیگر سندوں سے آئی ہے، ( اس میں یہ ہے کہ ) وہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یوں ) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”سلیمان بن داود نے کہا: آج رات میں سو بیویوں کے پاس ضرور جاؤں گا“۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، وَأَبُو عَمَّارٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلاَفٍ وَلاَ يُغْلَبُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ يُسْنِدُهُ كَبِيرُ أَحَدٍ غَيْرُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَنَزِيُّ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best companions are four, the best Saraya (military unit) is four hundred, the best army is four thousand, and twelve thousand will not be beaten due to being too few." This Hadith is Hasan Gharib, it was not narrated with a chain by anyone important besides Jarir bin Hazim, and this Hadith was only reported from Az-Zuhri, from the Prophet (ﷺ) in Mursal form. Hibban bin 'Ali Al-'Anazi reported it from 'Uqail, from Az-Zuhri, from 'Ubaidullah, from 'Ibn Abbas, from the Prophet (ﷺ), and Al-Laith bin Sa'd reported it from Sa'd, from 'Uqail, from Az-Zuhri, from the Prophet (ﷺ) in the Mursal form
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہترین ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو، اور سب سے بہتر سریہ وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور سب سے بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو اور بارہ ہزار اسلامی فوج قلت تعداد کے باعث مغلوب نہیں ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- جریر بن حازم کے سوا کسی بڑے محدث سے یہ حدیث مسنداً مروی نہیں، زہری نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، ۴- اس حدیث کو حبان بن علی عنزی بسند «عقيل عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، نیز اسے لیث بن سعد نے بسند «عقيل عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي سَفَرٍ وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَأَرَادَ بِلاَلٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ ‏"‏ أَبْرِدْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَبْرِدْ فِي الظُّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حَتَّى رَأَيْنَا فَىْءَ التُّلُولِ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Dharr narrated:"Allah's Messenger was on a journey and Bilal was with him. So he wanted to call for the prayer, but he (the Prophet) said: 'Let it get cooler.' Then he wanted to call for the prayer, so Allah's Messenger said: 'Let it get to the cooler time of Zuhr.'" He (i.e., Abu Dharr) said: "Until we saw the shadows of the hillocks, then he commanded that the Iqamah be called and then led the people in prayer. Allah's Messenger said: 'The severity of heat is from the raging of Hell, so wait until it becomes cooler for the (Zuhr) prayer
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، ساتھ میں بلال رضی الله عنہ بھی تھے۔ بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”ٹھنڈا ہو جانے دو“۔ انہوں نے پھر اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھ“۔ وہ کہتے ہیں ( ظہر تاخیر سے پڑھی گئی ) یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا تب انہوں نے اقامت کہی پھر آپ نے نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے۔ لہٰذا نماز ٹھنڈے میں پڑھا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Zaid bin Khalid Al-Juhani
حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فَقَدْ غَزَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani: That the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever prepares a fighter in Allah's cause, he has participated in a military expedition, and whoever looks after the family of a fighter, he has participated in a military expedition." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih, and it has been reported through more than one route
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان سفر تیار کیا حقیقت میں اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے اہل و عیال میں اس کی جانشینی کی ( اس کے اہل و عیال کی خبرگیری کی ) حقیقت میں اس نے جہاد کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، یہ دوسری سند سے بھی آئی ہے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَمَّارٍ يَعْنِي الدُّهْنِيَّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ عَنْ شَرِيكٍ ‏.‏ قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ عَنْ شَرِيكٍ وَقَالَ حَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَالْحَدِيثُ هُوَ هَذَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَالدُّهْنُ بَطْنٌ مِنْ بَجِيلَةَ وَعَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ هُوَ عَمَّارُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الدُّهْنِيُّ وَيُكْنَى أَبَا مُعَاوِيَةَ وَهُوَ كُوفِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏
Narrated Jabir: "The Messenger of Allah (ﷺ) entered Makkah, and his standard was white." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib, we do know of it except as a narration of Yayha bin Adam from Sharik. He said: I asked Muhammad about this Hadith, but he did not know it except as a narration of Yahya bin Adam from Sharik, he said: "More than one narrator has narrated to us from Sharik from 'Ammar bin Abu Az-Zubair from Jabir: 'The Prophet (ﷺ) entered Makkah and he was wearing a black 'Imamah.'" Muhammad said: "This is the Hadith." [Abu 'Eisa said:] Duhn is a branch of Bajilah (the tribe), and 'Ammar ad-Duhni (one of the narrators) is 'Ammar bin Mu'awiyah Ad-Duhni, and his kunyah is Abu Mu'awiyah, he is from Al-Kufah, and he is trustworthy according to the people of Hadith
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا پرچم سفید تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن آدم کی روایت سے جانتے ہیں اور یحییٰ شریک سے روایت کرتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: یحییٰ بن آدم شریک سے روایت کرتے ہیں، اور کہا: ہم سے کئی لوگوں نے «شريك عن عمار عن أبي الزبير عن جابر» کی سند سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور اس وقت آپ کے سر پر کالا عمامہ تھا، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اور ( محفوظ ) حدیث یہی ہے، ۳- «الدهن» قبیلہ بجیلہ کی ایک شاخ ہے، عمار دہنی معاویہ دہنی کے بیٹے ہیں، ان کی کنیت ابومعاویہ ہے، وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں اور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔
Narrated by Abdullah bin 'Ukaim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَالشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ أَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنْ لاَ تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلاَ عَصَبٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ ‏.‏ وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ أَنَّهُ قَالَ أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرَيْنِ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يَذْهَبُ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ لِمَا ذُكِرَ فِيهِ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرَيْنِ وَكَانَ يَقُولُ كَانَ هَذَا آخِرَ أَمْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ ثُمَّ تَرَكَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ هَذَا الْحَدِيثَ لَمَّا اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِهِ حَيْثُ رَوَى بَعْضُهُمْ فَقَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin 'Ukaim: "A letter came from the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Do not use the skins of dead animals, nor tendons.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan. This Hadith has been related to 'Abdullah bin 'Ukaim from some Shuyukh of his, and this is not acted upon according to most of the people of knowledge. And this Hadith has been related from 'Abdullah bin 'Ukaim, that he said: "A letter came to us from the Messenger of Allah (ﷺ) two months before he died." He said: I heart Ahmad bin Al-Hasan saying: "Ahmad bin Hanbal followed this Hadith due to it mentioning that it was two months before he (ﷺ) died. Then Ahmad left this Hadith because of their Idtirab in its chain, since some of them reported it, saying: 'From 'Abdullah bin 'Ukaim from some Shuyukh of his from Juhainah
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا کہ تم لوگ مردہ جانوروں کے چمڑے ۱؎ اور پٹھوں سے فائدے نہ حاصل کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن عکیم سے ان کے شیوخ کے واسطہ سے بھی آئی ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اس پر عمل نہیں ہے، ۴- عبداللہ بن عکیم سے یہ حدیث مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آپ کی وفات سے دو ماہ پہلے آیا، ۵- میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا، احمد بن حنبل اسی حدیث کو اختیار کرتے تھے اس وجہ سے کہ اس میں آپ کی وفات سے دو ماہ قبل کا ذکر ہے، وہ یہ بھی کہتے تھے: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم تھا، ۶- پھر احمد بن حنبل نے اس حدیث کو چھوڑ دیا اس لیے کہ راویوں سے اس کی سند میں اضطراب واقع ہے، چنانچہ بعض لوگ اسے عبداللہ بن عکیم سے ان کے جہینہ کے شیوخ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں۔
Narrated by Abu Tha'labah Al-Khushani
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قُدُورِ الْمَجُوسِ فَقَالَ ‏ "‏ أَنْقُوهَا غَسْلاً وَاطْبُخُوا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏ وَنَهَى عَنْ كُلِّ سَبُعٍ ذِي نَابٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مَشْهُورٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي ثَعْلَبَةَ وَرُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَأَبُو ثَعْلَبَةَ اسْمُهُ جُرْثُومٌ وَيُقَالُ جُرْهُمٌ وَيُقَالُ نَاشِبٌ ‏.‏ وَقَدْ ذُكِرَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ‏.‏
Narrated Abu Tha'labah Al-Khushani: "The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about the pots of Zorastrians. He said: 'Clean them by washing them, and then cook in them." And he prohibited every predator possessing canines." This is a well known Hadith of Abu Tha'labah, and it has been reported from him through routes other than this. And Abu Tha'labah's name is Jurthum, and they say: Jurhum, and they say: Nashib. This Hadith has also been mentioned by Abu Qilabah from Abu 'Asma Ar-Rahbi, from Abu Tha'labah
ابوثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجوس کی ہانڈیوں ( برتنوں ) کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”انہیں دھو کر صاف کرو اور ان میں کھانا پکاؤ، اور آپ نے ہر کچلی دانت والے درندے جانور سے منع فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوثعلبہ کی روایت سے مشہور ہے، ان سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۲- ابوثعلبہ کا نام جرثوم ہے، انہیں جرہم اور ناشب بھی کہا گیا ہے، ۳- یہ حدیث «عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرحبي عن أبي ثعلبة» کی سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔
Narrated by Jabir bin ‘Abdullah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الظُّرُوفِ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الأَنْصَارُ فَقَالُوا لَيْسَ لَنَا وِعَاءٌ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ فَلاَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited using (certain) containers. So the Ansar complained about that to him. They said: 'We will have no vessels!' so he said: 'If so then use them.'" He said: There are narrations on this topic from Ibn Mas'ud, Abu Hurairah, Abu Sa'eed, and 'Abdullah bin 'Amr. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان ) برتنوں ( کے استعمال ) سے منع فرمایا تو انصار نے آپ سے شکایت کی، اور کہا: ہمارے پاس دوسرے برتن نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب میں منع نہیں کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابو سعید خدری، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى يَعْنِي السُّمَّ ‏.‏
Abu Hurairah narrated:"The Messenger of Allah (s.a.w) forbade from cures that are Khabith." [Abu 'Elsa said:] Meaning poison
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث دوا استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: خبیث دوا سے وہ دوا مراد ہے جس میں زہر ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قال حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي فِي مِيرَاثِهِ قَالَ ‏"‏ لَكَ السُّدُسُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ ‏"‏ لَكَ سُدُسٌ آخَرُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ ‏"‏ إِنَّ السُّدُسَ الآخَرَ طُعْمَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ‏.‏
Imran bin Husain narrated:"A man came to the Prophet (S.A.W) and said" 'My son died, so what do I inherit from him?' He said: 'For you is a sixth.' When he turned to leave,he called him and said: 'For you is another sixth.' So when he turned to leave , he called him saying: 'The last sixth is consumable for you
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کی میراث میں سے کتنا حصہ ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ”تمہیں چھٹا حصہ ملے گا، جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے اسے بلا کر کہا: ”تمہیں ایک اور چھٹا حصہ ملے گا“، پھر جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے اسے بلایا کر فرمایا: ”دوسرا چھٹا حصہ بطور خوراک ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں معقل بن یسار رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ كَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ الْمَوْتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Anas narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"When Allah wants good for a slave, He puts him in action." It was said: "How does he put him in action O Messenger Of Allah?" He said: "By making him meet up with the righteous deeds before death
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے عمل کراتا ہے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیسے عمل کراتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”موت سے پہلے اسے عمل صالح کی توفیق دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنِي الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَجْمَعُ أُمَّتِي - أَوْ قَالَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم - عَلَى ضَلاَلَةٍ وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَمَنْ شَذَّ شَذَّ إِلَى النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَسُلَيْمَانُ الْمَدَنِيُّ هُوَ عِنْدِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَتَفْسِيرُ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ هُمْ أَهْلُ الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ وَالْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ مَنِ الْجَمَاعَةُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ‏.‏ قِيلَ لَهُ قَدْ مَاتَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ‏.‏ قَالَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ ‏.‏ قِيلَ لَهُ قَدْ مَاتَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ جَمَاعَةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَبُو حَمْزَةَ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ وَكَانَ شَيْخًا صَالِحًا وَإِنَّمَا قَالَ هَذَا فِي حَيَاتِهِ عِنْدَنَا ‏.‏
Ibn 'Umar narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:'Indeed Allah will not gather my Ummah " - or he said: "[Muhammad's]Ummah upon deviation, and Allah's Hand is over the Jama'ah, and whoever deviates, he deviates to the Fire
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ میری امت کو یا یہ فرمایا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو گمراہی پر اکٹھا نہیں کرے گا، اللہ کا ہاتھ ( اس کی مدد و نصرت ) جماعت کے ساتھ ہے، جو شخص جماعت سے الگ ہوا وہ جہنم میں گرا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- سلیمان مدنی میرے نزدیک سلیمان بن سفیان ہی ہیں، ان سے ابوداؤد طیالسی، ابوعامر عقدی اور کئی اہل علم نے روایت کی ہے، ۳- اہل علم کے نزدیک ”جماعت“ سے مراد اصحاب فقہ اور اصحاب علم اور اصحاب حدیث ہیں، ۴- علی بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا: جماعت سے کون لوگ مراد ہیں؟ انہوں نے کہا: ابوبکر و عمر، ان سے کہا گیا: ابوبکر و عمر تو وفات پا گئے، انہوں نے کہا: فلاں اور فلاں، ان سے کہا گیا: فلاں اور فلاں بھی تو وفات پا چکے ہیں تو عبداللہ بن مبارک نے کہا: ابوحمزہ سکری جماعت ہیں ۱؎، ۵- ابوحمزہ کا نام محمد بن میمون ہے، وہ صالح اور نیک شیخ تھے، عبداللہ بن مبارک نے یہ بات ہم سے اس وقت کہی تھی جب ابوحمزہ باحیات تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو رَزِينٍ الْعُقَيْلِيُّ اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ ‏.‏ وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ فَقَالَ عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ وَقَالَ شُعْبَةُ وَأَبُو عَوَانَةَ وَهُشَيْمٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏
Waki' bin 'Udus narrated from Abu Razin that the Prophet (s.a.w) said:" The Muslim's dreams are a portion of the forty-six portions of Prophet-hood. And it is (as if it is) on the leg of a bird, as long as it is not spoken of. But when it is spoken of it falls
ابورزین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابورزین عقیلی کا نام لقیط بن عامر ہے، ۳- حماد بن سلمہ نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے ”وكيع بن حدس“ کہا ہے جب کہ شعبہ، ابو عوانہ اور ہشیم نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے ”وكيع بن عدس“ کہا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَلاَ يُسْتَشْهَدُ وَيَحْلِفُ الرَّجُلُ وَلاَ يُسْتَحْلَفُ ‏"‏ ‏.‏ وَمَعْنَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَيْرُ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا ‏"‏ ‏.‏ هُوَ عِنْدَنَا إِذَا أُشْهِدَ الرَّجُلُ عَلَى الشَّىْءِ أَنْ يُؤَدِّيَ شَهَادَتَهُ وَلاَ يَمْتَنِعَ مِنَ الشَّهَادَةِ هَكَذَا وَجْهُ الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ كَمُلَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كِتَابُ الشَّهَادَاتِ وَيَلِيهِ كِتَابُ الزُّهْدِ
Clarification of this is in the Hadith of 'Umar bin Al-Khattab, from the Prophet(s.a.w) who said:"The best of people are my generation, then those who follow them,then those who follow them. Then lying will spread, until a man testifies while his testimony was not requested, and a man will take an oath while an oath was not sought
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے اچھے اور بہتر لوگ ہمارے زمانے والے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ آدمی گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے گا، اور قسم کھلائے بغیر قسم کھائے گا“۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کہ سب سے بہتر گواہ وہ ہے، جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے تو اس کا مفہوم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب کسی سے کسی چیز کی گواہی ( حق بات کی خاطر ) دلوائی جائے تو وہ گواہی دے، گواہی دینے سے باز نہ رہے، بعض اہل علم کے نزدیک دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاَّسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"If you knew what I know, then you would laugh little and you would cry much
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میں جانتا ہوں اگر تم لوگ جان لیتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ رِجَالاً وَرُكْبَانًا وَتُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
Bahz bin Hakim narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"You shall be gathered walking, riding, and dragged upon your faces." There is a narration on this topic from Abu Hurairah. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan [Sahih]
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ میدان حشر میں پیدل اور سوار لائے جاؤ گے اور اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاؤ گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب کے میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ لَوْ أَنَّ الْعَالَمِينَ اجْتَمَعُوا فِي إِحْدَاهُنَّ لَوَسِعَتْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Abu Sa'eed narrated that the Prophet (ﷺ) said:"Indeed there are a hundred levels in Paradise, if all of the People of Paradise were to be gathered in one of them, it would have sufficed them
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں، اگر سارے جہاں کے لوگ ایک ہی درجہ میں اکٹھے ہو جائیں تو یہ ان سب کے لیے کافی ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَيَنْفُذُ الْحَمِيمُ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ فَيَسْلِتَ مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ وَهُوَ الصَّهْرُ ثُمَّ يُعَادُ كَمَا كَانَ ‏"‏ ‏.‏ وَسَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ يُكْنَى أَبَا شُجَاعٍ وَهُوَ مِصْرِيٌّ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَابْنُ حُجَيْرَةَ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُجَيْرَةَ الْمِصْرِيُّ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:Indeed Hamim will be poured over their heads. The Hamim will penetrate until it finds its way to his insides. Then whatever is inside him will fall out until it pours over his feet while it melts away. Then he will be reformed to how he was
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کے سر پر «ماء حمیم» ( گرم پانی ) انڈیلا جائے گا تو وہ ( بدن میں ) سرایت کر جائے گا یہاں تک کہ اس کے پیٹ تک جا پہنچے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹے گا یہاں تک کہ اس کے پیروں ( یعنی سرین ) سے نکل جائے گا۔ یہی وہ «صہر» ہے ( جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے ) پھر اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ رَجُلاً يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي بَكْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) passed by a man and he was chastising his brother about modesty, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Al-Haya' is part of faith
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو حیاء ( شرم اور پاکدامنی ) اختیار کرنے پر نصیحت کر رہا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بطور تاکید ) فرمایا: ”حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- احمد بن منیع نے اپنی روایت میں کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حیاء کے بارے میں اپنے بھائی کو پھٹکارتے ہوئے سنا، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Ibn Ka'b bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ عِنْدَهُمْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏
Narrated Ibn Ka'b bin Malik:from his father that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "Whoever seeks knowledge to contend with the scholars, or to use it to argue with the fools, and to have people's faces turn towards him, then he shall be admitted to the Fire
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص علم اس واسطے سیکھے کہ اس کے ذریعہ علماء کی برابری کرے ۱؎، کم علم اور بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرے یا اس علم کے ذریعہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل فرمائے گا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ محدثین کے نزدیک کچھ بہت زیادہ قوی نہیں ہیں، ان کے حافظہ کے سلسلے میں کلام کیا گیا ہے۔
Narrated by Asma bint Yazid
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، أَنَّهُ سَمِعَ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ، تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ فَأَلْوَى بِيَدِهِ بِالتَّسْلِيمِ وَأَشَارَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بِيَدِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لاَ بَأْسَ بِحَدِيثِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ‏.‏ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ شَهْرٌ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَقَوَّى أَمْرَهُ وَقَالَ إِنَّمَا تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ عَوْنٍ ثُمَّ رَوَى عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ‏.‏ أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمَصَاحِفِيُّ بَلْخِيٌّ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ النَّضْرُ تَرَكُوهُ أَىْ طَعَنُوا فِيهِ وَإِنَّمَا طَعَنُوا فِيهِ لأَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَ السُّلْطَانِ ‏.‏
Narrated Asma bint Yazid:that the Messenger of Allah (ﷺ) passed through the Masjid one day, and a group of women were sitting, so he motioned his hand with the Salam - 'Abdul-Hamid (one of the narrators) gestured with his hand
اسماء بنت یزید رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں گزرے وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، چنانچہ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبدالحمید ( راوی ) نے بھی پتے ہاتھ سے اشارہ کیا ( کہ اس طرح ) ، ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں: شہر بن حوشب کے واسطہ سے عبدالحمید بن بہرام کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: شہر حسن الحدیث ہیں اور ان کو روایت حدیث میں قوی بخاری کہتے ہیں: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: «إن شهرا نزكوه» کے واسطہ سے کہا: شہر کی شخصیت کو محدثین نے داغ دار بتایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ نضر کہتے ہیں «نزكوه» کا مطلب یہ ہے کہ «طعنوا فيه» یعنی ان کی شخصیت کو داغ دار بتایا ہے، اور لوگوں نے ان پر جرح اس لیے کی ہے کہ وہ سلطان ( حکومت ) کے ملازم بن گئے ہیں۔
Narrated by Iyas bin Salamah
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا شَاهِدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ عَطَسَ الثَّانِيَةَ وَالثَّالِثَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا رَجُلٌ مَزْكُومٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Iyas bin Salamah:from his father: "A man sneezed in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) while I was present, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Yarhamukallah (May Allah have mercy upon you).' Then he sneezed a second and third time. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: "This man is suffering from a cold
سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يرحمك الله» ( اللہ تم پر رحم فرمائے ) پھر اسے دوبارہ چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: ”اسے تو زکام ہو گیا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do you think that if there was a river by the gate of one of you, and he bathed in it five times each day that there would remain any filth on him?" They said: "No filth would stay on him." He said: "That is the parable of the five prayers, Allah wipes out the sins with them
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا بتاؤ تو صحیح، اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس نہر میں ہر دن پانچ بار نہائے تو کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل رہے گا؟ صحابہ نے کہا: اس کے جسم پر تھوڑا بھی میل نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا: ”یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی، ان نمازوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قتیبہ کہتے ہیں: ہم سے بکر بن مضر قرشی نے ابن الہاد کے واسطہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ۳- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Abdullah bin Mas'ud
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، فِي تَفْسِيرِ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ سَمَاءٍ وَلاَ أَرْضٍ أَعْظَمَ مِنْ آيَةِ الْكُرْسِيِّ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ لأَنَّ آيَةَ الْكُرْسِيِّ هُوَ كَلاَمُ اللَّهِ وَكَلاَمُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:"Allah has not created in the heavens nor in the earth what is more magnificent than Ayat Al-Kursi." Sufyan said: "Because Ayat Al-Kursi is the Speech of Allah, and Allah's Speech is greater than Allah's creation of the heavens and the earth
سفیان بن عیینہ سے روایت ہے، وہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اس حدیث «ما خلق الله من سماء ولا أرض أعظم من آية الكرسي» کی تفسیر میں کہتے ہیں: آیت الکرسی کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کا کلام اللہ کی مخلوق یعنی آسمان و زمین سے بڑھ کر ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ مَيْسَرَةَ النَّحْوِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلمَ ‏(‏خَلَقَكُمْ مِنْ ضعْفٍ ‏)‏ فَقَالَ مِنْ ضُعْفٍ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:that he recited the following to the Prophet (ﷺ): "Who created you in the weakness (Min Da'f)" So he said: "Min Du'f" (Another chain) with similar in meaning
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے «خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ» ( ضاد کے فتحہ کے ساتھ ) پڑھا تو آپ نے فرمایا: «مِنْ ضَعْفٍ» نہیں «مِنْ ضُعْفٍ» ۱؎ ( ضاد کے ضمہ کے ساتھ ) پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ وَهُوَ جَاءٍ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عُمَرَ هَذِهِ الآيَةَ ‏:‏ ‏(‏وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ‏)‏ الآيَةَ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَفِي هَذَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الآيَةِِ ‏:‏ ‏(‏)ولله الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ‏)‏ قَالَ قَتَادَةُ هِيَ مَنْسُوخَةٌ نَسَخَهَا قَوْلُهُ ‏:‏ ‏(‏فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ‏)‏ أَىْ تِلْقَاءَهُ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي هَذِهِ الآيَةِ ‏:‏ ‏(‏أَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ‏)‏ قَالَ فَثَمَّ قِبْلَةُ اللَّهِ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ النَّضْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ عَنْ مُجَاهِدٍ بِهَذَا ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:"The Messenger of Allah (ﷺ) would perform voluntary Salat upon his mount facing whichever direction he was headed, while he was coming from Makkah to Al-Madinah." Then Ibn 'Umar recited: To Allah belong both the east and the west. (2:115)" And Ibn 'Umar said: "It was about this that the Ayah was revealed." [Abu Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported from Qatadah that he said about this Ayah: To Allah belong both the east and the west, so wherever you turn, there is the Face of Allah. [Qatadah said:] "It is abrogated, it was abrogated by [His saying]: So turn your face in the direction of Al-Masjid Al-Haram. Meaning: facing it." And it has been reported that Mujãhid said about this Ayah: "So wherever you turn, there is the Face of Allah": "So there is the direction of Allah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ آتے ہوئے نفل نماز اپنی اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ اونٹنی جدھر بھی چاہتی منہ پھیرتی ۱؎، ابن عمر نے پھر یہ آیت «ولله المشرق والمغرب» ”اللہ ہی کے لیے مغرب و مشرق ہیں“ ( البقرہ: ۱۱۵ ) پڑھی۔ ابن عمر کہتے ہیں: یہ آیت اسی تعلق سے نازل ہوئی ہے ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قتادہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: آیت: «ولله المشرق والمغرب فأينما تولوا فثم وجه الله» ( البقرة: ۱۱۵ ) منسوخ ہے، اور اسے منسوخ کرنے والی آیت «فول وجهك شطر المسجد الحرام» ”آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں“ ( البقرہ: ۱۴۴ ) ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَا يُجْلِسُكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلاَّ ذَاكَ قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلاَّ ذَاكَ ‏.‏ قَالَ أَمَا إِنِّي مَا أَسْتَحْلِفُكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقَلَّ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ ‏"‏ مَا يُجْلِسُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ لِمَا هَدَانَا لِلإِسْلاَمِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلاَّ ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلاَّ ذَاكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ لِتُهْمَةٍ لَكُمْ إِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلاَئِكَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عِيسَى وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَلٍّ ‏.‏
Abu Sa’eed Al Khudri narrated the:Mu’awiyah came out to the Masjid and said: “What has caused you to gather for this sitting.” They said: “We gathered so that we may remember Allah.” He said, “By Allah, nothing caused you to gather for this sitting except for that?” They said, “By Allah, nothing caused us to gather for this sitting except for that.” He said: “Indeed, I did not ask you out of suspicion, and there was no one in the position I was from the Messenger of Allah who narrates less Ahadith from him than me. Indeed the Messenger of Allah came out upon a circle of his Companions and said: ‘what has caused you to gather for this sitting?’ They said: ‘We have gathered for this sitting to remember Allah, and praise Him for His having guided us to Islam, and having bestowed blessings upon us.’ So he said: ‘By Allah, nothing caused you to gather for this sitting except for that?’ He said: ‘Indeed, I did not ask you out of suspicion, verily Jibra’il came to me and informed me that Allah boasts of you to the angels.’”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ مسجد گئے ( وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے ) پوچھا: تم لوگ کس لیے بیٹھے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: کیا! قسم اللہ کی! تم کو اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہم اسی مقصد سے یہاں بیٹھے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے جیسا مقام و منزلت رکھنے والا کوئی شخص مجھ سے کم ( ادب و احتیاط کے سبب ) آپ سے حدیثیں بیان کرنے والا نہیں ہے۔ ( پھر بھی میں تمہیں یہ حدیث سنا رہا ہوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس گئے وہ سب دائرہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، ان سے کہا: کس لیے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اللہ نے ہمیں اسلام کی طرف جو ہدایت دی ہے، اور مسلمان بنا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے ہم اس پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اور اس کی حمد بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا واقعی؟ ! قسم ہے تمہیں اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟“ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہمیں اسی مقصد نے یہاں بٹھایا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قسم اس لیے نہیں دلائی ہے، میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے، بات یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا اور خبر دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated by Abdullah bin 'Amr
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَىَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَىَّ صَلاَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لاَ تَنْبَغِي إِلاَّ لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ وَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ هَذَا قُرَشِيٌّ مِصْرِيٌّ مَدَنِيٌّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ شَامِيٌّ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If you hear the Muadh-dhin then say as he says. Then send Salat upon me, because whoever sends Salat upon me, Allah will send Salat upon him ten times due to it. Then ask Allah that He gives me Al-Wasilah, because it is a place in Paradise which is not for anyone except for a slave from the slaves of Allah, and I hope that I am him. And whoever asks that I have Al-Wasilah, then (my) intercession will be made lawful for him
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم مؤذن کی آواز سنو تو وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے ۱؎ پھر میرے اوپر صلاۃ ( درود ) بھیجو کیونکہ جس نے میرے اوپر ایک بار درود بھیجا تو اللہ اس پر دس بار اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا، پھر میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک ( ایسا بلند ) درجہ ہے جس کے لائق اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندہ ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں اور جس نے میرے لیے ( اللہ سے ) وسیلہ مانگا تو اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اس سند میں مذکور عبدالرحمٰن بن جبیر قرشی، مصری اور مدنی ہیں اور نفیر کے پوتے عبدالرحمٰن بن جبیر شامی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِـ ‏(‏سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏)‏ وَ ‏(‏قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‏)‏ وَ ‏(‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ فِي رَكْعَةٍ رَكْعَةٍ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْوِتْرِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ وَ ‏(‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ ‏.‏ وَالَّذِي اخْتَارَهُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ يُقْرَأَ بِـ ‏(‏سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏)‏ وَ ‏(‏قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‏)‏ وَ ‏(‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ ‏.‏ يُقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِنْ ذَلِكَ بِسُورَةٍ ‏.‏
Ibn Abbas narrated:"Allah's Messenger would recite during Al-Witr: "Glorify the Name of your Lord the Most High' and, 'Say: O you disbelievers!' and, 'Say: Allah is One,' in each Rak'ah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «‏سبح اسم ربك الأعلى»،‏‏‏‏ «‏قل يا أيها الكافرون‏» اور «‏قل هو الله أحد» تینوں کو ایک ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، عائشہ اور عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ( رضی الله عنہم ) جنہوں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، بھی احادیث آئی ہیں، اور اسے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بغیر ابی کے واسطے کے براہ راست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کیا جاتا ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ وتر میں تیسری رکعت میں معوذتین اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم نے جس بات کو پسند کیا ہے، وہ یہ ہے کہ «‏سبح اسم ربك الأعلى»،‏‏‏‏ «‏قل يا أيها الكافرون‏» اور «‏قل هو الله أحد» تینوں میں سے ایک ایک ہر رکعت میں پڑھتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُ أَصْحَابِ قَتَادَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمُ اخْتَارُوا الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَأَوْا أَنْ يُجْزِئَ الْوُضُوءُ مِنَ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏.‏ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ أَمْرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنَّهُ عَلَى الاِخْتِيَارِ لاَ عَلَى الْوُجُوبِ حَدِيثُ عُمَرَ حَيْثُ قَالَ لِعُثْمَانَ وَالْوُضُوءَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏.‏ فَلَوْ عَلِمَا أَنَّ أَمْرَهُ عَلَى الْوُجُوبِ لاَ عَلَى الاِخْتِيَارِ لَمْ يَتْرُكْ عُمَرُ عُثْمَانَ حَتَّى يَرُدَّهُ وَيَقُولَ لَهُ ارْجِعْ فَاغْتَسِلْ وَلَمَا خَفِيَ عَلَى عُثْمَانَ ذَلِكَ مَعَ عِلْمِهِ وَلَكِنْ دَلَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ فَضْلٌ مِنْ غَيْرِ وُجُوبٍ يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ فِي ذَلِكَ ‏.‏
Samurah bin Jundah narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever performs Wudu on Friday, then he will receive the blessing, and whoever performs Ghusl then Ghusl is more virtuous
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو اس نے رخصت کو اختیار کیا اور خوب ہے یہ رخصت، اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- قتادہ کے بعض تلامذہ نے تو یہ حدیث قتادہ سے اور قتادہ نے حسن بصری سے اور حسن بصری نے سمرہ بن جندب سے ( مرفوعاً ) روایت کی ہے۔ اور بعض نے قتادہ سے اور قتادہ نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، انہوں نے جمعہ کے دن کے غسل کو پسند کیا ہے، ان کا خیال ہے کہ غسل کے بدلے وضو بھی کافی ہو جائے گا، ۵- شافعی کہتے ہیں: جمعہ کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے حکم کے وجوبی ہونے کے بجائے اختیاری ہونے پر جو چیزیں دلالت کرتی ہیں ان میں سے عمر رضی الله عنہ کی حدیث بھی ہے جس میں انہوں نے عثمان رضی الله عنہ سے کہا ہے کہ تم نے صرف وضو پر اکتفا کیا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن غسل کا حکم دیا ہے، اگر انہیں یہ معلوم ہوتا کہ یہ حکم واجبی ہے، اختیاری نہیں تو عمر رضی الله عنہ عثمان رضی الله عنہ کو لوٹائے بغیر نہ چھوڑتے اور ان سے کہتے: جاؤ غسل کرو، اور نہ ہی عثمان رضی الله عنہ سے اس بات کے جاننے کے باوجود کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کو غسل کرنے کا حکم دیا ہے اس کے وجوب کی حقیقت مخفی رہتی، بلکہ اس حدیث میں صاف دلالت ہے کہ جمعہ کے دن غسل افضل ہے نہ کہ واجب۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُخْرِجُ الأَبْكَارَ وَالْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضَ فِي الْعِيدَيْنِ فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى وَيَشْهَدْنَ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ قَالَ ‏ "‏ فَلْتُعِرْهَا أُخْتُهَا مِنْ جَلاَبِيبِهَا ‏"‏ ‏.‏
Umm Atiyyah narrated:"Allah's Messenger would order the virgins, the mature women, the secluded and the menstruating to go out for the two Eid. As for the menstruating women, they were to stay away from the Musalla and participate in the Muslims supplications." One of them said: 'O Messenger of Allah! What if she does not have a Jilbab? He said: 'Then let her sis lend her a Jilbab
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں کنواری لڑکیوں، دوشیزاؤں، پردہ نشیں اور حائضہ عورتوں کو بھی لے جاتے تھے۔ البتہ حائضہ عورتیں عید گاہ سے دور رہتیں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہتیں۔ ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کی بہن کو چاہیئے کہ اسے اپنی چادروں میں سے کوئی چادر عاریۃً دیدے“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، هُوَ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى أَنْ يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ فَيُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ عَجَّلَ الْعَصْرَ إِلَى الظُّهْرِ وَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلاَّهَا مَعَ الْمَغْرِبِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَالصَّحِيحُ عَنْ أُسَامَةَ ‏.‏ وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ قُتَيْبَةَ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏
Mu'adh bin Jabal narrated:"While the Prophet as at the Battle of Tabuk, if he wanted to depart before the sun's decline he would delay Zuhr so that he could pray it together with Asr. If he wanted to depart after the sun's decline, he would hasten Asr to Zuhr, and pray Zuhr and Asr together, and then move it. If he wanted to depart before Maghrib he would delay Maghrib until he prayed it with Isha, and if he wanted to depart after Maghrib he would hasten Isha so that he would pray it along with Maghrib
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عصر کے ساتھ ملا دیتے اور دونوں کو ایک ساتھ پڑھتے، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو عصر کو پہلے کر کے ظہر سے ملا دیتے اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے۔ اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے، اور جب مغرب کے بعد کوچ فرماتے تو عشاء کو پہلے کر کے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور صحیح یہ ہے کہ اسامہ سے مروی ہے، ۲- نیز یہ حدیث علی بن مدینی نے احمد بن حنبل سے اور احمد بن حنبل نے قتیبہ سے روایت کی ہے ۱؎، ۳- اس باب میں علی، ابن عمر، انس، عبداللہ بن عمرو، عائشہ، ابن عباس، اسامہ بن زید اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that :the Prophet said: "There is no charity due on less than five camels, and there is no charity due on what is less than five Uqiyah (of silver), and there is no charity due on what is less than five Wasaq
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اونٹوں ۱؎ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ ۲؎ چاندنی سے کم میں زکاۃ نہیں ہے اور پانچ وسق ۳؎ غلے سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، ابن عمر، جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلاَلَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَا بِلاَلُ أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، نَحْوَهُ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ اخْتِلاَفٌ ‏.‏ وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ سِمَاكٍ رَوَوْا عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا تُقْبَلُ شَهَادَةُ رَجُلٍ وَاحِدٍ فِي الصِّيَامِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ ‏.‏ قَالَ إِسْحَاقُ لاَ يُصَامُ إِلاَّ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ ‏.‏ وَلَمْ يَخْتَلِفْ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الإِفْطَارِ أَنَّهُ لاَ يُقْبَلُ فِيهِ إِلاَّ شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ ‏.‏
Ibn Abbas narrated:"A Bedouin came to the Prophet and said: 'I have seen the crescent.' So he said: 'Do you testify that none has the right to be worshipped but Allah? Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah?' He said: 'Yes.' So he said: 'O Bilal! Announce to the people that they should fast tomorrow
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں نے چاند دیکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور کیا گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں دیتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث میں اختلاف ہے۔ سفیان ثوری وغیرہ نے بطریق: «سماك عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور سماک کے اکثر شاگردوں نے بھی بطریق: «سماك عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً ہی روایت کی ہے، ۲- اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ماہ رمضان کے روزوں کے سلسلے میں ایک آدمی کی گواہی قبول کی جائے گی۔ اور ابن مبارک، شافعی، احمد اور اہل کوفہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ روزہ بغیر دو آدمیوں کی گواہی کے نہ رکھا جائے گا۔ لیکن روزہ بند کرنے کے سلسلے میں اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس میں دو آدمی کی گواہی قبول ہو گی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْحَجَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعُوا فَلَمَّا أَتَى الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Jabir bin Abdullah narrated:"When the Prophet wanted to Perform Hajj, he announced it to the people, and they gathered (to accompany him). When he reached Al-Baida he assumed Ihram
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا تو آپ نے لوگوں میں اعلان کرایا۔ ( مدینہ میں ) لوگ اکٹھا ہو گئے، چنانچہ جب آپ ( وہاں سے چل کر ) بیداء پہنچے تو احرام باندھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، انس، مسور بن مخرمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلاَّ وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Ibn Umar narrated that:The Messenger of Allah said: "A Muslim man has no right to spend two nights while he has something to will, except while his will is recorded with him
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان، جس کی دو راتیں بھی اس حال میں گزریں کہ اس کے پاس وصیت کرنے کی کوئی چیز ہو، اس پر لازم ہے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے۔